ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
الحمد للّٰہ، الحمد للّٰہ رب العالمين. والصلاة والسلام علی محمد الامین. فاعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم. بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم.
خواتین و حضرات! علم وادب میں میری پہلی دل چسپی ادبیات سے رہی ہے اور ادبیات میں دسیوں اصناف ہیں، جن میں لوگ طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مجھے بھی کچھ سننے پڑھنے اور پھر نظم و نثر میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملتا رہا ہے اور میں نے بھی اِن میں سے بعض اصناف میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے،لیکن جو دو اصناف کبھی میرے قریب نہیں پھٹک سکیں، اُن میں سے ایک ’قصیدہ‘ ہے اور دوسری ’ہجو‘۔ میں طبعًا مدح و تعریف کا آدمی بھی نہیں ہوں اور مجھے عیب چینی کا فن بھی کبھی نہیں آسکا۔تاہم، پچاس سال کی پبلک زندگی میں میں بہت سی ایسی مجالس میں شریک ہوا ہوں، جن میں لوگ اپنے رفقاکے بارے میں، اپنے اساتذہ کے بارے میں، اپنے اکابر کے بارے میں اِسی نوعیت کی گفتگوئیں کرتے ہیں، جیسی میں نے آج سنی ہیں۔ جب بھی اِس نوعیت کی کسی مجلس میں شریک ہوا توبالعموم اٹھتے ہوئے یہ خیال ہوا کہ انجمن ستایش باہمی تھی۔ لیکن آج یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جس شخصیت کے بارے میں یہاں اظہارِ خیال کیا گیاہے، اتنے کچھ اظہارِ خیال کے بعد بھی بہت کم رہا ہے۔ نظم و نثر میں جو کچھ ہمارے رفقا نے کہہ دیا ہے، اُس کو اگر آپ اِس سے دگنا تگنا بھی کر لیں تو شاید کم ہی رہے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب نے اِس فکر کی جو خدمات انجام دی ہیں، وہ بڑی غیرمعمولی ہیں۔ تمام جہتوں میں دیکھ لیجیے:تراجم کیے ہیں اور کم و بیش پچھلی ایک صدی کے پورے فکر کو انگریزی زبان میں منتقل کر کے لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ اِس نقطۂ نظر سے جو نئے حقائق سامنے آئے، اُن کی تفہیم و تبیین کی ہے ــــقلم سے بھی، زبان سے بھی ـــــ اُس پر بھی ایک نظر ڈال کے دیکھ لیجیے۔ ہمارے ادارے میں انتظامی خدمات انجام دی ہیںـــــ اور یہ خدمات بڑے نازک ادوار میں انجام دی گئی ہیں۔ــــــ اُس کی بھی ایک بڑی روشن تاریخ ہے۔ اگر صرف اُنھی دس پندرہ برسوں کی داستان سنائی جائے تو اِسی میں سویرا ہو جائے۔
اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو سیرت و کردار اُن کو عطا فرمایا، وہ بھی غیر معمولی ہے۔ پروردگار کی دعوت کے ساتھ اخلاص، اُس پروردگار سے سچا تعلق، دنیا میں آخرت کے احساس کے ساتھ جینا، یہ سب معمولی خصائص نہیں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ میں جب اپنے زندگی بھر کے اثاثے پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے خیال ہوتا ہے کہ اگر پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو وہاں کیا پیش کروں گا؟حوصلہ ہوتا ہے تو صرف اِس بات سے ہوتا ہے کہ شہزاد سلیم صاحب کو پیش کر دوں گا۔ میری اپنی بھی یہ آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جب اُن کے کام کی پذیرائی ہو تو اُس میں سے کچھ حصہ اِس عاجز کو بھی مل جائے تو ہو سکتا ہے کہ اُن کے پیچھے پیچھے مجھے بھی اُس بارگاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
میں یہ بات پوری سچائی کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں کہ اُن کی محنت، اُن کا اخلاص، اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُن کا تعلق اور اُن کی سیرت اور اُن کا کردار میرے لیے ہمیشہ قابل رشک رہے ہیں اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اُن کی رفاقت میسر رہی ہے۔
اِس وقت میں زندگی کے اُس مرحلے میں ہوں، جہاں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب اُس پروردگار کا پیغام آ جائے اور میں اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔اِن موقعوں پر ہر شخص کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ اُس نے اگر کوئی فکر پیدا کیا ہے، کوئی علمی کام کیا ہے، کوئی روایت اپنے پیچھے چھوڑی ہے تو اُس کے امین اُس کے پیچھے اُس روایت کو قائم رکھ سکیں۔ میں پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اگر کوئی گلاب کی چند پتیوں پیدا کرنے کی سعی کی ہے تو یہ میں نے اُن کے ہاتھ میں دے دی ہیں اور مجھے پورا اطمینان ہے:
کہ گل بدستِ تو از شاخ تازہ تر مانند1
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں جو پچھلے تیس پینتیس سال کی جدوجہد ہے، اُس میں ـــــ اگر تمثیل کے اسلوب میں کہا جائے تو ـــــ رزم کے مواقع بھی ہیں اور بزم کے مواقع بھی ہیں اور شہزاد سلیم صاحب کے بارے میں یہ بات خوفِ تردید کے بغیر کہی جا سکتی ہے کہ:
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
اللّٰهم أَرِنَا الحَقَّ حقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا البَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ.
خطاب: سید منظور الحسن
وفا کیش ندیم
ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
کوئی پینتیس چالیس سال پہلے استاذِ گرامی جناب جاوید احمدغامدی نے جب یہ کہا کہ ” مرے ندیم میں شہر جنوں میں تنہا ہوں“ تو کئی نوجوانوں نےاُس پر لبیک کہا۔ یہ سبھی نوجوان اخلاص و محبت اور علم و دانش کے پیکر تھے۔ برس ہا برس کی رفاقت کے بعد اِن میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی پہلو سے نمایاں ہوا۔ کوئی علم و فضل میں آگے بڑھا، کوئی عقل و دانش میں قد آور ہوا، کوئی تعلیم و تعلم میں ممتاز ہوا، کسی نے تحقیق کے میدان میں ترقی کی ، کسی نے انشا پرداز ی کا مظاہرہ کیا ، کسی نے انتظامی صلاحیتوں کا جوہر دکھایا، کوئی للہیت اور زہد تقویٰ میں نمایاں ہوا۔ اِن سب میں ایک شخص البتہ ایسا ہوا ، جو اِن تمام صفات کا بہ یک وقت حامل قرار پایا۔یہی وہ شخص ہے،جسے زمانہ ڈاکٹرشہزاد سلیم کے نام سے جانتا ہے۔معلم بھی، مصنف بھی، محقق بھی، مدبر بھی، منتظم بھی، گویا سبھی دائروں میں وہ درجۂ کمال پر فائز رہے۔امام فراہی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب لوگ اُن سے ملتے تو یہ فیصلہ نہ کر پاتے کہ اُن کا علم تقوے سے زیادہ ہے یا تقویٰ علم سے بڑھ کر ہے۔ شہزاد سلیم صاحب سے ملنے والوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔
اصل میں اداروں کی تاریخ میں دو طرح کے لوگ سامنے آتے ہیں ایک وہ جو اداروں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو خود اداروں کو جنم دیتے ہیں۔ اِن کی حیثیت اُن اداروں کے لیے بہ منزلۂ باپ ہوتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں، جو تحریکوں اور اداروں کو اپنا خون پسینہ لگا کر پالتے پوستے، اُنھیں نشو و نما دیتےاور پروان چڑھا کر اوجِ کمال تک پہنچا دیتے ہیں۔ادارۂ ’’المورد‘‘ کی تاریخ پیش نظر ہو تو برادرم شہزاد سلیم صاحب کا شمار اِنھی لوگوں میں ہوتا ہے ۔
’’غامدی سینٹر‘‘ کے لیے یہ فخر اور اعزاز کا موقع ہے کہ اُس نے ہماری تاریخ کی اِس عظیم شخصیت کی خدمت میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ’’المورد یو ایس‘‘ اور ’’غامدی سینٹر‘‘ ہماری دعوتی تاریخ میں رجحان ساز اور Trendsetter کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے ہیں اور یہ رجحان خالص دعوت و انذار اور علما کی نصرت کی ڈائریکشن (Direction) میں ہے۔ اِس پر ’’غامدی سینٹر‘‘ اور ’’المورد یو ایس‘‘ دلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اِس موقع پر میں نے سوچا کہ برادرِ مکرم کی داستانِ عزیمت کے بارے میں اپنے تاثر کو چند مصرعوں میں عرض کرنے کی کوشش کروں۔ اِس میں کچھ کامیابی تو ہوئی ، مگر جب نظم مکمل ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تاثر اُن کے فرد سے آگے بڑھ کر اُن کے رفقا کو بھی شامل ہو گیا ہے۔ یعنی صیغۂ واحد کا خیال صیغۂ جمع میں تبدیل ہو گیا۔ بہ ہر حال یہ نظم شہزاد سلیم صاحب کی نذر کرتا ہوں ۔
اِس کاعنوان ہے: ندیم۔ یہ عنوان استاذِ گرامی کی اُس نظم سے مستعار لیا ہے، جو اُنھوں نے کچھ ندیموں کی جستجو میں پینتیس چالیس سال پہلے کہی تھی۔ اُسی کا ایک شعر یہ ہے :
مرے ندیم کئی بار آخرِ شب میں
مرے چراغ کی لو میں بنی تری تصویر
ندیم
وادیِ شوق میں جب ہجر کی رت گدرائی
قافلے والوں نے سامانِ سفر باندھ لیا،
ساربانوں کے لیے بانگِ درا گونج اٹھی،
پھر حُدی خواں نے وہی درد کا نغمہ چھیڑا:
ہیں کوئی شہر میں دو ایک وفا کیش ندیم؟
عمر بھر ساتھ نبھانے کا جو اقرار کریں
بزم کو چھوڑ کے آمادۂ تنہائی ہوں
اجنبی بن کے رہِ دشت کو گلزار کریں
حالِ دل کہہ کے، جدا رہ کے، ستم سہہ سہہ کے
زندگی میری طرح اور بھی دشوار کریں
تا دم مرگ رہیں صدق و صداقت کے نقیب
حق کہیں، حق کی منادی سرِ بازار کریں
رہ نوردوں کو تعصب سے گریزاں کر کے
علم و اخلاق و محبت کا طلب گار کریں
مجھ سے برہانِ خداوند کا تیشہ لے کر
قصرِ تقلید کو بنیاد سے مسمار کریں
وارثِ وِرثۂ پیغمبرِ آخر ہو کر
ذکرِ قرآن سے اِس قوم کو انذار کریں
ہم نے اِس نادِ جگر سوز پہ لبیک کہا
ہم نے اِس نغمۂ دل گیر کو ایماں جانا
اُس زمانے میں کہ جب رخ پہ مسیں بھیگتی ہیں
رنج کو چین کہا، درد کو درماں جانا
اجنبی بن کے رہے بزم گہِ عالم میں
فقر کی راہ لی اور روح کو درویش کیا
شوق نے جب بھی محبت کی گواہی مانگی
نقدِ دل نذر کیا ، ہدیۂ جاں پیش کیا
پھر زمانے کی روایات بدلنے کے لیے2
ہم اٹھے ولولۂ علم و ہنر تازہ کیا
علم و اخلاق کے خرمن سے اٹھا کر موتی
رہ نوردوں کے لیے رخت ِ سفر تازہ کیا
حرف و آہنگ کیے سوزِ دروں سے لبریز
ہر رگِ ساز میں پھر خونِ جگر تازہ کیا
کوہِ فارانِ ضیا پاش کی ضو پاشی سے
خفتہ خاکسترِ مسلم میں شرر تازہ کیا
سال ہا سال اِسی جہدِ مسلسل میں کٹے
اب ذرا ضعف کے آثار نظر آتے ہیں
قافلے والوں کا تاحال سفر جاری ہے
ہم مگر نقش بہ دیوار نظر آتے ہیں
للہ الحمد، پڑاؤ کا مقام آپہنچا
ہم سبھی خاک مقیموں کا خدا حافظ ہو
اور جو راہِ محبت میں ابھی نکلے ہیں
اُن وفا کیش ندیموں کا خدا حافظ ہو
- ۔ کہ پھول تمھارے ہاتھ میں آ کر شاخ سے بھی زیادہ ترو تازہ ہو جاتا ہے۔
- ۔اِن چار شعروں میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی ولولہ انگیز غزل ’’اٹھ کہ یہ سلسلۂ شام و سحر تازہ کریں‘‘ کے اشعار سے لفظی اور معنوی مناسبت اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔