گذشتہ ماہ جناب جاوید احمد غامدی اور حسن الیاس صاحب مختلف ممالک کا دعوتی دورہ کرنے کے بعد آسٹریلیا پہنچے۔ آسٹریلیا میں ان کا قیام دس دن رہا۔ ”المورد آسٹریلیا“ کے روح رواں ڈاکٹر ذوالفقار نے سڈنی کے اندر تین روزہ ورکشاپ اور ایک پبلک ایونٹ کا اہتمام کیا۔ گذشتہ برس حسن الیاس صاحب نے آسٹریلیا میں ”ذریت ابراہیم عہد بہ عہد“ کے عنوان سے جو سیریز کی تھی، یہ ورکشاپ اسی کا تسلسل تھی۔ اس ورکشاپ میں آسٹریلیا بھر سے لوگوں نے شرکت کی اور جناب جاوید احمد غامدی کے لیکچرز سے علمی استفادہ کیا۔
سڈنی کے بعد غامدی صاحب اور حسن الیاس صاحب نے آسٹریلیا کے شہر Brisbane میں ایک تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب کا اہتمام ارم صاحبہ، احتشام صاحب اور زبیر صاحب نے کیا تھا۔ اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس کے بعد جناب جاوید احمد غامدی اور حسن الیاس صاحب آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ چلے گئے۔ غامدی صاحب کا دورۂ آسٹریلیا مجموعی طور پر انتہائی کامیاب دورہ تھا۔
غامدی صاحب کا دورۂ سنگاپور
آسٹریلیا میں دس روزہ قیام کے بعد جاوید احمد غامدی صاحب اور حسن الیاس صاحب سنگاپور کے لیے روانہ ہو گئے۔ سنگاپور میں غامدی سینٹر کے دعوتی مشن کی انفرادیت یہ ہے کہ اس مشن کی باگ ڈور خواتین نے سنبھالی ہوئی ہے۔ یہاں پر غامدی صاحب نے دو علمی اور دعوتی مجالس میں شرکت کی، جن کا اہتمام غزل صاحبہ اور وجیہہ صاحبہ نے کیا۔ ان مجالس میں ”المورد امریکہ“ کے ریسرچ اسکالر اور ماہنامہ ”اشراق امریکہ“ کے مدیر سید منظور الحسن بھی ملایشیا سے شریک ہوئے۔ ایک خصوصی نشست کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں صرف خواتین نے شرکت کی اور غامدی صاحب سے علمی استفادے کے ساتھ ساتھ اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف سوالات کے جواب حاصل کیے۔
غامدی صاحب کا دورۂ ملایشیا
سنگاپور کے بعد جناب جاوید احمد غامدی اور حسن الیاس صاحب ملایشیا پہنچے۔ ملایشیا میں جاوید احمد غامدی صاحب سے اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبہ اور دینی پس منظر رکھنے والوں لوگوں نے ملاقات کی۔ ملاقات کے آخر میں حاضرین نے غامدی صاحب سے کچھ نصیحتیں کرنے کی درخواست کی جس کے جواب میں غامدی صاحب نے کہا کہ علم کے سچے طالب بنیں، اپنے اندر حق کی حمیت پیدا کریں اور علم کی زبان کو اختیار کریں۔
قرآن و حدیث کا ہفتہ وار درس
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ جاری ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں 8نشستوں کا انعقاد ہوا۔ غامدی صاحب نے ان نشستوں میں سورۂ نحل (16) کی آیات91تا95 کا درس دیا۔ درسِ حدیث میں’’قبروں کی پرستش‘‘، ’’صراط مستقیم کی مثال‘‘، ’’جنت کی حور‘‘ اور ’’نیکی اور بدی کیا ہے؟‘‘ جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ قرآن و حدیث کا یہ درس غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
”مطالعۂ سیرت“ کی آڈیو ریکارڈنگ
غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کی یہ خواہش تھی کہ ”دبستان شبلی“ اور دوسرے مکاتب فکر کے اکابر علما کی کتب کو آڈیو کی صورت میں مہیا کیا جائے تاکہ اردو رسم الخط سے ناواقف لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان علما کے کام اور فکری اور علمی افکار سے مستفید ہو سکے۔ اس کام کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ ایک آڈیو سیٹ اپ قائم کیا گیا جس کی ابتدا ڈاکٹر خالد ظہیر نے مولانا وحید الدین خان کی کتاب ”مطالعۂ سیرت“ کی آڈیو ریکارڈنگ سے کر دی ہے۔ گذشتہ ماہ خالد ظہیر صاحب نے اس کتاب کی دو ایپی سوڈ ریکارڈ کرائیں جو غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر سنی جا سکتی ہیں۔
فکر غامدی پر ایک تنقید کا جواب
ادب، تصوف اور فلسفے کی معروف شخصیت جناب احمد جاوید کی طرف سے جناب جاوید احمد غامدی کے تصورِ نظم قرآن پر تنقیدی لیکچرز نشر کیے گئے۔ اِن میں انھوں نے بیان کیا کہ غامدی صاحب کے تصورِ نظم قرآن نے دین کی ایک منفرد اور مختلف تعبیر کو وجود بخشا ہے، اس کے نتیجے میں علماے دین کی مستند مقبول روایت ناقابل اعتبار ٹھہری ہے۔ ان کے نزدیک یہ تعبیر مغربی اقوام کے نظریات کے زیرِ اثر ہے۔ منظور الحسن صاحب نے اس تنقید کا مفصل جواب لکھا ہے۔ انھوں نے پہلے احمد جاوید صاحب کے تنقیدی نکات کو بیان کیاہے اور پھر ایک ایک کر کے ان کا جواب دیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے غامدی صاحب کے تصورِ نظم قرآن کی تشریح بھی کی ہے۔ یہ مضمون ’’اشراق امریکہ‘‘ کے اکتوبر 2023 کے شمارے میں ملاحظہ جا سکتا ہے۔
”انسان کو آزمایش میں کیوں ڈالا گیا؟“
یہ محمد حسن الیاس صاحب کا مضمون ہے ، جو ’’اشراق امریکہ‘‘ کے اکتوبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں انسانی ذہنوں میں اٹھنے والے سوال کہ ”انسان کو آزمایش میں کیوں ڈالا گیا؟“ اور اہل مذہب کی طرف سے اس کے دیے گئے جوابات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جناب حسن الیاس نے اہل مذہب کی طرف سے اس سوال کے دیے جانے والے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ انسان کی آزمایش کے حوالے سے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے صحیح جواب نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مذہب بیزاری کا شکار ہوتے اور کائنات کو خدا کے منصب پر فائز کر دیتے ہیں۔
’’البیان‘‘ ترجمۂ قرآن کی آڈیو بک
غامدی سینٹر نے تذکیر بالقرآن پراجیکٹ کے تحت پہلی بار قرآن مجید کو ایک سال میں سنانے کا اہتمام کیا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے ترجمۂ قرآن کو شاہ نواز صاحب نے اپنی دل کش آواز میں ریکارڈ کرایا ہے، جب کہ قرآن مجید کی تلاوت مشاری راشد العفاسی کی آواز میں ہے۔ آوازکے ساتھ ساتھ ناظرین اسکرین پر قرآن مجید کا متن اور ترجمہ بھی دیکھ سکیں گے۔ ہر ہفتے اس کی ایک قسط غامدی سینٹر کے یوٹیوب پر نشر کی جائے گی۔ اس کی پہلی قسط گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر نشر ہو ئی ہے جس کو ہزاروں لوگوں نے پسند کیا ہے۔
”حدیث کیا ہے؟“ کے موضوع پر چار مزید نشستیں
23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”حدیث کیا ہے؟“ کا موضوع زیر بحث ہے۔ ماہ اکتوبر میں اس موضوع کی چار نشستیں نشر ہوئیں۔ ان نشستوں میں حدیث کو سمجھنے کے اصولوں اور انھیں قبول یا رد کرنے کے طریقوں پر بات ہوئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
”حیاتِ امین“ کی آڈیو بک
’’حیات امین‘‘ مولانا امین احسن اصلاحی کی سوانح حیات ہے، جسے غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے ریسرچ اسکالر نعیم احمد بلوچ صاحب تحریر کر رہے ہیں۔ غامدی سینٹر نے اس سوانح کو آڈیو کی شکل میں پیش کرنے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ اس کام کے لیے نہایت دل کش اور جان دار آواز کے مالک جناب خالد سید صاحب کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کی تین اقساط ریکارڈ ہو چکی ہیں۔
ڈاکٹر خالد ظہیر کا پروگرام
ڈاکٹر خالد ظہیر نے غامدی سینٹر کے زیر اہتمام کینیڈا سے سوال و جواب کے ہفتہ وار پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے میزبان ملک فیصل اسلم صاحب لوگوں کی طرف سے بھیجے گئے سوالات ڈاکٹر خالد ظہیر کے سامنے رکھتے ہیں اور خالد ظہیر صاحب قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے جوابات دیتے ہیں۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
’’قرآن ہم سے کیا چاہتا ہے؟‘‘
غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے ریسرچ اسکالر منظور الحسن صاحب کا ’’راز حیات‘‘ کے عنوان سے پروگرام کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پروگرام ہمارے یو ٹیوب چینل سے نشر ہوتا ہے۔ اِس میں مختصر طور پر اورعام فہم انداز میں بات کو سمجھایا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ جو ایپی سوڈ نشر ہوئے ان میں سے ایک اہم عنوان یہ ہے کہ ’’قرآن ہم سے کیا چاہتا ہے؟‘‘ اس گفتگو میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن کا ہم سے مطالبہ دنیا کی بہتری ہے یا آخرت کی؟ ’’راز حیات‘‘ کے پروگرامز غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
”تنقید کو کیسے پڑھا جائے؟“
جناب حسن الیاس کی یہ گفتگو اینی میشن کی صورت میں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر پیش کی گئی ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ غامدی صاحب کے پڑھنے اور سننے والے افراد کو ان کی فکری تنقید کیسے پڑھنی چاہیے اور کسی تنقید کو پڑھتے ہوئے انسان کی راہ میں کون کون سی چیزیں حائل ہوتی ہیں۔
’’البیان‘‘ اور ’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس
شہزاد سلیم صاحب نے پچھلے کچھ عرصے سے غامدی صاحب کی تفسیرِ قرآن ’’البیان‘‘ اور اسلام پر ان کی کتاب ’’میزان‘‘کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔ پچھلے ماہ ’’البیان‘‘ کی 5 نشستوں کا انعقاد ہو ا، جن میں سورۂ بقرہ کی آیات 122 تا 162 زیر بحث آئیں۔ ’’میزان‘‘ سیریز کے تحت ‘‘The Economic Shariah’’ کے عنوان سے ڈاکٹر شہزاد سلیم نے تین لیکچرز ریکارڈ کیے۔ یہ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
مولانا اصلاحی کے دادا انھیں کیا بنانا چاہتے تھے
’’حیات امین‘‘ کی دوسری قسط اکتوبر 2023 کے اشراق میں شائع ہوئی۔ ’’حیات امین‘‘ مولانا امین احسن اصلاحی کی سوانح حیات ہے، جسے غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے ریسرچ اسکالر نعیم احمد بلوچ صاحب تحریر کر رہے ہیں۔ اِس قسط میں مصنف نے مولانا امین احسن اصلاحی کی بچپن کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی کے دادا ان کو کلرک کی قسم کا بابو بنانا چاہتے تھے، جب کہ مولانا کو کلرک بننا پسند نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گھر اور ارد گرد کے ماحول میں اہل علم کو بڑی قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور وہ خود بھی ان کو پسند کرتے تھے۔ مزید برآں مولانا اصلاحی کی زبانی مدرستہ الاصلاح کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس مدرسے کے لیے مولانا شبلی نعمانی کی کاوشوں اور خدمات اور ان کے سرسید سے نظریاتی اختلافات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
”اشراق امریکہ“ کے انگریزی ورژن کا اجرا
”اشراق امریکہ“ کے انگریزی ورژن کا پہلا شمارہ اکتوبر میں شائع ہو گیا ہے۔ اس کی ادارت کے فرائض جناب عابد محمود سنبھال رہے ہیں جب کہ محمد حسن الیاس صاحب اس کے creative administrative ہیں۔ اس کی مجلس ادارت میں جناب اعجاز الحق، جناب محمود الرشید، جناب مالک الٰہی اور جناب محمد عمار ملک شامل ہیں۔ ”اشراق امریکہ“ کے انگریزی ورژن کو قارئین نے بہت سراہا ہے۔
یونس قاسمی صاحب کا غامدی سینٹر کا دورہ
گذشتہ ماہ پاکستان کے معروف نوجوان عالم محمد یونس قاسمی صاحب نے غامدی سینٹر کا دورہ کیا۔ ان کی تحقیقات کا موضوع ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی علمی اور فکری خدمات کا تعارف ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے حوالے سے کچھ چیزیں غامدی سینٹر کے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کرائیں، جو جلد ہی غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہوں گی۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کے مختلف لیکچر زکی ریکارڈنگ
اکتوبر 2023 میں شہزاد سلیم صاحب نے ’’اسلامی سزائیں‘‘ اور ’’اسلامی سزاؤں کے بارے میں غلط فہمی‘‘ کے عنوان سے دو لیکچر ریکارڈ کرائے۔ Lessons of Life Seriesکے زیر عنوان 8 لیکچرز ریکارڈ ہوئے۔ ان کے موضوعات یہ ہیں: ’’خالی وقت خالی دماغ کی طرف لے جاتا ہے‘‘، ’’پگھلنے والے دل‘‘، ’’ خود احتسابی‘‘، ’’ غصہ کو قابو کرنا‘‘، ’’زبان کو قابو کرنا‘‘، ’’کیا ہم مرنے کے لیے تیار ہیں؟‘‘، ’’ دو سخت آزمایشیں‘‘ اور ’’اپنے اندرونی ٹیلنٹ کو دریافت کرنا‘‘ یہ لیکچر انگریزی زبان میں ہیں اور غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
’’جبری تعلیم‘‘
اس مضمون میں غامدی سینٹر کے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عرفان شہزاد نے پاکستان کے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے جبری تعلیم کے نقصانات اور بچوں کے مستقبل پراس کے منفی اثرات کو بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ تعلیمی رجحان نہ رکھنے والے بچوں کو حصول تعلیم پرمجبور کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ ایسے بچوں کو زبردستی تعلیم دلا بھی دی جائے تو بہت محنت کے بعد بھی معمولی کارکردگی ہی دکھا پاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ معمولی تعلیم کی وجہ سے کوئی ڈھنگ کی ملازمت پانے میں بھی ناکام رہتے ہیں اور اپنے طبعی ٹیلنٹ کو برتنے کی مسرت اور اس کے ذریعے سے ممکنہ کامیابی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔یہ اپنا قیمتی وقت درست مصرف میں لگائیں تو رسمی تعلیم کے حصول کی ذہنی اذیت سے بھی بچیں گے اورپیشہ ورانہ زندگی میں بہت جلد مناسب مقام بھی حاصل کر پائیں گے۔ یہ مضمون ’’اشراق امریکہ‘‘ کے اکتوبر کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
ہفتہ وار سوال و جواب کی نشست
غامدی سینٹر میں ہر ماہ ہفتہ وار سوال و جواب کی براہ راست نشست کا اہتمام ہوتا ہے جس میں مختلف موضوعات پر لوگوں کے سوالات اور اعتراضات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اکتوبر میں میں سوال و جواب کی اس نشست میں ’’سیدنا علی اور امیر معاویہ، یزید اور واقعہ کربلا‘‘ کا موضوع زیر بحث لایا گیا۔ سوال و جواب کی ہفتہ وار ان نشستوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
’’میں کون ہوں؟ ‘‘
یہ سوال غامدی سینٹر کے ہفتہ وار پروگرام ’’سوال و جواب سید منظور کے ساتھ‘‘ میں زیر بحث آیا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے، وہ کب پیدا ہوا، روح اور جسم کا کیا تعلق ہے، عہد الست کی کیا نوعیت ہے، یہ اور اس طرح کے مختلف سوالات پر اس پروگرام میں گفتگو ہوئی ہے۔ یہ اور اس سلسلے کے دیگر ایپی سوڈ ہمارے یو ٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ہفتہ وار پروگرام ہے، جو ہر جمعہ کے روز پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے نشر ہوتا ہے۔
”سد ذریعہ کیا ہے؟“
ملایشیا میں 2018 میں حسن الیاس صاحب نے ”سد ذریعہ کیا ہے؟“ کے عنوان سے جاوید احمد غامدی صاحب کے ساتھ ایک نشست ریکارڈ کرائی تھی۔ اس نشست میں سد ذریعہ کی حقیقت، سد ذریعہ کی بنیاد کا قرآن و حدیث سے ثبوت، سد ذریعہ کے اصول پر فقہا کا بعض اعمال کو ممنوع ٹھہرانا اور سد ذریعہ سے متعلق دیگر اہم سوالات کو زیر بحث لایا گیا۔ گذشتہ ماہ یہ پروگرام غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیا۔
والدین ، نو عمری اور ازدواجی زندگی کے مسائل
شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ لوگوں سے نجی طور پر ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں لوگ اپنے مختلف ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل میں شہزاد سلیم صاحب سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے مختلف لوگوں کے ساتھ 18پرائیویٹ سیشن کیے۔ ان ملاقاتوں میں لوگوں نے شہزاد سلیم صاحب سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری اور ازدواجی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔
دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا
شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 5 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کی رہنمائی میں محمد حسن الیاس نے جاری کیا۔
Ask Dr. Shehzad Saleem
یہ سوال و جواب کی لائیو ماہانہ نشست ہے، جس میں ڈاکٹر شہزاد سلیم لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔اس کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
منظوم حدیث
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی منظوم ترجمانی کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ سید منظور الحسن فضائل اخلاق پر مبنی حدیثوں کو نظم کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ کام بچوں کی دینی تعلیم کے لیے ہے، لہٰذا اِن نظموں کا اسلوب عام فہم ہے۔ اکتوبر کے ’’اشراق امریکہ‘‘ میں مسند احمد کی ایک روایت کی منظوم ترجمانی شائع ہوئی ہے۔ اِس کا عنوان ہے: ’’ اللہ کا اپنے بندوں پر حق ‘‘۔ نظم کے دو شعر یہ ہیں:
فرمایا پیمبرؐ نے: ”سنو بات حقیقی
اللہ کا حق ہے کہ عبادت ہو اُسی کی
خالق ہے وہی سب کا، وہی سب کا الٰہ ہے
پوجا کا سز۱وار فقط ایک خدا ہے
’’شادی اور رشتے‘‘
نوجوان نسل ہمارامستقبل ہے۔ اُس کے ذہن میں اٹھنے والے دینی اور فکری سوالات کا جواب اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ اِسی مقصد کے پیش نظر غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ وقتاً فوقتاً اہل علم و دانش کو مدعو کر کے اُن کے ساتھ نوجوانوں کے مکالموں کا اہتمام کرتا ہے۔اِس ضمن میں ”شادی اور رشتے“ کے موضوع پر محمد بشار الیاس کی میزبانی میں یوسف غنی صاحب کے ساتھ پروگرام ریکارڈ کیے گئے۔ اس میں یوسف غنی صاحب نے شادی کا مقصد اور اس کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف چیزوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ شادی سے پہلے مرد و عورت کا ایک دوسرے کی فطرت کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اکتوبر 2023 میں اس موضوع پر دو پروگرام نشر کیے گئے،جو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
دنیا نیوز کے لیے ہفتہ وار پروگراموں کی ریکارڈنگ
”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ دنیا نیوز چینل پاکستان کا ایک معروف پروگرام ہے، جو کئی برس سے نشر ہو رہا ہے۔ یہ ڈیلس میں ریکارڈ ہوتا ہے اور ہفتہ وار نشر ہوتا ہے۔ میزبانی کے فرائض حسن الیاس صاحب انجام دیتے ہیں۔ اکتوبر 23 میں 4 پروگرام ریکارڈ کیے گئے اور دنیا نیوز سے نشر ہوئے۔ ان پروگراموں کے موضوعات یہ ہیں: ’’انسانی نفسیات کی بہتری کے اصول‘‘، ’’قومی ریاست میں حکومت کی نوعیت‘‘ اور ’’سوال و جواب‘‘۔
قرآن، حدیث اور بائیبل کی تدریس
شہزاد سلیم صاحب نے انگریزی زبان میں ”اسلام اسٹڈی سرکل“ کے عنوا ن سے ایک سیشن کا آغاز کیا ہے۔ اس میں وہ مختلف دینی، اخلاقی اور سماجی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کرتے ہیں۔ یہ سیشن تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں قرآن مجید کی آیات سے ایک موضوع منتخب کر کے اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ دوسرے حصے میں منتخب احادیث نبوی پر گفتگو ہوتی ہے۔ تیسرے حصے میں بائیبل کے کسی اقتباس کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پروگرام کے آخر میں موضوع سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیے جاتے ہیں۔ پچھلے مہینے کے سیشن میں ”قانون کی حکمرانی“، ”غصے پر قابو پانا”، ”سب سے بڑا خدائی حکم“ اور ”مخلوط تعلیم‘‘ جیسے موضوعات زیر بحث رہے۔