یّٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ. اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ، فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ،وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ، وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ، اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ. شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ، ھُدًی لِّلنَّاسِ، وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ، فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ، وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ. یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ، وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ، وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ، وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ.
(البقرہ 2: 183-185)
’’ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم اللہ سے ڈرنے والے بن جاؤ۔ یہ گنتی کے چند دن ہیں۔اِس پر بھی جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کر لے۔ اور جو اِس کی طاقت رکھتے ہوں (کہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں) تو اُن پر ہر روزے کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ پھر جو شوق سے کوئی نیکی کرے تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے، اور روزہ رکھ لو تو یہ تمھارے لیے اور بھی اچھا ہے، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ رمضان کا مہینا ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، لوگوں کے لیے سراسر ہدایت بنا کر اور نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں جو (اپنی نوعیت کے لحاظ سے) رہنمائی بھی ہیں اور حق و باطل کا فیصلہ بھی۔ سو تم میں سے جو شخص اِس مہینے میں موجود ہو، اُسے چاہیے کہ اِس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کر لے۔ (یہ رخصت اِس لیے دی گئی ہے کہ) اللہ تمھاے لیے آسانی چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ تمھارے ساتھ سختی کرے۔ اور (فدیے کی اجازت) اِس لیے (ختم کر دی گئی ہے) کہ تم روزوں کی تعداد پوری کرو، (اور جو خیرو برکت اُس میں چھپی ہوئی ہے، اُس سے محروم نہ رہو)۔ اور (اِس مقصدکے لیے رمضان کا مہینا) اِس لیے (خاص کیا گیا ہے) کہ (قرآن کی صورت میں) اللہ نے جو ہدایت تمھیں بخشی ہے، اُس پر اُس کی بڑائی کرو اور اِس لیے کہ تم اُس کے شکر گزار بنو۔ ‘‘
نماز اور زکوٰۃ کے بعد تیسری اہم عبادت روزہ ہے۔عربی زبان میں اِس کے لیے ’صوم‘ کا لفظ آتا ہے، جس کے معنی کسی چیز سے رک جانے اور اُس کو ترک کردینے کے ہیں۔ گھوڑوں کو تربیت دینے کے لیے جب بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تھا تواہل عرب اِسے اُن کے صوم سے تعبیر کرتے تھے۔ شریعت کی اصطلاح میں یہ لفظ خاص حدود وقیود کے ساتھ کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رک جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو زبان میں اِسی کو روزہ کہتے ہیں۔ انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے، اِس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اُس کا جذبۂ عبادت جب اُس کے اِس عملی وجود سے متعلق ہوتا ہے تو پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہوجاتا ہے۔ روزہ اِسی اطاعت کا علامتی اظہارہے۔ اِس میں بندہ اپنے پروردگار کے حکم پراور اُس کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں بعض مباحات کو اپنے لیے حرام قرار دے کر مجسم اطاعت بن جاتا او راِس طرح گویا زبان حال سے اِس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے حکم سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔وہ اگر قانون فطرت کی رو سے جائز کسی شے کو بھی اُس کے لیے ممنوع ٹھیرا دیتا ہے تو بندے کی حیثیت سے زیبا یہی ہے کہ وہ بے چون وچرا اِس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔
اللہ کی عظمت و جلالت اور اُس کی بزرگی و کبریائی کے احساس واعتراف کی یہ حالت، اگر غور کیجیے تو اُس کی شکر گزاری کا حقیقی اظہار بھی ہے۔چنانچہ قرآن نے اِسی بنا پر روزے کو خدا کی تکبیر اور شکر گزاری قرار دیا اور فرمایاہے کہ اِس مقصد کے لیے رمضان کا مہینا اِس لیے خاص کیا گیا ہے کہ قرآن کی صورت میں اللہ نے جو ہدایت اِس مہینے میں تمھیں عطا فرمائی ہے اور جس میں عقل کی رہنمائی اورحق وباطل کے مابین فرق و امتیاز کے لیے واضح اورقطعی حجتیں ہیں، اُس پراللہ کی بڑائی کرو اور اُس کے شکرگزار بنو:’وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ‘۔روزے کی یہی حقیقت ہے جس کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ روزہ اللہ کے لیے ہے اور وہی اُس کی جزا دے گا۔یعنی بندے نے جب بغیر کسی سبب کے محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں بعض جائز چیزیں بھی اپنے لیے ممنوع قرار دے لی ہیں تو اب وہ ناپ تول کر اور کسی حساب سے نہیں،بلکہ خاص اپنے کرم اور اپنی عنایت سے اُس کا اجر دے گا اور اِس طرح بے حساب دے گا کہ وہ نہال ہوجائے گا۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن آدم جو نیکی بھی کرتا ہے، اُس کی جزا اُسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دی جاتی ہے، لیکن روزہ اِس سے مستثنیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’فإنہ لي وأنا أجزي بہ‘، یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اِس کی جزا دوں گا، اِس لیے کہ بندہ اپنے کھانے پینے اوراپنی جنسی خواہشات کو اِس میں صرف میرے لیے چھوڑ دیتا ہے۔1 چنانچہ فرمایا ہے کہ روزہ رکھنے والوں کے لیے خوشی کے دو وقت ہیں:ایک جب وہ روزہ کھولتے ہیں، دوسراجب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے۔2 اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اِس عبادت کی اہمیت کس قدر غیر معمولی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لخلوف فم الصائم أطیب عند اللّٰہ من ریح المسک.
(بخاری، رقم 1894)
’’روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوش بو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘
نیز فرمایا ہے:
إن في الجنۃ بابًا، یقال لہ الریّان، یدخل منہ الصائمون یوم القیٰمۃ، لا یدخل منہ أحد غیرہم، یقال: أین الصائمون؟ فیقومون لا یدخل منہ أحد غیرھم، فإذا دخلوا أغلق فلم یدخل منہ أحد.
(بخاری، رقم 1896)
’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے۔ روزہ دار قیامت کے دن اُس سے جنت میں داخل ہوں گے، اُن کے ساتھ کوئی دوسرا اُس سے داخل نہ ہوسکے گا۔ پوچھا جائے گا : روزہ دار کہا ں ہیں ؟اِس پر وہی اٹھیں گے، کوئی دوسرا اُن کے ساتھ اُس سے داخل نہ ہو گا۔ پھر جب داخل ہو جائیں گے تو اُسے بند کردیا جائے گا۔ اِس کے بعد کوئی اُس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔‘‘
اِس عبادت کا منتہاے کمال شریعت میں یہ بتایا گیاہے کہ آدمی روزے کی حالت میں اپنے اوپر کچھ مزید پابندیاں عائد کر کے اوردوسروں سے الگ تھلگ ہو کر چند دنوں کے لیے مسجد میں بیٹھ جائے اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کرے۔ اصطلاح میں اِسے ’اعتکاف‘ کہا جاتا ہے۔3 یہ اگرچہ رمضان کے روزوں کی طرح لازم تو نہیں کیا گیا، لیکن تزکیۂ نفس کے نقطۂ نظر سے اِس کی بڑی اہمیت ہے۔ روزہ ونماز اور تلاوت قرآن کے امتزاج سے ’آمیختن بہ بادۂ صافی گلاب را ‘کی جو خاص کیفیت اِس سے پیدا ہوتی اور نفس پر تجرد وانقطاع اورتبتل الی اللہ کی جو حالت طاری ہو جاتی ہے، اُس سے روزے کااصلی مقصود درجۂ کمال پرحاصل ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری دس دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِسی بنا پرہر سال اپنی مسجد میں معتکف ہوجاتے4 اوراپنے روزو شب دعا و مناجات، رکوع وسجود اور تلاوت قرآن کے لیے وقف کردیتے تھے۔ سیدہ عائشہ کا بیان ہے:
کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا دخل العشر، شدّ مئزرہ وأحیا لیلہ وأیقظ أھلہ.
(بخاری، رقم 2024)
’’ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر عبادت کے لیے کس لیتے، خودبھی شب بیداری فرماتے اور اپنے گھر والوں کوبھی اِس کے لیے اٹھاتے تھے۔‘‘
روزے کی یہ عبادت مسلمانوں پررمضان کے مہینے میں لازم کی گئی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ نفس کے میلانات کبھی ختم نہیں ہوتے اوراِس دنیا کی ترغیبات بھی ہمیشہ باقی رہتی ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس مہینے میں اپنا خاص کرم یہ فرماتے ہیں کہ شیاطین جن کے لیے لوگوں کو بہکانے کے تمام راستے بالکل بند کردیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے: رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اورشیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔5 چنانچہ اِس مہینے میں ہر شخص کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہے تو بغیر کسی خارجی رکاوٹ کے اپنے لیے خیروفلاح کے حصول کی جدوجہد کرسکے۔ اِس کا صلہ روایتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آدمی کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ توبہ و اصلاح کے بارے میں یہ قرآن کا عام قانون ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص رمضان کے حوالے سے لوگوں کو اِس کی بشارت اِس طرح دی ہے:
من صام رمضان إیمانًا واحتسابًا، غفرلہ ما تقدم من ذنبہ. (بخاری، رقم 2009)
’’جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اُس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘
من قام رمضان إیمانًا واحتسابًا، غفرلہ ما تقدم من ذنبہ. (بخاری، رقم 37)
’’ جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا، اُس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
یہی بات لیلۃ القدر میں قیام کے متعلق بھی کہی گئی ہے۔6 یہ نزول قرآن کی رات ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ فرشتے اورروح الامین اِس میں ہر معاملے کی اجازت لے کر اترتے ہیں، لہٰذا امور مہمہ کی تنفیذکے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے جو رحمتیں، برکتیں اور قرب الٰہی کے جو مواقع اِس ایک رات میں حاصل ہوتے ہیں، وہ ہزاروں راتوں میں بھی نہیں ہوسکتے۔ اِسی بنا پر ارشاد ہوا ہے کہ ’لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ‘7 (فیصلوں کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِسے رمضان کے آخری عشرے، خاص کر اِس کی طاق راتوں میں تلاش کرنا چاہیے۔8
عبادت کے لیے ایام واوقات کی یہ تعیین کیا اہمیت رکھتی ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ’’ تدبر قرآن‘‘ میں اِس کی وضاحت اِس طرح فرمائی ہے:
’’…جس طرح اِس مادی دنیا میں فصلوں، موسموں اوراوقات کا اعتبار ہے، اِسی طرح روحانی عالم میں بھی اِن کا اعتبار ہے۔ جس طرح خاص خاص چیزوں کے بونے کے لیے خاص خاص موسم اور مہینے ہیں، اِن میں آپ بوتے ہیں تو وہ پروان چڑھتی اور مثمر ہوتی ہیں، اور اگر اِن موسموں اورمہینوں کو آپ نظر اندازکردیتے ہیں تو دوسرے مہینوں کی طویل سے طویل مدت بھی اِن کا بدل نہیں ہوسکتی، اِسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص خاص کاموں کے لیے خاص موسم اور خاص اوقات وایام مقرر ہیں۔ اگر اِن اوقات وایام میں وہ کام کیے جاتے ہیں تووہ مطلوبہ نتائج پیداکرتے ہیں، اوراگر وہ ایام واوقات نظرانداز ہو جاتے ہیں تو دوسرے ایام و اوقات کی زیادہ سے زیادہ مقدار بھی اُن کی صحیح قائم مقامی نہیں کرسکتی۔ اِس کومثال سے یوں سمجھیے کہ جمعہ کے لیے ایک خاص دن ہے، روزوں کے لیے ایک خاص مہینا ہے، حج کے لیے خاص مہینا اورخاص ایام ہیں، وقوف عرفہ کے لیے معینہ دن ہے۔ اِن تمام ایام و اوقات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی عبادتیں مقرر کررکھی ہیں جن کے اجروثواب کی کوئی حدونہایت نہیں ہے، لیکن اِن کی ساری برکتیں اپنی اصلی صورت میں تبھی ظاہر ہوتی ہیں، جب یہ ٹھیک ٹھیک اِن ایام و اوقات کی پابندی کے ساتھ عمل میں لائی جائیں۔ اگر ایسا نہ ہوتو وہ برکت فوت ہوجاتی ہے جو اِن کے اندر مضمرہوتی ہے۔‘‘ (9/468)
روزے کی تاریخ
نماز کی طرح روزے کی تاریخ بھی نہایت قدیم ہے۔ سورۂ بقرہ کی جو آیتیں اوپرنقل ہوئی ہیں، اُن میں قرآن نے بتایا ہے کہ روزہ مسلمانوں پر اُسی طرح فرض کیا گیا، جس طرح وہ پہلی قوموں پرفرض کیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ تربیت نفس کی ایک اہم عبادت کے طور پر اِس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے۔
نینوا اور بابل کی تہذیب نہایت قدیم ہے۔ ایک زمانے میں یہاں آشور ی قوم آباد تھی۔ سیدنا یونس علیہ السلام کی بعثت اِنھی کی طرف ہوئی۔ اِن لوگوں نے پہلے اُنھیں جھٹلادیا، لیکن بعد میں ایمان لے آئے۔ اِس موقع پراُن کی توبہ اوررجوع کا ذکر بائیبل کے ’’صحیفۂ یونس‘‘ میں اِس طرح ہوا ہے:
’’تب نینوا کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ واعلیٰ، سب نے ٹاٹ اوڑھا۔ اوریہ خبر نینوا کے بادشاہ کو پہنچی اور وہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا۔ اور بادشاہ اوراُس کے ارکان دولت کے فرمان سے نینوا میں یہ اعلان کیا گیا اور اِس بات کی منادی ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان،گلہ یا رمہ کچھ نہ چکھے اورنہ کھائے پیے، لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے ملبس ہوں اورخدا کے حضور گریہ و زاری کریں، بلکہ ہر شخص اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے۔‘‘(3: 5- 8)
عرب جاہلی میں بھی روزہ کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ اُن کی زبان میں لفظ ’صوم‘ کا وجود بجاے خود اِس بات کوثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ اِس عبادت سے پور ی طرح واقف تھے۔ ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں جواد علی لکھتے ہیں:
’’روایتوں میں ہے کہ قریش یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے۔ اِس روزوہ جمع ہوتے، عید مناتے اوربیت اللہ کوغلاف پہناتے تھے۔ اِس کی توجیہ مورخین یہ بیان کرتے ہیں کہ قریش جاہلیت میں کوئی ایسا گناہ کربیٹھے تھے جس کا بوجھ اُنھوں نے بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ اِس کا کفارہ ادا کرنا چاہا تو یوم عاشور کا روزہ اپنے لیے مقرر کر لیا۔ وہ اِس دن یہ روزہ اللہ تعالیٰ کاشکر اداکرنے کے لیے رکھتے تھے کہ اُس نے اُنھیں اِس گناہ کے برے نتائج سے محفوظ رکھا۔ روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے…اِس روزے کی ایک توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ قریش کوایک زمانے میں قحط نے آلیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اُنھیں اِس سے نجات عطا فرمائی تو اُنھوں نے اِس پر اللہ کا شکر اداکرنے کے لیے یہ روزہ رکھنا شروع کردیا۔‘‘(6/ 339-340)
یہود ونصاریٰ کی شریعت میں بھی روزہ ایک عام عبادت ہے۔ بائیبل میں اُن کے روزوں کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے اور اِس کے لیے خاص اِس لفظ کے علاوہ بعض مقامات پر ’جان کودکھ دینے ‘اور ’نفس کشی کرنے ‘ کی تعبیرات بھی اختیار کی گئی ہیں۔
خروج میں ہے :
’’اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ تو یہ باتیں لکھ، کیونکہ اِنھی باتوں کے مفہوم کے مطابق میں تجھ سے اور اسرائیل سے عہد باندھتا ہوں۔ سو وہ چالیس دن اور چالیس رات وہیں خداوند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا اور اُس نے اُن لوحوں پر اِس عہد کی باتوں کو،یعنی دس احکام کو لکھا۔‘‘ (34: 28-27)
احبار میں ہے:
’’اور یہ تمھارے لیے ایک دائمی قانون ہو کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اوراُس دن کوئی، خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تمھارے بیچ بودوباش رکھتا ہو، کسی طرح کا کام نہ کرے۔ کیونکہ اُس روزتمھارے واسطے تم کو پاک کرنے کے لیے کفارہ دیا جائے گا۔ سو تم اپنے سب گناہوں سے خداوند کے حضور پاک ٹھیرو گے۔ یہ تمھارے لیے خاص آرام کا سبت ہوگا۔ تم اُس دن اپنی اپنی جان کو دکھ دینا۔‘‘(16: 29- 31)
قضاۃ میں ہے:
’’تب سب بنی اسرائیل اور سب لوگ اٹھے اور بیت ایل میں آئے اور وہا ں خداوند کے حضور بیٹھے روتے رہے اور اُس دن شام تک روزہ رکھا اور سوختنی قربانیاں اورسلامتی کی قربانیاں خداوند کے آگے گزرانیں۔‘‘ (20: 26)
سموئیل دوم میں ہے:
’’اور وہ ساؤل اور اُس کے بیٹے یونتن اور خداوند کے لوگوں اوراسرائیل کے گھرانے کے لیے نوحہ کرنے اور رونے لگے اور شام تک روزہ رکھا، اِس لیے کہ وہ تلوار سے مارے گئے تھے۔‘‘
(1: 12)
’’اِس لیے داؤد نے اُس لڑکے کی خاطر خدا سے منت کی اور داؤد نے روزہ رکھااور اندر جاکر ساری رات زمین پر پڑا رہا۔‘‘ (12: 16)
نحمیاہ میں ہے:
’’پھر اِسی مہینے کی چوبیسیویں تاریخ کو بنی اسرائیل روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور مٹی اپنے سر پرڈال کر اکٹھے ہوئے۔ اور اسرائیل کی نسل کے لوگ سب پردیسیوں سے الگ ہوگئے اور کھڑے ہوکر اپنے گناہوں اور اپنے باپ دادا کی خطاؤں کا اقرار کیا۔‘‘(9: 1- 2)
زبور میں ہے:
’’لیکن میں نے تو اُن کی بیماری میں، جب وہ بیمار تھے، ٹاٹ اوڑھا اور روزہ رکھ رکھ کر اپنی جان کو دکھ دیا اور میری دعا میرے ہی سینے میں واپس آئی۔‘‘ (35: 13)
یرمیاہ میں ہے:
’’پر تو جا اور خداوند کا وہ کلام جو تونے میرے منہ سے اِس طومار میں لکھا ہے، خداوند کے گھر میں روزہ کے دن لوگوں کو پڑھ کر سنا۔‘‘(36: 6)
یوایل میں ہے:
’’خداوند کا روز عظیم نہایت خوف ناک ہے۔ کون اُس کی برداشت کرسکتا ہے؟ لیکن خداوند فرماتا ہے: اب بھی پورے دل سے اورروزہ رکھ کر اور گریہ و زاری و ماتم کرتے ہوئے میری طرف رجوع لاؤ۔ اور اپنے کپڑوں کو نہیں، بلکہ دلوں کو چاک کر کے خداوند اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو، کیونکہ وہ رحیم ومہربان، قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے اورعذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔‘‘(2: 11- 12)
زکریا میں ہے :
’’پھر رب الافواج کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ چوتھے اور پانچویں اور ساتویں اور دسویں مہینے کا روزہ بنی یہوداہ کے لیے خوشی اور خرمی کا دن اورشادمانی کی عید ہوگا۔‘‘ (8: 18- 19)
متی میں ہے:
’’اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اداس نہ بناؤ، کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پاچکے،بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھو تاکہ آدمی نہیں، بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے، تجھے روزہ دار جانے۔ اِس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتاہے، تجھے بدلہ دے گا۔‘‘(6: 16- 18)
اعمال میں ہے:
’’جب وہ خداوند کی عبادت کررہے اور روزے رکھ رہے تھے تو روح القدس نے کہا: میرے لیے برنباس اورساؤل کو اِس کام کے واسطے مخصوص کردو، جس کے واسطے میں نے اُن کو بلایا ہے۔ تب اُنھوں نے روزہ رکھ کر اور دعا کرکے اور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُنھیں رخصت کیا۔‘‘
(13: 2- 3)
یہ روزے کی تاریخ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کی طرح روزہ بھی قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ وہ اِس کی مذہبی حیثیت اور اِس کے حدود و شرائط سے پوری طرح واقف تھے۔ چنانچہ قرآن نے جب اِس کا ذکر کیا تو اِن حدود و شرائط میں سے کوئی چیزبھی بیان نہیں کی، بلکہ ہدایت فرمائی کہ خدا کے ایک قدیم حکم اور انبیا علیہم السلام کی ایک قدیم سنت کے طور پر وہ جس طرح اِسے جانتے ہیں، اُسی طرح ایک لازمی عبادت کے طور پر اِس کا اہتمام کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اِس سے پہلے اِسی کے مطابق رمضان کے روزے رکھے اور مسلمان نسلاً بعد نسلٍ اب اِسی طریقے کی پیروی کر رہے ہیں۔ اِس لحاظ سے روزے کا ماخذ بھی اصلاً مسلمانوں کا اجماع اوراُن کا عملی تواتر ہی ہے۔ قرآن نے اِس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ اِسے فرض قرار دیا، مریضوں اور مسافروں کے لیے اِس سے رخصت کاقانون بیان فرمایا اوربعد میں جب بعض سوالات اِس سے متعلق پیدا ہوئے تو اُن کی وضاحت کردی ہے۔
روزے کا مقصد
روزے کا مقصد قرآن مجید نے سورۂ بقرہ کی اِن آیتوں میں یہ بیان کیا ہے کہ لوگ خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ اِس کے لیے اصل میں ’لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔ قرآن کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے شب و روز کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اِس بات سے ڈرتا رہے کہ اُس نے اگر کبھی اِن حدود کو توڑا تو اِس کی پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اُس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔
روزے سے یہ تقویٰ کس طرح پید اہوتا ہے ؟ اِس کو سمجھنے کے لیے تین باتیں پیش نظر رہنی چاہییں:
پہلی یہ کہ روزہ اِس احساس کو آدمی کے ذہن میں پور ی قوت کے ساتھ بیدار کردیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ نفس کے چند بنیادی مطالبات پر حرمت کا قفل لگتے ہی یہ احساس بندگی پیدا ہونا شروع ہوتااور پھر بہ تدریج بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ روزہ کھولنے کے وقت تک یہ اُس کے پورے وجود کا احاطہ کرلیتا ہے۔ فجر سے مغرب تک کھانے کا ایک نوالہ اور پانی کا ایک قطرہ بھی روزے دار کے حلق سے نہیں گزرتا اوروہ اِن چیزوں کے لیے نفس کے ہرمطالبے کو محض اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل میں پورا کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ روزے کا یہ عمل جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو یہ حقیقت روزے دار کے نہاں خانۂ وجود میں اتر جاتی، بلکہ اُس کی جبلت میں پیوست ہوجاتی ہے کہ وہ ایک پروردگار کا بندہ ہے اور اُس کے لیے زیبا یہی ہے کہ زندگی کے باقی معاملات میں بھی تسلیم واعتراف کے ساتھ وہ اپنے مالک کی فرماں روائی کے سامنے سپر ڈال دے اور خیال و عمل، دونوں میں اپنی آزادی اور خودمختاری کے ادعاسے دستبردار ہوجائے۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ خدا پرآدمی کا ایمان ہر لحاظ سے زندہ ایمان بن جاتا ہے، جس کے بعد وہ محض ایک خدا کو نہیں، بلکہ ایک ایسی سمیع وبصیر، علیم وحکیم اور قائم بالقسط ہستی کو مانتا ہے جو اُس کے تمام کھلے اورچھپے سے واقف ہے اورجس کی اطاعت سے وہ کسی حال میں انحراف نہیں کرسکتا۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے سب سے مقدم چیز یہی ہے۔
دوسری یہ کہ روزہ اِس احساس کوبھی دل کے اعماق اور روح کی گہرائیوں میں اتار دیتا ہے کہ آدمی کو ایک دن اپنے پروردگار کے حضور میں جواب دہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ ماننے کو تو یہ بات ہر مسلمان مانتا ہے، لیکن روزے میں جب پیاس تنگ کرتی، بھوک ستاتی اورجنسی جذبات پوری قوت کے ساتھ اپنی تسکین کا تقاضا کرتے ہیں تو ہرشخص جانتا ہے کہ تنہا یہی احساس جواب دہی ہے جو آدمی کو بطن وفرج کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے روک دیتا ہے۔ رمضان کا پور ا مہینا ہر روزگھنٹوں وہ نفس کے اِن بنیادی تقاضوں پرمحض اِس لیے پہرا لگائے رکھتا ہے کہ اُسے ایک دن اپنے مالک کو منہ دکھانا ہے۔ یہاں تک کہ سخت گرمی کی حالت میں حلق پیاس سے چٹختا ہے، برفاب سامنے ہوتا ہے، وہ چاہے تو آسانی سے پی سکتا ہے، مگر نہیں پیتا؛ بھوک کے مارے جان نکل رہی ہوتی ہے، کھانا موجود ہوتا ہے، مگر نہیں کھاتا؛ میاں بیوی جوان ہیں، تنہائی میسر ہے، چاہیں تواپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں، مگر نہیں کرتے۔ یہ ریاضت کوئی معمولی ریاضت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جواب دہی کا احساس اِس سے دل و دماغ میں پوری طرح راسخ ہوجاتا ہے۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے، اگر غور کیجیے تو دوسری موثر ترین چیزیہی ہے۔
تیسری یہ کہ تقویٰ کے لیے صبر ضروری ہے، اورروزہ انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔ بلکہ صبر کی تربیت کے لیے اِس سے بہتر اور اِس سے زیادہ موثر کوئی دوسرا طریقہ شاید نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ہم جس امتحان سے دوچار ہیں، اُس کی حقیقت اِس کے سوا کیا ہے کہ ایک طرف ہمارے حیوانی وجود کی منہ زور خواہشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اُس کے حدود میں رہ کر زندگی بسر کریں؟یہ چیز قدم قدم پر صبر کا تقاضا کرتی ہے۔ سچائی، دیانت، تحمل، بردباری، عہد کی پابندی، عدل و انصاف، عفوودرگذر، منکرات سے گریز، فواحش سے اجتناب اورحق پر استقامت کے اوصاف نہ ہوں تو تقویٰ کے کوئی معنی نہیں ہیں، اورصبر کے بغیر یہ اوصاف، ظاہر ہے کہ آدمی میں کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتے۔
روزے کا مقصد یہی تقویٰ ہے اور اِس کے لیے اللہ نے رمضان کا مہینا مقرر فرمایا ہے۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ اِس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اِس مہینے میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا ہے۔ روزے کے مقصد سے اِس کا کیا تعلق ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’غور کرنے والے کو اِس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں پیش آ سکتی کہ خدا کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے او رعقل سے بھی بڑی نعمت قرآن ہے، اِس لیے کہ عقل کو بھی حقیقی رہنمائی قرآن ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہوتو عقل سائنس کی ساری دوربینیں اورخردبینیں لگاکر بھی اندھیرے میں بھٹکتی رہتی ہے۔اِس وجہ سے جس مہینے میں دنیا کویہ نعمت ملی، وہ سزا وار تھا کہ وہ خدا کی تکبیر اوراُس کی شکر گزاری کا خاص مہینا ٹھیرا دیا جائے تاکہ اِس نعمت عظمیٰ کی قدر و عظمت کا اعتراف ہمیشہ ہمیشہ ہوتا رہے۔ اِس شکر گزاری اورتکبیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزوں کی عبادت مقرر فرمائی جواُس تقویٰ کی تربیت کی خاص عبادت ہے جس پرتمام دین و شریعت کے قیام و بقا کا انحصار ہے، اور جس کے حاملین ہی کے لیے درحقیقت قرآن ہدایت بن کرنازل ہوا ہے۔ … گویا اِس حکمت قرآنی کی ترتیب یوں ہوئی کہ قرآن حکیم کا حقیقی فیض صرف اُن لوگوں کے لیے خاص ہے جن کے اندر تقویٰ کی روح ہو اور اِس تقویٰ کی تربیت کا خاص ذریعہ روزے کی عبادت ہے۔اِس وجہ سے رب کریم وحکیم نے اِس مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرما دیا جس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اِس بات کویوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اِس دنیا کے لیے بہار ہے اور رمضان کا مہینا موسم بہار اور یہ موسم بہار جس فصل کو نشوونما بخشتا ہے، وہ تقویٰ کی فصل ہے۔‘‘(تدبرقرآن 1/ 451)
یہ مقصد روزے سے لازماً حاصل ہوتا ہے، لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ روزہ رکھنے والے اُن خرابیوں سے بچیں جو اگر روزے کو لاحق ہوجائیں تو اُس کی تمام برکتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ خرابیاں اگرچہ بہت سی ہیں،مگر اِن میں سے بعض ایسی ہیں کہ ہر روزے دار کو اُن کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
اُن میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ لوگ رمضان کو لذتوں اور چٹخاروں کا مہینا بنا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اِس مہینے میں جو خرچ بھی کیا جائے، اُس کا اللہ کے ہاں کوئی حساب نہیں ہے۔ چنانچہ اِس طرح کے لوگ اگر کچھ کھاتے پیتے بھی ہوں تو اُن کے لیے یہ پھر مزے اڑانے اور بہار لوٹنے کا مہینا ہے۔ وہ اِس کو نفس کی تربیت کے بجاے اُس کی پرورش کا مہینا بنا لیتے ہیں اورہر روز افطار کی تیاریوں ہی میں صبح کو شام کرتے ہیں۔ وہ جتنا وقت روزے سے ہوتے ہیں،یہی سوچتے ہیں کہ سارے دن کی بھوک پیاس سے جو خلا اُن کے پیٹ میں پیدا ہواہے، اُسے وہ اب کن کن نعمتوں سے بھریں گے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو روزے سے وہ کچھ پاتے ہی نہیں، اور اگر کچھ پاتے ہیں تو اُسے وہیں کھو دیتے ہیں۔
اِس خرابی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر کام کی قوت کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور، لیکن اُس کو جینے کا مقصد نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی اہتمام کے مل جائے، اُس کو اللہ کا شکر کرتے ہوئے کھا لے۔ گھر والے جو کچھ دسترخوان پررکھ دیں، وہ اگر دل کو نہ بھی بھائے تو اُس پرخفا نہ ہو۔ اللہ نے اگر مال ودولت سے نوازاہے تو اپنے نفس کوپالنے کے بجاے اُسے غریبوں اور فقیروں کی مدد او راُن کے کھانے پلانے پرخرچ کرے۔ یہ چیز یقیناًاُس کے روزے کی برکتوں کو بڑھائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ انفاق کے معاملے میں یہی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ حضور عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے، لیکن رمضان میں تو گویا سراپا جودوکرم بن جاتے تھے۔ 9
دوسری خرابی یہ ہے کہ بھوک اورپیاس کی حالت میں چونکہ طبیعت میں کچھ تیزی پیدا ہوجاتی ہے، اِس وجہ سے بعض لوگ روزے کواُ س کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجاے، اُسے بھڑکانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے نیچے کام کرنے والوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے، جو منہ میں آیا، کہہ گزرتے،بلکہ بات بڑھ جائے تو گالیوں کا جھاڑ باندھ دیتے ہیں، اور بعض حالتوں میں اپنے زیردستوں کو مارنے پیٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اِس کے بعد وہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیتے ہیں کہ روزے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔
اِس کا علاج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ آدمی اِس طرح کے موقعوں پر روزے کو اشتعال کا بہانہ بنانے کے بجاے اُس کے مقابلے میں ایک ڈھال کی طرح استعمال کرے، اورجہاں اشتعال کا کوئی موقع پیدا ہو، فوراً یاد کرے کہ میں روزے سے ہوں۔ آپ کا ارشاد ہے: روزے ڈھال ہیں، لہٰذا تم میں سے جس شخص کا روزہ ہو، وہ نہ بے حیائی کی باتیں کرے، اور نہ جہالت دکھائے۔ پھر اگر کوئی گالی دے یا لڑنا چاہے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میرے بھائی میں روزے سے ہوں۔10 چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ روزہ رکھنے والا اگر غصے اور اشتعال کے ہر موقع پریاددہانی کا یہ طریقہ اختیار کرے گا تو آہستہ آہستہ دیکھے گا کہ اُس نے اپنے نفس کے شیطان پر اتنا قابو پالیا ہے کہ وہ اب اُسے گرا لینے میں کم ہی کامیاب ہوتا ہے۔ شیطان کے مقابلے میں فتح کا یہ احساس اُس کے دل میں اطمینان اور برتری کا احساس پیدا کرے گا اور روزے کی یہی یاددہانی اُس کی اصلاح کا ذریعہ بن جائے گی۔ پھر وہ وہیں غصہ کرے گا، جہاں اُس کا موقع ہوگا۔ وقت بے وقت اُسے مشتعل کر دینا کسی کے لیے ممکن نہ رہے گا۔
تیسری خرابی یہ ہے کہ بہت سے لوگ جب روزے میں کھانے پینے اوراِس طرح کی دوسری دل چسپیوں کو چھوڑتے ہیں تو اپنی اِس محرومی کا مداوا اُن دل چسپیوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جن سے اُن کے خیال میں روزے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بہل جاتا ہے۔ وہ روزہ رکھ کر تاش کھیلیں گے، ناول اور افسانے پڑھیں گے،نغمے اور غزلیں سنیں گے،فلمیں دیکھیں گے، دوستوں میں بیٹھ کر گپ ہانکیں گے اوراگر یہ سب نہ کریں گے تو کسی کی غیبت اور ہجو ہی میں لپٹ جائیں گے۔ روزے میں پیٹ خالی ہو تو آدمی کواپنے بھائیوں کا گوشت کھانے میں ویسے بھی بڑی لذت ملتی ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات صبح اِس مشغلے میں پڑتے ہیں اورپھرموذن کی اذان کے ساتھ ہی اِس سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔
اِس خرابی کاایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کا ادب سمجھے اور کوشش کرے کہ کم سے کم اناپ شناپ کہنے اور جھوٹی سچی اڑانے کے معاملے میں تو اُس کی زبان پر تالا لگا رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص جھوٹ بولنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تواللہ کو اِس کی کچھ ضرورت نہیں کہ وہ اپناکھانا پینا چھوڑ دے۔11
اِس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ جو وقت ضروری کاموں سے بچے، اُس میں آدمی قرآن وحدیث کا مطالعہ کرے اوردین کو سمجھے۔ وہ روزے کی اِس فرصت کوغنیمت جان کر اِس میں قرآن مجید اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعاؤں کا کچھ حصہ یاد کرلے۔ اِس طرح وہ روزے میں اُن مشغلوں سے بچے گا اور بعد میں یہی ذخیرہ اللہ کی یاد کو اُس کے دل میں قائم رکھنے کے لیے اُس کے کام آئے گا۔
چوتھی خرابی یہ ہے کہ آدمی بعض اوقات روزہ اللہ کے لیے نہیں،بلکہ اپنے گھروالوں اورملنے جلنے والوں کی ملامت سے بچنے کے لیے رکھتا ہے اور کبھی لوگوں میں اپنی دین دار ی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے یہ مشقت جھیلتا ہے۔ یہ چیز بھی روزے کو روزہ نہیں رہنے دیتی۔
اِس کا علاج یہ ہے کہ آدمی روزے کی اہمیت ہمیشہ اپنے نفس کے سامنے واضح کرتا رہے اور اُسے تلقین کرے کہ جب کھانا پینا اوردوسری لذتیں چھوڑ ہی رہے ہو تو پھر اللہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑتے۔ اِس کے ساتھ رمضان کے علاوہ کبھی کبھی نفلی روزے بھی رکھے اوراُنھیں زیادہ سے زیادہ چھپانے کی کوشش کرے۔ اِس سے امید ہے کہ اُس کے یہ فرض روزے بھی کسی وقت اللہ ہی کے لیے خالص ہوجائیں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نفل روزے خود رکھے ہیں یا لوگوں کو اِسی مقصد سے اُن کے رکھنے کی ترغیب دی ہے،وہ یہ ہیں:
یوم عاشور کا روزہ
روایتوں میں اِس کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔12 آپ بالعموم اِس کا اہتمام کرتے تھے،13 بلکہ رمضان کے روزوں سے پہلے تو یہ روزہ آپ لازماً رکھتے اورلوگوں کو بھی اِس کا حکم دیتے، اِس پر ابھارتے اور اِس معاملے میں اُن پر نگران رہتے تھے۔14 اِس کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ قریش یہ روزہ رکھتے تھے15 اورایک یہ بیان کی گئی ہے کہ یہود اِس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ حضور نے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ یہ دن اُن کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ موسیٰ اوراُن کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اِس دن نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اُس کی قوم کو دریا میں غرق کردیا، تب موسیٰ علیہ السلام نے اِس پر شکرانے کا روزہ رکھا تھا۔ حضور نے فرمایا : موسیٰ سے ہمارا تعلق تم سے زیادہ ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی۔16
یوم عرفہ کا روزہ
اِس دن کی فضیلت ہر مسلمان کو معلوم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اِس میں روزہ رکھا جائے تو اِس کے صلے میں توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک سال پہلے اورایک سال بعد کے گناہ بخش دیں گے۔17 تاہم حج کے موقع پر آپ نے یہ روزہ نہیں رکھا۔18 اِس کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ حج کی مشقت کے ساتھ آپ نے اِسے جمع کرنا پسند نہیں فرمایا۔
شوال کے روزے
اِن روزوں کی فضیلت بھی روایتوں میں بیان ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اُن کے متصل بعد شوال کے چھ روزے رکھ لیے، وہ گویا عمر بھر روزے سے رہا۔19
ہر مہینے میں تین روزے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کی ترغیب دی اور اِن کے بارے میں وہی بات فرمائی ہے جو اوپر شوال کے روزوں کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔20 سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور خود بھی یہ روزے رکھتے تھے۔ تاہم اِن کے لیے کوئی دن متعین نہیں تھے۔ آپ جب چاہتے، پورے مہینے میں کسی وقت یہ روزے رکھ لیتے تھے۔21 بعض صحابہ کو، البتہ آپ نے ہدایت فرمائی ہے کہ وہ چاند کی تیرھویں،چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو یہ روزے رکھیں۔22
پیر اور جمعرات کا روزہ
حضور نے یہ روزے بھی رکھے ہیں۔ لوگوں نے اِس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: پیر اورجمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔23 نیز فرمایا کہ پیر کا دن میری پیدایش کا دن ہے اورمجھ پر قرآن کا نزول بھی اِسی دن ہوا تھا۔24
شعبان کے روزے
رمضان کے علاوہ یہی مہینا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر روزے سے رہتے تھے۔ سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ میں نے شعبان سے زیادہ آپ کو کسی مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔25
اِن کے علاوہ بھی لوگ جب چاہیں، نفل روزے رکھ سکتے ہیں۔ زیادہ روزو ں کی خواہش رکھنے والوں کو آپ نے ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اِس معاملے میں سیدنا داؤدعلیہ السلام کی پیروی کریں جو ایک دن روزہ رکھتے اورایک دن چھوڑ دیتے تھے۔26 تنہا جمعہ کو روزے کے لیے خاص کرلینے،27 پورا سال روزے رکھنے28 اور عید کے دنوں میں روزہ رکھنے کو،29 البتہ آپ نے پسند نہیں فرمایا۔30
روزے کا قانون
انبیا علیہم السلام کے دین میں روزے کا جو قانون ہمیشہ سے رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اُسی کے مطابق روزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ ایمان والوں پر روزہ اُسی طرح فرض کیا گیا ہے، جس طرح اُن سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا۔ فرمایا ہے کہ یہ گنتی کے چند دن ہیں جو اِس عبادت کے لیے خاص کیے گئے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تالیف قلب کے طور پر کہی گئی ہے۔ گویا مدعا یہ ہے کہ روزے کی برکتیں اگر پیش نظر ہوں تو بارہ مہینوں میں 30 یا 29 دن کوئی بڑی مدت نہیں ہے، بلکہ گنتی کے چند دن ہی ہیں، لہٰذا گھبرانے یا دل شکستہ ہونے کے بجاے آدمی کو اِن سے پور ا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اِس تمہید کے بعد رخصت کا حکم بیان ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان کے روزے پورے نہ کرسکیں، وہ دوسرے دنوں میں یا تو روزے رکھ کر یہ تعداد پوری کرلیں، یا ایک روزے کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کر چھوڑے ہوئے روزوں کی تلافی کریں۔ اِس حکم کاخاتمہ اِن الفاظ پر ہوا ہے: ’فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَخَیْرٌ لَّہٗ، وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ، اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‘ (پھر جو شوق سے کوئی نیکی کرے تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھ لو تو یہ تمھارے لیے اور بھی اچھا ہے، اگر تم سمجھتے ہو)۔ مطلب یہ ہے کہ روزے کا یہ فدیہ کم سے کم مطالبہ ہے جو استطاعت رکھنے والوں کو ہرحال میں پورا کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا اُن کے ساتھ کوئی اور نیکی کردے تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے۔ پھر اللہ کے نزدیک اِس سے بھی بہتر یہ ہے کہ آدمی فدیے کے بجاے دوسرے دنوں میں روزے ہی پورے کرے۔
تاہم اِس کے بعد جو آیت ’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ‘کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے، اُس میں فدیے کی اجازت ختم ہوگئی ہے۔ چنانچہ حکم کوبعینہٖ دہرا کر اُس میں سے ’وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ ‘سے’اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‘ تک کے الفاظ حذف کردیے گئے ہیں۔ رمضان کے بعد عام دنوں میں روزہ رکھنا چونکہ مشکل ہوتا ہے، اِس لیے جب تک طبائع اِس کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہو گئیں، اللہ تعالیٰ نے اِسے لازم نہیں کیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ہے کہ فدیے کی یہ اجازت اِس لیے ختم کردی گئی ہے کہ تم روزوں کی تعداد پوری کر و اور جو خیروبرکت اُس میں چھپی ہوئی ہے، اُس سے محروم نہ رہو۔
روزے کا حکم اصلاً یہی ہے۔ اِس کے بعد، معلوم ہوتا ہے کہ بعض سوالات لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے۔ اِن میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں بیویوں کے پاس جانا جائز ہے یا نہیں ؟ اِس کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ یہود کے ہاں روزہ افطار کے معاً بعد پھر شروع ہوجاتا تھا اوروہ روزے کی رات میں کھانے پینے اور بیویوں کے پاس جانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ مسلمانوں نے اِس سے گمان کیا کہ اُن کے لیے بھی یہی قانون ہوگا،لیکن پھر اُن میں سے بعض لوگ یہ گمان اپنے دلوں میں رکھتے ہوئے اِس کی خلاف ورزی کربیٹھے۔ یہ کوئی اچھی بات نہ تھی، اِس لیے کہ آدمی اگر اپنے اجتہاد یا گمان کے مطابق کسی چیز کو دین وشریعت کا تقاضا سمجھتا ہے تواِس سے قطع نظر کہ وہ فی الواقع شریعت کا حکم ہے یا نہیں، اُس کی خلاف ورزی اُس کے لیے جائز نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اِسے ضمیر کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا اور وضاحت فرمائی:
اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ، ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ، عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ. فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ، ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ، وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ. تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْھَا، کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ.
(البقرہ 2: 187)
’’(تم پوچھنا چاہتے ہو تو لو ہم بتائے دیتے ہیں کہ) روزوں کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمھارے لیے جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اُس نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے درگذر کیا۔ چنانچہ اب (بغیر کسی تردد کے) اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور (اِس کا) جو (نتیجہ) اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اُسے چاہو، اور کھاؤ پیو، یہاں تک کہ رات کی سیاہ دھاری سے فجر کی سفید دھاری تمھارے لیے بالکل نمایاں ہو جائے۔ پھر رات تک اپنا روزہ پورا کرو۔ اور ہاں، تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو (رات کو بھی) بیویوں کے پاس نہ جانا۔ یہ اللہ کی مقررکی ہوئی حدیں ہیں، سو اِن کے قریب نہ جاؤ۔ اللہ اِسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔‘‘
قرآن کی اِس وضاحت کے بعد روزے اوراعتکاف کا جو قانون متعین ہو کر سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے:
روزے کی نیت سے اور محض اللہ کی خوشنودی کے لیے کھانے پینے اور بیویوں کے پاس جانے سے اجتناب ہی شریعت کی اصطلاح میں روزہ ہے۔
یہ پابندی فجر سے لے کر رات کے شروع ہونے تک ہے، لہٰذا روزے کی راتوں میں کھانا پینا اور بیویوں کے پاس جانا بالکل جائزہے۔
روزوں کے لیے رمضان کا مہینا خاص کیا گیا ہے، اِس لیے جو شخص اِس مہینے میں موجود ہو، اُس پر فرض ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے۔
بیماری یا سفر کی وجہ سے یا کسی اور مجبوری کے باعث آدمی اگر رمضان کے روزے پورے نہ کرسکے تو لازم ہے کہ دوسرے دنوں میں روزے رکھ کر اُس کی تلافی کرے اور یہ تعداد پوری کردے۔
حیض ونفاس کی حالت میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ تاہم اِس طرح چھوڑے ہوئے روزے بھی بعد میں لازماً پورے کیے جائیں گے۔
روزے کا منتہاے کمال اعتکاف ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر کسی شخص کو اِس کی توفیق دے تو اُسے چاہیے کہ روزوں کے مہینے میں جتنے دنوں کے لیے ممکن ہو، دنیا سے الگ ہوکر اللہ کی عبادت کے لیے مسجد میں گوشہ نشین ہوجائے اور بغیر کسی ناگزیر انسانی ضرورت کے مسجد سے باہر نہ نکلے۔
آدمی اعتکاف کے لیے بیٹھا ہو تو روزے کی راتوں میں کھانے پینے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن بیویوں کے پاس جانا اُس کے لیے جائز نہیں رہتا۔ اعتکاف کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اِسے ممنوع قرار دیا ہے۔
روزے کا یہ قانون مسلمانوں کے اجماع اورتواتر عملی سے ثابت ہے اورقرآن مجید نے بھی بڑی حد تک اِس کی تفصیل کردی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل سے اِس کی جو توضیحات ہوئی ہیں، وہ ایک مناسب ترتیب کے ساتھ ہم ذیل میں بیان کیے دیتے ہیں:
1۔ چاند نظر آ جائے تو مہینا شروع کر لیناچاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :مہینا انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے، اِس لیے چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور دیکھ لو تو افطار کرو۔ پھر اگر مطلع صاف نہ ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کرلو۔31
2۔رمضان کے شروع ہونے سے ایک یا دودن پہلے روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسند نہیں کیا اورفرمایا ہے کہ وہ شخص، البتہ اِس سے مستثنیٰ ہے جو اِس دن روزہ رکھتا ہو۔32
3۔سحری کے لیے اٹھنا چاہیے۔فرمایا ہے کہ سحری کھایا کرو، اِس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔33
4۔روزے میں مجامعت کے سوا بیوی سے ہر طرح اظہار محبت کرسکتے ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اورمجھے اپنے ساتھ بھی لگاتے تھے۔34
5۔جنابت کی حالت میں روزہ رکھ سکتے ہیں۔ سیدہ ہی کی روایت ہے کہ حضوربھی بعض اوقات روزہ رکھ لیتے اور فجر کے بعدہی غسل جنابت کرتے تھے۔35
6۔ آدمی بھول کر کچھ کھا لے تو اِس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فرمایا ہے کہ یہ تو اُسے اللہ نے کھلایااور پلایا ہے۔36
7۔اعتکاف رمضان کے دوسرے یا تیسرے عشرے میں اورپورے دس دن کے لیے کیا جائے تو بہتر ہے، الاّ یہ کہ مہینا انتیس کا ہو۔روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بالعموم یہی تھا۔37
8۔ جان بوجھ کر روزہ توڑ لینا ایک بڑا گناہ ہے۔ اِس طرح کی کوئی چیز آدمی سے سرزد ہوجائے تو بہتر ہے کہ وہ اِس کا کفارہ ادا کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے لیے ایک شخص کو وہی کفارہ بتایا جو قرآن مجید نے ظہار کے لیے مقرر کیا ہے۔ تاہم روایت سے واضح ہے کہ جب اُس نے معذوری ظاہر کی تو آپ نے اِس پراصرار نہیں فرمایا۔38
- ۔ بخاری، رقم 1894۔ مسلم، رقم 2707۔
- ۔ بخاری، رقم 1904۔ مسلم، رقم 2707۔
- ۔ یہ بھی ایک قدیم عبادت ہے اور انبیا علیہم السلام کے دین میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔
- ۔ بخاری، رقم 2025، 2026۔ مسلم، رقم 2782۔
- ۔ بخاری، رقم 1899۔
- ۔ بخاری، رقم 1901۔ مسلم، رقم 1781۔
- ۔ القدر 97: 1-3۔
- ۔ بخاری، رقم 2016، 2017، 2020۔ مسلم ، رقم 2763، 2764، 2769۔
- ۔ بخاری، رقم 6۔ مسلم، رقم 6009۔
- ۔ بخاری، رقم 1894۔ مسلم، رقم 2703۔
- ۔ بخاری، رقم 1903۔
- ۔ بخاری، رقم 2004۔ مسلم ، رقم 2746۔
- ۔ بخاری ، رقم 2006۔ مسلم ، رقم 2637۔
- ۔ بخاری، رقم 2002، 4680۔ مسلم ، رقم 2652۔
- ۔ بخاری ، رقم 2002۔ مسلم ، رقم 2637، 2642۔
- ۔ بخاری، رقم 2004۔ مسلم ، رقم 2658۔
- ۔ مسلم ، رقم 2746۔ یعنی وہ گناہ جو حقوق العباد سے متعلق نہیں ہیں یا جن کے لیے توبہ اور تلافی کرنا یا کفارہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔
- ۔ بخاری، رقم 1658، 1988۔ مسلم ، رقم 2632۔
- ۔ مسلم ، رقم 2758۔ ابوداؤد، رقم 2433۔
- ۔ بخاری، رقم 1976، 1979۔ مسلم ، رقم 2746۔
- ۔ مسلم ، رقم 2744۔
- ۔ نسائی، رقم 2422۔
- ۔ نسائی، رقم 2360۔ احمد، رقم 21246۔
- ۔ مسلم ، رقم 2747۔
- ۔ بخاری، رقم 1969، 1970۔ مسلم ، رقم 2721، 2722۔
- ۔ بخاری، رقم 1979۔ مسلم ، رقم 2729۔
- ۔ بخاری، رقم 1984، 1985۔ مسلم ، رقم 2681، 2683، 2684۔
- ۔ بخاری، رقم 1976۔ مسلم ، رقم 2747۔
- ۔ بخاری، رقم 1990، 1991۔ مسلم، رقم 2671، 2672۔
- ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی چیز تھوڑے ہی عرصے میں بدعت بن جاتی، دوسری زندگی کا توازن درہم برہم کردیتی او ر تیسری بالکل بے محل ہوتی جس کے لیے اِس دین قیم میں ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی۔
- ۔مسلم، رقم 2503، 2514۔ مطلب یہ ہے کہ اصل چیز چاند دیکھنا نہیں، بلکہ مہینے کی ابتدا یا خاتمے کا علم ہے، وہ جس طریقے سے بھی ہو جائے، اُسی کے مطابق روزہ رکھو یا افطار کرو۔
- ۔بخاری، رقم 1914۔ مسلم، رقم 2518۔
- ۔بخاری، رقم 1923۔ مسلم، رقم2549۔
- ۔بخاری، رقم 1927۔ مسلم، رقم 2576۔
- ۔بخاری، رقم 1931۔ مسلم، رقم 2589۔
- ۔بخاری، رقم 1933۔ مسلم، رقم 2716۔
- ۔بخاری، رقم 2025۔2027۔ مسلم، رقم 2772، 2780۔
- ۔بخاری، رقم 1936۔ مسلم ، رقم 2595۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کفارہ اُسی وقت واجب ہوتا ہے، جب ’یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا‘ جیسی کوئی ضرورت پیش آ جائے۔