حسن صاحب: اچھا تو پھر جدید عصری تعلیم کا سلسلہ رک گیا اور غامدی صاحب کے ساتھ دینی تعلیم کا ایک انفارمل (informal)سلسلہ شروع ہو گیا۔
شہزاد صاحب: انیس صاحب کے پاس میں جب گیا تو میرا انجینئرنگ کا ایک سال باقی تھا اور میرے اندر دین کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے کا بہت زیادہ جذبہ تھا۔ ہم نے عربی زبان کو کچھ انفارملی (informally) پڑھنا شروع کر دیا۔ کچھ دینی مباحث تھے، کچھ استاذ کے لیکچرز تھے تو مجھے محسوس ہوا کہ ایک سال میں کیوں ضائع کروں ، بلکہ میں اس ایک سال کو بھی دین کی تعلیم میں صرف کروں۔ مجھے یاد ہے کہ استاذ نے بہت سختی اور محبت کے ساتھ کہا کہ بیٹا، آپ نے چار سال ایک جگہ پر لگائے ہیں، ایک سال آپ کا رہ گیا، یہ کسی طرح سے بھی موزوں اور دانش مندی نہیں ہے کہ آپ وہ ڈگری چھوڑ کر آئیں۔
حسن صاحب: پروگرام کیا تھا آپ کا؟
شہزاد صاحب: انجینئرنگ یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ۔
حسن صاحب: آپ الیکٹریکل انجینئر ہیں ؟
شہزاد صاحب: کہہ سکتے ہیں، لیکن ڈگری لینے کے بعد کبھی پریکٹس نہیں کی۔ جب یہ کام شروع ہوا تو میں نے یہی سوچا تھا کہ یہ ڈگری ایک حارج ہی ہوگی اور میرا ایک سال ضائع ہوگا ، کیونکہ ظاہر ہے کہ انجینئرنگ یونیورسٹی جانا، exam دینا ٹائم تو بہت لگتا ہے، لیکن استاذ نے پھر بہت emphatically (پُر زور انداز میں) اور سٹریس (stress)کے ساتھ کہا کہ نہیں، آپ اس کو مکمل کریں، کیونکہ جب آپ دینی کام کریں گے تو یہ خود آپ کے اپنے تعارف کے لیے بہتر ہوگا کہ آپ ایک پس منظر سے آئیں ، ورنہ تو آپ انٹر میڈیٹ پاس ہوں گے۔ اس وجہ سے میرا خیال ہے کہ وہ بڑا صائب مشورہ تھا۔ اگر وہ یہ مشورہ نہ دیتے اور زور نہ لگاتے تو شاید میں چھوڑ کے بیٹھا ہوتا۔ اس کا ایک فائدہ اور ہوا، اور وہ یہ کہ ہماری فیملی میں میرے استاذ کی ساکھ بہت بیٹھ گئی، کیونکہ میں گھر میں بھی اعلان کر چکا تھا کہ میں دین کی طرف آنا چاہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے گھر میں یہ بتایا کہ میں دین کی طرف آنا چاہتا ہوں تو جیسے ڈاڑھی رکھنے پر ایک صف ماتم بچھ گئی تھی، ویسے ہی اس بات پر بھی کہرام مچ گیا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ میرے والد مجھے شاید باہر پڑھنے کے لیے بھیجنا چاہتے تھے، لیکن اسی سال ان کا انتقال ہو گیا۔ یعنی وہ ہائر تعلیم کے بارے میں بہت ambitious تھے، تو جب یہ معاملہ ہوا تو گھر والوں کو یہ احساس ہوا ––میرے ماشاءاللہ پانچ ماموں تھے، والدہ تھیں، خالہ تھیں––کہ یہ تو بالکل ہی detract ہو گیا۔ اس کی وجہ سے بہت اپوزیشن ہوئی، لیکن جب غامدی صاحب نے انجینئرنگ مکمل کرنے کے لیے سٹریس(stress) دیا اور میں نے گھر والوں سے کہا کہ میں ان کی وجہ سے انجینئرنگ مکمل کر رہا ہوں تو پھر میری فیملی کے ہاں ان کی بہت ساکھ بن گئی اور ایک respectپیدا ہو گئی، جس نے بہت فائدہ دیا۔
حسن صاحب: ٹھیک۔ اچھا پھر غامدی صاحب کے ساتھ یہ تعلق بن گیا اور وہاں سے آپ نے ایک informal (غیر رسمی) تعلیم کا آغاز کیا۔ غامدی صاحب کی اہلیہ اور آپ کی اہلیہ آپس میں بہنیں بھی ہیں تو یہ جو خاندانی تعلق ہے، یہ کتنے عرصے بعد قائم ہوا اور اس کا محرک کیا بنا؟
شہزاد صاحب: غالباً تیسری یا چوتھی ملاقات میں مجھے استاذ نے یہ کہا کہ دیکھو، تم نے اگر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تم نے دین کا علم حاصل کرنا ہے اور اپنی انجینئرنگ کے پس منظر کو چھوڑ کے اس طرف آنا ہے تو اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ کی شریکِ حیات ایسی ہونی چاہیے، جو آپ کے کام کو سپورٹ کرے۔ اگر آپ نے عام طریقے سے شادی کر لی تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا مقصد اور ہو اور بیوی کا رجحان اس سے مختلف ہو تو آپ اپنے کام کو کر نہیں سکیں گے۔ اس کام کو کرنے کے لیے گھر کا سکون بہت ضروری ہے۔ پھر انھوں نے میری اہلیہ سے میرا تعارف کرایا۔ غامدی صاحب کی جب شادی ہوئی تو اس وقت میری اہلیہ، اپنی بڑی بہن (بیگم غامدی)سے بہت چھوٹی تھیں، یعنی آپ سمجھیں کہ kid sister تھیں۔ وہ غامدی صاحب کے پاس آئیں اور اتفاق سے ان کی بھی journey میرے جیسی ہی تھی، انھوں نے کہا کہ وہ بھی دین کو پڑھنا چاہتی ہیں تو وہ مجھ سے تین سال سینئر تھیں اور وہ غامدی صاحب سے پڑھ رہی تھیں۔ ’’المورد‘‘ 1983ء میں قائم ہوا تو اس کی انھوں نے کلاسز لیں اور وہ مسلسل تین سال ٹاپ کرتی رہیں۔ اس طرح سے پھر انھوں نے خود ہی کہا کہ میں آپ کا تعارف کراتا ہوں ایک خاتون سے جو مجھ سے پڑھتی ہیں۔ آپ بھی دیکھ لیں، سوچ لیں۔ مجھے یاد ہے کہ میری یہ ملاقات استاذ سے جولائی 1988ء میں ہوئی۔ جب انھوں نے مجھے یہ کہا ہے اور ایک لحاظ سے میں آمادہ ہوا، وہ ستمبر 1988 ءتھا، یعنی ایک دو مہینے کے اندر اندر یہ دونوں منزلیں طے ہوگئیں۔ لیکن یہ فیصلہ، ظاہر ہے کہ ایک بڑا فیصلہ تھا، کیونکہ خاندان کی طرف سے اس میں بھی کافی اپوزیشن رہی، لیکن میرا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک یا دو سال کی اپوزیشن کے بعد جون 1990ء میں میرا نکاح ہوا اور رخصتی مزید ایک سال موخر ہوگئی تھی۔ نکاح کی تقریب 51-E میں غامدی صاحب کے گھر کی چھت پر ہوئی اور انھوں نے خود نکاح پڑھایا۔جب انھوں نے نکاح پڑھایا تو ان کی آواز جیسے بھر سی گئی، بہت جذبات میں بھی تھے۔ وہ ایک ایسا اورویلمنگ مومنٹ (overwhelming moment) تھا، جو ابھی تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
حسن صاحب: اچھا، یہ بتائیے گا شہزاد بھائی، معاشی سفر کیسا رہا، کیونکہ ذہن میں تو یہ تھا کہ انجینئرنگ یونیورسٹی سے آپ پڑھیں گے، اس کے بعد کوئی نوکری مل جائے گی، گھر والوں کا معاش چلے گا، والد صاحب رخصت ہو چکے ہیں تو کیا خاندانی لحاظ سے آسودہ حال تھے یا خاندان اور گھر والے متوقع تھے کہ بھئی، بچہ کمائے گا؟ معاشی سفر کی روداد، خلاصہ بتائیں۔
شہزاد صاحب: اس میں یہ تھا کہ والد صاحب جو کچھ چھوڑ گئے تھے، اس میں ان کی پینشن تھی، ایک گھر تھا جو رینٹ پر تھا تو اس وجہ سے اس کی ضرورت نہیں تھی کہ میں گھر کو سپورٹ کروں، یعنی میں گھر پر ڈپینڈنٹ (dependent) تھا، گھر مجھ پہ ڈپینڈنٹ (dependent) نہیں تھا۔ اس وجہ سے یہ مسئلہ تو پیدا نہیں ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ جو پہلا مشاہرہ مجھے استاذ کی طرف سے ملا تھا وہ 12 یا 15 سو روپے ماہانہ تھا۔ اس کی تقریب یہ بنی کہ اس وقت ہم نے انگریزی رسالے ’’رینی ساں‘‘ کا اجرا کیا۔ یہ مشاہرہ اسی مد میں ملتا تھا۔ یہ اصل میں ایک پاکٹ منی تھی، کیونکہ میں نے وہ پیسے کہیں استعمال یا گھر پر contribute نہیں کرنے تھے تو بنیادی طور پر وہ stipend (وظیفہ) تھا کہ آپ جیب خرچ کے طور پر استعمال کریں۔
پھر 1991ء میں ادارہ بنا، جس کا اپنا پورا ایک پس منظر ہے۔ اس میں میرے ساتھ اور بھی چار پانچ لوگ تھے، ان سب کو as an employee رکھا گیا، کیونکہ ہم سب اپنی اپنی تعلیم کو ایک لحاظ سے خیر باد کہہ کے ایک نئے دور میں داخل ہوئے تھے۔ پھر وہاں سے ایک معاشی وابستگی ہوئی اور وہ اُس وقت سے لے کے اب تک برقرار ہے۔ ’’المورد‘‘پاکستان کے ساتھ اور obviously اس کے بعد پھر expansion بھی ہوئی ۔
حسن صاحب: نئے پروجیکٹس آئے۔ گویا اصل میں انھی چیزوں اور پروجیکٹس ہی سے معاش وابستہ ہوئی۔
شہزاد صاحب:ہاں، بالکل اسی سے۔ میں نے اپنے 35 سالوں میں آج تک کبھی بھی کوئی انجینئرنگ سے متعلق یا اس کے علاوہ outside کوئی نوکری نہیں کی، حالاں کہ مجھے یاد ہے کہ بالکل شروع میں مجھے ’’LUMS‘‘سے ایک بہت اچھی offer آئی تھی۔ میرے ایک اور colleague ہیں آصف افتخار، وہ بھی وہاں پڑھاتے تھے۔ تو اس وقت وہاں کے جو VC تھے،وہ Islamic studies یا Quranic studies کے ڈیپارٹمنٹ کو آگے بڑھانا چاہ رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں وہاں آ کر پڑھاؤں۔ میں نے کہا کہ میں part time تو کچھ کر سکتا ہوں ، لیکن ’’المورد‘‘ کی ذمہ داری کے ساتھ full time میں نہیں آ سکتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں نے ادارے کی full time ذمہ داری سنبھالی۔ تو capacities change ہوئیں، کبھی انتظام میں، کبھی علم میں، کبھی فکر میں، کبھی دعوت میں، لیکن وابستگی ہمیشہ ادارے سے رہی۔
حسن صاحب: آگے بڑھاتے ہیں۔ اچھا، یہ بتائیے گا کہ غامدی صاحب سے ظاہر بات ہے، جب ملاقات ہوئی، اس کے بعد ایک ذمہ داری بھی آپ کو دی گئی، ان کے فکر کو سمجھنے کے سفر کا آغاز ہوا ہوگا، اس میں خود آٹھ دس سال لگ جاتے ہیں بالعموم تو کچھ چیزیں، کچھ امہات کتب براہ راست بھی سبقاً سبقاً پڑھیں، کیونکہ آپ کا تو علوم دینیہ کا پس منظر نہیں تھا، اب آپ نے شروع کرنا تھا تو وہ کیا آپ کو assignment دیتے تھے کہ بھئی، یہ چار چیزیں پڑھ لو، اس میں کوئی مشکل ہوتی تھی، آ کے پوچھ لیتے تھے یا باقاعدہ طور پر جس طرح کلاس روم میں ایک استاذ بیٹھ کے کچھ نصاب پڑھاتا ہے، وہ معاملہ ہوا؟
شہزاد صاحب: غامدی صاحب سے میرا تعارف 1988ء میں ہوا، اس سے پہلے میں اپنے طور پر بہت کچھ پڑھ چکا تھا۔ میں نے مودودی صاحب کو پڑھا، اردو زبان میں، انگریزی زبان میں جو لٹریچر تھا، وہ میں نے پڑھ لیا۔ پھر میں نے عربی زبان کے دو کورسز کیے: ایک ’’اللسان العربی‘‘ جو بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں ہوا۔ اگرچہ وہ بولنے کا تھا، لیکن اس کے اندر، ظاہر ہے کہ گرامر اور basic عربی تھی اور دوسرا کورس لاہور میں بادشاہی مسجد میں کیا۔ میں نے ایک اشتہار پڑھا کہ مصر سے اسکالر آئے ہیں، جو آٹھ مہینے کا ایک کورس کرائیں گے۔ اس کورس کی ہفتے میں تین یا چار دن کلاسیں ہوتی تھیں۔ اس وقت میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، یہ غامدی صاحب سے ملنے سے پہلے کی بات ہے، 1986ء، 1987ء کی بات ہے تو وہ آٹھ مہینے کا کورس میں نے کیا ۔ میں گھر سے روزانہ بادشاہی مسجد جاتا تھا۔
حسن صاحب: وہ کیا کورس تھا ؟
شہزاد صاحب: اس کا کوئی نام نہیں تھا، بس یہ تھا کہ عربی زبان کا کورس تھا۔ اچھا، استاد کو اردو نہیں آتی تھی اور ہمیں عربی نہیں آتی تھی۔ یعنی جو عربی کے استاد تھے، وہ مصر سے آئے ہوئے تھے اور ان کا نام عبداللہ تھا۔ اہل حدیث کے مشہور عالم عبدالرحمٰن کیلانی صاحب نے actually مصر سے رابطہ کر کے ان کو اس کورس کے لیے بلایا تھا۔ بادشاہی مسجد میں اندر main mosque کے ساتھ بہت سارے حجرے بنے ہوئے ہیں، انھی میں سے ایک حجرے میں ہمیں انھوں نے جگہ دے دی تو روزانہ مغرب سے عشا یا عصر سے مغرب ایک یا ڈیڑھ گھنٹا ہم جاتے تھے اور شاید ہفتے میں چار دن جاتے تھے۔ ان کو اردو نہیں آتی تھی، ہمیں عربی نہیں آتی تھی تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمیں زور لگانا پڑا اور ان کو بھی زور لگانا پڑا۔انھوں نے تو خیر اردو نہیں بولی، ہم نے ہی عربی بولی اور پھر انھوں نے ہمیں’’الطریقۃ الجدیدہ‘‘کے پہلے دو حصے پڑھائے۔ غامدی صاحب سے ملنے سے پہلے یہ سارا پس منظر ہے میرا عربی کا۔ چنانچہ جب غامدی صاحب سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ عربی زبان کی تحصیل تو لازم ہے۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے دو سینئرشاگرد رفیع مفتی صاحب اور طالب محسن صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی۔ پہلے طالب محسن صاحب نے اور بعد میں رفیع مفتی صاحب نے مولانا فراہی کی کتاب’’اسباق النحو‘‘ ہمیں سبقاً سبقاً پڑھائی۔ اس کے بعد اس تعلیم میں میرے ساتھ میرے سینئر رفیق معز امجد صاحب اور آصف افتخار صاحب بھی شامل ہو گئے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ہم نے پھر یہ کتاب اکٹھی پڑھی۔ اس میں پھر ایک اور اضافہ ہم نے کیا کہ ’’النحو الواضح‘‘ کے چھے حصے بھی ہم نے ان سے پڑھے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہم بالکل preliminaryیا basic level کی عربی لے کر آئے ہوئے تھے، جب کہ انٹر میڈییٹ لیول کی عربی طالب محسن صاحب اور رفیع مفتی صاحب نے ہمیں پڑھائی۔
پھر اس کے بعد استاذ سے ہم نے کچھ چیزیں پڑھیں۔ جیسے زمخشری کی ’’ المفصل ‘‘کے کچھ حصے پڑھے، پھر ’’کشاف‘‘ کے کچھ حصے پڑھے، اسی طرح سے رازی کے کچھ حصے پڑھے۔اس کے بعد انھوں نے ہمیں پھر assignment based کام دینا شروع کر دیا تھا کہ آپ چیزیں لکھیں اور پڑھیں۔
میری دل چسپی شروع ہی سے قرآن مجید سے رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ، سیرت ساری چیزیں موجود تھیں، لیکن قرآن سے چونکہ بہت دل چسپی تھی، اس لیے قرآن سے متعلق جو علوم کی چیزیں تھیں، انھوں نے ان کے بارے میں چند کتابوں کے بارے میں کہا، جیسے ’’اتقان‘‘ یا ’’برہان‘‘ ہے، ’’علوم القرآن‘‘ ہے۔ قرآن کے تعارف پر جو کتابیں میں نےزیادہ دل لگا کے پڑھیں، وہ مولانا فراہی کی چھ کتابیں ہیں، جس کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ تین اس کے باطن سے متعلق ہیں اور تین اس کے ظاہر سے متعلق ہیں۔ تو یہ جو چھ کتابیں تھیں، یہ مجھے رفیع مفتی صاحب نے پڑھائیں۔’’اسالیب القرآن‘‘، ’’نظام القرآن‘‘، ’’دلائل النظام‘‘، ’’التکمیل فی اصول التاویل‘‘ وغیرہ۔ ان کے علاوہ، میں نے رفیع صاحب سے مولانا فیض الحسن سہارنپوری کی ’’سبعہ معلقات‘‘ کی شرح ’’ریاض الفیض‘‘ بھی پڑھی تھی۔ اس سے مجھے بہت پہلے سے شغف تھا، اس لیے میں نے سات کے سات معلقات پڑھ لیے۔
عربی ادب سے پہلے میرا ایک اور پس منظر یہ ہے کہ اردو اور انگریزی ادب کا اسکول اور کالج کے زمانے سے شوق تھا تو انگریزی ادب کی بہت ساری چیزیں خاص طور پر شاعری سے متعلق ، جیسے میلٹن(Milton) ہیں، شیکسپیئر (Shakespeare) ہیں، ویلیم بلیک (William Blake) ہیں، ویلیم ورڈزورتھ (William Wordsworth) ہیں، یعنی جتنے بھی ماڈرن اور کلاسیکل poets تھے، سب کو میں نے پڑھا ہوا تھا، اس لیے آپ سے آپ پھر عربی شاعری کی طرف بھی بہت رجحان پیدا ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا دل چاہتا تھا کہ جب میں شعر پڑھوں، اس کو میں خود اپنے ہاتھ سے لکھوں، کیونکہ لکھنے سے یہ ہوتا ہے کہ آپ کو وہ یاد بھی ہو جاتا ہے۔ پھر میں نے کچھ معلقے یاد کیے، جیسے امرؤ القیس کا معلقہ یا لبید کا معلقہ۔ لبید کا معلقہ مجھے بہت پسند تھا۔
پھر استاذ نے کہا کہ آپ ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ کو پڑھیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ کو پڑھنے کے دوران میں ہی یہ ہوا کہ استاذ امین احسن اصلاحی صاحب نے کہا کہ میں درس قرآن اور درس حدیث کا آغاز کر رہا ہوں۔ 1988ء، 1989ء میں جب غامدی صاحب سے تعارف ہوا تو اصلاحی صاحب کے دروس میں بھی کچھ تعطل آیا تھا تو اتفاق سے جیسے ہی میں نے استاذ سے پڑھنا شروع کیا تو اصلاحی صاحب کے دروس کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ وہ ہفتے میں ایک دن قرآن کا اور ایک دن حدیث کا درس دیا کرتے اور ایک تیسری ہماری نشست ہوتی تھی، اس کو ہم ہفتے کی فجر کی نشست کہتے تھے۔ ہم لوگ فجر کی نماز پڑھ کے مولانا کے پاس جا کے ایک گھنٹا گزارتے تھے۔ وہ درس نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف گپ شپ ہوتی تھی۔
حسن صاحب: اس میں غامدی صاحب بھی ہوتے تھے؟
شہزاد صاحب: اس میں غامدی صاحب تھے، ڈاکٹر خالد ظہیر تھے، ڈاکٹر منیر تھے اور اس کے علاوہ پھر مختلف لوگ مختلف اوقات میں رہے۔ وہ ہماری ایک باقاعدہ دو تین سال تک مورننگ (morning) کی نشست تھی، جس میں مولانا اپنے ہفتے بھر کے خطورات بیان کرتے تھے اور چٹکلے بھی ہوتے تھے۔
حسن صاحب: اس کی کچھ ریکارڈنگز بھی ہیں۔
شہزاد صاحب: ریکارڈنگز بھی ہیں اور وہ انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس میں ایک واقعہ یہ ہوا کہ اصلاحی صاحب نے یہ کہا کہ آپ لوگوں کے لیے عربی پڑھنا بہت ضروری ہے تو انھوں نے بخاری باقاعدہ طور پر پڑھانی شروع کر دی اور ساتھ ہی انھوں نے یہ کہا کہ جتنے بھی طالب علم ہیں، وہ باقاعدہ انرول (enroll)ہوں۔ انھوں نے ایک پرچی میں ان سب کے نام لکھے جنھوں نے بخاری پڑھنی تھی۔اور استاذ بھی چونکہ بخاری پڑھ رہے تھے اور ہم بھی پڑھ رہے تھے تو انھوں نے بھی لکھا طالب علم، میں نے بھی لکھا طالب علم اور بھی لوگوں نے طالب علم لکھا تو پھر ہم نے بعد میں مذ اق کیا کہ غامدی صاحب تو ہمارے کلاس فیلو ہیں کیونکہ اصلاحی صاحب کے ساتھ ہم اکٹھے پڑھ رہے ہیں۔ تو بخاری کا یہ سلسلہ جاری رہا اور ہم نے کتاب البیوع، کتاب بدء الوحی اور کتاب الانبیا، یعنی تقریباً ایک تہائی سے کچھ کم بخاری کا حصہ پڑھا۔
حسن صاحب: اس کے کافی لیکچرز ہیں ۔
شہزاد صاحب: جی۔ وہ ہم نے پڑھی۔ اس سے پہلے اصلاحی صاحب موطا پڑھا چکے تھے، لیکن وہ میرے آنے سے پہلے تھا۔
حسن صاحب: وہ خالد مسعود صاحب کے زمانےمیں پڑھاتے تھے۔ انھوں نے اس کو مرتب بھی کیا ہے۔
شہزاد صاحب:جی۔ تو اس طرح غامدی صاحب اور اصلاحی صاحب، دونوں سے براہ راست ساتھ ساتھ معاملہ ہوتا رہا اور میں یہ خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ اصلاحی صاحب سے بھی پڑھا اور غامدی صاحب سے بھی پڑھا۔