غامدی سینٹر کے پلیٹ فارم سے ’’استفسار: ڈاکٹر عمار خان ناصر کے ساتھ‘‘ کے عنوان سے سوال و جواب کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں غامدی سینٹر کے اسکالر ڈاکٹر عمار خان ناصر علمی و فکری سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ نومبر 2025ء کے ان پروگراموں میں پوچھے گئے چند اہم سوال یہ ہیں: ’’ایک مسلک کو چھوڑ کر دوسرے مسلک کی طرف کب جا سکتے ہیں؟‘‘، ’’کیاغیر مسلموں کے لیے کافر کا لفظ استعمال کرنا جائز ہے؟‘‘، ’’کیا غیر مسلموں پر اتمام حجت ہو چکا ہے؟‘‘ اور ’’کیا اسلامی ریاست کا قیام ضروری ہے؟‘‘۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
Ask Ghamidi
یہ سوال و جواب کی آن لائن نشست ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے دینی اور اخلاقی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جوابات براہ راست غامدی صاحب سے حاصل کر سکیں۔ ہر ماہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس نشست میں حصہ لیتی ہے۔ نومبر 2025ء میں اس نشست میں لوگوں کی طرف سے پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: ’’اگر اولاد اور بہن بھائی نہ ہوں تو وراثت کس کو ملے گی ؟‘‘، ’’قسم کی حقیقت کیا ہے؟‘‘، ’’نذر پوری نہ کرنے کا کیا کفارہ ہے؟‘‘ اور ’’ کیا فالوورز کے گناہوں کا بوجھ لیڈر پر ہو گا؟ ‘‘ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
’’دین آسان ہے یا مشکل؟
نومبر 2025ء میں محمد حسن الیاس صاحب کو یوٹیوب پر نشر ہونے والے مقبول پروگرام ’’Lunch with Lillas‘‘ میں مدعو کیا گیا، جہاں انھوں نے ’’دین آسان ہے یا مشکل؟‘‘ کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ پروگرام میں انھوں نے دین کے مختلف پہلوؤں کو عصری تناظر میں واضح کیا اور پروگرام کی میزبان ماہ نور صاحبہ کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کے مدلل جوابات دیے۔ گفتگو میں زیرِ بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں:’’کیا اسلام کی نظر میں مرد و عورت برابر ہیں؟‘‘، ’’کیا اسلام میں چہرے کا پردہ کرنا فرض ہے؟ ‘‘اور ’’کیا نیل پالش کے اوپر وضو ہو جاتا ہے؟‘‘۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
’’ امام شاہ ولی اللہ کے کام کی اہمیت‘‘
سید منظور الحسن صاحب کا یہ مضمون غامدی صاحب کی گفتگو سے ماخوذ ہے۔ مضمون میں شاہ ولی اللہ کے علمی مقام اور اُن کے منہاج فکر کی بنیادی اہمیت پر بات کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دین کو سمجھنے کے دو بڑے منہاج ہیں:سلفی منہاج، جو احکام کی ظاہری اطاعت پر قائم ہے اور فقہ و تدبر کا منہاج، جو دین کو ایک مربوط نظامِ فکر کے طور پر دیکھتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ کی عظمت یہ ہے کہ انھوں نے فقہ و تدبر کی علمی روایت میں کھڑے ہو کر سلفی روایت کو بھی گہرائی سے سمجھا اور دونوں مناہج کو نہایت حکمت سے یکجا کر دیا۔ اُن کے کام نے دین کے مختلف پہلوؤں میں پائے جانے والے انتشار کو ختم کیا اور ایک ہم آہنگ اور متوازن نظامِ فکر پیش کر دیا، اسی وجہ سے دونوں علمی روایتوں کے لوگ انھیں اپنا امام مانتے ہیں۔ یہ مضمون ’’اشراق‘‘ امریکہ کے گذشتہ ماہ کے شمارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔
ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث
نومبر 2025 ء میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری غامدی صاحب کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ حج کی آیات 59تا 70 کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی نشستوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوابوں سے متعلق احادیث پر گفتگو کی۔ درس حدیث کی ان نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’فرشتوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب میں گفتگو کرنا‘‘، ’’فرشتے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں حضرت عائشہ کو دکھانا‘‘، ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود کو جنگی لباس میں دیکھنا‘‘ اور ’’کھجوروں کے شہر کی طرف ہجرت‘‘۔ قرآن و حدیث کے دروس کی ان نشستوں کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔
’’افکارِ غامدی‘‘
’’افکار غامدی‘‘ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پرشروع کیا گیا ہفتہ وار پروگرام ہے۔اس میں ماہنامہ ’’اشراق امریکہ‘‘ کے مدیر سید منظور الحسن غامدی صاحب کے افکار کی شرح و وضاحت کر رہے ہیں۔ اس پروگرام میں مختلف موضوعات کو زیر بحث لاتے ہوئے عام فہم انداز میں بات کو سمجھایا جاتا ہے۔ نومبر 2025ء میں اس پروگرام کی نشر ہونے والی اقساط کے عنوان یہ ہیں: ’’علما کی اصل ذمہ داری‘‘، ’’دلوں پر مہر لگنے کی حقیقت‘‘ اور ’’فتویٰ فیصلہ ہے یا راے؟‘‘ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
’’ ’الخراج بالضمان‘ کا صحیح تصو ر ‘‘
محمد حسن الیاس صاحب نے اپنے اس مضمون میں ’الخراج بالضمان‘ کی عام فقہی تعبیر پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے اس کے اصل مفہوم کی وضاحت کی ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اس روایت کا مقصود صرف یہ ہے کہ نفع اسی کا حق ہے جو کسی شے کی کفالت اور ذمہ داری اٹھائے، جب کہ بعد کے فقہا نے اسے محض مالی نقصان سے جوڑ کر ایک کلی اصول بنا لیا۔ لکھتے ہیں کہ لغت، سیاق اور مختلف عقود کی نوعیت کے لحاظ سے یہ تعبیر درست نہیں، کیونکہ ہر معاملہ اپنی اپنی نوعیت کے مطابق الگ ذمہ داری طے کرتا ہے اور نفع انھی ذمہ داریوں کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ مضمون ’’اشراق‘‘ امریکہ کے نومبر 2025ء کے شمارے میں دیکھا جا سکتا ہے۔
’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ’’تفہیم الآثار‘‘ کے عنوان سے نشر ہونے والے پروگرام میں صحابہ و تابعین کے آثار کی شرح و وضاحت اور منتخب آثار پر مبنی سوال وجواب کی نشستیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن سرانجام دے رہے ہیں، جب کہ ڈاکٹر عمار خان ناصر اس میں بہ طورِ مہمان شریک ہیں۔ نومبر 2025ء میں اس سیریز کے تحت منعقد ہونے والی نشستوں میں ’’صحابۂ کرام میں کتابتِ حدیث سے گریز کا رجحان‘‘، ’’جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہونے کی وجہ‘‘، ’’حضرت ابو بکر صدیق کا مرتدین کو خط ‘‘، ’’ صحابۂ کرام میں کتابتِ حدیث کے اہتمام کا رجحان‘‘ اور ’’حدیث کی جمع و تدوین اور امراے بنو امیہ‘‘ جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
”اتمام حجت“ کا انگریزی زبان میں خلاصہ
شہزاد سلیم صاحب 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں اب تک کے زیر بحث آنے والے تمام موضوعات کا انگریزی زبان میں خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔ نومبر 2025ء میں شہزاد سلیم صاحب نے23 اعتراضات کی سیریز میں زیر بحث آنے والے موضوع ’’اتمام حجت‘‘کا خلاصہ بیان کیا۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
مولانا اصلاحی کی جماعت اسلامی سے علیحدگی اور نئی مصروفیات
’’حیاتِ امین‘‘ کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی قسط میں مولانا امین احسن اصلاحی کی جماعت اسلامی سے علیحدگی اور بعد کی علمی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مضمون میں مولانا اصلاحی کے مولانا مودودی کے نام خط کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کے فکری و انتظامی اختلافات کی وجہ سے دیے گئے استعفے کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اُن کی نئی علمی مصروفیات، نوجوان شاگردوں کی تربیت، اور ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کے اجرا کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ مزید برآں، 1965ء کے صدارتی انتخابات کے موقع پر جماعت اسلامی کی پالیسی پر مولانا اصلاحی کی علمی تنقید کا خلاصہ بھی پیش کیا ہے، جو اُن کے فکری استقلال اور اصولی موقف کی نمایندگی کرتا ہے۔
’’ایمان و عقائد‘‘
شہزاد سلیم صاحب ’’میزان لیکچرز سیریز‘‘ کے تحت غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کر رہے ہیں، تاکہ انگریزی جاننے والے حضرات بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ نومبر 2025ء میں انھوں نے اس سیریز کے تحت ’’ایمان و عقائد‘‘ کے موضوع پر دو لیکچرز ریکارڈ کرائے۔ یہ لیکچرز غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہیں۔
غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری آن لائن خانقاہ کی گذشتہ ماہ منعقد ہونے والی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’ زندگی میں دعا کا کردار‘‘، ’’کسی کو نظر لگنے کے بعد صدقہ کرنا‘‘، ’’ایمان کا ارتقا‘‘، ’’ایمان سے توہمات کی طرف مائل ہو جانا‘‘ اور ’’انسانی صلاحیتوں کے سات پہلو‘‘۔ آن لائن خانقاہ کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
’’اسلام اسٹڈی سرکل ‘‘
شہزاد سلیم صاحب ”اسلام اسٹڈی سرکل“ کے عنوا ن سے ہر ماہ ایک سیشن کاانعقاد کرتے ہیں۔ اس میں وہ مختلف دینی، اخلاقی اور سماجی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کرتے ہیں۔ یہ سیشن تین حصوں پر مشتمل ہے: پہلے حصے میں قرآن مجید کی آیات سے ایک موضوع منتخب کر کے اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ دوسرے حصے میں منتخب احادیث نبوی پر گفتگو ہوتی ہے۔ تیسرے حصے میں بائیبل کے کسی اقتباس کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پروگرام کے آخر میں موضوع سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیے جاتے ہیں۔ پچھلے مہینے کے سیشن میں ”خدا کا بندہ“، ”کچھ قیمتی خصوصیات ‘‘، ”خدا کی اطاعت کا بوجھ‘‘ اور ’’ایک بری عادت جس سے میں چھٹکارا چاہتا ہوں‘‘جیسے موضوعات زیر بحث رہے۔ سیشن کے آخر میں حاضرین کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے گئے۔ یہ سیشن انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ اس سیشن کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“
نومبر 2025ء میں ’’دنیا نیوز‘‘ پر نشر ہونے والے غامدی صاحب کے ہفتہ وار پروگراموں میں زیر بحث آنے والےسوالوں میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں: ’’ حق کو سمجھنے میں غلطی کے اسباب کو کیسے دور کیا جائے گا؟ ‘‘، ’’کیا رفع یدین کا مسئلہ حق و باطل کا مسئلہ ہے؟‘‘، ’’شورائیت اور مغربی جمہوریت میں فکری و عملی ہم آہنگی کیسے ممکن ہے؟ ‘‘ اور ’’ اس کی کیا دلیل ہے کہ نظام مشورے سے وجود پذیر ہو گا؟‘‘۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن
ڈاکٹر شہزاد سلیم ہر ماہ آن لائن نجی مشاورتی سیشنز کا اہتمام کرتے ہیں، جن میں شرکا اپنے ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل پر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے 40 سے زائد سیشنز منعقد ہوئے، جن میں شرکا نے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری کے مسائل کے حل کے لیے ڈاکٹر شہزاد سلیم سے مشاورت کی۔
دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا
شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance) اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت متعدد فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کی روشنی میں حسن الیاس صاحب نے جاری کیا۔
’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس
شہزاد سلیم صاحب نے غامدی صاحب کی تفسیر ’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نومبر 2025ء میں سورۂ انعام کی آیات 153 تا 165 کا درس پیش کیا۔ یہ اقدام اس مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے کہ انگریزی زبان جاننے والے اہلِ علم بھی ’’البیان‘‘ کے فہم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مذکورہ نشستوں کی ویڈیو ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔
Ask Dr. Shehzad Saleem
شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ سوال و جواب کی لائیو نشست منعقد کرتے ہیں، جس میں وہ لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔ سوال و جواب کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔