مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]جون 2026ء[ غامدی صاحب کے نایاب علمی مباحث

شاہد محمود اردو

غامدی سینٹر نے جاوید احمد غامدی صاحب کے فکری و علمی سفر کے ابتدائی مراحل کو محفوظ کرنے اور انھیں اہلِ ذوق تک پہنچانے کے لیے ایک اہم علمی و تکنیکی کاوش کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غامدی صاحب کی کم و بیش چالیس سال سے زائد پرانی نایاب آڈیوز کو، جو قدیم کیسٹس میں موجود تھیں، جدید ڈیجیٹل صورت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان قدیم آڈیو ریکارڈنگز کی آواز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صاف اور واضح کیا گیا ہے تاکہ سننے والوں کے لیے سماعت میں آسانی ہو۔ ان آڈیوز میں غامدی صاحب کے ابتدائی دور کے گراں قدر علمی مباحث موجود ہیں، جن کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر سنا جا سکتا ہے۔

’’ عملیت پسندی بہ مقابلہ نظریہ پسندی‘‘

گذشتہ ماہ جاوید احمد غامدی صاحب نے ممتاز یوٹیوبر فیصل وڑائچ صاحب کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ ریکارڈ کرایا، جس میں انھوں نے ’’عملیت پسندی بہ مقابلہ نظریہ پسندی‘‘ (Practicality vs Ideology) کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی اور قومی سطح پر حکمتِ عملی کے فیصلے جذباتی جبلتوں کے بجاے علم و عقل کی روشنی میں بروقت کیے جانے چاہییں۔ انھوں نے مسئلۂ فلسطین، قیامِ اسرائیل اور ایران کے فکری و سیاسی انقلاب کے تناظر میں روایتی بیانیوں پر نقد کرتے ہوئے زور دیا کہ مسلمانوں کو جنگ سے حتی المقدور بچتے ہوئے اپنی اندرونی علمی، اخلاقی اور اقتصادی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اس پوڈ کاسٹ کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ جا سکتا ہے۔

’’اسلام کا شعوری مطالعہ‘‘

’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ نے اپنے طور پر دین کا گہرا فہم حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے ’’اسلام کا شعوری مطالعہ‘‘ کے نام سے ایک منظم علمی سفر کا آغاز کیا ہے۔ تین اہم درجات پر مشتمل اس پروگرام میں اسلام کی بنیاد و عملی تقاضے، مکمل نظامِ فکر و استدلال اور مختلف تعبیرات کا تقابلی تجزیہ شامل ہے تاکہ شرکا شعوری بنیادوں پر اپنے علم کو مستحکم کر سکیں۔ کورس میں دل چسپی رکھنے والے حضرات مزید تفصیلات اور رجسٹریشن کے لیے غامدی سینٹر کی ویب سائٹ پر رجوع کر سکتے ہیں۔

فکر غامدی کی تفہیم پر مبنی کتب کا مفت اجرا

’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ نے پاکستان بھر میں علمی و فکری دل چسپی رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ کے لیے ایک شان دار تعلیمی منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت فکرِ غامدی کی تفہیم پر مبنی کتب کا مکمل سیٹ بلا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں ملک بھر سے منتخب کردہ 180 طلبہ، اساتذہ اور محققین کو یہ کتب ارسال کر دی گئی ہیں۔ اس اسکیم کے لیے کم و بیش دس ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئی تھیں، چنانچہ بجٹ کی حد کے باعث جن درخواست گزاروں کو ہارڈ کاپی موصول نہیں ہو سکی، انھیں ای میل کے ذریعے سے تمام کتب کا پی ڈی ایف فولڈر لنک فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے علمی ذوق کی تسکین کر سکیں۔

’’ غامدی فکر: زوال یا احیا؟ ‘‘

مئی 2026ء میں محمد حسن الیاس صاحب نے معروف پوڈکاسٹر باسط ندیم صاحب کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کی، جس میں انھوں نے ’’غامدی فکر: زوال یا احیا؟‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ تاریخ میں جب بھی روایتی افکار کی تجدید یا علمی بازیافت کی کوشش کی گئی، اسے معاشرتی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے انسانی جبلت اور روایتی تصورات کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ فکری تجدید اور جدید سائنسی و کائناتی چیلنجز کا سامنا کر کے ہی دین کی اصل روح کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس پوڈ کاسٹ کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث

مئی 2026 ء میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری غامدی صاحب کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ فرقان کی آیات 69 تا 77 اور سورۂ شعراء کی آیات 1 تا 115 کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ‘‘، ’’نماز کے لازمی اور اختیاری اعمال کا بیان‘‘ اور ’’قیام، رکوع، سجدہ اور قعدہ‘‘۔ قرآن و حدیث کے دروس کی ان نشستوں کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’’افکارِ غامدی‘‘

’’افکارِ غامدی‘‘ سید منظور الحسن صاحب کا ہفتہ وار یوٹیوب پروگرام ہے، جس میں وہ غامدی صاحب کے نظریات کو عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ مئی 2026ء کی نشستوں میں جن اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی، ان میں’’اجتہادی کام کے بارے میں چند بڑی غلط فہمیاں‘‘، ’’اجتہاد کی قبولیت میں فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے؟‘‘ اور ’’اجتہاد کون کر سکتا ہے؟‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

’’اسلامی سوالات اور ان کے جوابات‘‘

مئی 2026ء میں غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن محمد حسن الیاس صاحب نے معروف پوڈ کاسٹر شہزاد غیاث صاحب کے ساتھ ایک پروگرام ریکارڈ کرایا، جس میں انھوں نے لوگوں کی جانب سے پوچھے جانے والے مختلف دینی، فکری اور اخلاقی سوالات کے تفصیلی جواب دیے۔ اس نشست میں پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: تمام پیغمبر مشرقِ وسطیٰ ہی میں کیوں آئے؟ کیا عورت حکمران ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی اسلامی احکام پر پوری طرح عمل نہ کر سکے تو کیا کرے؟ کیا کتے والے گھر میں فرشتے نہیں آتے؟ اور بچوں کی فکری تربیت کیسے کریں؟ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’استفسار:ڈاکٹر عمار خان ناصر کے ساتھ‘‘

’’استفسار: ڈاکٹر عمار خان ناصر کے ساتھ‘‘غامدی سینٹر کے اسکالر ڈاکٹر عمار خان ناصر کا سوال و جواب پر مبنی پروگرام ہے، جس میں وہ لوگوں کی طرف سے موصول ہونے والے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔ مئی 2026ء کی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: شورائیت اور جمہوریت میں کیا فرق ہے؟ اخفاے زینت سے کیا مراد ہے؟ کیا مسئلۂ عول پر غامدی صاحب کی راے ٹھیک ہے؟ اور کیا جمعے کا منبر ارباب حکومت کے لیے خاص ہے؟ ان نشستوں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

Ask Ghamidi

غامدی صاحب سے براہِ راست دینی و اخلاقی موضوعات پر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے غامدی سینٹر کے زیرِ اہتمام ہر ماہ ایک آن لائن نشست منعقد کی جاتی ہے۔ اس نشست کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب براہ راست غامدی صاحب سے حاصل کر سکیں۔ مئی 2026ء کی نشست میں پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ خلفاے راشدین میں سے ہیں؟ کیا اسمگلنگ کی کمائی حرام ہے؟ کیا جمہوریت اسلام کا سیاسی ماڈل ہے؟ اور کیا انبیا گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں؟ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’حق تلفی کی حرمت‘‘

سید منظور الحسن صاحب نے اپنے اس مضمون میں قرآنی آیات کی روشنی میں ’حق تلفی‘ کی حقیقت اور اس کی حرمت پر بحث کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ انسان کے پیدایشی، شرعی اور باہمی معاہدوں سے قائم ہونے والے حقوق کو غصب کرنا سخت گناہ اور اللہ کی نافرمانی ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ناپ تول میں کمی، قطع رحمی اور جھوٹی گواہی جیسی برائیاں حق تلفی کی واضح صورتیں ہیں۔ یہ مضمون ماہنامہ ’’اشراق‘‘ امریکہ کے گذشتہ ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

’’ مجدد اور متجدّد کا فرق ‘‘

محمد حسن الیاس صاحب نے اپنے اس مضمون میں ’مجدد‘ اور ’متجدّد‘ کے درمیان پائے جانے والے اہم لغوی اور فکری فرق پر بحث کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ متجدّد زمانے کے مطابق دین کی اصل ساخت کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ ایک فکری انحراف ہے، جب کہ مجدد بدعات کا خاتمہ کر کے دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی پر متجدّد کا الزام لگانا یا علمی اختلاف پر گم راہی کا فتویٰ دینا ایک سنگین دینی معاملہ ہے۔ یہ مضمون ماہنامہ ’’اشراق‘‘ امریکہ کے مئی 2026ء کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ’’تفہیم الآثار‘‘ کے عنوان سے نشر ہونے والے پروگرام میں صحابہ و تابعین کے آثار کی شرح و وضاحت اور منتخب آثار پر مبنی سوال وجواب کی نشستیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن سرانجام دے رہے ہیں، جب کہ ڈاکٹر عمار خان ناصر اس میں بہ طورِ مہمان شریک ہیں۔ مئی 2026ء میں اس سیریز کے تحت منعقد ہونے والی نشستوں میں ’’ام المومنین سیدہ عائشہ کا فہم قرآن‘‘ اور ’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فہم قرآن‘‘ کے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا۔ان پروگراموں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’’سوال و جواب حسن الیاس کے ساتھ‘‘

مئی 2026ء میں معروف یوٹیوب چینل ’’مسلم ٹو ڈے‘‘ پر محمد حسن الیاس صاحب کے جاری پروگرام ’’Ask Hassan Ilyas‘‘میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوال یہ ہیں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم پر عذاب کب آیا تھا؟ دوسروں پر طعن و تشنیع کرنے والوں کے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ ہو گا؟ غامدی صاحب کے نزدیک مہدی کون ہے؟ اور کیا طالبان کا اسلام، اسلام نہیں ہے؟ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’اخلاق اور اخلاقیات‘‘

جدید تعلیم یافتہ طبقے کو جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار اور ان کی معرکہ آرا کتاب ’’میزان‘‘ کے مباحث سے متعارف کرانے کے لیے شہزاد سلیم صاحب کی علمی نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مئی 2026ء میں ’’اخلاق اور اخلاقیات‘‘ کے موضوع پر دو لیکچرز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان لیکچرز کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔

غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ہفتہ وار ’’آن لائن خانقاہ‘‘کے نام سے تربیتی نشست کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نشست کا مقصد انسانی نفس کی اصلاح اور اخلاقی تربیت ہے۔ اس پروگرام میں معز امجد صاحب اصلاحِ نفس کے ساتھ ساتھ شرکا کے سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ کی نشستوں میں پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: موڈ ڈس آرڈر(mood disorder) سے کیسے نمٹیں؟ شعور پر انسان کا زیادہ اختیار ہے یا ماحول کا؟ کیا ہر انسان کی اچھائی اور برائی کا معیار الگ ہے؟ اور کیا ضمیر پہلے ہے یا مذہبی رہنمائی؟ آن لائن خانقاہ کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

’’اسلام اسٹڈی سرکل ‘‘

شہزاد سلیم صاحب ”اسلام اسٹڈی سرکل“ کے عنوا ن سے ہر ماہ ایک سیشن کاانعقاد کرتے ہیں۔ اس میں وہ مختلف دینی، اخلاقی اور سماجی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ سیشن تین حصوں پر مشتمل ہے: پہلے حصے میں قرآن مجید کی آیات سے ایک موضوع منتخب کر کے اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ دوسرے حصے میں منتخب احادیث نبوی پر گفتگو ہوتی ہے۔ تیسرے حصے میں بائیبل کے کسی اقتباس کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پروگرام کے آخر میں موضوع سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیے جاتے ہیں۔ اس سیشن کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

23 اعتراضات سیریز کا انگریزی زبان میں خلاصہ

شہزاد سلیم صاحب 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں اب تک کے زیر بحث آنے والے تمام موضوعات کا انگریزی زبان میں خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ شہزاد سلیم صاحب نے23 اعتراضات کی سیریز میں زیر بحث آنے والے موضوع ’’قراءت کا اختلاف‘‘ کا خلاصہ بیان کیا۔ ان نشستوں کا مقصد اب تک ہونے والی طویل گفتگو کو مختصر اور جامع صورت میں انگریزی داں طبقے تک پہنچانا ہے۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ دنیا نیوز چینل پاکستان کا ایک معروف پروگرام ہے، جو کئی برس سے نشر ہو رہا ہے۔ یہ ڈیلس میں ریکارڈ ہوتا ہے اور ہفتہ وار نشر ہوتا ہے۔ میزبانی کے فرائض غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن حسن الیاس صاحب انجام دیتے ہیں۔ مئی 2026ء میں نشر ہونے والے پروگراموں میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: دنیا میں اجنبی کی طرح زندگی گزارنے سے کیا مراد ہے؟ دشمن کے ساتھ انصاف کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ایک موقع پر مشرکین کو مسجد حرام میں آنے سے روکنے کی کیا وجہ تھی؟ اور کیا دو ملکوں میں صلح کرانے کے لیے حقائق میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے؟ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن

سماجی و خاندانی مسائل کے حل کے لیے شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن مشاورتی سیشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ماہ منعقد ہونے والے 40 سے زائد سیشنز میں والدین کی مشکلات اور نوجوان نسل کی نفسیاتی و تربیتی الجھنوں کے حل سے متعلق گفتگو کی گئی۔ یہ نشستیں ان افراد کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں، جو اپنے نجی معاملات میں شرعی اور اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے مخلصانہ مشورہ چاہتے ہیں۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ شرعی مسائل کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی رہنمائی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ گذشتہ ماہ نکاح و طلاق، وراثت اور مختلف معاشی و معاشرتی معاملات سے متعلق متعدد فتاویٰ جاری کیے گئے۔ جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کی روشنی میں یہ فتاویٰ محمد حسن الیاس صاحب نے مرتب کیے۔ واضح رہے کہ فتویٰ ایک دینی راے کا نام ہے، یہ کوئی قانونی حکم نامہ یا عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا۔

’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

شہزاد سلیم صاحب نے غامدی صاحب کی تفسیر ’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مئی 2026ء میں سورۂ انفال کی آیات 42 تا 75 اور سورۂ توبہ کی آیات 1 تا 12کا درس دیا۔ اس تدریسی کاوش کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر انگریزی داں اہلِ علم کو قرآن مجید کے اس جدید اور منفرد فہم سے براہِ راست مستفید ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان تمام دروس کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔