خود مختاری اور آزادی کے الفاظ اپنے اندر ایک طوفان لیے ہوئے ہیں ۔ ان کے کیا حدود ہیں ؟اور ان کا تعلق صرف عورتوں ہی سے ہے یا اس کے مخاطب مرد بھی ہیں ؟ ایک اہم موضوع کی بہت ضروری تفہیم !
فطرت کی طرف سے انسان کو ملنے والی نعمتوں میں سب سے ممتاز نعمت اس کا اختیار اور ارادہ ہے۔ یہی وہ نعمت ہے جو اس کائنات میں پیدا ہونے والی کشمکش کی بنیادی وجہ ہے اور یہی اس کے روز افزوں ترقی کا زینہ بھی۔ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو ملنے والا اختیار اور ارادہ اس کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہے اور وسیلہ ِکامیابی بھی۔ وہ اپنے ہر عمل میں مکمل طور سے آزاد ہے۔ اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے فطرت نے کچھ اصول بھی بنا رکھے ہیں جس کے تحت بعض اوقات سرکشی پہ مائل اختیارات پر بند باندھ دیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کو مہلت ملتی رہتی ہے۔
خیال رہے کہ یہاں لفظ انسان کے ذکر کو فقط مردوں سے منسوب نہیں کیا گیا بلکہ اس میں مرد اور عورت دونوں ہی شامل ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کو ملنے والی خود مختاری سے محروم کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے ؟کیا اس دنیا میں فقط مردہی حالت ِامتحان میں ہیں؟ نہیں نا… تو پھر کیا وجہ ہے کہ عورتوں کو آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے بنیادی حقوق اور خودمختاری کے لئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عورتوں کی آزادی چھین کر مرد خود اپنے لئے بھی آزمائش میں اضافہ کر رہے ہیں کیوں کہ جب عورتیں شعور اور بدلتے زمانے کے تقاضوں سے نابلد ہوں گی تو ان کے ذریعے سے تشکیل پانے والا ماحول کیسے ترقی یافتہ ہو سکتا ہے؟
اس کے علاوہ خود عورتوں کو جو مشکل ہو رہی ہے وہ تو ہے ہی، ہمیشہ سے ہی روایتیں اور کسی خاص صورت حال میں اپنائی گئی احتیاطی تدابیر عورتوں کے حقوق اور اختیار کو محدود کرنے کی بنیادی وجہ رہی ہیں۔ بدلتے وقت نے بےشک اس حوالے سے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے اب حالات پہلے سے خاصے بہتر ہو چکے ہیں ۔ لیکن اب بھی کئی ایسے شعبہ جات اور علاقے ہیں جہاں عورتوں کو غیر معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ قبائلی علاقوں میں ان کی مرضی، رائے اور حق خود ارادیت کو آج بھی بےدردی سے روند دیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف بعض جگہوں پہ آزادی کے نام پر بےحیائی اور سرکشی کی وکالت کی جا رہی ہے۔ یہ دونوں ہی انتہا پسندی پر مبنی صورتِ حال ہے۔ مسلم طبقات میں بھی عورتوں کی آزادی اور حقوق ِنسواں کے حوالے سے تنگ نظری پائی جا رہی ہے۔
اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے اور مسلمان ان حقوق کی ادائیگی میں کتنے مستعد ہیں، یہ دو الگ الگ موضوع ہیں۔ شہری زندگی میں گزرتے وقت کے ساتھ کسی حد تک عورتوں کی آزادی کی کھڑکیاں اور دروازے وا ہوتے جا رہے ہیں لیکن دیہی علاقوں کی مسلم خواتین کی اکثریت اب بھی اپنی ذاتی زندگی کے فیصلوں میں مردوں کے تابع ہیں۔ کہیں پہ مرد کی انا اور اختیار آڑے آرہا ہے تو کہیں پر خاندانی اور معاشرتی روایتیں آج بھی عورتوں کے پیروں میں بیڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایسے خاندانوں کے مردوں کی اپنی توجیہات ہیں ۔ ان میں سب سے عمومی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی بچیوں کی عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ لڑکیاں جب بھی اپنے پر کھول کر پرواز کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو انھیں یہ کہہ کر باندھ دیا جاتا ہے کہ جب شادی ہو جائے تو جو دل کرے کرتی رہنا۔ دوسری طرف جب وہ سسرال میں قدم رکھتی ہیں تو سب سے پہلے ان کے پروں کو یہ کہہ کر کاٹ دیا جاتا ہے کہ یہ تمھارے ماں باپ کا گھر نہیں جو من مرضیاں کرتی پھرو گی۔ یہاں تمھیں ہمارے حساب سے رہنا ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر کب ان کی مرضی اور اختیارات کو اس پدر سری معاشرے میں مسلّمہ مقام حاصل ہوگا۔ عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے، دوسری اقوام نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اور عورتوں کو انسان ہونے کا مارجن دیتے ہوئے آزادیِ نسواں کے لیے عورتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر خود بھی کوشش کرنی شروع کر دی ہیں۔ بےشک کچھ واقعات اس سے ہو سکتے ہیں لیکن ہم مجموعی طور پہ ہونے والی کوششوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے جس کے نتائج آنے والے وقت میں وقوع پذیر یوں گے۔دین اسلام جو کہ انسان کے حقوق کا ہمیشہ سے علمبر دار رہا ہے اب ضروری ہے کہ اسلام کا دم بھرنےوالے مسلمان بھی معاشرتی تنگ نظری سے باہر نکل کر اس تبدیلی کو قبول کر لیں جو کہ واقع ہو کر رہے گی۔ ڈجیٹل دنیا نے ایک ایسے انقلاب کی راہ ہموار کر دی ہے جس کا دائرہ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جائے گا، عورتوں کو اب چہار دیواری میں بند کرنا انتہائی مشکل ہے کیوں کہ ایک چھوٹی سی اسکرین اسے پوری دنیا سے با آسانی متعارف کرا رہی ہے۔ اس ڈجیٹل دنیا میں وہ سارے عوامل بھی موجود ہیں جو انقلاب یا بغاوت کو ہوا دے سکتے ہیں ۔ ایسے میں اب اس کے شعوری فکر پر قدغن لگانا ایک امر محال ہوگا۔
مسلم خاندانوں میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح پہلے سے بہت بہتر ہوئی ہے لیکن اعلی تعلیم کے معاملے میں اب بھی بہت پیچھے ہے۔ دیہی علاقوں کے مرد یہ کہہ کر لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں کہ ماحول بہت خراب ہو چکا ہے۔ اسکرین لڑکیوں کے اندر بےراہ روی کو فروغ دے رہی ہے۔ اس لئے بنیادی تعلیم کا حصول ہی کافی ہے ۔میں ان سے کہنا چاہتی ہوں کہ آج سے بیس تیس سال پہلے جب اس قدر معاشرتی برائیاں نہیں تھیں ،اخلاقی اقدارخاصی بہتر تھے پھر اس وقت لڑکیوں کو کیوں نہیں پڑھایا ؟کیوں انھیں فقط گھروں تک محدود رکھا۔ یہ اندیشے حقیقتاً محض ایک راہ ِفرار ہے۔ ہر دور کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں، ان کا سامنا کر کے آگے بڑھنا وقت کا تقاضا ہوتا ہے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں موند کر خطرے کو جھٹلایا جا سکتا ہے لیکن اسے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ زمانہ اپنی رفتار کے ساتھ اپنی ہی رو میں چلتا رہے گا۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے سربلندی حاصل کرتے ہیں یا پھر بزدلوں کی طرح خود پیچھے رہتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں کرنے کے بعد جب احساس ہو کہ زمانہ آگے نکل گیا اور ہم پیچھے رہ گئے تو احساسِ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کی توجہ اور خیرات کے ساتھ جینے کے لئے واویلاکرنے سے حالات بدلتے ہیں اور نہ ہی مستقبل ۔اس وقت بات عورتوں کو اس پہلو سے بااختیار بنانے کی ہو رہی ہے جس سے وہ اپنی زندگی کو بہتر طرز پہ گزار سکیں ۔خود نظریات و خیالات کی تشکیل کرتے ہوئے اچھے اور صحت مند ماحول و معاشرہ کی تشکیل کر سکیں۔ گھروں کے نظام میں در آنے والی انارکیت نے نسلوں کے مستقبل کو داؤ پہ لگا دیا ہے۔ اس کی وجہ عورت اور مرد کے درمیان متوازن ہم آہنگی کا نہ ہونا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں بیسویں صدی کی مہارتوں کو چھوڑ کر نئی لائف اسکلز سیکھنے کی ضرورت ہے جس میں مرد کو اپنی بے بنیاد انانیت اور عورت کو بےجا جذباتیت کے دائرے سے باہر ہوگا۔ مرد اور عورت کے درمیان ذاتی خودمختاری کا واضح ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ مشترکہ ذمےداریوں کے حوالے سے بات چیت کر کے اصولوں کو واضح کرنا از حد ضروری ہو چکا ہے تاکہ ہمہ وقت کشاکش پیدا کرنے والی صورت ِحال سے بچا جا سکے۔
عورتوں کے خود مختار ہونے سے متعلق بات کرتے ہوئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ عورتوں کے خودمختار ہونےکا مطلب کیا ہے؟ خود مختار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو بےجان اشیاء کی طرح اپنے حکموں کا پابند نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی ان سے غیر مہذب سلوک روا رکھا جانا چاہئے، وہ اپنی زندگی کے مقصد کے تعین میں آزادی کا استحقاق رکھتی ہیں۔ان کے بنیادی حقوق کو سلب کر کے ان کے ردعمل پہ کسی طرح کی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ مردوں کی طرح انسان ہونے کی حیثیت سے سارے حقوق و اختیار رکھتی ہیں ۔بےشک دونوں کے بنیادی دائرہِ کار الگ ہو سکتے ہیں لیکن اس سے ان کی ذاتی زندگی اور اس کے تحت فیصلے کرنے کے اختیار پہ ضرب نہیں لگائی جا سکتی۔ مثلاً ایک عورت بحیثیت ماں گھر پہ بچوں کو اچھی تربیت اور اچھا ماحول دینے کی پابند ہے لیکن اسے محض اس وجہ سے گھر میں قید نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک ماں ہے۔ وہ ایک ماں ہوتے ہوئے انسان بھی ہے اس مارجن کو ہم کبھی بھی ختم نہیں کر سکتے۔ اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ معاشی طور خود کو محفوظ رکھ سکے ۔اس کا طریقہِ کار ہر عورت اپنے حساب سے متعین کر سکتی ہے کیوں کہ ہر کسی کی زندگی اور حالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ بےشک عورت پہ بھی یہ ذمےداری عائد ہوتی ہے کہ وہ مرد کے ظلم و زیادتی سے بچنے کی کوشش کرتے کرتے خود ان پہ ظلم نہ کرنے لگ جائے۔ ان کی عزت نفس کو چیلنج کر کے اپنا حق حاصل کرنے کے بجائے مہذب طریقے سے بات چیت کر کے اس کے حصول کی راہ ہموار کرے۔
میں نے پہلے کہا تھا کہ انسان کو ملنے والی سب سے بڑی نعمت اس کا اختیار و ارادہ ہے جو کہ اس کی آزمائش کی وجہ بھی ہے ۔عورت کو بھی قدرت نے بحیثیت انسان کے اختیارات دیے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اختیارات کا قطعا ًیہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کو پامال کر کے کچھ بھی کر گزرے۔ خود مختار آپ اپنی ذاتی زندگی میں ہیں لیکن فرائض اور ذمےداریوں میں نہیں ۔اس لئے بحیثیت ماں، بہن، بیٹی اپنے فرائض کو ادا کرنے کی ہر عورت پابند ہے۔
اس جدید یافتہ دور میں بےشک عورتوں کو پہلے کے مقابلے میں بہت حد تک آزادی حاصل ہو گئی ہے لیکن ان کا تحفظ آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ پڑھے لکھے خاندانوں میں اپنے گھر کی عورتوں کو فرسودہ روایات کا پابند بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ان کی خاندانی شرافت و نجابت بیرونی دنیا کی غلاظت سے محفوظ رہ سکے۔ اس مشکل سے نمٹنے کے لئے پابندیوں کو مسلط کرنے کے بجائے انھیں حکمت ِعملی بنانے کی ضرورت ہے جس میں سب سے اہم یہ ہونا چاہئے کہ خود اپنے گھر کے لڑکوں اور مردوں کو ان حدود کا پابند بنایا جائے جس سے دوسرے گھروں کی عورتیں ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ اگر یہ کام ہر عورت کرنے لگ جائے تو معاشرے کی یہ بگڑتی تصویر خاصی حد تک
بہتر ہو سکتی ہے۔ بدلتے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگی کرنے کی تگ و دو میں اکثر والدین اپنی بچیوں کو آزادی تو دے دیتے ہیں لیکن وہ ہمہ وقت ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف دنیا کے تقاضوں کے مطابق لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان تفریق بدترین نتائج پیدا کر سکتی ہے تو دوسری طرف یہ ڈر کہ اس مادر پدر آزاد معاشرے میں لڑکیوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟
جیسا کہ پہلے ہی میں نے کہا کہ تعلیم لڑکیوں کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے جو کہ ماں باپ تسلیم کر چکے ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے پائی جانے والی بیداری ابھی بھی تسلی بخش نہیں۔ اس پہلو پربھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھیں آزادی کے ساتھ زمانے کے حقائق اور مذہب کی تعلیمات سے روشناس کرانا نہ بھولیں کیوں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ پابندیوں کے ذریعے کسی کی سوچ اور خیالات کو ایک حد کا پابند بنایا جا سکے ۔ اس لئے بہتر ہے کہ حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے مشکلات سے بچنے کی تدبیر پیدا کی جائے۔ لڑکیوں کو خودمختار بنانے کے لئے جس قدر اعلیٰ تعلیم ضروری ہے، اسی قدر یہ بھی ضروری ہے کہ کیرئر کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی مرضی کا بھی دھیان رکھا جائے۔ اپنی خواہش تھوپ کر انھیں کنٹرول کرنے کی کوشش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر یہ لگتا ہے کہ وہ نادانی میں غلط فیصلہ لے رہی ہیں تو انھیں غیظ و غضب سے روکنے کے بجائے ان کو عقلی طور پہ قائل کرنے کی کوشش کریں۔ انتہائی ناگزیر صورت ِحال ہی میں ان پر اختیارات کا استعمال کرنا چاہیے۔
یہ دور ِجمہوریت ہے۔ جمہوری مزاج جب تک انسانوں کے اندر نہیں پیدا ہوگا، وہ معاشرے میں کبھی بھی اپنے مثبت اثر مرتب نہیں کر سکے گا۔ عورتوں کی خود مختاری کے ذریعے سے معاشرے میں کئی طرح کی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں ۔ مردوں کو ان کے ساتھ کام کر کے معاشرہ اور ماحول، دونوں کو ہی ازسر نو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں مرد اور عورت مل کر اس میں موجود امکانات وسائل و مسائل کو مثبت رخ دے کر معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔