مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]مئی 2024[ غامدی صاحب کی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشستیں

شاہد محمود اردو

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ہونے والی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشستوں میں جن اہم موضوعات کو زیر بحث لایا گیا وہ یہ ہیں: ’’کیا امریکہ ایک مہذب فاتح ہے؟‘‘، ’’مذہبی شعور کیسے پیدا ہوتا ہے؟‘‘، ’’غامدی صاحب کو کن موضوعات پر بات کرنی چاہیے؟‘‘ اور ”تبدیلی کا مذہبی بیانیہ‘‘۔ مزید برآں مذہبی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ سورۂ شوریٰ کی آیت 13 کی روشنی میں اقامتِ دین کے مفہوم پر بات ہوئی اور اس بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ ان نشتوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

”مندر کی تعمیر اعتراضات کی حقیقت‘‘

کچھ عرصہ قبل غامدی سینٹر کو ابو ظہبی میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے ایک سوال موصول ہوا۔ اُس میں یہ پوچھا گیا کہ کیا جزیرہ نماے عرب میں آج بھی غیر مسلموں کی مستقل رہایش اور ان کے مذہبی مقامات بنانا ناجائز ہے؟ حسن الیاس صاحب نے اِس سوال کا جواب ریکارڈ کرایا۔ ان کے اس جواب پر اور اس بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر پر ناظرین کی طرف سے جو اعتراضات کیے گئے اس نشت میں غامدی صاحب نے ان کا جواب دیا ہے۔ اس نشت کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

اسباق زندگی

غامدی صاحب کے عزیز شاگرد جناب معز امجد نے ڈیلس،امریکہ میں اپنے قیام کے دوران میں غامدی سینٹر کے لیے پروگرام ریکارڈ کرائے۔ ابتدائی چار پروگراموں میں میزبانی کے فرائض حسن الیاس صاحب نے انجام دیے، جب کہ باقی پروگراموں کے میزبان جہاں زیب حمید صاحب ہیں۔ اپریل 2024 میں ان پروگراموں میں زندگی کو بہتر بنانے کے اصول، لوگوں تک اپنی بات کیسے پہنچائی جا سکتی ہے اور اخلاقیات کے حوالے سے گفتگو کے ساتھ ساتھ معز امجد صاحب جو وقتاً فوقتاً ورک شاپس کا انعقاد کرتے رہتے ہیں، ان پر بھی بات ہوئی کہ ان ورکشاپس کا مقصد کیا ہے، ان کے اہم نکات کیا ہوتے ہیں اور کسی ورکشاپ کو کامیاب بنانے کے کیا اصول ہیں۔ گذشتہ ماہ اس پروگرام کے 6 ایپی سوڈ نشر کیے گئے، جن کو غامدی سینٹرکے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“

اپریل 2024 میں دنیا نیوز چینل کے معروف پروگرام”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ میں ’’قرآن مجید پر اعتراضات کا جائزہ‘‘، ’’اللہ پر ایمان‘‘ اور ناظرین کی طرف سے موصول ہونے والے سوالات پر مبنی پروگرام نشر ہوئے۔ ان پروگراموں میں عقل کے مسلمات کیا ہیں اور ان سے توحید پر استدلال کیسے ہوتا ہے؟، عہد الست کے واقعہ کو قرآن مجید میں بیان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟، قرآن مجید کے کلامِ الہٰی ہونے کی کیا دلیل ہے؟ اور قرآن مجید کو تین دفعہ لکھوانے کا عمل کیوں ہوا؟ جیسے سوالات کو زیر بحث لایا گیا۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

رازِ حیات کے مختلف پروگرام

’’راز ِحیات‘‘ غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر نشرہونے والا ہفتہ وار پروگرام ہے۔ اس میں دین کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و تطہیر کے موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے۔ گذشہ ماہ اس پروگرام میں ’’ہم اور ہمارے انبیا‘‘، ’’ہم اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور ’’ہم اور ہماری الہامی کتابیں‘‘ جیسے اہم موضوعات پر بات کی گئی۔ منظور الحسن صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کا مختصر تعارف بیان کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمارے تعلق پر بات کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا بنیادی تعلق ایمان کا تعلق ہے اور اسی تعلق پر باقی تمام تعلقات قائم ہیں۔ مزید برآں انھوں نے الہامی کتابوں کے نزول کا مقصد بھی بیان کیا۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ کو ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

دین کا عالم کیسے بنا جائے؟

یہ حسن الیاس صاحب کا پروگرام ہے۔ اس پروگرام میں وہ دین کا عالم بننے کے حوالے سے آسٹریلیا سے آئے نوجوان حمزہ خالد کے مختلف سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ ان نشستوں میں یہ سوالات زیر بحث رہے کہ دین کا عالم بننے کے لیے ضروری ابتدائی مراحل کیا ہیں؟ اور دین کا ایک عالم معاش کا بندوبست کیسے کرے گا؟ اس کے علاوہ حسن الیاس صاحب نے متعدد مفید مشورے بھی دیے جن سے کسی شخص کو دین کا عالم بننے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

غامدی صاحب کے ترجمۂ قرآن کا تعارف اور چیدہ چیدہ خصوصیات

یہ ڈاکٹر عرفان شہزاد کا مضمون ہے، جس میں انھوں غامدی صاحب کے ترجمۂ قرآن کا تعارف اور اس کی چیدہ چیدہ خصوصیات بیان کی ہیں۔ انھوں نے اپنے اس مضمون میں قرآن مجید سے متعدد مثالیں پیش کر کے اس بات کو واضح کیا ہے کہ غامدی صاحب کا ترجمۂ قرآن نظم قرآن کی روشنی میں قرآن مجید کا ایک مربوط اور مسلسل ترجمہ ہے۔ اس ترجمے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس ترجمے میں متنِ قرآن کو پیروں میں تقسیم کیا گیا ہے جس سے ہر پیرے کی خاص معنوی وحدت نمایاں ہوتی ہے۔ قرآن مجید کے موضوع کو متعین کیا گیا ہے، جس سے قرآن کا دائرہ طے ہوتا ہے کہ وہ کن امور کو موضوع بناتا ہے اور کن کو نہیں۔ قانون اتمام حجت کا ایک نظریاتی فریم ہے جس کے تحت آیات کا درست تناظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ترجمے میں ہی محذوفات کو کھولا اور مخاطبین کا تعیین کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ترجمۂ قرآن کی ایک منفرد حیثیت یہ ہے کہ ترجمے کے اندر ہی ضمائر کے مراجع کا تعین کر دیا گیا ہے۔ یہ مضمون گذشتہ ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

’’مولانا اصلاحی کا علم حدیث کی تحصیل کا فیصلہ‘‘

نعیم احمد بلوچ صاحب نے ”حیات امین“ کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی قسط میں مولانا اصلاحی کے علم حدیث کی تحصیل کی روداد بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کسی جید عالم سے حدیث کا علم حاصل کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جامع ترمذی کے شارح مولانا محمد عبد الرحمان مبارک پوری کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا۔ بیان کرتے ہیں کہ جب مولانا مبارک پوری کو معلوم ہوا کہ مولانا اصلاحی مدرسۃ الاصلاح کے فارغ التحصیل ہیں تو انھوں نے تبرکاً ایک حدیث پڑھا کر ان کو سند بیان کرنے کی اجازت دے دی، لیکن مولانا اصلاحی نے درخواست کی کہ وہ سبقاً سبقاً حدیث پڑھنا چاہتے ہیں چنانچہ مولانا مبارک پوری نے انھیں جامع ترمذی کا درس دینا شروع کر دیا۔اور اس طرح ان کے علمِ حدیث کی تحصیل کے سفر کا آغاز ہوا۔

تطہیر بدن کے احکام

مدیر اشراق، امریکہ سید منظور الحسن کا یہ مضمون گذشتہ ماہ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے تطہیر بدن سے متعلق دین کے احکام کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسان کا بدن اس کے وجود کا اولین مظہر ہے۔ اس کی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی انسان کی فطرت میں شامل ہے اور حضرت آدم سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام پیغمبروں نے بدن کی صفائی کو لازمی قرار دیا ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ تطہیر بدن کے یہ احکام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دین ابراہیمی کی روایت کے طور پر رائج تھے۔ آپ نے انھیں اختیار فرمایا اور سنت کی حیثیت سے دین میں جاری فرمایا ہے۔ ان احکام کی نوعیت رسوم و آداب کی ہے۔ انبیا علیہم السلام نے ان کا اہتمام کیا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ان کے التزام کی تائید فرمائی ہے۔

قرآن و حدیث کا ہفتہ وار درس

اپریل 2024 میں غامدی صاحب کے قرآن و حدیث کے لائیو درس میں درس قرآن کی نشستوں میں سورۂ بنی اسرائیل کی 68 تا 83 آیات کا درس دیا گیا، جب کہ درس حدیث کی نشستوں میں ”میرا اور میرے خلفاے راشدین کا طریقہ“ اور ’’عذاب قبر ‘‘ کے حوالے سے احادیث پر بات ہوئی۔ قرآن و حدیث کے دروس کی یہ نشستیں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر شہزاد سلیم کے مختلف لیکچر زکی ریکارڈنگ

اپریل 2024 میں شہزاد سلیم صاحب نے جن موضوعات پر لیکچرز ریکارڈ کرائے، وہ یہ ہیں: ’’روزے کی حکمت‘‘،’’مسائل زکوٰۃ‘‘، ’’صدقہ اور سخاوت ‘‘، ’’ زندگی کی آزمایشوں کا سامنا‘‘، ’’خدا سے مضبوط تعلق کیسے قائم کیا جائے؟‘‘، ’’کیا ہم آخرت کے لیے تیار ہیں؟‘‘، ’’اچھے انسان کیسے بنیں؟‘‘ اور ’’رمضان کا سبق‘‘۔ ان لیکچرز کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہیں۔

’’سوال و جواب سید منظور الحسن کے ساتھ‘‘

یہ غامدی سینٹر کا مستقل پروگرام ہے۔ اس پروگرام میں نوجوانوں کے ذہنوں میں اسلام سے متعلق پیدا ہونے والے سوالوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ پروگرام میں مختلف نوجوان خواتین و حضرات سوال کرتے ہیں۔ سید منظور الحسن اِن سوالات کے مفصل جواب دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس پروگرام میں جو موضوعات زیر بحث رہے، وہ یہ ہیں: ’’اعتکاف کی حقیقت و اہمیت‘‘، ’’ غامدی صاحب کا تصور حدیث: اعتراضات کی حقیقت‘‘ اور ’’نکاح کی ضرورت و اہمیت‘‘ ان پروگراموں کو ادارے کے یو ٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

لفظِ ’’تبیین‘‘ کے بارے میں اسلاف کی آرا

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے زیر اہتمام 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”حدیث کیا ہے؟“ کا موضوع زیر بحث رہا۔ اس موضوع کے تحت غامدی صاحب نے لفظ تبیین کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا اور اس بارے میں اسلاف کے نقطۂ نظر کو بیان کیا۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 5 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کی رہنمائی میں محمد حسن الیاس نے جاری کیا۔

سفر در سفر

یہ غامدی صاحب کے دیرینہ رفیق اور شاگرد نعیم احمد بلوچ صاحب کا پروگرام ہے جو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر سلسلہ وار نشر کیا جا رہا ہے اور اس کی میزبانی کے فرائض جناب جہاں زیب حمید سرانجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ نشر ہونے والے پروگراموں میں نعیم بلوچ صاحب نے پاکستان میں نوجوانوں کے شدت پسندی کے بیانیے سے متاثر ہونے کی وجوہات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے انھوں نے جو کام کیا ہے اس کی تفصیل بھی بیان کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی علمی، تصنیفی اور صحافتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ اس پروگرام کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

غامدی سینٹر میں عید ملن پارٹی کا اہتمام

گذشتہ ماہ عید کے روز غامدی سینٹر میں عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ لوگ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد غامدی سینٹر میں جمع ہوئے۔ اس تقریب میں مقامی لوگوں کے علاوہ غامدی سینٹر اور المورد، امریکہ کی ٹیم کے لوگوں نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ اور بورڈ اور جنرل باڈی کے بعض ممبران نے بھی شرکت کی۔