مواد پر جائیں

رمضان کی راتوں میں حرمتِ اکل و مباشرت سورۂ بقرہ کی آیت 187 کے تناظر میں

ڈاکٹر عرفان شہزاد اردو

سورۂ بقرہ (2) کی آیت 187 کی رو سے یہ سمجھا گیا ہے کہ شریعت میں پہلے یہ حکم تھا کہ رمضان میں افطار کے بعد یا سونے یا عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد کھانا، پینا اور بیویوں سے مقاربت ممنوع ہے۔ جب کچھ صحابہ سے رات میں مقاربت کی پابندی نہ ہو سکی تو سورۂ بقرہ (2) کی آیت 187 سے اِس پابندی کو منسوخ کر دیا گیا۔

آیت یہ ہے:

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ.

’’(تم پوچھنا چاہتے ہو تو لو ہم بتائے دیتے ہیں کہ) روزوں کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمھارے لیے جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اُس نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے درگذر کیا۔چنانچہ اب (بغیر کسی تردد کے) اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور (اِس کا) جو (نتیجہ) اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اُسے چاہو۔‘‘

آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ رمضان کی راتوں میں مذکورہ مسئلہ اجتماعی سطح پر درپیش تھا۔ روایات سے بھی اِس کی تائید ہوتی ہے۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

لَمَّا نزل صومُ رمضان كانوا لاَ يقرَبُون النِّسَاءَ، رَمَضَان كُلّه، وَكَانَ رجَال يَخُونُونَ أَنْفُسَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: ’’عَلِمَ اللّٰهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ‘‘.

(بخاری، رقم 4508)

’’جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو مسلمان پورا رمضان اپنی بیویوں کےپاس نہ جاتے۔ مرد حضرات اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہونے لگے۔ اِس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ’’اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اُس نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے درگذر کیا۔‘‘‘‘

ابن کثیر لکھتے ہیں:

هَذِهِ رُخْصة مِنَ اللّٰهِ تَعَالَى لِلْمُسْلِمِينَ، ورَفْع لِمَا كَانَ عَلَيْهِ الْأَمْرُ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ، فَإِنَّهُ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُهُمْ إِنَّمَا يَحِلُّ لَهُ الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ وَالْجِمَاعُ إِلَى صَلَاةِ الْعِشَاءِ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَمَتَى نَامَ أَوْ صَلَّى الْعِشَاءَ حَرُمَ عَلَيْهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالْجِمَاعُ إِلَى اللَّيْلَةِ الْقَابِلَةِ. فَوَجَدُوا مِنْ ذَلِكَ مَشَقة كَبِيرَةً. ( تفسیر ابن کثیر 1/ 510)

’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے رخصت عنایت کی گئی۔ ابتداے اسلام میں اُن پر جو پابندی تھی، وہ اٹھا لی گئی۔ یہ یوں تھا کہ اُن میں جب کوئی افطار کرتا تو اُس کے لیے کھانا، پینا اور جماع کرنا عشا تک یا سونے سے پہلے تک کے لیے حلال ہو جاتا۔ پھر جب وہ سو جاتا یا نماز عشا ادا کر لیتا تو اُس پر کھانا، پینا اور جماع کرنا اگلی رات تک کے لیے حرام ہو جاتا۔ اِس میں اُنھیں بڑی مشقت پیش آ رہی تھی۔‘‘

اِس کے برعکس، امام رازی ابو مسلم اصفہانی کی راے نقل کرتے ہیں کہ شریعتِ محمدی میں یہ حرمتیں ثابت نہیں۔ یہ نصاریٰ میں رائج تھیں اور مسلمانوں کو قرآن کے اِس بیان سے وہم ہوا تھا کہ روزے اُسی طرح فرض ہیں جس طرح گذشتہ اقوام پر فرض تھے تو وہ اپنے تمام لوازم اور پہلوؤں کے ساتھ فرض ہوئے ہوں گے۔ چنانچہ اُنھوں نے بھی رات کے لیے وہ حرمتیں اختیار کر لیں جو نصاریٰ میں رائج تھیں۔

وہ لکھتے ہیں:

وَقَالَ أَبُو مُسْلِمٍ الْأَصْفَهَانِيُّ هَذِهِ الْحُرْمَةُ مَا كَانَتْ ثَابِتَةً فِي شَرْعِنَا الْبَتَّةَ، بَلْ كَانَتْ ثَابِتَةً فِي شَرْعِ النَّصَارَى، وَاللّٰهُ تَعَالَى نَسَخَ بِهَذِهِ الْآيَةِ مَا كَانَ ثَابِتًا فِي شَرْعِهِمْ.

(التفسیر الکبیر 5/ 267)

’’ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ یہ حرمتیں ہماری شریعت میں ثابت نہیں تھیں، بلکہ نصاریٰ کی شریعت میں موجود تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی شریعت میں ثابت شدہ اُن احکام کو اِس آیت سے منسوخ کیا ہے۔‘‘

علامہ رشید رضا اپنی ’’تفسیر المنار‘‘ میں مذکورہ بالا روایات پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فَأَنْتَ تَرَى فِي هَذِهِ الرِّوَايَاتِ اضْطِرَابًا، فَفِي بَعْضِهَا أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَ مُقَارَبَةَ النِّسَاءِ مُحَرَّمَةً فِي لَيَالِي رَمَضَانَ كَأَنْهُرِهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَفِي الْأُخْرَى أَنَّهُمْ كَانُوا يَعُدُّونَهَا كَالْأَكْلِ وَالشُّرْبِ لَا تَحْرُمُ إِلَّا بَعْدَ النَّوْمِ فِي اللَّيْلِ، وَأَقْرَبُ مَا يُمْكِنُ أَنْ يَخْرُجَ عَلَيْهِ الْجَمْعُ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ اخْتِلَافُ اجْتِهَادِ الصَّحَابَةِ فِي ذَلِكَ بِحَمْلِ كُلِّ رِوَايَةٍ عَلَى طَائِفَةٍ، وَإِلَّا تَعَارَضَتَا وَسَقَطَ الِاحْتِجَاجُ بِهِمَا. وَهَذَا الْجَمْعُ يُوَافِقُ مَا قَالَهُ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ، فَتَعَيَّنَ أَنَّ اجْتِهَادَهُمْ لَمْ يَكُنْ حُكْمًا قُرْآنِيًّا فَيُقَالُ إِنَّهُ نُسِخَ بِالْآيَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ اجْتِهَادٌ أَوْقَعَهُمْ فِيهِ الْإِجْمَالُ فَجَاءَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِالْبَيَانِ (قَالَ): وَقَوْلُهُ: (أُحِلَّ لَكُمْ) لَا يَقْتَضِي أَنَّهُ كَانَ مُحَرَّمًا، بَلْ يَكْفِي فِيهِ أَنْ يُتَوَهَّمَ أَنَّ مِنْ كَمَالِ الصِّيَامِ أَوْ مِنْ شُرُوطِهِ عَدَمُ الْأَكْلِ بَعْدَ النَّوْمِ وَعَدَمُ مُقَارَبَةِ النِّسَاءِ بَعْدَهُ أَوْ مُطْلَقًا. وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: (أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ) (5: 96) وَلَمْ يَكُنْ قَدْ سَبَقَ نَصٌّ فِي تَحْرِيمِهِ.

(2 / 141)

’’آپ کو اِن روایات میں اضطراب نظر آئے گا۔ کچھ میں تو یہ ہے کہ صحابہ رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے مقاربت کو مطلقًا اُسی طرح حرام سمجھتے تھے، جیسا کہ دن میں، جب کہ دوسری روایات میں ہے کہ رات سونے کے بعد وہ اُسے کھانے پینے کی طرح ہی حرام تصور کرتے تھے۔ اِن دونوں روایتوں کو جمع کرنا اِسی طرح ممکن ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ہر روایت صحابہ کے مختلف گروہوں کے اختلافِ اجتہاد کا نتیجہ تھی۔ اگر ایسا نہیں تو یہ باہم متعارض ہو جاتی ہیں اور اِن سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ روایات کواِس طرح جمع کرنا استاذ امام مفتی عبدہ کے قول کے مطابق ہے۔ اُنھوں نے یہ طے کیا کہ صحابہ کا اجتہاد قرآنی حکم نہیں تھا کہ یہ کہا جائے کہ یہ اِس آیت سے منسوخ ہو گیا۔ یہ صرف اُن کا اجتہاد تھا، جو آیت کے اجمال کی وجہ سے پیش آیا، جسے اِس آیت (البقرہ 2: 187) سے واضح کر دیا گیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ارشادِ باری: ’أُحِلَّ لَكُمْ ‘، یعنی تمھارے لیے حلال کر دیا گیا، سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ پہلے حرام تھا۔ بلکہ اتنی بات کافی ہے کہ صحابہ کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ رمضان کی راتوں میں سوجانے کے بعد یا مطلقاً، کھانا اور بیویوں سے مقاربت روزے کے کمال کے منافی یا اُس کے شرائط میں شامل ہے۔ اور حلال کرنے کا یہ حکم ایسا ہی ہے جیسا کہ آیت ہے کہ ’’تمھارے لیے سمندر کا شکار حلال کیا گیا‘‘، حالاں کہ اُس کی حرمت کا حکم پیشتر موجود نہیں ہے۔‘‘

مولانا مودودی اِس مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس بارے میں بھی لوگ ابتداءً غلط فہمی میں تھے۔ کسی کا خیال تھا کہ عشا کی نماز پڑھنے کے بعد سے کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اور کوئی سمجھتا تھا کہ رات جب تک آدمی جاگ رہا ہو، کھا پی سکتا ہے۔ جہاں سو گیا، پھر دوبارہ اٹھ کر وہ کچھ نہیں کھا سکتا۔ یہ احکام لوگوں نے خود اپنے ذہن میں سمجھ رکھے تھے۔ ‘‘(تفہیم القرآن1/145)

مولانا امین احسن اصلاحی بھی اِسی راے کا اظہار کرتے ہیں:

’’بہت سے مسلمانوں نے بہ نظر احتیاط وتقویٰ یہ سمجھا کہ جس طرح روزے کی حالت میں، دن میں زن وشو کے تعلقات کی اجازت نہیں ہے،اِسی طرح شب میں بھی اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت پہنچی ہو گی کہ یہود کے ہاں روزہ افطار کے معًا بعد پھر شروع ہو جاتا ہے جس کے سبب سے انھیں شب میں بھی وہ پابندیاں نباہنی پڑتی ہیں جو دن میں تھیں۔ چونکہ مسلمانوں کے سامنے عملی مثال کی حیثیت سے اہل کتاب ہی کا روزہ تھا اور قرآن میں اس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا، اس وجہ سے انھوں نے از خود اپنے اوپر یہ پابندی عائد کر لی کہ دن کی طرح شب میں بھی ازدواجی تعلقات سے احتراز کرتے تھے۔ ‘‘(تدبر قرآن 1/456)

اگر یہ صریح پابندی ہوتی تو صحابہ کے ہاں اجتماعی سطح پر اِس کی خلاف ورزی کے مسلسل واقعات پیش نہ آتے۔ یہ ایک غیر یقینی یا مشتبہ پابندی تھی اور اِسی وجہ سے صحابہ اِس کی پابندی اختیار کرنے میں زیادہ حساس واقع نہ ہو رہے تھے۔

تاہم، اِس راے پر یہ اشکالات پیدا ہوتے ہیں کہ ’اُحِلَّ لَكُمْ ‘ کے الفاظ سے متبادر ہوتا ہے کہ کسی حرمت کو حلت میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ’فَالۡـٰٔنَ‘ سے بھی اِس کی تائید ہوتی ہے کہ پہلے جو حرام تھا، وہ اب حلال ہو گیا۔ ’تَخۡتَانُوۡنَ ‘ سے مزید تائید ہوتی ہے کہ مسلمان جو کر رہے تھے، وہ غلط تھا۔

اِس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں’اُحِلَّ‘ محض کسی حرمت کو حلت میں تبدیل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ کسی حلت کے بارے میں حرمت کی غلط فہمی دور کرنے کے سلسلے میں بھی آیا ہے۔ مثلاً:

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمۡ ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ.( المائدہ5 : 4)

’’وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا چیز حلال ٹھیرائی گئی ہے؟ کہہ دو: تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہیں۔‘‘

طیبات ہمیشہ سے حلال ہی تھیں، لیکن جب کھانے پینے کی چیزو ں کی حرمت کے احکام کا نزول شروع ہوا تو بعض ایسی چیزیں بھی حرام ٹھہرائی گئیں، جن کے بارے میں حلال ہونے کا گمان ہو سکتا تھا۔ اِس پر لوگوں نے پوچھا کہ اُن کے لیے کیا حلال کیا ہے تو فرمایا گیا کہ طیبات اُن کے لیے حلال ہیں۔

دوسری آیت یہ ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَکَ اَزۡوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ وَ مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ.( الاحزاب 33 : 50)

’’اے نبی، ہم نے تمھاری اِن بیویوں کو تمھارے لیے جائز کیا جن کے مہر تم دے چکے ہو اور تمھاری اِن مملوکات کو بھی تمھارے لیے حلال کیا جو اللہ نے تم کو بہ طور غنیمت عطا فرمائیں۔‘‘

ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی لونڈیاں اِس آیت سے قبل بھی آپ کے نکاح میں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھیں۔ اِس حلت کے اعادہ کی ضرورت منافقین کے پراپیگنڈے کی وجہ سے پیش آئی تھی۔ وہ لوگ آپ کے عام شرعی قاعدہ سے زائد نکاحوں پر معترض ہو رہے تھے۔

سورۂ بقرہ کی زیرِ بحث آیت میں ’اُحِلَّ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ رمضان کی راتوں میں بیویوں سے مقاربت کے حرام ہونے کی جو غلط فہمی مسلمانوں کو لاحق ہوئی ہے، اُس کی وضاحت کر دی گئی کہ یہ حرام نہیں ہے۔ ’فَالۡـٰٔنَ ‘ کا مطلب ہے کہ جب بات واضح ہوگئی ’’تو اب‘‘ تم لوگ اپنی بیویوں کے پاس بغیر کسی احساسِ جرم کے جا سکتے ہو۔

احساسِ جرم کا مسئلہ یہ تھا کہ صحابہ اپنے اس گمان کے باوجود کہ رمضان کی راتوں میں بھی مباشرت جائز نہیں، اِس کے مرتکب ہو رہے تھے، اِس لیے اپنے گمان کے مطابق خیانت کے مرتکب ہو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دیانت داری اہم ہے۔ فرد پر لازم ہے کہ اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرے، خواہ اجتہاد خطا ہو۔ اِس پر اُنھیں ملامت کی گئی۔

مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

’’اس معاملہ میں چونکہ اب تک کوئی واضح ہدایت نہیں تھی اس وجہ سے اس کی نوعیت ایک مشتبہ معاملہ کی تھی۔ اس اشتباہ کے سبب سے بعض لوگ نفس کی اکساہٹ کے باعث کبھی کبھی اس چیز کے مرتکب بھی ہو جاتے تھے جو خود ان کے ضمیر کے نزدیک مشتبہ ہوتی۔ مشتبہ معاملات میں شریعت کی ہدایت، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، یہ ہے کہ ’دع ما یریبک الٰی مَا لَا یریبک‘ مشتبہ کو چھوڑ کر آدمی اس پہلو کو اختیار کرے جو غیر مشتبہ ہو۔ اگر اس کے برعکس آدمی مشتبہ پہلو کو اختیار کرے تو یہ خود اپنے نفس کے ساتھ ایک قسم کی خیانت ہوتی ہے، اس وجہ سے قرآن نے اس کو اپنے نفس کے ساتھ خیانت سے تعبیر فرمایا ہے لیکن چونکہ یہ احتیاط شریعت کے منشا کے خلاف تھی۔ محتاط مسلمانوں نے ازخود اپنے اوپر عائد کر لی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس خیانت سے درگذر فرمایا اورواضح الفاظ میں شب میں بیویوں سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دے دی۔‘‘( تدبر قرآن1/ 456)

خلاصہ

عہدِ رسالت میں صحابہ کے ہاں رمضان کی راتوں میں بعد از افطار بھی روزے کی پابندیاں برقرار رکھنے کا عمل پایا جاتا تھا، لیکن اِس کی بنیاد کوئی منصوص حکم نہیں تھا، جیسا کہ تفسیری روایات سے متبادر ہوتا ہے، بلکہ یہ رواج غالباً نصاریٰ سے در آیا تھا کیونکہ روزے رکھنے کے حکم میں گذشتہ اقوام میں اُن کا حوالہ دیاگیا تھا۔ رات میں جب بیویوں سے مقاربت کی اِس مشتبہ خود ساختہ پابندی نہ ہو سکی تو مسلم کمیونٹی میں سوال پیدا ہونے شروع ہوئے، جس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ (2) کی آیت 187 میں وضاحت کر دی کہ اُن پر یہ پابندی عائد نہیں ہے۔