ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے بنتے ہیں۔ ہر ریکارڈ مشکل اور محنت کی سطح ایک درجہ مزید بلند کردیتا اور چیلنج دیتا ہے کہ آؤ مجھے توڑ کر دکھاؤ؛ اور ہر بار کوئی عالی حوصلہ پیدا ہوتا ہے جو اسے شکست دے کر نیا ریکارڈ بنا دیتا ہے۔ دنیا کی ساری ترقی چیلنج قبول کرنے اور اگلوں سے آگے بڑھ کر کچھ کر دکھانے کے جتن اورحوصلے کی مرہونِ منت ہے۔ ایک سے بڑھ کرایک ذہانت اور حوصلوں کا سلسلہ ہے جو دراز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ گویا ’ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ‘ کا مظہرِ خداوندی ہے۔
ریکارڈ ایک بار بننے کے بعد اگر نہ ٹوٹتے تو کسی بھی کھیل یا شعبے میں کوئی دل چسپی باقی نہ رہ جاتی۔ حوصلے پست ہوجاتے۔ لوگ بور ہوجاتے۔ لیکن اسی دنیا میں ایک شعبہ ایسا بھی سمجھا جاتا ہے جہاں ایک بار بننے کے بعد ریکارڈ توڑنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ یہ علوم دینیہ کا شعبہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں جو علمی ریکارڈ اگلوں نے قائم کر دیے، وہ اب قیامت تک ٹوٹ نہیں سکتے۔ نئی نسلوں کے حوصلوں کو پرواز سے پہلے ہی حدِ پرواز بتا دی جاتی ہے کہ اس سے آگے بڑھنا منع ہے، ورنہ پرجل جائیں گے!
وہ خدا جو زندگی کے ہرشعبے کو اعلیٰ سے اعلیٰ تر ذہانتیں اورصلاحیتیں عطا کرتا چلا جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ مان لیا گیا ہے کہ وہ اپنے دین کے لیے اس سخاوت پر آمادہ نہیں ہے۔ تسلیم کرایا گیا ہے کہ جو لوگ اتفاقاً پہلے پیدا ہوئے وہ علم، ذہانت اور قابلیت ہی میں نہیں، بلکہ تقویٰ میں بھی اتنے برتر تھے کہ ان کے معیار کو چھونے کا تصور بھی محال ہے۔ طالبِ علم کو سبق کے پہلے ہی دن باور کرا دیا جاتا ہے کہ آپ کا کام اگلوں کی عبارات کی نقول پیش کرنا اور ان کے کھینچے ہوئے دائروں میں رہ کر غور و فکر کرنا ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح ابتدا ہی میں حوصلے، ذوق اور تجسس کا خون کر دیا جاتا ہے۔
علوم دینیہ کے شعبہ میں زوال کی وجہ نالائقی نہیں، بلکہ یہ تصور ہے کہ طالب علم کے پاس اگلوں کے علم کی حاشیہ آرائی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
ذرائع علم میں جو حیرت انگیز سہولتیں اس دور میں پیدا ہوگئی ہیں، اس کے بعد یہ بالکل ممکن ہے کہ ایسے افراد پیدا ہوں جو اگلوں سے آگے بڑھ جائیں۔
تفقہ فی الدین کنواں نہیں، علم کا دریا ہے، اسے بہتے رہنا چاہیے، نئے برگ و بار پیدا ہوتے رہنے چاہییں تاکہ چمن میں تازگی اور آرایش کا سلسلہ جاری رہے۔