مواد پر جائیں

رؤیتِ باری تعالیٰـــ غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

سورۂ نجم کے الفاظ ’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي‘ (پھر وہ قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا) اور واقعۂ معراج کی مذکورہ روایت کے الفاظ ’ودنا للجبار رب العزة، فتدلى، حتى كان منه قاب قوسين أو أدنى‘ (پھر اللہ رب العزت نے نزول فرمایا اور آپ کے قریب ہوئے، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا) سے رؤیت ِباری تعالیٰ، یعنی دیدارِ الہٰی کا مفہوم اخذ کیا جاتا ہے۔ سورہ اور روایت کے متعلقہ اجزا درجِ ذیل ہیں:

وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰي. مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰي. وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰي. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰي. عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰي. ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي. وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰي. ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي. فَاَوْحٰي اِلٰي عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰي. مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰي. اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰي. (53: 1-12)

’’تارے گواہی دیتے ہیں، جب وہ گرتے ہیں کہ تمھارا رفیق نہ بھٹکا ہے، نہ بہکاہے۔ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ (قرآن) تو ایک وحی ہے، جو اُسے کی جاتی ہے۔ اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے،جو بڑا صاحب ِکردار، بڑا صاحبِ حکمت ہے۔ چنانچہ وہ نمودار ہوا، اِس طرح کہ وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ پھر قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ پھر اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔ جو کچھ اُس نے دیکھا، وہ دل کا وہم نہ تھا۔ اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو، جو وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے؟ ‘‘

ثم علا به فوق ذلك بما لا يعلمه إلا اللّٰه، حتى جاء سدرة المنتهى، ودنا للجبار رب العزة، فتدلى، حتى كان منه قاب قوسين او ادنى، فاوحى اللّٰه فيما اوحى إليه خمسين صلاةً على امتك كل يوم وليلة. (بخاری، رقم 7517)

’’پھر جبریل آپ کو اِس (ساتویں آسمان)سے بھی اوپر اُن بلندیوں کی طرف لے گئے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یہاں تک کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے۔ پھر اللہ رب العزت نے نزول فرمایا اور آپ کے قریب ہوئے، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ پھر اللہ نے آپ کو وحی کی اور اُس میں ہر روز و شب میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، جو تمھاری امت پر فرض ہوئیں۔ ‘‘

اِن سے رؤیتِ باری تعالیٰ کا مفہوم اخذ کرنے کے حوالے سے علما کے دو گروہ ہیں:

ایک گروہ کا موقف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے دیدارِ الہٰی کا تصور قائم کرنا درست نہیں ہے۔ یہ تصور اُن آیات اور احادیث کے خلاف ہے، جو اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے امکان کو رد کرتی ہیں۔ لہٰذا وہ سورۂ نجم کے مذکورہ مقام کو حضرت جبریل علیہ السلام کی رؤیت پر محمول کرتے ہیں۔ جہاں تک روایت کا تعلق ہے تو چونکہ اُس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر لفظاً آ گیا ہے، اِس لیے اُن میں سے بعض روایت کے متعلقہ حصے کو اور بعض پوری روایت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

اِس موقف کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بالتفصیل بیان کیا ہے۔’’تفہیم القرآن‘‘ سے سورۂ نجم کی تفسیر کے چند اجزادرج ذیل ہیں:

’’’زبردست قوت والے‘سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اِس پر متفق ہے کہ اِس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عائشہ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم، قتادہ، مجاہد، اور ربیع بن انس سے یہی قول منقول ہے۔ ابنِ جریر، ابنِ کثیر، رازی اور آلوسی وغیرہ حضرات نے بھی اِسی قول کو اختیار کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور مولانا اشرف علی صاحب نے بھی اپنے ترجموں میں اِسی کی پیروی کی ہے۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ خود قرآنِ مجید کی دوسری تصریحات سے بھی یہی ثابت ہے۔ …

یہ جبریل علیہ السلام سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دوسری ملاقات کا ذکر ہے، جس میں وہ آپ کے سامنے اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوئے۔ اس ملاقات کا مقام ’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اِس کے قریب ’’جنت الماویٰ‘‘ واقع ہے۔…

یہ آیت اِس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کو نہیں، بلکہ اُس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ اور چونکہ سیاق و سباق کی رو سے یہ دوسری ملاقات بھی اُسی ہستی سے ہوئی تھی، جس سے پہلی ملاقات ہوئی، اِس لیے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا، وہ بھی اللہ نہ تھا، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپ نے اِن مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جل شانہ کو دیکھا ہوتا تو یہ اِتنی بڑی بات تھی کہ یہاں ضرور اِس کی تصریح کر دی جاتی۔…

اِن وجوہ سے، بہ ظاہر اِس بحث کی کوئی گنجایش نہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن دونوں مواقع پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا یا جبریل علیہ السلام کو؟ لیکن جس وجہ سے یہ بحث پیدا ہوئی، وہ یہ ہے کہ اِس مسئلے پر احادیث کی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ …

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک روایت جو قصۂ معراج کے سلسلے میں شریک بن عبداللہ کے حوالہ سے امام بخاری نے کتاب التوحید میں نقل کی ہے، …سب سے بڑا اعتراض اِس پر یہ وارد ہوتا ہے کہ یہ صریح قرآن کے خلاف پڑتی ہے۔ کیونکہ قرآنِ مجید دو الگ الگ رؤیتوں کا ذکر کرتا ہے، جن میں سے ایک ابتداءً افق اعلیٰ پر ہوئی تھی اور پھر اس میں ’دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ‘ کا معاملہ پیش آیا تھا، اور دوسری سدرۃ المنتہیٰ کے پاس واقع ہوئی تھی۔ لیکن یہ روایت اِن دونوں رؤیتوں کو خلط ملط کر کے ایک رؤیت بنا دیتی ہے۔ اِس لیے قرآنِ مجید سے متعارض ہونے کی بنا پر اِس کو تو کسی طرح قبول ہی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

(5/195-202)

حافظ صلاح الدین یوسف نے اپنی تالیف ’’واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات‘‘ میں اُن علما کے اقوال کو جمع کر دیا ہے، جو باری تعالیٰ کی عدم رؤیت کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’بعض روایات میں صرف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ لیکن دوسری طرف حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دل سے دیکھا ہے۔ …گویا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے آنکھوں سے دیکھنےکی اور دل سے دیکھنے کی، دونوں قسم کی روایات منقول ہیں۔ اِس لیے حافظ ابنِ کثیر کہتے ہیں:

’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مطلق رؤیت کی جو روایت مروی ہے، اُسے اُس روایت پر محمول کیا جائے گا، جس میں دل کے ساتھ دیکھنے کی تخصیص ہے اور جس نے اُن سے آنکھ سے دیکھنے کی روایت کی ہے، اُس نے بڑی عجیب بات کی ہے،اِس لیے کہ صحابہ سے اِس کی بابت کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔‘

محقق عصر ناصر الدین البانی فرماتے ہیں:

’بہرحال حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سےآیت نجم کی تفسیر رؤیتِ باری تعالیٰ کے ساتھ اُن سے ثابت ہے، لیکن اِس کے مقابلے میں اِس آیت کی وہ تفسیر جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (بروایتِ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) مرفوع ذکر کی ہے اُس سے زیادہ بہتر ہے۔ اِس لیے کہ موقوف (قولِ صحابی) کے مقابلے میں مرفوع (قولِ رسول) کا لینا واجب ہے۔…‘

یہی بات حافظ ابنِ حجر نے بھی لکھی ہے:

’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مطلق دیکھنے کی روایات بھی ہیں اور دل کے ساتھ دیکھنے کی خاص روایات بھی۔ اِس لیے مطلق کو مقید (خاص روایات ) پر محمول کرنا ضروری ہے۔‘

بہرحال اِس تفصیل سے واضح ہے کہ شب ِمعراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا، نہ براہِ راست گفتگو کی اور نہ آپ کا ’دنو و تدلی‘ کا تعلق اللہ کے ساتھ ہوا، جس کا اظہار سورۂ نجم کی آیت کی تفسیر میں بعض لوگوں نے کیا ہے۔‘‘ (75- 77، 84)

دوسرے گروہ کے اہل علم سورۂ نجم کے الفاظ ’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي‘ (پھر قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا) اور روایت کے مذکورہ حصے کو باہم موافق قرار دیتے ہیں، جن میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دیدارِ الہٰی کی صراحت ہے۔ تاکید مزید کے لیے وہ اُن روایات کو بناے استدلال بناتے ہیں، جن میں رؤیتِ باری کی تصریح کی گئی ہے۔ چنانچہ وہ نہ صرف دیدارِ الہٰی کو برحق مانتے ہیں، بلکہ قرآنِ مجید کی آیات ’لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ‘ اور ’ وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ‘ کی تاویل بھی اِنھی کو اصل مان کر کرتے ہیں۔

پیر کرم شاہ الازہری نے اپنی تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ میں سورۂ نجم کے تحت اُن علما کے اقوال کو درج کیا ہے،جو رؤیتِ باری تعالیٰ کے قائل ہیں۔ اُن کا اقتباس درج ذیل ہے:

’’خلاصۂ کلام کو علامہ نووی اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں : حاصل بحث یہ ہے کہ اکثر علما کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج اللہ تعالیٰ کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھااور اِس میں شک کی کوئی گنجایش نہیں۔…

علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اِن آیات کی تفسیر و تشریح سے فارغ ہونے کے بعد دیدارِ الہٰی کے بارے میں اپنی ذاتی رائے کو یوں بیان کرتے ہیں:

’اور میں یہ کہتا ہوں کہ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے ربِ کریم کے دیدار سے مشرف ہوئےاور حضور کو قرب الہٰی نصیب ہوا۔ لیکن اِس طرح جیسے اُس کی شان کبریائی کے لائق ہے۔‘ (روح المعانی)

حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے جب دریافت کیا جاتا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنے رب کا دیدار کیا تو آپ جواب میں فرماتے: ہاں حضور نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، ہاں حضور نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ یہ جملہ اِتنی بار دہراتے کہ آپ کا سانس ٹوٹ جاتا۔(روح المعانی)

مولانا سید انور شاہ صاحب اِس مسئلے پر مفصل بحث کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:

’حضور صلی اللہ علیہ وسلم دیدارِ الہٰی سے مشرف ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اِس دولت ِ سرمدی سے آپ کو نوازا اور اپنے فضل و احسان سے عزت افزائی فرمائی۔پس حضور نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، حضور نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، جس طرح امام احمد نے فرمایا ہے، مگر یہ دیدارایسا تھا، جیسےحبیب اپنے حبیب کا دیدار کرتا ہے۔ نہ وہ آنکھیں بند کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ اِس میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ ٹکٹکی باندھ کر روے دل دار کو دیکھتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کا یہی مفہوم ہے: ما زاغ البصر وما طغیٰ۔‘(فیض الباری، شرح فتح الباری)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ’’اشعۃ اللمعات‘‘ کی جلد چہارم میں اِس مسئلے کی تحقیق کرتے ہوئے اِسی قول کو پسند فرمایا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل کیا۔‘‘( 5/23- 24)

خلاصہ یہ ہے کہ صحابۂ کرام کے زمانے سے لے کر دورِ حاضر تک رؤیتِ باری تعالیٰ کے معاملے میں اختلاف قائم ہے۔ ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا قائل ہے اور دوسرا اُس کا انکار کرتا ہے۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک، قرآن و حدیث کی رو سے، یہ دونوں نقطہ ہاے نظر درست نہیں ہیں۔اِن کے پیچھے ایک ہی غلطی کار فرما ہے۔ وہ غلطی یہ ہے کہ دونوں نے اسرا و معراج کے واقعات کو رؤیا ماننے سے انکار کیا ہے۔یہ انکار سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے واضح مطالب اور صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث کے صریح الفاظ کے منافی ہے۔ اِن دونوں مصادر سے قطعی طور پر اِس امر کی صراحت ہوتی ہے کہ واقعۂ معراج بیداری میں نہیں، بلکہ نیند کے عالم میں اور رؤیا کی صورت میں پیش آیا تھا۔

سورۂ بنی اسرائیل میں ہے:

…وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ…. (17: 60)

’’…اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا…۔‘‘

اور حدیث کے ابتدائی اور اختتامی الفاظ ہیں:

حتى اتوه ليلةً اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ولا ينام قلبه، وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم.

’’یہاں تک کہ ایک دوسری رات کو وہ (دوبارہ )آئے۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کی آنکھیں تو سو رہی تھیں، مگر آپ کا دل نہیں سو رہا تھا۔ پیغمبروں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل نہیں سوتے۔ ‘‘

واستيقظ وهو في مسجد الحرام.

’’اِس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسجد ِ حرام میں تھے۔‘‘

چنانچہ غامدی صاحب کے نزدیک یہ امر بالکل قرین قیاس ہے کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل ہوا ہو۔ بعض دیگر روایتوں سے بھی اِس کی تائید ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےرؤیا کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی دید کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ترمذی میں ہے:

عن معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه، قال: احتبس عنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى عين الشمس، فخرج سريعًا فثوب بالصلاة فصلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وتجوز في صلاته، فلما سلم دعا بصوته، فقال لنا: على مصافكم كما انتم.

ثم انفتل إلينا، ثم قال: أما إني ساحدثكم ما حبسني عنكم الغداة اني قمت من الليل فتوضات وصليت ما قدر لي، فنعست في صلاتي حتى استثقلت فإذا انا بربي تبارك وتعالٰى في احسن صورة.

فقال: يا محمد، قلت: لبيك رب، قال: فيم يختصم الملا الاعلى؟ قلت: لا ادري، قالها ثلاثًا، قال: فرايته وضع كفه بين كتفي حتى وجدت برد انامله بين ثديي، فتجلى لي كل شيء وعرفت.

(رقم3235)

‏‏‏‏’’معاذ بن جبل رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھانے سے روکے رکھا، (یعنی آپ تشریف نہیں لائے اور ہم آپ کے انتظار میں نماز پڑھنے سے رکے رہے) قریب تھا کہ ہم سورج کو دیکھ لیں گے۔ (یعنی سورج طلوع ہونے کا وقت بہت قریب آ گیا)۔ پھر آپ تیزی سے واپس تشریف لائے اور لوگوں کو نماز کے لیے بلایا۔ پھر آپ نے نماز پڑھائی اور نماز کو مختصر کیا۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ نے آواز دے کر لوگوں کو بلایا اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیے۔

پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:میں آپ کو وہ بات بتانا چاہتا ہوں، جس نے آج مجھے روک لیا تھا۔ میں رات کو اٹھا،پھر میں نے وضو کیا اور تہجد کی نماز ادا کی۔ اُتنی ہی جتنی میرے لیے مقدر تھی۔ پھر نماز ہی میں مجھے اونگھ آ گئی، یہاں تک کہ میں گہری نیند سو گیا۔ یک بہ یک میں نے دیکھا کہ میں اپنے پروردگار کے ساتھ ہوں اور وہ بہترین صورت پر ہے۔

اُس نے فرمایا: اے محمد، میں نے عرض کیا: میرے رب، میں حاضر ہوں۔ اُس نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ ملاے اعلیٰ کے لوگ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا؟ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ اُس نے اپنا ہاتھ میرے شانوں کے درمیان رکھا اور میں نے اُس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی۔ اِس کے ساتھ ہی ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی اور میں جان گیا۔ ‘‘

استاذِ گرامی کے نزدیک معراج کی روایت میں چونکہ بہ صراحت مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتِ باری کا مشاہدہ رؤیا کے عالم میں کیا تھا، اِس لیے اُس کو قرآنِ مجید کے اُن نصوص کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا، جو باری تعالیٰ کی رؤیت بصری کے امکان کو رد کرتے ہیں۔مزید برآں، اسرا و معراج کے مشاہدات کو ــــ قرآن و حدیث کے صریح الفاظ کے مطابق ــــ عالم رؤیا کے مشاہدات پر محمول کرنے کے نتیجے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی درجِ ذیل روایت بھی پوری طرح واضح ہو جاتی ہے اور اِس میں اور رؤیتِ باری کی روایتوں میں تصور کیا جانے والا تناقض بھی رفع ہو جاتا ہے:

عن مسروق، قال: كنت متكئًا عند عائشة، فقالت: يا ابا عائشة، ثلاث من تكلم بواحدة منهن، فقد اعظم على اللّٰه الفرية، قلت: ما هن؟ قالت: من زعم ان محمدًا صلى اللّٰه عليه وسلم راى ربه، فقد اعظم على اللّٰه الفرية.

قال: وكنت متكئًا فجلست، فقلت: يا ام المؤمنين، انظريني ولا تعجليني، الم يقل اللّٰه عز و جل: وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ1 وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰي.2

فقالت: انا اول هذه الامة، سال عن ذلك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال: إنما هو جبريل، لم اره على صورته التي خلق عليها، غير هاتين المرتين، رايته منهبطًا من السماء، سادًا عظم خلقه ما بين السماء إلى الارض.

فقالت: اولم تسمع ان اللّٰه يقول: لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ھُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ھُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ3 اولم تسمع ان اللّٰه يقول: وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ.4 (مسلم، رقم457)

’’مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ، (یہ مسروق کی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ جو اِن کا قائل ہوا، اُس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ میں نے پوچھا: وہ تین باتیں کون سی ہیں؟ اُنھوں نے کہا کہ(ان میں سے ایک یہ ہے کہ) کوئی یہ خیال کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، تو اُس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے۔

مسروق نے کہا: میں ٹیک لگائے ہوئے (نیم دراز) تھا، (یہ سنتے ہی فوراً) اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پھر میں نے کہا: ام المومنین، ذرا ٹھیر جائیے اور جلدی نہ کیجیے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ’وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ‘ اور ’وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰي‘۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اِس امت میں سب سے پہلے میں نے اِن آیتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جبریل تھے(جن کا ذکر اِن آیتوں میں ہوا ہے)۔ میں نے اُنھیں اِن دو موقعوں کے علاوہ کبھی اُس صورت میں نہیں دیکھا، جس میں اللہ نے اُنھیں بنایا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور اُن کا وجود آسمان سے زمین تک پھیلا ہوا تھا۔

پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تو نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَھُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَھُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ‘، کیا تو نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ.‘‘‘

البیان

  1. ۔ التكوير 81: 23۔
  2. ۔ النجم53: 13۔
  3. ۔ الانعام 6: 103۔
  4. ۔ الشورىٰ42: 51۔