ڈاکٹر خالد ظہیر کی ڈیلس (امریکہ) آمد
جناب جاوید احمد غامدی کے دیرینہ شاگرد اور معروف دینی اسکالر ڈاکٹر خالد ظہیر صاحب ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ کی دعوت پر گذشہ ماہ ڈیلس تشریف لائے۔ اُن کی آمد کا مقصد نوجوانوں کے ایک گروپ کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام تھا۔ مختلف نوجوانوں نے تقریباً 10 دن ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گزارے۔ اُن سے علمی سوالات پوچھے، اخلاقی مسائل پر گفتگوکی ، ذاتی معاملات پر مشاورت کی۔ مقصود یہ تھا کہ نوجوان علماے دین کے ساتھ دوستانہ ماحول میں وقت گزاریں، اُن سے دین کی علمی، عملی اور اخلاقی، تینوں طرح کی چیزوں کو سیکھیں۔ نتائج و اثرات کے اعتبار سے یہ ایک مفید تجربہ ثابت ہوا اور ضرورت محسوس ہوئی کہ اِس طرح کے پروگراموں کو مستقل صورت دینی چاہیے ۔
’’اپنا‘‘ کے سالانہ اجتماع میں غامدی سینٹر کی نمایندگی
گذشتہ ماہ ڈیلس میں نارتھ امریکہ کے ڈاکٹروں کی تنظیم ’’اپنا‘‘کا اجتماع منعقد ہوا۔ اِس میں دنیا بھر سے ہزاروں ڈاکٹر شریک ہوئے۔ اِس موقع پر تنظیم نے ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ کے علما کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ جناب جاوید احمد غامدی اور محمد حسن الیاس صاحب شریک ہوئے۔ دو گھنٹے پر مشتمل سیشن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا کے سوالوں سے اندازہ ہوا کہ جدید ذہن میں مذہب کے بارے میں پیاس موجود ہے اور غامدی صاحب کے اندازِ فکر کی بہ دولت اُن کا دین پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ اجتماع میں غامدی سینٹر کا اسٹال بھی لگایا گیا۔ لوگوں نے کتب میں خاطر خواہ دل چسپی کا مظاہرہ کیا۔
ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی آسٹریلیا کے اساتذہ کی غامدی سینٹر آمد
ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی آسٹریلیا یونیورسٹی سڈنی کے شعبۂ علوم اسلامی کے اساتذہ کے ایک وفد نے غامدی صاحب اور حسن الیاس صاحب سے ملاقات کی ۔ اسلامک فنانس کے حوالے سے مختلف تحقیقی منصوبوں پر رہنمائی حاصل کی۔ اُنھوں نے اس امر کا اظہار بھی کیا کہ وہ غامدی صاحب کے معاشی افکار پر تحقیقی کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔
23 اعتراضات کے جواب میں: ”سنت کیا ہے؟“ کی تکمیل اور”حدیث کیا ہے؟“ کا آغاز
23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”سنت کیا ہے؟“ کا موضوع گذشتہ ماہ پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے۔ یہ سلسلہ چند ماہ سے جاری تھا، جو 19 سیشنز میں مکمل ہوا۔ اِس کے بعد ’’نزولِ مسیح‘‘ کے ضمیمہ کی ایک قسط ریکارڈ ہوئی اور اس کے بعد ”حدیث کیا ہے؟“ کے زیرِ عنوان اگلے موضوع کا آغاز ہو گیا ہے۔ سنت کی طرح حدیث کا موضوع بھی مدرسۂ فراہی کے اہم اور نمایندہ موضوعات میں سے ہے۔
’’اوکھے(مشکل) سوالات‘‘ : حسن الیاس صاحب سے ایک مکالمہ
پاکستان کے معروف دانش ور اور لمز یو نیورسٹی لاہورکے استاد ڈاکٹرتیمور رحمان صاحب نے اِس عنوان کے تحت حسن الیاس صاحب کے ساتھ سوال و جواب کا ایک تفصیلی سیشن کیا۔ یہ سیشن زوم کے ذریعے سے آن لائن ریکارڈ کیا گیا۔ اس میں مذہب، سائنس ،الحاد اورسیاست، معیشت، معاشرت کے حوالے سے نازک اور پیچیدہ سوالات کو زیرِ بحث لایا گیا۔ یہ پروگرام یو ٹیوب پر نشر ہوا تو اسے بہت پذیرائی ملی۔ اسے جی سی آئی ایل اور ڈاکٹر تیمور رحمان کے چینلز پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث
جی سی آئی ایل کے زیر اہتمام جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہ جولائی میں 8 نشستوں کا انعقاد ہوا۔ غامدی صاحب نے ان نشستوں میں سورۂ نحل (16) کی آیات1تا36 کا درس دیا۔ درسِ حدیث میں’’دوزخ کے اعمال‘‘ کے موضوع پرمختلف احادیث کی شرح و وضاحت کی گئی۔
کیا خدا کا وجود عقل سے ثابت ہو سکتا ہے؟
اِس عنوان کے تحت تین پروگرام ریکارڈ اور نشر کیے گئے۔ اِن میں حسن الیاس صاحب نے غامدی صاحب سے اُن سوالوں پر بحث کی ہے، جو فلسفے اور سائنس کے تناظر میں پیدا ہوتے ہیں اور جدید پڑھے لکھے طبقے میں باری تعالیٰ کے وجود کے حوالے سے الجھنوں کا باعث بنتے ہیں۔
دنیا نیوز کے لیے ”علم و حکمت“ کے پروگراموں کی ریکارڈنگ
”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ دنیا نیوز چینل پاکستان کا ایک معروف پروگرام ہے، جو کئی برس سے نشر ہو رہا ہے۔ یہ ڈیلس میں ریکارڈ ہوتا ہے اور ہفتہ وار نشر ہوتا ہے۔ میزبانی کے فرائض حسن الیاس صاحب انجام دیتے ہیں۔ جولائی 23 میں 4 پروگرام ریکارڈ کیے گئے اور دنیا نیوز سے نشر ہوئے۔ان میں اسلامی ریاست کے حوالے سے بعض اہم سوال زیر بحث آئے۔ اس ماہ کی آخری نشست میں دین کے بارے میں جدید ذہن کے شبہات کو ڈسکس کیا گیا۔
نوجوان کیسے کامیاب ہوں؟
نوجوان نسل ہمارامستقبل ہے۔ اُسے دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اِسی مقصد کے پیش نظر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ وقتاً فوقتاً اہل علم و دانش کو مدعو کر کے اُن کے ساتھ نوجوانوں کے مکالموں کا اہتمام کرتا ہے۔اِس ضمن میں چند ماہ پہلے سید منظور الحسن ملایشیا سے اور ڈاکٹر عدنان ذوالفقار فیلڈیلفیا(امریکہ) سے تشریف لائے۔ ان کے ساتھ نوجوان نسل کے نمایندوں محمد بشار الیاس اور شارق بٹ نے کئی نشستوں میں مختلف موضوعات کو ڈسکس کیا۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے گذشتہ ماہ جناب یوسف غنی کے ساتھ اسی طرز کی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ محمد بشار الیاس نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ ان کا مرکزی خیال یہ تھا کہ نوجوانوں کے ان مسائل کو زیر بحث لایا جائے ، جن میں اُنھیں فیصلے کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ شادی اور جیون ساتھی کا انتخاب انھی میں سے ایک ہے۔ اس موضوع پر یوسف غنی صاحب نے اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں سیر حاصل گفتگوئیں کیں۔ اِن کا پہلا حصہ نشر ہو چکا ہے۔
’’المورد‘‘ کینیڈا کے احباب کی غامدی صاحب سے آن لائن ملاقات
’’المورد‘‘ کینیڈا کے رفقا و احباب نے غامدی صاحب سے ایک تفصیلی ملاقات کا اہتمام کیا ۔ اس ملاقات میں اُنھوں نے بعض انتظامی معاملات میں اصولی رہنمائی حاصل کی۔ علاقائی سطح پر دعوت کے کام میں آنے والے مسائل پر گفتگو کی اور اُسے آگے بڑھانے کے لیے بعض عملی معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ غامدی صاحب نے ان کے خیالات کو توجہ سے سنا اور اپنی اصولی آرا سے انھیں آگاہ کیا۔ اس دوران میں بعض علمی و فکری سوالات بھی زیر بحث آئے۔
”ناسخ و منسوخ“ کے موضوع پر سلسلۂ مباحث
ہمارے روایتی علوم القرآن میں ”ناسخ و منسوخ“ کی بحث کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ امت کے جلیل القدر علما نے اس پر کلام کیا ہے۔ برصغیر کے امام شاہ ولی اللہ نے اپنی کتا ب ”الفوز الکبیر“ میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ اس موضوع پر غامدی صاحب کے موقف کو تفصیل سےجاننے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا جناب حسن الیاس نے 7 نشستوں پر مشتمل اُن سے گفتگو کی اور موضوع کے تمام اجزا و متعلقات پر اُن کی آرا کو ریکارڈ کیا۔ یہ ریکارڈنگ ہمارے یو ٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔
حسن الیاس صاحب کا ’’وائس آف امریکہ‘‘ کو انٹرویو
’’وائس آف امریکہ‘‘، امریکہ کا سرکاری نیوز نیٹ ورک ہے۔ اِس کی نشریات دنیا بھر میں تقریباً 30 زبانوں میں نشر ہوتی ہیں۔ اس کی طرف سے اردو نشریات کے لیے حسن الیاس صاحب کا انٹرویو کیا گیا۔ اس انٹرویو کا موضوع پاکستان میں بعض مذہبی گروہوں کے ساتھ امتیاز (discrimination)اور مذہبی جبر(persecution) کے معاملات تھے۔ حسن الیاس صاحب نے انھیں خلاف اسلام قرار دیا۔ یہ انٹرویو ارم عباسی صاحبہ نے کیا۔
”خیال و خامہ“ کی شاعری غامدی صاحب کی آواز میں
”خیال و خامہ“ جناب جاوید احمد غامدی کا مجموعۂ کلام ہے۔ اس کی نظموں اور غزلوں کو مختلف لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں پڑھا ہے۔ حسن الیاس صاحب نے غامدی صاحب سے باصرار درخواست کی کہ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اپنا کلام اپنی آواز میں ریکارڈ کرا دیں۔ خوش قسمتی سے غامدی صاحب نے اسے قبول کر لیا ہے۔چنانچہ ”خیال و خامہ“ کی شاعری کے 5 اجزا تیار ہو کر نشر ہو چکے ہیں۔ اس کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے نو تعمیر شدہ اسٹوڈیو میں ہوئی ہے۔ ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکشن حسن الیاس صاحب کی زیر نگرانی ادارے کا آڈیو ویڈیو ڈپارٹمنٹ انھیں پوری محنت سے تیار کر رہا ہے۔
اردو زبان کی ضرورت اور اہمیت پر حسن الیاس صاحب کا انٹرویو
’’وائس آف امریکہ‘‘ کے ایک صحافی آفتاب بورکا صاحب نے حسن الیاس صاحب کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا ہے۔ اس میں اردو زبان کی ضرورت و اہمیت پر گفتگو ہوئی ہے۔ حسن صاحب نے اردو زبان کے انحطاط کو قومی المیے سے تعبیر کیا ہے۔ اُن کے نزدیک ہماری مذہبی روایت اور تہذیبی اقدار کے تسلسل کا انحصار اردو زبان کے احیا پر ہے۔
ا س انٹرویو میں انھوں نے نہ صرف اردو زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا ، بلکہ اُن اداروں کا تعارف بھی کرایا، جو بچوں میں اردو زبان کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
”بچے کی دعا“
یہ غامدی صاحب کی ایک خوب صورت نظم ہے۔ ’’المورد‘‘ امریکہ اور ’’المورد‘‘ آسٹریلیا نے باہمی اشتراک سےاس دعا کو جدید انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ نظم دینی اور اخلاقی تعلیم پر مبنی ہے اور اسے دیدہ زیب visuals کے ذریعے سے دل کش بنایا گیا ہے۔ بچوں میں یہ نظم کافی مقبول ہوئی ہے۔
دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا
شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 13 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کی رہنمائی میں حسن الیاس صاحب نے جاری کیا۔