[ ڈاڑھی کے حوالے سے’’23 اعتراضات سیریز‘‘ کے ایک پروگرام کا خلاصہ جناب محمد حسن الیاس صاحب نے بیان کیا ہے۔ زیر نظر تحریر انھی کی گفتگو سے اخذ و استفادہ پر مبنی ہے۔]
جناب جاوید احمد غامدی کا موقف
مسلمانوں کے ہاں ڈاڑھی (beard) ایک بہت ہی حساس مسئلہ ہے۔ ان کے ہاں ڈاڑھی رکھنا ایک فریضہ، جب کہ اسے نہ رکھنا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے نزدیک ڈاڑھی دین کا کوئی حکم نہیں ہے، یعنی دین نے ہمیں اس بات کا پابند نہیں کیا کہ ہم ڈاڑھی رکھیں۔ اپنے اس موقف کو انھوں نے اپنی ’’23 اعتراضات سیریز‘‘ میں بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
دین کے معاملے میں یہ بات تو طے ہے کہ روے زمین پر دین کا تنہا ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دین دو صورتوں میں دیا ہے:
ایک قرآن،
دوسرے سنت۔
جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تو اس میں ہمیں ڈارھی کے بارے میں کوئی بھی آیت نظر نہیں آتی۔ سنت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ پیغمبروں کی روایت (tradition) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت میں دین کے عملی احکام کو، جیسا کہ یہ پچھلے انبیا کی تہذیبی روایتوں (tradition of prophets) میں چلے آرہے تھے، اپنے ترمیم و اضافے اور تجدید (renewal) سے آگے پہنچا دیا۔ چونکہ ڈاڑھی ایک عملی روایت تھی اور اس نے عمل سے منتقل ہونا تھا، اس لیے مسلمانوں کے تواتر عملی (practical continuation) کے ذریعے سے بھی اس طرح کی کوئی ہدایت ہم تک نہیں پہنچی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ڈاڑھی کا ذکر کس جگہ پر آیا ہے؟ یہ بات کہاں بیان ہوئی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کہا ہے کہ ڈاڑھی رکھو؟ تو یہ سب مواد ہمیں احادیث میں ملتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ڈاڑھی بڑھانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ حدیث کے بارے میں یہ بات طے ہے کہ اس میں دین سے متعلق جو بھی ہدایت آئے گی، اس کو قرآن مجید کے مقرر کردہ فورکارنرز (four-corners) کے اندر بیٹھنا ہے۔ دین سے متعلق جو ہدایات احادیث میں آتی ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے کہ ان میں قرآن کی کسی اصولی ہدایت کی تفہیم ہے، اس کو سمجھایا گیا ہے، اس کی شرح و وضاحت ہے، اس کے لازم عقلی تقاضے (logical requirements) یا لسانی تقاضے(linguistic requirements) بیان کیے گئے ہیں یا پھر حدیث کے اندر کوئی ایسی چیز، کوئی اصول بیان ہوا تھا جس کا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاق کیا ہے۔
چنانچہ حدیث کے بارے میں دو باتیں ملحوظ رہنی چاہییں:
اولاً، یہ کہ حدیث میں جو بھی بات آئے گی، سب سے پہلے یہ دریافت کیا جائے گا کہ اس سے قرآن کے کس اصول (principle) کو سمجھایا گیا ہے اور وہ کس اصول کا اطلاق (application) ہے، کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حدیث میں ہم ایسی بات کو قبول کر لیں جو قرآن مجید کے لیے اجنبی و اضافی (independent) ہو یا قرآن مجید کے قائم کردہ فورکارنرز سے باہر نکلتی ہو۔
ثانیاً، یہ کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ باتیں لوگوں نے اپنے طور پر سن کر آگے منتقل کی ہیں، لہٰذا ہمیں تحقیق کرنی پڑتی ہے کہ ان کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو باتیں ہم تک پہنچی ہیں، وہ سند کے معیار(verified chain of transmission) پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔
آئیے، اب دیکھتے ہیں کہ ڈاڑھی سے متعلق احادیث میں کیا وارد ہوا ہے اور استاذ محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے ان کو کیسے دیکھا یا کیسے سمجھا ہے۔ چنانچہ ڈاڑھی سے متعلق احادیث کو ہم دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں:
1۔ وضع قطع سے متعلق احادیث
2۔ ڈاڑھی سے متعلق احادیث
پہلی قسم وہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی متکبرانہ وضع قطع پر تبصرہ فرمایا ہے جو اوباشوں کے انداز میں بڑی بڑی مونچھیں رکھتے تھے اور ڈاڑھی بہت چھوٹی رکھتے تھے۔ یہ مغرور (arrogant) اور خود پسند (overween) لوگوں کا ایک انداز تھا۔ قرآن مجید نے تکبر سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو سکتا ہے، لیکن تکبر کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔1 چنانچہ یہی اصول ہے جو عاجزی (humility) اور فروتنی (humbleness) کے خلاف ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اسی اصول کا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روایات میں اطلاق کیا ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بات ان روایات میں بیان کر رہے ہیں، وہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسلمانوں کو لازماً ڈاڑھی بڑھانی ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف توجہ دلا رہے ہیں کہ جو لوگ چھوٹی ڈاڑھی کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی مونچھیں رکھ کر اپنی وضع قطع کو متکبرانہ (arrogant) بنا دیتے ہیں، یہ دین میں ناپسندیدہ اور غیرمطلوب (unwanted) ہے۔ اس سے ہر شخص کو بچنا چاہیے۔
یہ مشاہدے کی بات ہے کہ اکثر لوگ بڑی بڑی مونچھیں رکھتے ہیں اور ان کو تاؤ دیتے ہیں، بل دیتے ہیں اور اس سے لوگوں پر اپنی ہیبت، رعب، برتری اور تفوق (inferiority and terror) قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کچھ بڑھانا ہی ہے تو ڈاڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کر لو، یعنی اگر تمھیں شوق ہی ہے کہ تمھارے منہ پر بڑے بال ہونے چاہییں تو ڈاڑھی بڑھا لو، اس لیے کہ ڈاڑھی جب بڑے گی تو ڈاڑھی کا بڑا ہونا یہ بہ ظاہر تکبر کی علامت نہیں ہے۔
ہماری انسانی تاریخ، رویوں اور تاملات (reflections) میں ہمیشہ مونچھیں ہی بڑی کر کے تکبر کا اظہار کیا جاتا ہے، نہ کہ ڈاڑھی بڑی کر کے۔ جب مونچھیں بڑی کی جاتی ہیں تو لازماً ڈاڑھی چھوٹی کی جاتی ہے تاکہ جو بڑی چیز ہے، اس کو مزید بڑا یا نمایاں کیا جائے۔ عام طور پر لوگ ڈاڑھی اور مونچھیں، دونوں بڑی نہیں کرتے، لیکن بڑی بڑی مونچھیں رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کچھ بڑھانے کا شوق ہے تو ڈاڑھیوں کو بڑھا لو اور مونچھوں کو چھوٹا رکھو۔
اس باب کی جو روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہوئی ہیں اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم کی ایک مشہور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحٰی.( رقم259)
’’ان مشرکوں کی مخالفت کرو، اپنی مونچھیں چھوٹی کرو اور اپنی ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔‘‘
اسی طرح ایک روایت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نسبت سے آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحٰی، وَخَالِفُوا الْمَجُوْسَ.(مسند احمد، رقم 8785)
’’اپنی مونچھیں چھوٹی کرو، ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور اِن مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘
’’اور اِن مجوسیوں کی مخالفت کرو‘‘، یہ بڑی اہم بات ہے۔ گویا اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ اگر تم نے تکبر اپنایا اور تکبر کی وجہ سے یہ کام کیا تو غیرمسلموں کی پیروی کی، کیونکہ یہ عادت اصل میں اس زمانے کے غیر مسلموں، یعنی مجوسیوں اور مشرکوں کی تھی۔ اس کام سے بچو اور اگر کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو ڈاڑھی بڑھا لو اور مونچھیں کم کرو۔ یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہہ رہے کہ لازمی ڈاڑھیاں بڑی کرنی ہیں، بلکہ آگے جو فرمایا کہ ’’اِن مشرکوں کی مخالفت کرو‘‘،’’اِن مجوسیوں کی مخالفت کرو‘‘ تو اس سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جس مقصد سے اُنھوں نے یہ کام کیا تھا، اس سے ہمیں اتفاق نہیں ہے، کیونکہ ہمارا دینی نظریہ (religious doctrine)، ہمارا اصول اور قرآن مجید کی ہدایت اس سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
دوسری قسم کی روایات وہ ہیں جن میں ڈاڑھی کا ذکر ہے۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کو اہل کتاب کی بعض بدعات کے بارے میں خبردار کر رہے اور ان سے منع کر رہے ہیں۔ ان اہل کتاب میں بڑی بڑی مونچھیں رکھنا اور ڈاڑھی کو چھوٹا رکھنا مذہبی عبادت کے طور پر رائج تھا، یعنی انھوں نے اسے دینی نظریے کے طور پر اپنایا ہوا تھا، جب کہ یہ ان کی اپنی ایجاد کردہ بدعت (deviation) تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب بھی پیغمبروں کو مبعوث فرماتا ہے تو وہ اللہ اور مذہب کے نام پر رائج غلط تصورات اور بدعات کو ختم کرتے اور ان پر لوگوں کو توجہ دلاتے ہیں۔ چنانچہ اس قسم کی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان بدعات سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
اس حوالے سے جو احادیث آئی ہیں، ان سے واضح ہے کہ ان میں مذہب کے نام پر کسی نئی ایجاد اور ذاتی اختراع (self-creation) کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس سلسلے کی روایت حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے ہم تک پہنچتی ہے۔ چنانچہ وہ روایت کرتے ہیں:
خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی مَشْیَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِیضٌ لِحَاهُمْ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، حَمِّرُوْا وَصَفِّرُوْا، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ. قَالَ: فَقُلْنَا:یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ یَتَسَرْوَلَوْنَ، وَلَا یَأْتَزِرُوْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: تَسَرْوَلُوْا، وَائْتَزِرُوْا، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ یَتَخَفَّفُوْنَ، وَلَا یَنْتَعِلُوْنَ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: فَتَخَفَّفُوْا، وَانْتَعِلُوْا، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ یَقُصُّوْنَ عَثَانِیْنَهُمْ، وَیُوَفِّرُوْنَ سِبَالَهُمْ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: قُصُّوْا سِبَالَکُمْ، وَوَفِّرُوْا عَثَانِیْنَکُمْ، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ.
(مسند احمد، رقم 22283)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ بڑے بوڑھوں کی مجلس میں، جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں، تشریف لائے تو اُن سے کہا: انصار کے لوگو،اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کر لیا کرو اور اِس معاملے میں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر ہم نے سوال کیا: یا رسول اللہ، (پھر اِس کا کیا حکم ہے کہ) اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں، وہ لنگی (تہ بند)نہیں باندھتے؟ آپ نے فرمایا:تم شلوار بھی پہنو اور لنگی بھی باندھو اور اِس معاملے میں بھی اُن کی مخالفت کرو۔ہم نے پھر سوال کیا:(اور اِس کا کہ )اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، وہ جوتے نہیں پہنتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ہم نے سوال کیا:یا رسول اللہ،(اور اِس کا کہ)اہل کتاب ڈاڑھی کتراتے اور مونچھیں خوب بڑھاتے ہیں؟ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیوں کو خوب بڑھنے دو، (جس طرح وہ مونچھوں کو بڑھنے دیتے ہیں)اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘
اس روایت کے موضوع، سیاق و سباق (context)، مخاطبین کے سوالات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح و وضاحت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں انصار کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈاڑھی کے علاوہ اہل کتاب کی بعض دوسری چیزوں کے بارے میں بھی سوال کیا ہے۔ اس روایت میں چار بنیادی نکات بیان ہوئے ہیں:
1۔ یہ کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین تھے، ان کی ڈاڑھیاں سفید تھیں اور ان کو رنگنے میں کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ جیسا کہ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جو بزرگ ہوتے ہیں، ان کی ڈاڑھیاں سفید ہوتی ہیں۔ انھیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، اور ان انصار کو مشورہ دیا کہ ’’اپنی ڈاڑھیاں سرخ یا زرد رنگ سے رنگو اور ان اہل کتاب کی مخالفت کرو‘‘۔ کیونکہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی طور پر ڈاڑھی کو رنگنا غلط بات ہے تو یہ اُن کی خود ساختہ (self assumed) بات ہے، جو کہ حقیقت اور مذہب کے خلاف ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ تم اپنی ڈاڑھیوں کو رنگو۔
2۔ یہ کہ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے نبی، اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں، لیکن لنگی نہیں پہنتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم شلوار اور لنگی، دونوں پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ یہ بھی ان کی ایک مذہبی بدعت تھی کہ اہل کتاب شلوار پہنتے تھے، مگر لنگی نہیں پہنتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا تو آپ نے جواب میں کہا کہ تم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، تم شلوار اور لنگی، دونوں پہن سکتے ہو۔ اس میں دینی لحاظ سے کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ پھر اسی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ’’اس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو‘‘۔
3۔ انصار کے لوگوں نے پوچھا کہ اے نبی، اہل کتاب نماز میں موزے پہنتے ہیں، لیکن جوتے نہیں پہنتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتے اور موزے، دونوں پہنو اور اس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ گویا یہ بھی ان کی طرف سے ایک مذہبی بدعت اور اختراع ہے کہ وہ نماز میں موزے پہنتے تھے، مگر جوتے نہیں پہنتے تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لوگوں کو توجہ دلائی کہ اس معاملے میں بھی ان کی مخالفت کرو۔
4۔ اسی تسلسل میں انصار نے یہ سوال بھی کیا کہ اے نبی، اہل کتاب بڑی بڑی مونچھیں رکھتے ہیں اور ڈاڑھیاں منڈاتے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی مونچھیں چھوٹی کرو اور ڈاڑھیاں لمبی کرو، اور اس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
اس روایت سے واضح ہے کہ یہ چاروں نکات اور سوالات ایک مذہبی بدعت اور اختراع کے بارے میں کیے گئے تھے، جو لوگوں نے مذہب کے نام پر ایجاد کر لی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بدعات کے بارے میں یہ جواب دے رہے ہیں کہ اگر تم یہ کام کرتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لہٰذا اگر تم شلوار اور لنگی پہننا چاہتے ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، تم ڈاڑھیاں رنگنا چاہتے ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، تم موزے اور جوتے، دونوں پہن کر نماز پڑھنا چاہتے ہو تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اسی طرح اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مونچھیں بڑی رکھنا اور ڈاڑھی کاٹنا ضروری ہے تو تم ڈاڑھیاں بڑھا لو اور مونچھیں چھوٹی رکھ لو تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
اس روایت میں سرے سے یہ چیز زیر بحث ہی نہیں ہے کہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ڈاڑھی کا حکم لوگوں میں منتقل کر رہے ہیں، بلکہ یہ لوگوں کا ایک بدعت کے بارے میں سوال ہے، جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جواب دے رہے ہیں۔ چنانچہ غامدی صاحب کے مطابق دونوں قسم کی احادیث میں کہیں بھی اصلاً مسلمانوں کو ڈاڑھی بڑھانے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔
پہلی قسم کی روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متکبرانہ وضع قطع اپنانے پر تبصرہ فرمایا ہے اور دوسری قسم کی روایات میں رائج بدعات کی مخالفت کی اور لوگوں کو بتایا ہے کہ ان کو اپنانے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ چنانچہ ان احادیث میں سرے سے ڈاڑھی رکھنے کا حکم زیر بحث ہی نہیں ہے۔
[باقی]
- ۔ الاعراف7: 40۔ ’اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ‘)یہ قطعی ہے کہ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کرکے اُن سے منہ موڑا ہے، اُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے)۔