مواد پر جائیں

دعوت میں احترام راے کی اہمیت

نبیل اشفاق اردو

کچھ عرصہ قبل مجھے ایک کمرشل پراپرٹی کی فنانسنگ کے سلسلے میں ایک فنانشل ایڈوائزر سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ وہ صاحب کافی مصروف شخص تھے، لہٰذا ان سے صرف آدھ گھنٹے کی میٹنگ کا وقت طے ہوا۔ وہ ٹھیک اپنے وقت پر میرے لندن آفس میں تشریف لائے اور مجھے مختلف فنانسنگ پراڈکٹس کے بارے میں تفصیل فراہم کرتے رہے۔ دوران گفتگو میں نے ان سے جاننا چاہا کہ کیا وہ اسلامک فنڈنگ میں بھی ڈیل کرتے ہیں، میرے سوال پوچھنے پر وہ کچھ دیر کے لیے چونکے اور چند لمحوں کے توقف کے بعد بولے کہ جی ہاں، میں اسلامک فنڈنگ حاصل کرنے میں بھی آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ وہ ایک ایکس مسلم ہیں، یعنی میری زبان میں ایک مرتد، انھیں معلوم تھا کہ میں مسلمان ہوں، لہٰذا اپنے آپ کو مرتد بتانے کے بعد انھوں نے اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے فرمایا کہ اب آپ تو میرے ساتھ ڈیل نہیں کریں گے، لہٰذا مجھے اجازت دیں۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ یہ لندن ہے، لہٰذا آپ میرا یہاں کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے۔ میں نے ان کی بات سننے کے بعد ان سے بیٹھنے کے لیے کہا اور ساتھ ہی سوال کر دیا کہ وہ آخر کیوں میرے بارے میں یہ راے رکھتے ہیں کہ میں ان کے ماضی کو جاننے کے بعد ان سے ڈیل نہیں کروں گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ جب سے انھوں نے اسلام کو خیر آباد کہا ہے، تب سے ان کے والدین اور رشتہ داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا ہے، مزید یہ کہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان کے لوگ مرتد کے بارے میں کیا راے رکھتے ہیں، لہٰذا اسی لیے انھوں نے وہاں سے اٹھنے کو ترجیح دی۔ میں نے ان کو تسلی دی کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور میں ضرور ان سے بزنس ڈیل کروں گا۔ میں نے اسی اثنا میں ان سے سوال کر ڈالا کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو کیا وہ مجھے اپنے اسلام چھوڑنے کی وجہ بتانا پسند کریں گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے اسلام کو سچے خدا کے لیے چھوڑا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ان کو سچا خدا کہاں ملا؟ انھوں نے فرمایا کہ انھیں سچا خدا کرسچینیٹی میں ملا اور وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور بائیبل پر ایمان لے آئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا، کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا اور وہ اپنی زندگی اپنے خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق جیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے رشتہ دار ان کو جہنمی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر ان کے دین اسلام چھوڑنے کی وجہ واقعی سچے خدا کی تلاش ہے اور وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزار رہے ہیں اور جانتے بوجھتے حق کا انکار نہیں کر رہے تو میری طالب علمانہ راے میں وہ جنت کے حق دار قرار پائیں گے۔ میرا جواب سن کر وہ بہت ہی حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ واقعی مسلمان ہیں؟ میں نے ان کو اپنے مسلمان ہونے کی تسلی دلائی اور انھیں بتایا کہ میری ان کے بارے میں راے دین کی روشنی کے عین مطابق ہے، میرا جواب ان کے تجسس میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ انھوں نے مزید سوال کیا کہ آپ کا میرے بارے میں اتنا اچھا گمان رکھنے کی آخر وجہ کیا ہے، جب کہ میرے اپنے خاندان والوں نے تو مجھے دھتکار دیا ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ میری راے میں وہ ایک پیدایشی ایرانی مسلمان ہیں اور دین اسلام کو انھوں نے کبھی جانا ہی نہیں، اگر جانتے تو یقیناً انھیں اندازہ ہوتا کہ جس حق کو وہ اب دل و جان سے قبول کر بیٹھے ہیں، قرآن مجید اسی دین کی آخری کتاب ہے۔ ہماری گفتگو خوشگوار ماحول میں مزید چند گھنٹوں کے لیے جاری رہی اور ہم علمی تبادلہ خیال کرتے رہے۔ وہ جانے سے پہلے اٹھے اور مجھے گلے لگانے کی خواہش ظاہر کی، میں نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انھیں زور سے گلے لگایا۔ اسی دوران میں ان کی آنکھیں کچھ نم ہو گئیں۔

وہ آج بھی میرے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم کبھی کبھار مذہب کو بھی موضوع گفتگو بنا لیتے ہیں اور مجھے جب بھی موقع ملتا ہے، میں انھیں دین اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی دیتا رہتا ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں اچھا گمان ہے کہ جس لمحے وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جان پائیں کہ دین اسلام حق ہے تو وہ ضرور اس حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے، جیسا کہ انھوں نے سچے خدا کی تلاش میں کرسچینیٹی کو اپنایا۔ باقی میں نے کبھی ان پر دین اسلام قبول کرنے کے لیے زور زبردستی نہیں کی اور زور زبردستی بھی کاہے کی؟ میری راے میں تو وہ پہلے سے ہی مسلمان ہیں، بھلے اپنے آپ کو دنیاوی لحاظ سے کرسچن سمجھتا رہے۔