لب پہ آتی ہے آرزو میری
اب اُنھیں بھی ہو جستجو میری
پہ بہ گِل ہوں اگرچہ دنیا میں
سوے افلاک ہے نمو میری
لے کے نکلا ہوں پھر چراغ اپنا
ہاتھ میں اُن کے آبرو میری
علم و دانش کی بارگاہوں میں
شبنم آسا ہو گفتگو میری
حرف میرے ہیں بات اُن کی ہے
بات پہنچے یہ چار سو میری
جرعہ جرعہ عطا ہو رندوں کو
ساقیا، آتشِ سبو میری
بحرِ ہستی میں گم نہ ہو جائے
اک ذرا سی ہے آبجو میری
رحمتِ حق سے ہو بھی سکتی ہے
پھر قباے ہنر رفو میری
روزِ محشر نہ آشکارا ہوں
لغزشیں سب کے رو برو میری