مواد پر جائیں

رفیدہ الاسلمیہؓ: دورِ نبوی کی پہلی معالج

وجیہہ حسان واحدی اردو

ایک ایسی خاتون کا ذکر، جنھوں نے مدینہ کی نوزائیدہ ریاست میں خدمت اور مہارت کی وہ داستان رقم کی جس نے انھیں دوسری سیکڑوں صحابیات سے ممتاز کر دیا۔ انھیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ان کا شمار اسلامی معاشرے کی پہلی نرس اور معالج کے طور پر کیا جائے۔

یہ مدینہ کی ایک پریشان دوپہر تھی۔ ہوا میں کھجور کے درختوں کی ہلکی سی سرسراہٹ گھلی ہوئی تھی، فضا ایک عجیب سی بے چینی سے بھرپور۔ اچانک خبر پھیلی کہ میدانِ جنگ سے زخمی مجاہدین واپس لائے جا رہے ہیں۔ لوگ گھبراہٹ میں ادھر اُدھر دوڑنے لگے، مگر ایک خاتون تھیں جو اس ہنگامے میں بھی غیر معمولی سکون کے ساتھ اپنے خیمے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ ان کے ہاتھ تیزی سے پٹیاں باندھ رہے تھے، آنکھوں میں عزم کی چمک تھی، اور دل میں صرف ایک ہی جذبہ تھا: خدمتِ انسانیت۔

یہ تھیں رفیدہ الاسلمیہؓ، وہ نام جو تاریخ کے اوراق میں ہمدردی، ہمت اور قیادت کی روشن مثال بن کر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔

کہاں ہم پندرہ سو برس پہلے کے زمانے کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ اس وقت خواتین، سوائے مرد کے حکم پر چلنے کے، اور کیا کرتی ہوں گی؟ اور کہاں ہم رفیدہ جیسی شخصیت کے بارے میں یہ جان رہے ہیں!

جب یہ دل دہلا دینے والی خبر پہنچی کہ اُحد کے میدان میں مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہے۔

رفیدہ بطورِ معالجہ، زخمیوں اور بیماروں کی تیمارداری سے بڑھ کر ان کی خدمت کرنے کے لیے وہاں موجود تھیں۔

ابتدائی زندگی اور تعارف

رفیدہ کا تعلق مدینہ کے قبیلہ بنو اسلم سے تھا۔ ان کے والد سعد الاسلمی ایک ماہر طبیب تھے۔ وہ ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو حضور ﷺ کی آمد پر یا اس سے پہلے ہی ایمان لا چکے تھے۔ انہی سے رفیدہ نے طب کے بنیادی اصول سیکھے۔ مگر یہ صرف علم نہیں تھا جو انھیں منفرد بناتا تھا، بلکہ انسانوں کے درد کو محسوس کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔

وہ صرف ایک طبیبہ نہیں تھیں، بلکہ ایک ایسی ہمدرد شخصیت تھیں جو بیماروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے زخم ہی نہیں، ان کے دل بھی سنبھالتی تھیں۔

بی بی سی کے مقالہ نگار وقار مصطفیٰ کی مستند تاریخی رپورٹ سے اخذ ہے کہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنی اسلم سے تعلق رکھنے والی رفیدہ کی پیدائش تقریباً 597 عیسوی میں یثرب کے شہر میں ہوئی۔ بعد میں یثرب ہی مدینہ النبی یا مدینہ کے نام سے معروف ہوا، جب پیغمبر اسلام ﷺ نے وہاں مکہ سے ہجرت کی۔ وقار مزید لکھتے ہیں:

“آپریزنگ رفیدہ الاسلمیہ، فرسٹ مسلم نرس اینڈ پائنیر آف اسلامک لرننگ” کے عنوان تلے کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایک طبیب اور جراح، سعد الاسلمی کی بیٹی رفیدہ نے اپنے والد کی معاون کے طور پر طب، یعنی میڈیسن، اور جراحی، یعنی سرجری، میں عملی مہارتیں حاصل کی تھیں۔ ان کی نرسنگ کی خدمات کا آغاز عہد نبوی میں تقریباً 620 عیسوی میں اس وقت ہوا، جب ان کی عمر تقریباً 23 سے 25 سال کے درمیان تھی۔

پہلا ’’فیلڈ ہسپتال‘‘: ایک انقلابی قدم

مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب رفیدہ نے ایک خیمہ قائم کیا، جو دراصل اسلامی تاریخ کا پہلا باقاعدہ ’’فیلڈ ہسپتال‘‘ تھا۔ یہاں زخمیوں کا علاج کیا جاتا، ان کی دیکھ بھال ہوتی، اور انھیں آرام فراہم کیا جاتا۔ یہ خیمہ صرف ایک علاج گاہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں امید زندہ رہتی تھی۔

یہ خیمہ اصل میں مہاجرین کی مدد کے لیے لگایا گیا تھا۔ اسے صفہ، یعنی چبوترہ، بھی کہتے ہیں۔ کئی جگہ اسے خیمۂ رفیدہ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ ہسپتال مدینہ میں اس مقام کے قریب قائم کیا گیا تھا، جہاں آج صحابی سلمان فارسیؓ کے نام سے منسوب مسجد واقع ہے۔

مکہ کے کفار سے جان اور ایمان بچا کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کو اللہ کے رسول نے مواخات کے رشتے میں باندھ دیا تھا۔ مختلف روایات میں ان کی تعداد 45 بیان کی جاتی ہے۔ اس میں وقت کے لحاظ سے اضافہ اور کمی بھی ہوتی رہتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود جو مہاجر بچ گئے، ان کی تعداد مختلف اوقات میں مختلف رہی۔ یہ چالیس سے تین سو افراد تک بھی بیان کی جاتی ہے۔ جب اتنے لوگ اس طرح کے کیمپ میں رہنے لگیں اور ان میں عورتیں، بچے اور بیمار بھی ہوں تو ظاہر ہے، ان کی نگہداشت کی سخت ضرورت تھی۔ سیدہ رفیدہ نے اس کیمپ میں قیام پذیر لوگوں کے لیے یہ خدمت سرانجام دی۔

رفیدہ الاسلمیہ کے اس خیمے کا ذکر ابن عبد البر نے الاستیعاب میں، ابن الاثیر نے اسد الغابہ میں اور ابن حجر نے الاصابہ میں کیا ہے۔ ابن سعد نے الطبقات میں ایک ملتے جلتے نام سے ایک خیمے کا ذکر کیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد رفیدہ ہی کا خیمہ ہے۔

یہ سب اس روایتی تصور سے بالکل برعکس تصویر پیش کرتا ہے جو عام طور پر خواتین کے حوالے سے اسلام کے نام پر پیش کی جاتی ہے کہ اس وقت خواتین بس معاشرے پر ایک بوجھ تھیں اور وہ صرف اور صرف گھروں تک ہی محدود تھیں۔

’’تاریخ البیمارستانات فی الإسلام‘‘ کے مصنف احمد عیسیٰ کے مطابق رفیدہ کا یہ طبی خیمہ اسلام کا پہلا بیمارستان یا ایسا موبائل کیئر یونٹ تھا، جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ وقتِ ضرورت منتقل کیا جا سکتا تھا۔

احمد سعید کے مطابق خیمے میں پٹیاں، دوائیں، جڑی بوٹیاں اور روئی موجود ہوتی تھی تاکہ بیماروں اور زخمیوں کا علاج کیا جا سکے۔ رفیدہ خود ان مریضوں کی خدمت کی ذمہ داری اٹھاتیں جو محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے۔

رفیدہ کی طبی خدمات میں ابتدائی طبی امداد، ہنگامی علاج، شدید زخمیوں کی دیکھ بھال، میدانِ جنگ میں زخمیوں کو الگ خیموں میں قرنطینہ کرنا، بحالی اور طویل مدتی نگہداشت شامل تھی۔ صفائی اور حفظانِ صحت کا خیال رکھتے ہوئے مریضوں کے لیے مزید ایسے ہوادار خیمے قائم کیے جاتے تھے جہاں انھیں سخت صحرائی موسم سے سایہ میسر آتا تھا اور صاف پینے کا پانی ملتا تھا۔

پہلا نرسنگ اسکول

اپنی اس مہارت سے رفیدہ الاسلمیہ ایک بااختیار اور دوراندیش خاتون کے طور پر ممتاز ہوئیں۔ انھوں نے دیگر خواتین کو بھی بااختیار بنایا اور انھیں رضاکار نرسوں کے طور پر تربیت دی۔

’’آپریزنگ رفیدہ الاسلمیہ‘‘ کے عنوان سے کی گئی تحقیق کے مطابق رفیدہ الاسلمیہ نے اپنے والد کے ساتھ کام کرتے ہوئے جو تجربہ حاصل کیا، اس کی بنیاد پر انھوں نے رضاکار خواتین کے لیے ایک عملی طبی تربیتی پروگرام شروع کیا، جس میں مریضوں کی دیکھ بھال کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ وہ دوسری صحابیات میں بھی اعتماد پیدا کرتیں اور انھیں نرسنگ کی ضروری مہارتیں سکھاتیں۔ انھوں نے اپنی ساتھی خواتین کے لیے درکار مادی وسائل منظم طریقے سے مہیا کیے تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ تحقیق کے مطابق یہی تربیتی عمل بعد میں ارتقا پاتے ہوئے پہلے باقاعدہ نرسنگ مدرسے کی صورت اختیار کر گیا۔

رفیدہ الاسلمیہ نے 622 عیسوی میں پہلا باقاعدہ نرسنگ مدرسہ قائم کیا۔ اس ادارے میں پیغمبر اسلام کی بعض ازواج اور آپ کی صحابیات کو نرسنگ کی تربیت دی جاتی تھی تاکہ اسلامی جنگوں (623–630 عیسوی) کے دوران وہ آپ اور مسلم فوج کی مدد کر سکیں۔

رفیدہ الاسلمیہ اپنی مؤثر گفتگو اور ابلاغ کی صلاحیت کے لیے بھی مشہور تھیں۔ یہ مہارت انھوں نے اس وقت حاصل کی جب وہ اپنے والد کے ساتھ بطور طبی معاون مریضوں کے علاج میں شریک ہوتی تھیں۔ اس تجربے نے انھیں مریض اور نظام، دونوں پر مرکوز ایک متوازن اندازِ عمل اختیار کرنے میں مدد دی۔

تحقیق بتاتی ہے کہ وہ علاج کے بعد مریضوں کی حالت کے جائزے اور مسلسل نگرانی پر بھی زور دیتی تھیں تاکہ علاج درست طریقے سے جاری رہے اور مریض جلد صحت یاب ہو سکیں۔

ان کی مؤثر ابلاغی صلاحیت احترام، دیانت، سچائی اور خلوص جیسے اوصاف سے نمایاں تھی۔ اسی بنیاد پر رفیدہ الاسلمیہ نے نرسنگ اخلاقیات کا ابتدائی ضابطہ بھی وضع کیا، جس کے ذریعے انھوں نے رضاکار نرسوں کے لیے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اصول متعین کیے۔

پیغمبر اسلام کی اجازت سے یہ خواتین جنگوں میں لشکر کے پچھلے حصے میں زخمی سپاہیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ روایات کے مطابق پیغمبر اسلام رفیدہ کی مؤثر طبی خدمات سے اتنے متاثر ہوئے کہ بعض زخمی صحابہ کو براہِ راست ان کے پاس بھیجنے کی ہدایت کرتے تھے، خصوصاً بدر، اُحد، خندق اور خیبر کی جنگوں کے مواقع پر۔

میدانِ جنگ میں ایک بہادر خاتون

غزوۂ خندق جیسے اہم معرکے پیش آئے تو رفیدہ نے صرف پیچھے رہ کر خدمت نہیں کی، بلکہ وہ خود میدانِ جنگ میں پہنچیں۔ انھوں نے خواتین کی ایک ٹیم تیار کی جو زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی، پانی فراہم کرتی اور شدید زخمیوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرتی۔ ان کی قیادت میں یہ ٹیم نہ صرف طبی امداد فراہم کرتی بلکہ نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی بھی مثال قائم کرتی۔

صحیح بخاری کی کتاب الادب المفرد میں اور ابن سعد نے الطبقات میں محمود بن لبید کی روایت نقل کی ہے کہ جب سعد بن معاذ کی بازو کی رگ غزوۂ خندق کے دن زخمی ہوئی اور زخم شدید ہو گیا تو انھیں ایک خاتون کے پاس منتقل کیا گیا جنھیں رفیدہ کہا جاتا تھا اور وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔

رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لاتے، ان کا حال پوچھتے اور سعدؓ انھیں اپنی حالت بتاتے تھے۔ روایت ہے کہ پیغمبر اسلام رفیدہ اور انصار کی نرسوں کی فراہم کردہ طبی خدمات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے انھیں مالِ غنیمت میں وہی حصہ عطا کیا جو اگلی صفوں میں لڑنے والے سپاہیوں کو دیا جاتا تھا۔ اس کا ذکر مشہور مؤرخین نے بھی کیا ہے۔

واقدی اور ابن عبد البر نے کیا ہے۔

زمانۂ امن میں خدمات

تحقیق سے علم ہوتا ہے کہ اسی طرح امن کے زمانے میں رفیدہ الاسلمیہ نے کم عمر لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی اور بیماریوں سے متعلق سماجی مسائل کے حل میں بھی نہایت مفید ثابت ہوئیں۔

وہ خاص طور پر ضرورت مند بچوں، یتیموں، معذور افراد اور غریب لوگوں کی کمیونٹی سطح پر دیکھ بھال کرتی تھیں۔ یہ عمل نبی کی اس ہدایت کے مطابق تھا، جس میں خواتین کی مسلسل تعلیم کو فروغ دینے کی تاکید کی گئی تھی۔ بعد ازاں وہ انھی تربیت یافتہ خواتین کو نرسوں کے طور پر شامل کرتی تھیں۔

محقق وقار مصطفیٰ بیان کرتے ہیں کہ محمد نہال کی تحقیق ہے کہ رفیدہ الاسلمیہ نے دنیا کے پہلے پالی ایٹو کیئر نظام کو بھی منظم کیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پالی ایٹو کیئر سے مراد ایسا طریقہ ہے جو جان لیوا بیماریوں سے متاثر مریضوں اور ان کے خاندانوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔ غوث سیوانی نے لکھا ہے کہ رفیدہ الاسلمیہ تاریخِ اسلام میں پہلی خاتون ڈاکٹر، نرس اور سرجن کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے اپنی جائیداد کو طبی فلاح کے لیے استعمال کرتے ہوئے تاریخ میں پہلا چیریٹی ہسپتال قائم کیا۔ غزوۂ بدر کے بعد بہت سے لوگ، جن کے پاس نہ گھر تھا اور نہ پیسہ، اور وہ زخمی تھے، انھوں نے مسجد نبوی کے ایک کونے میں نصب رفیدہ کے خیمے میں اپنا مفت علاج کرایا اور صحت حاصل کی۔

نرسنگ کی بنیاد رکھنے والی خاتون

فلورنس نائٹنگیل سے صدیوں پہلے رفیدہ کو بجا طور پر اسلامی دنیا کی پہلی نرس کہا جاتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف خود خدمت انجام دی بلکہ دیگر خواتین کو بھی تربیت دی۔ ان کے قائم کردہ اصول، جیسے مریض کی عزت، رازداری اور ہمدردی، آج بھی جدید نرسنگ کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔

ایک لازوال وراثت

بی بی سی اردو کے محقق اور مقالہ نگار وقار مصطفیٰ لکھتے ہیں:

> “سنہ 1981 میں پہلی عرب پی ایچ ڈی نرس ڈاکٹر سعاد حسین نے رفیدہ الاسلمیہ پر اپنی علمی تحقیق شائع کی، جسے جدید دور میں رفیدہ الاسلمیہ کی خدمات کے دوبارہ تعارف اور قدرشناسی کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ سعاد حسین نے لکھا ہے کہ رفیدہ نے اپنی زندگی نرسنگ کی ترقی اور بہتری کے لیے وقف کر دی۔ وہ بہتر نرسنگ کی بنیاد کے طور پر نئے اصول…”

اور روایات قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نرسنگ اور عمومی تعلیم کے کئی ادارے رفیدہ الاسلمیہ کے نام پر ہیں۔

اسی طرح یونیورسٹی آف بحرین میں رائل کالج آف سرجنز اِن آئرلینڈ کی جانب سے ہر سال رفیدہ الاسلمیہ انعام ایسے طلبہ کو دیا جاتا ہے جو مریضوں کی دیکھ بھال میں مسلسل اعلیٰ معیار کی نرسنگ خدمات فراہم کرنے میں نمایاں کارکردگی دکھائیں۔”

رفیدہ الاسلمیہ کی کہانی صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ہر اُس عورت کے لیے ایک پیغام ہے جو اپنے اندر کچھ کرنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ وہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمت، علم اور خدمت کا امتزاج انسان کو نہ صرف کامیاب بلکہ لازوال بنا دیتا ہے۔