مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]جون 2024ء[ ہفتہ وار درس قرآن و حدیث

شاہد محمود اردو

مئی 2024 میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ بنی اسرائیل کی 83 تا 101 اور سورۂ کہف کی 1 تا 5 آیات کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی نشستوں میں ’’عذاب قبر ‘‘ کے حوالے سے احادیث پر بات ہوئی۔ قرآن و حدیث کے دروس کی یہ نشستیں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

’’غامدی صاحب کی تحریر و تقریر کا دائرہ‘‘

منظور الحسن صاحب کا یہ مضمون جناب حسن الیاس اور غامدی صاحب کے درمیان ایک گفتگو سے ماخوذ ہے۔ اس میں غامدی صاحب کے رفقا کی طرف سے کیے جانے والے اس اعتراض کو زیر بحث لایا گیا ہے کہ غامدی صاحب ایک دین کے عالم ہیں، لہٰذا انھیں صرف دینی موضوعات ہی پر گفتگو کرنی چاہیے۔ دین کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بات کرنے سے ان کی شخصیت اور دعوت، دونوں متنازع ہو جاتے ہیں۔ اعتراض کو نقل کرنے کے بعد منظور الحسن صاحب نے اس پر غامدی صاحب کا موقف بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ غامدی صاحب ہمیشہ انھی چیزوں کو موضوع بناتے ہیں، جنھیں دعوت کے کام میں موضوع بنانا ضروری ہے۔ ان کی تصانیف اور گفتگوؤں میں دعوت ِ دین سے متعلق مثبت چیزوں کی شرح و وضاحت کے ساتھ ان تمام موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے، جو دعوت کے مخاطبین کے فکر و عمل کا حصہ ہیں۔ اس مضمون میں مختلف مثالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ غامدی صاحب نے سیاسی، معاشی اور تاریخی موضوعات پرجو لکھا ہے یا جو گفتگو کی ہے، وہ ان کی دینی یا منصبی ذمہ داری سے غیر متعلق نہیں ہے۔ اس مضمون کو ”اشراق امریکہ“ کے مئی 2024 کے شمارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔

’’جنسی ہراسانی کی شکایت‘‘

حسن الیاس صاحب نے اپنے اس مضمون میں جنسی ہراسانی کا شکار لوگوں کے حوالے سے قانونی اور اخلاقی پہلووں کو نمایاں کیا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے معاشرے کی تربیت اور قانون سازی سے متعلق بعض مفید نکات بیان کیے ہیں۔ اُن کے نزدیک جنسی ہراسانی جیسے معاملات کے لیے خاص محکمے بننے چاہییں اور جب تک جرم پوری طرح ثابت نہیں ہو جاتا، ملزم کا نام ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ جرم کے ثبوت کے لیے عینی گواہ تلاش کرنے کے بجاے نفسیاتی تجزیہ کر کے، ماضی کے احوال جان کر اور واقعاتی قرائن کی بنا پر معاملے کی گہرائی تک پہنچنا چاہیے۔اس طرح کے معاملے میں کوئی شخص مجرم ثابت ہوتا ہے تو پھر شکایت کنندہ یا محکمے کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر ہی اس کی شناخت کا اعلان کریں تاکہ باقی لوگوں کو متنبہ کیا جاسکے ۔الزام غلط ثابت ہونے کی صورت میں الزام لگانے والے پر سزا یا جرمانہ عائد ہونا چاہیے۔ الزام ثابت ہونے کے بعد مجرم کو جسمانی سزا کے ساتھ ساتھ اس کےنفسیاتی علاج معالجہ کا بند و بست بھی کیا جانا چاہیے۔ یہ مضمون ’’اشراق امریکہ‘‘، مئی 2024 ء کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

غامدی صاحب کی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشستیں

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ہونے والی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشستوں میں جن اہم موضوعات کو زیر بحث لایا گیا، وہ یہ ہیں: ’’مسئلۂ فلسطین اور اس کاحل‘‘، ’’قرار داد مقاصد‘‘ اور ’’کیا مسلمان دوبارہ عروج پا سکتے ہیں؟‘‘۔ مسلمانوں کے دوبارہ عروج حاصل کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے قوموں کے عروج و زوال کے حوالے سے خدائی اسکیم بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کسی قوم کا دنیا پر عروج کے لیے منتحب ہونا سرتاسر خدائی فیصلہ ہوتا ہے، لیکن اس عروج کو برقرار رکھنے کے لیے کسی قوم کا علم و اخلاق میں برتر ہونا ضروری ہے۔ جب کوئی قوم علم و اخلاق میں پستی کا شکار ہوتی ہے تو وہ روبہ زوال ہو جاتی ہے۔ سوال و جواب کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

غامدی صاحب کی تفسیرِ قرآن ’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ماہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے اس کے 3 لیکچرز ریکارڈ کرائے، جن میں سورۂ بقرہ کی آیات 243 تا 286 اور سورۂ آل عمران کی آیات 1 تا 22 زیر بحث آئیں۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’حج کا مقصد کا کیا ہے؟‘‘

یہ سوال علی فاروق صاحب نے حج کے موضوع پر حسن الیاس صاحب کے ساتھ کیے گئے ایک پروگرام میں اٹھایا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ حج کی حقیقت اور مقصد جانے بغیر محض اس کو ایک رسم سمجھ کر ادا کرتے ہیں، لہٰذا اس عظیم عبادت کی حقیقت اور معنویت کو لوگوں میں اجاگر کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ انھوں گذشتہ ماہ حج کے موضوع پر ایک تفصیلی پروگرام ریکارڈ کرایا، جس میں حسن الیاس صاحب نے حج کی تاریخ، پس منظر اور اس کے مقصد کو واضح کیا اور مناسک حج کی تفصیل اور مقصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حج اصل میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے جذبے کی ایک عملی مشق ہے۔ مزید برآں، عبادات کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ عبادات خدا کے ساتھ انسان کے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور کائنات کی اسکیم کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

غامدی سینٹر کے آن لائن تعلیمی کورسز

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر نے اپنے آن لائن لرننگ پلیٹ فام پر دو تعلیمی کورسز شائع کیے ہیں، جن کے عنوان ہیں: ”The Muslim Prayer“ اور ”Islamic Directives About Core Family & Marriage Related Issues“۔ یہ دونوں کورسز نہایت کم قیمت پر غامدی سینٹر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ مزید دو کورسز پر کام جاری ہے، جن میں سے ایک کا عنوان ”Jihad in Islam“ ہے اور دوسرے کا ”Dietary Shariah and Islamic Customs“۔ یہ دونوں کورسز بھی جلد ہی غامدی سینٹر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گے۔

’’حدیث کیا ہے؟‘‘

پچھلے کئی ماہ سے غامدی سینٹر کے زیر اہتمام 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”حدیث کیا ہے؟“ کا موضوع زیر بحث ہے۔ گذشتہ ماہ اس موضوع کے تحت لفظ ’’تبیین‘‘ کے مفہوم کے حوالے سے قرآن مجید کی مختلف آیات پر گفتگو ہوئی اور اس سوال کو بھی زیر بحث لایا گیا کہ کیا قرآن مجید میں لفظ ’’تبیین‘‘ انھی معنوں میں استعمال ہوا ہے جن معنوں میں غامدی صاحب اسے استعمال کرتے ہیں۔ مزید برآں، ذخیرۂ حدیث میں قرآن مجید کے نسخ، ترمیم، تخصیص اور تحدید کی جو مثالیں ملتی ہیں، ان کی حقیقت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

’’اللہ کی راہ میں خرچ اور قرآن‘‘

ریحان احمد یوسفی صاحب کا یہ مضمون ’’اشراق امریکہ‘‘ کے گذشتہ ماہ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے قرآن مجید کی روشنی میں انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت و فضیلت بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دین اسلام کے بنیادی مطالبات میں سے ایک ہے اور مال کی محبت پر آخرت کو ترجیح دینا ہی تمام تر انفاق کی بنیاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مال دراصل دنیا کے قائم مقام ہے، جس سے دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطلب ہے کہ انسان اپنی مالی نعمت کو اللہ کے ارادے کے مطابق استعمال کرے۔ اسی طرح قرآن کی رہنمائی سے معلوم ہوتا ہے کہ مال دینے والے کو نہ احسان جتانا چاہیے اور نہ ہی لینے والوں کی دل آزاری کرنی چاہیے۔ مال کی اس نعمت کو قرآنی احکام کے مطابق خرچ کرنے والے قیامت کے دن اپنی اس تجارت پر بہت خوش ہوں گے۔

’’تنقید کرنے اور سننے کے آداب‘‘

یہ غامدی سینٹر کے زیر اہتمام شروع ہونے والی ایک نئی سیریز کا عنوان ہے۔ ان نشستوں میں تنقید کیسے کریں،تنقید کرنے کے اصول و ضوابط کیا ہیں اور شخصی تنقید، علمی تنقید، کسی ادارے، مشن یا سیاسی لیڈر پر تنقید کے آداب کیا ہیں، جیسے اہم سوالات کو موضوع بحث بنایا گیاہے۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یو ٹیوب چینل پر موجود ہے۔

والدین ، نو عمری اور ازدواجی زندگی کے مسائل

شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ لوگوں سے آن لائن نجی مشاورتی سیشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان سیشنز میں لوگ اپنے مختلف ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل میں شہزاد سلیم صاحب سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے 30 سے زائد سیشنز ہوئے، جن میں لوگوں نے شہزاد سلیم صاحب سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری اور ازدواجی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔

’’دائرۂ حمیدیہ‘‘اور ماہنامہ’’الاصلاح‘‘

امین احسن اصلاحی کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ صاحب نے’’حیات امین‘‘ کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی قسط میں ’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ کے قیام اور ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ کے اجرا کے بارے میں لکھا ہے۔ لکھتے ہیں کہ امام فراہی کی علمی دریافتوں کو اہل علم تک پہنچانے کے لیے 1935ء میں ’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارے کے بنیادی مقاصد تین تھے : ایک یہ کہ ایک ماہنامے کا اجرا کیا جائے، جس میں امام فراہی کی تصانیف اور دوسرے علمی مضامین شائع ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ امام فراہی کی کتب کا اردو ترجمہ کیا جائے گا اور تیسرے یہ کہ امام فراہی کی کتب کی اشاعت کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے گا۔ ان سارے کاموں کی نگرانی مولانا امین احسن اصلاحی کے ذمے لگا دی گئی اور یہ بھی طے ہوا کہ ’’الاصلاح‘‘ کے مدیر اور دوسرے مقاصد کے حصول کے لیے رفقاے کار کا انتخاب بھی مولانا ہی کریں گے۔ یہ مضمون ’’اشراق امریکہ‘‘ کے مئی 2024ء کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

’’فکری گم راہی کے پانچ اسباب‘‘

اس عنوان سے غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ایک سلسلۂ گفتگو نشر کیا گیا ہے۔ یہ محمد حسن الیاس صاحب سے حمزہ علی عباسی صاحب کے مکالمات پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے کی متعدد نشستوں میں متشابہات کی حقیقت، زبان نطق ہے یا منطق، عقلی اور تاریخی مسلمات سے انکار، حدیث اور قرآن کا تعلق اور اجماعِ امت جیسے اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔

Ask Dr. Shehzad Saleem

یہ سوال و جواب کی لائیو ماہانہ نشست ہے، جس میں ڈاکٹر شہزاد سلیم لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔اس کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“

مئی 2024 ءمیں دنیا نیوز چینل پر نشر ہونے والے پروگرام”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ میں جن موضوعات پر گفتگو کی گئی، وہ یہ ہیں: ’’نبوت کی حقیقت‘‘، ’’اللہ پر ایمان کی روشنی‘‘، قرآن مجید کے اردو تراجم کی روایت‘‘ اور ’’نکاح و طلاق: شرعی احکام اور ملکی قوانین‘‘۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

”اسلام اسٹڈی سرکل“

گذشتہ ماہ ”اسلام اسٹڈی سرکل“ پروگرام میں قرآن مجید، حدیث اور بائیبل کے جو موضوعات زیر بحث رہے ، ان کے عنوانات بالترتیب یہ ہیں: ’’پختہ ایمان‘‘، ’’شادمان چہرہ‘‘ اور ’’دو آقا: خدا اور لالچ‘‘۔ مزید برآں، سیشن کے آخر میں ’’میں اپنے غصے کو کیسے کنٹرول کر سکتا ہوں؟‘‘ پر بھی گفتگو کی گئی اور سوالوں کے جواب دیے گئے۔ اس کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

خواتین کے لیے یوٹیوب چینل کا آغاز

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام خواتین کے لیے ایک الگ یوٹیوب چینل کا آغاز کیا گیا ہے، جس پر خواتین کے دینی حقوق، تعلیم و تربیت، سماجی کردار اور ان کو در پیش مسائل و چیلنجز کے حوالے سے مختلف پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں۔

’’ سنڈے اسکول ‘‘میں اندراج

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام چلنے والے’’سنڈے اسکول‘‘ کا مقصد طلبہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں بنیادی اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ یہ اسکول ڈاکٹرشہزاد سلیم صاحب کی نگرانی میں سرگرم عمل ہے۔اس اسکول کے فیکلٹی ممبران کالج اور یونیورسٹی کے وہ طلبہ ہیں جو غامدی سینٹر اور ’’المورد‘‘ کی دعوت سے متاثر ہیں اور اس کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالناچاہتے ہیں۔ سنڈے اسکول میں نئے طلبہ کے اندراج کا آغاز جون 2024 میں ہو گا۔

’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

گذشتہ ماہ شہزاد سلیم صاحب نے ’’میزان‘‘ کے جن موضوعات پر انگریزی زبان میں لیکچر ریکارڈ کرائے، وہ یہ ہیں: ’’حجاب کے مسائل‘‘،’’مسائل زکوٰۃ‘‘، ’’حرابہ کی سزا‘‘، ’’قتل کی سزا‘‘ اور ’’زنا کی سزا‘‘۔ ان لیکچرز کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

”مسئلۂ فلسطین: دینی اور تاریخی پس منظر“ کی انگریزی ڈبنگ

کچھ عرصہ قبل جناب حسن الیاس نے غامدی صاحب کے ساتھ مسئلۂ فلسطین پر اردو زبان میں ایک سیریز ریکارڈ کی تھی، جس کو غامدی سینٹرکے اردو یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیاتھا۔ ان نشستوں میں اسرائیل و فلسطین تنازعے کا دینی اور تاریخی پس منظر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کا حل بھی پیش کیا گیا تھا۔ غامدی سینٹر نے AI کے ذریعے سے ان نشستوں کی انگریزی میں ڈبنگ کر کے اپنے انگریزی یوٹیوب چینل پر نشر کیا ہے تاکہ انگریزی جاننے والے لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

مئی 2024 ءمیں جناب حسن الیاس نے نکاح و طلاق، وراثت (inheritance) اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں پر غامدی صاحب کی رہنمائی میں 4 فتوے جاری کیے۔

جہاد کورس کی ریکارڈنگ

مئی 2024ء میں شہزاد سلیم صاحب نے جہاد کے موضوع پر ایک تفصیلی لیکچر ریکارڈ کرایا۔ یہ بنیادی طور پر جہاد کے موضوع پر مرتب کردہ نصاب ہے، جس میں انھوں نے جہاد کی اجازت، نوعیت، مقصد اور اس کے اخلاقی حدود کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ مزید برآں انھوں نے بتایا کہ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا ضابطہ کیا ہے، جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور مال غنیمت کی تقسیم کیسے ہو گی۔ یہ لیکچر انگریزی زبان میں ہے اور اس کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔