مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]ستمبر 2025ء[ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ

شاہد محمود اردو

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر میں ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب ’’المورد‘‘، امریکہ کے معروف اسکالر ڈاکٹر شہزاد سلیم کی 37 سالہ علمی و دعوتی خدمات کے اعتراف میں منعقد کی گئی تھی، جس میں انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا۔ غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن، حسن الیاس صاحب نے اس تقریب کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔ اس موقع پر غامدی صاحب، ’’المورد‘‘، امریکہ کے دیگر اسکالرز اور ڈاکٹر شہزاد سلیم کے اعز ہ اور احباب نے آن لائن اور براہ راست شرکت کی اور ان کے علمی، فکری اور شخصی اوصاف کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اس تقریب کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’اجتہادی اطلاقات ‘‘

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ’’اجتہادی اطلاقات‘‘ کے عنوان سے ایک نئے موضوع کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت ہونے والی نشستوں میں غامدی صاحب کے آج تک کے کیے گئے اجتہادی اطلاقات اور ان پر علما کی جانب سے کی گئی تنقیدات کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ اگست 2025ء میں اس موضوع پر منعقد ہونے والی نشستوں میں زکوٰۃ اور طلاق کے باب میں کیے جانے والے غامدی صاحب کے اجتہادی اطلاقات پر گفتگو کی گئی۔ ان نشستوں کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد پر ڈاکومینٹری

اگست 2025ء میں مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی ایک جامع ڈاکومینٹری تیار کی گئی ہے۔ ایک گھنٹا پینتیس منٹ دورانیے کی اس ڈاکومینٹری کے اسکرپٹ اور تحقیق کی ذمہ داری غامدی سینٹر کے اسکالر نعیم احمد بلوچ صاحب نے انجام دی ہے۔ انھوں نے نہ صرف مولانا کی زندگی کی جدوجہد کا مفصل جائزہ لیا ہے، بلکہ اُس دور کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حالات کی بھرپور عکاسی بھی کی ہے۔ حسن الیاس صاحب کی نگرانی میں بننے والی اس ڈاکومینٹری کو غامدی سینٹر کی متعلقہ ٹیم نے گرافکس اور visuals کے ذریعے سے بہترین سطح پر پیش کیا ہے۔ اس ڈاکومینٹری کی صداکاری جناب خالد سید نے کی ہے۔ یہ ’’مولانا ابوالکلام آزاد: ایک متاعِ گم گشتہ‘‘ کے عنوان سے غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘

غامدی سینٹر کی جانب سے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے نام سے ایک نئی علمی سیریز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس میں حسن الیاس صاحب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی مشہور تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘کے اہم مباحث سے متعلق اپنے سوالات اور اشکالات غامدی صاحب کے سامنے رکھتے ہیں اور غامدی صاحب اس پر اپنی راے اور تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سیریز غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر سلسلہ وار نشر کی جا رہی ہے۔ طلبہ اور اہل علم اسے تعلیمی لحاظ سے بہت مفید قرار دے رہے ہیں۔

’’فلسفہ سیریز‘‘

غامدی سینٹر کی جانب سے کچھ عرصہ قبل ایک علمی سیریز ’’فلسفہ‘‘ کے عنوان سے ریکارڈ کی گئی تھی۔اس سیریز میں فلسفے کے بنیادی تصورات، اس کی عملی جہتیں، مغربی و مشرقی فلسفے کا تقابلی جائزہ اور دینی و سائنسی تناظر میں اس کے کردار پر مدلل بحث کی گئی ہے۔ یہ سیریز نہ صرف اہلِ علم و تحقیق کے لیے ایک قیمتی اضافہ ہے، بلکہ طلبہ اور عام قارئین کے لیے بھی فلسفے جیسے پیچیدہ موضوع کو قابلِ فہم انداز میں سمجھنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔ اس سیریز کو آڈیو کی صورت میں تیار کیا گیا۔ اس علمی سلسلے کی میزبانی حسن الیاس صاحب نے کی ہے، جب کہ جناب جاوید احمد غامدی بہ طور مہمان شریک گفتگو ہیں۔اس ’’فلسفہ سیریز‘‘ کو اب ناظرین کے لیے غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر سلسلہ وار نشر کیا جا رہا ہے۔

’’داستان حیات ڈاکٹر شہزاد سلیم‘‘

اگست 2025ء میں جناب حسن الیاس نے غامدی سینٹر کے معروف اسکالر ڈاکٹر شہزاد سلیم کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس گفتگو میں ڈاکٹر شہزاد سلیم نے اپنے علمی و فکری سفر، غامدی صاحب سے اپنی پہلی ملاقات کے محرکات، خاندانی پس منظر اور ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ علاوہ ازیں، انھوں نے اپنے علمی سفر میں پیش آنے والی مشکلات اور چیلنجز کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ اس انٹرویو کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’’ حلال کو حرام قرار دینے کی بدعت ‘‘

منظور الحسن صاحب نے اپنے اس مضمون میں واضح کیا ہے کہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے، جس سے قرآن سختی سے روکتا ہے۔ دینی معاملات میں خود ساختہ فتوے دینا نہ صرف بدعت ہے، بلکہ شریعت سازی کی جسارت ہے، جو صریح گم راہی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس طرزِ عمل کو سابقہ امتوں کی گم راہی قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ یہ مضمون ’’اشراق‘‘ امریکہ کے اگست 2025ء کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

”وائس آف ریسرچ“

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ”وائس آف ریسرچ“ کے نام سے جاری آن لائن سیمینارز میں گذشتہ ماہ دو موضوعات کو زیر بحث لایا گیا: ’’کیا قرآن سائنس کی کتاب ہے؟‘‘ اور ’’غزہ: امت مسلمہ کے لیے ایک امتحان‘‘۔ اول الذکر پر سلمان احمد شیخ صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے ’’انسان کی ذہانت بہ مقابلہ مصنوعی ذہانت‘‘، ’’کیا قرآن کمپیوٹنگ کا ذکر کرتا ہے؟‘‘، ’’کیا مصنوعی ذہانت شیطانی عمل ہے؟‘‘ اور ’’کیا کمپیوٹر کی ذہانت انسان پر غالب آ سکتی ہے؟‘‘ جیسے اہم نکات پر بات کی، جب کہ موخر الذکر موضوع پر ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی نے غزہ کی موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے جن اہم نکات پر گفتگو کی، وہ یہ ہیں: ’’مسلم دنیا کی خاموشی ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے‘‘، ’’اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ قیادت اور سیاسی ارادے کی کمی ہے‘‘ اور ’’اب ضرورت حکمت عملی اور بیداری کی ہے‘‘۔ ان سیمینارز کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

Ask Ghamidi

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ’’Ask Ghamidi ‘‘ کے عنوان سے جاری سوال و جواب کی آن لائن نشست میں گذشتہ ماہ پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: ’’ کیا جنت کے لیے لاشعوری ایمان ضروری ہے؟‘‘، ’’ خواتین پر نان و نفقہ کی ذمہ داری ڈالنا درست ہو گا؟‘‘، ’’ قرآن میں گوری حوروں کا ہی ذکر کیوں؟‘‘ اور ’’ کیا حکومت مسجد گرا سکتی ہے؟‘‘ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث

اگست 2025 ء میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ انبیاء کی آیات 87 تا 112 اور سورۂ حج کی آیات 1 تا 20 کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی ان نشستوں میں جن نکات پر گفتگو کی گئی، ان میں سے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’رسول اللہ کا ظالم و منافق حکمران سے اعلان براءت‘‘، ’’ایمان کیا ہے؟‘‘ ، ’’عبادات میں افراط‘‘ اور ’’بیویوں سے کنارہ کشی کرنے کا گناہ‘‘۔ قرآن و حدیث کے دروس کی یہ نشستیں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

غامدی سینٹر کا بُک اسٹال

اگست 2025ء میں غامدی سینٹر نے ISNA (Islamic Society of North America) کے امریکہ میں ہونے والے باسٹھویں سالانہ اجتماع میں شرکت کی اور کتابوں کا ایک اسٹال لگایا، جہاں غامدی صاحب اور دیگر اسکالرز کی کتابیں رکھی گئیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس بُک اسٹال کا وزٹ کیا اور کتابیں خریدیں۔

’’ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی: ایک عہد ساز مفکر! ‘‘

محمد حسن الیاس صاحب نے اپنے اس مضمون میں مولانا مودودی کی شخصیت کے مختلف علمی و فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ مولانا مودودی بیسویں صدی کے وہ نابغۂ روزگار مفکر تھے جنھوں نے دینِ اسلام کو محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا۔ اُنھوں نے اسلامی اصطلاحات کی نئی فکری تشکیل، اجتہادی اصولوں کی روشنی میں عصرِ حاضر سے مکالمہ اور دین کی تمدنی تعبیر کے ذریعے سے فکرِ اسلامی کو نئی جہت دی۔ اُن کی تحریریں زبان، منہج اور تہذیب، تینوں سطحوں پر ایک فکری انقلاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مولانا نہ صرف روایت کے امین تھے، بلکہ اس کے نقاد، مجدد اور معمار بھی تھے۔ یہ مضمون ’’اشراق‘‘ امریکہ کے گذشتہ ماہ کے شمارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔

’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری ’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز کے زیر عنوان اگست 2025ء میں منعقد ہونے والی نشستوں میں ’’سیدنا علی کی خلافت–حضرت امیر معاویہ کا سیاسی موقف ‘‘، ’’یزید کی ولی عہدی–حضرت امیر معاویہ کا سیاسی موقف ‘‘، ’’قریش میں مختلف عصبیتوں کی کشمکش ‘‘ ، ’’شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور دور تغلب کا آغاز‘‘ اور ’’یزید کے دور میں خروج کے اقدامات‘‘ جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

’’انکوائری کمیشن رپورٹ اور مولانا امین احسن اصلاحی کا بیان‘‘

’’حیات امین‘‘ کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی قسط میں نعیم احمد بلوچ صاحب نے 1953ءکے فسادات کی تحقیقات کے لیے جسٹس منیر احمد اور جسٹس محمد رستم کیانی کے انکوائری کمیشن کی رپورٹ اور اس میں شامل مولانا کے مفصل بیان کا تذکرہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ رپورٹ میں مجلس احرار کو فسادات کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور مذہب کی سیاست میں مداخلت کو ریاستی امن کے لیے خطرہ بتایا گیا۔ مولانا اصلاحی نے سیاسی اور حقیقی مسلمان کا فرق بتاتے ہوئے کہا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام پر عین اس طرح ایمان رکھتا اور عمل کرتا ہو، جس طرح وہ احکام و ہدایات اس پر عائد کیے گئے ہیں ۔ یہ مضمون ’’اشراق‘‘ امریکہ کے اگست 2025ء کے شمارے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

’’سوال و جواب حسن الیاس کے ساتھ‘‘

معروف یوٹیوب چینل ’’مسلم ٹو ڈے‘‘ پر محمد حسن الیاس صاحب کے پروگرام ’’Ask Hassan Ilyas‘‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سوال و جواب پر مبنی پروگرام ہے، جس میں حسن الیاس صاحب حاضرین کی جانب سے پوچھے گئے علمی و فکری اور دینی سوالات کے جواب دیتے ہیں۔ اگست 2025ء میں اس پروگرام میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’کیا معجزات آج بھی ہوتے ہیں؟‘‘، ’’احمد رضا خان کا منہاجِ عقیدت‘‘، ’’سیدنا ابو بکر نے احادیث کو کیوں جلایا؟‘‘ اور ’’دوسروں پر گستاخی اور کفر کے فتوے لگانا‘‘۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری آن لائن خانقاہ کی گذشتہ ماہ منعقد ہونے والی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’ اپنوں سے بات کرنے میں خوف آنا‘‘، ’’ خوش کریں یا اصول توڑیں؟‘‘، ’’ حق اور خیر میں سے کس کو ترجیح دی جائے گی؟‘‘ اور ’’ فیصلوں میں جلد بازی کرنا‘‘۔ آن لائن خانقاہ کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

’’اسلام اسٹڈی سرکل ‘‘

اگست 2025ء میں شہزاد سلیم صاحب نے ”اسلام اسٹڈی سرکل“ پروگرام میں قرآن مجید، حدیث اور بائیبل کے جن موضوعات پر بات کی، ان کے عنوانات بالترتیب یہ ہیں: ’’ذکر الہٰی‘‘، ’’اچھے اخلاق‘‘اور ’’دل کی حفاظت کرو ‘‘۔ مزید برآں، نشست کے آخر میں ’’اپنی نعمتوں کا شمار کرو‘‘ کے موضوع پر گفتگوکی گئی اور زیر بحث آنے والے موضوعات سے متعلق پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب دیے گئے۔ یہ سیشن انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ اس سیشن کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

’’ایمان و عقائد‘‘

شہزاد سلیم صاحب ’’میزان لیکچرز سیریز‘‘ کے تحت غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ انھوں نے اس سیریز کے تحت ’’ایمان و عقائد‘‘کے موضوع پر انگریزی زبان میں دو لیکچرز ریکارڈ کرائے۔ ان لیکچرز کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’’امتِ مسلمہ کے عروج و زوال کی تاریخ‘‘

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ دنیا نیوز چینل پاکستان کا ایک معروف پروگرام ہے، جو کئی برس سے نشر ہو رہا ہے۔ یہ ڈیلس میں ریکارڈ ہوتا ہے اور ہفتہ وار نشر ہوتا ہے۔ میزبانی کے فرائض غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن حسن الیاس صاحب انجام دیتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پروگرام میں ’’امتِ مسلمہ کے عروج و زوال کی تاریخ‘‘ کا موضوع زیر بحث تھا۔ اس سلسلے کی مجموعی طور پر بارہ اقساط ریکارڈ کی گئیں، جن میں امت مسلمہ کی تاریخ کے اہم ادوار، فکری انحطاط اور امت کے اجتماعی رویوں کا گہرا تجزیہ پیش کیا گیا۔ گذشتہ ماہ اس موضوع کا مکمل احاطہ کرنے کے بعد یہ سیریز پایۂ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ اس سیریز کے تمام پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن

شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ لوگوں سے آن لائن نجی مشاورتی سیشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان سیشنز میں لوگ اپنے مختلف ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل میں شہزاد سلیم صاحب سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے 30 سے زائد سیشنز ہوئے۔ان سیشنز میں لوگوں نے شہزاد سلیم صاحب سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance) اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت متعدد فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کی روشنی میں حسن الیاس صاحب نے جاری کیا۔

Ask Dr. Shehzad Saleem

شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ سوال و جواب کی لائیو نشست منعقد کرتے ہیں، جس میں وہ لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔ سوال و جواب کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

شہزاد سلیم صاحب غامدی صاحب کی تفسیر ”البیان“ کی انگریزی زبان میں تدریس کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں تاکہ انگریزی جاننے والے حضرات بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ اگست 2025ء میں انھوں نے سورۂ انعام کی آیات 56 تا 92 کا انگریزی زبان میں درس دیا۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔