عن ابنِ الرَّفيلِ، عن أبيه، قال: رأى رُسْتَمُ بالدَّيْرِ أنَّ مَلَكًا جاءَ حتّى دخَلَ عَسْكَرَ فارسٍ، فخَتَمَ السِّلاحَ أجمعَ.
عن سيف، عَنْ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ، وَشَارَكَهُمُ النَّضْرُ بِإِسْنَادِهِ، قَالُوا: … فَلَمَّا نَزَلَ رُسْتُمُ النَّجَفَ عَادَتْ عَلَيْهِ الرُّؤْيَا، فَرَأَى ذَلِكَ الْمَلَكُ ومعه النبي صلی اللّٰہ علیه وسلم وَعُمَرُ، فَأَخَذَ الْمَلَكُ سِلاحَ أَهْلِ فارسٍ فَخَتَمَهُ، ثُمَ دَفَعَهُ اِلَى النَّبِيِ صلی اللّٰہ علیه وسلم، فَدَفَعَهُ النَّبِيُّ صلی اللّٰہ علیه وسلم إِلَى عُمَرَ، فَأَصْبَحَ رُسْتُمُ فَازْدَادَ حُزْنًا، فَلَمَّا رَأَى الرُّفَيْلُ ذَلِكَ رَغِبَ فِي الإِسْلامِ، فَكَانَتْ دَاعِيَتُهُ إِلَى الإِسْلامِ.
(تاریخ الطبری 3/510-509)
’’رفیل نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ رستم نے دیر کے مقام پر خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ آ کر اہل فارس کے لشکر میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے تمام ہتھیار جمع کر کے ان پر مہر لگا دی ہے۔
سیف، محمد اور ان کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں، جب کہ اس اسناد میں ان کے ساتھ نضر بھی شامل ہیں … پھر جب رستم نجف کے مقام پر پہنچا تو اس نے یہی خواب دوبارہ دیکھا۔ اب اس نے دیکھا کہ اس فرشتے کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر بھی ہیں۔ فرشتے نے اہل فارس کے ہتھیار لے کر ان پر مہر لگا دی اور پھر انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔ آپ نے انھیں سیدنا عمر کے حوالے کر دیا۔ صبح ہوئی تو رستم کے غم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ جب رفیل نے (رستم کا خواب سنا اور) یہ کیفیت دیکھی تو اس کے دل میں اسلام کی رغبت پیدا ہو گئی۔ یہی (بعد میں) اس کے اسلام قبول کرنے کا محرک بنا۔“
شرح ووضاحت
لشکر کے ہتھیار جمع کر کے ان پر مہر لگا دینا، گویا جنگی قوت کو ختم کر دینے کی تعبیر ہے اور ہتھیاروں کو جمع کر کے کسی کے سپرد کر دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل فارس کی سلطنت کا مالک اب کسی اور کو بنا دیا گیا ہے۔ خواب میں فرشتے کے ساتھ دکھائی دینے والے دو افراد کی تعیین کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر تھے، واقعے کے راوی رُفیل کا قیاس ہے۔ ظاہر ہے، رستم دونوں شخصیات کو نہیں پہچانتا تھا۔ غالباً اس نے دونوں کا حلیہ بیان کیا ہوگا اور پھر رُفیل نے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں سے معلومات حاصل کر کے یہ متعین کیا ہوگا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر کی شخصیات تھیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے خواب کی تعبیر سے قیاساً یہ فرض کیا ہو کہ فرشتے نے اگر اہل فارس کے ہتھیار ایک شخص کے سپرد کیے ہیں اور اس نے وہ دوسرے کو دے دیے ہیں تو اس سے، بالترتیب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر ہی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ واقعہ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ الکلاعی نے بھی رفیل کے حوالے سے نقل کیا ہے (الاكتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء 2/442)۔
(6)
عَنْ سَيْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَطَلْحَةَ وَزِيَادٍ وَعَمْرٍو بِإِسْنَادِهِمْ، قَالُوا: لَمَّا أَبَى المَلِكُ إِلَّا السَّيْرَ كَتَبَ رُسْتَمُ إِلَى أَخِيهِ وَإِلَى رُءُوسِ أَهْلِ بِلَادِهِمْ: مِنْ رُسْتَمَ إِلَى البِنْدُوَانِ، مَرْزُبَانِ البَابِ وَسَهْمِ أَهْلِ فَارِسَ، الَّذِي كَانَ ]يُعِدُّ لِكُلِّ عَظِيمَةٍ[، فَيَفُضُّ اللَّهُ بِهِ كُلَّ جُنْدٍ عَظِيمٍ شَدِيدٍ، وَيَفْتَحُ بِهِ كُلَّ حِصْنٍ حَصِينٍ، ] وَمَنْ قِبَلَهُ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ فَارِسَ وَالْمَرَازِبَةِ وَالْأَسَاوِرَةِ[، فَرُمُّوا حُصُونَكُمْ، وَأَعِدُّوا وَاسْتَعِدُّوا، فَكَأَنَّكُمْ بِالعَرَبِ ]هٰذِهِ الأُمَّةِ الذَّلِيلَةِ كَانَتْ عِنْدَكُمُ الْخَسِيسَةَ الْمَنْزِلَةِ الضَّيِّقَةَ الْمَعِيشَةِ[ قَدْ وَرَدُوا بِلَادَكُمْ، وَقَارَعُوكُمْ عَنْ أَرْضِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ، وَقَدْ كَانَ مِنْ رَأْيِي مُدَافَعَتُهُمْ وَمُطَاوَلَتُهُمْ حَتَّى تَعُودَ سُعُودُهُمْ نُحُوسًا، فَأَبَى المَلِكُ …
عَنْ سَيْفٍ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ يَزْدَجِرْدَ لَمَّا أَمَرَ رُسْتَمَ بِالخُرُوجِ مِنْ سَابَاطَ كَتَبَ إِلَى أَخِيهِ بِنَحْوٍ مِنَ الكِتَابِ الأَوَّلِ، وَزَادَ فِيهِ: فَإِنَّ السَّمَكَةَ قَدْ كَدَّرَتِ المَاءَ، وَإِنَّ النَّعَائِمَ قَدْ حَسُنَتْ، وَحَسُنَتِ الزُّهْرَةُ، وَاعْتَدَلَ المِيزَانُ، وَذَهَبَ بَهْرَامُ، وَلَا أَرَى هَؤُلَاءِ القَوْمَ إِلَّا سَيَظْهَرُونَ عَلَيْنَا، وَيَسْتَوْلُونَ عَلَى مَا يَلِينَا، وَإِنَّ أَشَدَّ مَا رَأَيْتُ أَنَّ المَلِكَ قَالَ: لَتَسِيرَنَّ إِلَيْهِمْ أَوْ لَأَسِيرَنَّ إِلَيْهِمْ أَنَا بِنَفْسِي، فَأَنَا سَائِرٌ إِلَيْهِمْ. (تاریخ الطبری 3/506)
’’ سیف، محمد، طلحہ، زیاد، عمرو اپنی اسناد کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ جب بادشاہ (یزدگرد) نے اصرار کیا کہ (مسلمانوں کی طرف) پیش قدمی کی جائے تو رستم نے اپنے بھائی کو اور اپنی مملکت کے سرداروں کو خط لکھا: رستم کی طرف سے بندوان کے نام جو الباب کا سرحدی محافظ اور اہل فارس کا تیر (یعنی ہتھیار) ہے، اور ہر بڑے معرکے کے لیے سامان جنگ تیار رکھتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ ہر بڑے اور طاقت ور لشکر کو تتر بتر اور ہر مضبوط قلعے کو فتح کرتا رہا ہے، اور اہل فارس کے ان سرداروں اور سرحد کے محافظوں اور گھڑسواروں کے نام جو بندوان کے پاس موجود ہیں! تم لوگ اپنے قلعوں کو خوب محفوظ بنا لو اور سامان جنگ تیار کر لو اور خود بھی تیار رہو، کیونکہ عرب کی یہ ذلیل قوم جو تمھاری نظروں میں بہت پست مقام رکھتی اور خوراک کی تنگی کا شکار رہتی تھی، اب تمھارے ملک میں داخل ہو کر تمھیں تمھاری زمین سے بے دخل اور تمھارے بیٹوں سے محروم کیا ہی چاہتی ہے۔ میری راے تو یہ تھی کہ ان کو حملے سے روک کر رکھا جائے اور ان کو ٹالا جائے، یہاں تک کہ یہ وقت جو ان کے لیے سازگار ہے، ناسازگار ہو جائے، لیکن بادشاہ نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ …
سیف، صلت بن بہرام اور ایک آدمی سے روایت ہے کہ یزد گرد نے جب رستم کو ساباط سے نکلنے کا حکم دیا تو اس نے اپنے بھائی کی طرف پہلے خط کی طرح ایک اور خط لکھا۔ رستم نے خط میں مزید لکھا کہ بے شک، مچھلی نے پانی کو گدلا کر رکھا ہے، اور ستارے اچھے مقام پر ہیں اور زہرہ بھی اچھی جگہ پر ہے، میزان (کے دونوں پلڑے) برابر ہیں اور مریخ آگے گزر چکا ہے۔ (یہ جنگ کے لیے اچھا وقت نہیں ہے) اور مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ لوگ ہم پر غالب آ جائیں گے اور ہمارے علاقے پر قابض ہوجائیں گے۔ میرے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ بادشاہ نے کہا ہے کہ یا تو تم ان کی طرف پیش قدمی کرو یا پھر میں خود ان سے لڑنے کے لیے نکلوں گا، اس لیے میں ان کی طرف پیش قدمی کرنے لگا ہوں۔“
لغوی تشریح
’مَرْزُبَان‘: ساسانی سلطنت کے نظام میں سرحدی علاقے کا محافظ۔ ’مرازبة ‘ اس کی جمع ہے۔
’الأَسَاوِرَة‘: ’إِسْوَار/أُسْوَار‘ کی جمع ہے۔ فارسی لشکر میں گھڑسوار جنگ جوؤں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
’السَّمَكَةَ‘: لفظی مطلب مچھلی ہے۔ یہاں مراد برج حوت (Pisces)ہے، جس میں ستارے مچھلی کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
’النَّعَائِمَ‘: ’ نعامة‘ کی جمع ہے، جو شتر مرغ کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد چاند کی بیسویں منزل میں دکھائی دینے والے ستارے ہیں، جو شتر مرغ کی لمبی ٹانگوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
’الزُّهْرَةُ‘: یعنی نظام شمسی کا دوسرا سیارہ (Venus)۔
’المِيزَانُ‘: یعنی برج میزان (Libra)، جس کے ستارے ایک ترازو کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔
’بَهْرَامُ‘:یعنی نظام شمسی کا چوتھا سیارہ، مریخ(Mars)۔
’رُمُّوا‘: رم کا مطلب ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرنا ہوتا ہے۔ ’رُمُّوا حُصُونَكُمْ ‘کا مطلب ہوگا: اپنے قلعوں کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کر کے انھیں محفوظ بناؤ۔
’قَارَعُوكُمْ‘: ’قرع‘ سے ہے، جس کا مطلب کسی چیز کو زور سے بجانا ہے۔ ’مقارعة‘، یعنی ایک دوسرے کے خلاف زورِ بازو آزمانا، برسر پیکار ہونا۔ ’قَارَعُوكُمْ عَنْ أَرْضِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ ‘ کا مطلب ہوگا: یہ تم سے لڑ کر تمھاری زمین چھیننا اور تمھاری قوم کے بیٹوں سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔
شرح ووضاحت
رستم، اہل فارس کی روایت کے مطابق، علم نجوم سے شغف رکھتا تھا۔ اسی تناظر میں اس نے اپنے خط میں برج حوت اور برج میزان کے ستاروں اور دیگر سیاروں کی پوزیشن کا ذکر کیا ہے، جو اس کے خیال میں یہ بتا رہی تھی کہ یہ وقت اہل فارس کے لیے جنگی نقطۂ نظر سے سازگار نہیں۔ اس سے پہلے یزدگرد کے دربار میں بدشگونی کے متعدد واقعات بھی پیش آ چکے تھے اور بعض خوابوں سے بھی رستم کو اسی قسم کے اشارے ملے تھے۔ ان سب امور کے پیش نظر رستم کا ذاتی رجحان یہ تھا کہ اہل عرب کے ساتھ جنگ کرنے کے بجاے انھیں ٹالنے کی کوشش کی جائے، لیکن یزدگرد کے اصرار پر اسے مجبوراً اپنا لشکر لے کر مسلمانوں کے مقابلے کے لیے نکلنا پڑا۔
تخریج اور اختلاف طرق
سیف بن عمر کی روایت سے یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاكتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء 2/439)۔ الکلاعی کے متن میں بعض جملوں کے الفاظ مختلف اور بعض جملے زائد ہیں۔ عربی متن میں بریکٹ میں درج جملے وہیں سے لیے گئے ہیں۔
(7)
عَنْ سَيْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَطَلْحَةَ وَزِيَادٍ وَعَمْرٍو بِإِسْنَادِهِمْ، قَالُوا: لَمَّا فَصَلَ رُسْتَمُ مِنْ سَابَاطَ لَقِيَهُ جَابَانُ عَلَى القَنْطَرَةِ، فَشَكَا إِلَيْهِ وَقَالَ: أَلَا تَرَى مَا أَرَى؟ فَقَالَ لَهُ رُسْتَمُ: أَمَّا أَنَا فَأُقَادُ بِخِشَاشٍ وَزِمَامٍ، وَلَا أَجِدُ بُدًّا مِنَ الانْقِيَادِ. وَأَمَرَ الجَالِنُوسَ حَتَّى قَدِمَ الحِيرَةَ، فَمَضَى وَاضْطَرَبَ فُسْطَاطُهُ بِالنَّجَفِ، وَخَرَجَ رُسْتَمُ حَتَّى يَنْزِلَ بِكُوثَى، وَكَتَبَ إِلَى الجَالِنُوسَ وَالآزَاذَمَرْدِ: أَصِيبَا لِي رَجُلًا مِنَ العَرَبِ مِنْ جُنْدِ سَعْدٍ. فَرَكِبَا بِأَنْفُسِهِمَا طَلِيعَةً، فَأَصَابَا رَجُلًا فَبَعَثَا بِهِ إِلَيْهِ وَهُوَ بِكُوثَى، فَاسْتَخْبَرَهُ ثُمَّ قَتَلَهُ. (تاریخ الطبری 3/507)
’’سیف بن عمر نے محمد، طلحہ، زیاد اور عمرو سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: جب رستم ساباط سے روانہ ہوا تو پل پر اس کی ملاقات (ایرانی کمانڈر) جابان سے ہوئی۔ جابان نے اس سے شکایت کی اور کہا: کیا تم بھی وہی نہیں دیکھ رہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ رستم نے جواب دیا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تو ایک نکیل اور لگام کے ساتھ کھینچا جا رہا ہوں، اور میرے پاس کھنچے چلے جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
پھر اس نے جالینوس سے کہا کہ وہ حیرہ کی طرف جائے۔ چنانچہ جالینوس نے جا کر نجف میں اپنے لشکرکے خیمے لگا لیے، جب کہ رستم کوثیٰ کی طرف گیا اور وہاں ٹھہر گیا۔ اس نے جالینوس اور آزادمرد کو لکھا کہ سعد کی فوج میں سے کسی عربی کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیجو۔ وہ دونوں خود ایک دستہ لے کر نکلے اور ایک شخص کو پکڑ کر اسے رستم کے پاس کوثیٰ بھیج دیا۔ رستم نے اس سے کچھ پوچھ گچھ کی، اور پھر اسے قتل کر دیا۔“
لغوی تشریح
’خِشَاش‘: اونٹ کے نتھنے میں ڈالی جانے والی نکیل۔
تخریج اور اختلاف طرق
سیف بن عمر کی روایت سے یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاكتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء 2/440-441)۔
(8)
عَن ابْنِ الرُّفَيلِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا فَصَلَ رُسْتَمُ وَأَمَرَ الجَالِنُوسَ بِالتَّقَدُّمِ إِلَى الحِيرَةِ أَمَرَهُ أَنْ يُصِيبَ لَهُ رَجُلًا مِنَ العَرَبِ، فَخَرَجَ هُوَ وَالآزَاذَمَرْدُ سَرِيَّةً فِي مِائَةٍ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى القَادِسِيَّةِ، فَأَصَابَا رَجُلًا دُونَ قَنْطَرَةِ القَادِسِيَّةِ فَاخْتَطَفَاهُ، فَنَفَرَ النَّاسُ فَأَعْجَزُوهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَ المُسْلِمُونَ فِي أُخْرَيَاتِهِمْ. فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى النَّجَفِ سَرَّحَا بِهِ إِلَى رُسْتَمَ وَهُوَ بِكُوثَى.
فَقَالَ لَهُ رُسْتَمُ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ وَمَاذَا تَطْلُبُونَ؟ قَالَ: جِئْنَا نَطْلُبُ مَوْعُودَ اللّٰهِ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: أَرْضُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَدِمَاؤُكُمْ إِنْ أَبَيْتُمْ أَنْ تُسْلِمُوا. قَالَ رُسْتَمُ: فَإِنْ قُتِلْتُمْ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: فِي مَوْعُودِ اللّٰهِ أَنَّ مَنْ قُتِلَ مِنَّا قَبْلَ ذَلِكَ أَدْخَلَهُ الجَنَّةَ، وَأَنْجَزَ لِمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَا قُلْتُ لَكَ، فَنَحْنُ عَلَى يَقِينٍ. فَقَالَ رُسْتَمُ: قَدْ وَضَعَنَا إِذًا فِي أَيْدِيكُمْ. قَالَ: وَيْحَكَ يَا رُسْتَمُ! إِنَّ أَعْمَالَكُمْ وَضَعَتْكُمْ فَأَسْلَمَكُمُ اللّٰهُ بِهَا، فَلَا يَغُرَّنَّكَ مَا تَرَى حَوْلَكَ، فَإِنَّكَ لَسْتَ تُحَاوِلُ الإِنْسَ، إِنَّمَا تُحَاوِلُ القَضَاءَ وَالقَدَرَ! فَاسْتَشَاطَ غَضَبًا، فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ.
وَخَرَجَ رُسْتَمُ مِنْ كُوثَى حَتَّى يَنْزِلَ بِبُرْسٍ، فَغَصَبَ أَصْحَابُهُ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ وَوَقَعُوا عَلَى النِّسَاءِ وَشَرِبُوا الخُمُورَ، فَضَجَّ العُلُوجُ إِلَى رُسْتَمَ وَشَكَوْا إِلَيْهِ مَا يَلْقَوْنَ فِي أَمْوَالِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ، فَقَامَ فِيهِمْ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ أَهْلِ فَارِسَ، وَاللّٰهِ لَقَدْ صَدَقَ العَرَبِيُّ، وَاللّٰهِ مَا أَسْلَمَنَا إِلَّا أَعْمَالَنَا، وَاللّٰهِ لَلْعَرَبُ فِي هَؤُلَاءِ —وَهُمْ لَهُمْ وَلَنَا حَرْبٌ— أَحْسَنُ سِيرَةً مِنْكُمْ، إِنَّ اللّٰهَ كَانَ يَنْصُرُكُمْ عَلَى العَدُوِّ وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي البِلَادِ بِحُسْنِ السِّيرَةِ وَكَفِّ الظُّلْمِ وَالوَفَاءِ بِالعُهُودِ وَالإِحْسَانِ، فَأَمَّا إِذْ تَحَوَّلْتُمْ عَنْ ذَلِكَ إِلَى هَذِهِ الأَعْمَالِ فَلَا أَرَى اللّٰهَ إِلَّا مُغَيِّرًا مَا بِكُمْ، وَمَا أَنَا بِآمِنٍ أَنْ يَنْزِعَ اللّٰهُ سُلْطَانَهُ مِنْكُمْ. وَبَعَثَ الرِّجَالَ فَلَقَطُوا لَهُ بَعْضَ مَنْ يُشْكَى، فَأُتِيَ بِنَفَرٍ فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمْ. (تاریخ الطبری 3/508-507)
’’ابن رفیل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے بتایا: جب رستم (ساباط سے) روانہ ہوا اور اس نے جالینوس کو حکم دیا کہ وہ حیرہ کی طرف پیش قدمی کرے تو اس سے کہا کہ وہ کسی عربی کو پکڑ کر اس کے پاس بھیجے۔ چنانچہ جالینوس اور آزادمرد 100 آدمیوں کا ایک دستہ لے کر نکلے، یہاں تک کہ قادسیہ پہنچے۔ وہاں انھوں نے قادسیہ کے پل کے قریب ایک شخص کو پکڑ ا اور اسے اٹھا کر لے گئے۔ مسلمان ان کے پیچھے دوڑے، مگر وہ ان سے بچ نکلے، اور دستے کے پچھلے حصے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ مسلمان انھیں نہیں پکڑ سکے۔ جب جالینوس اور آزادمرد نجف پہنچے تو اس شخص کو رستم کے پاس بھیج دیا، جو اس وقت کوثیٰ میں تھا۔
رستم نے اس سے پوچھا: تم یہاں کیوں آئے ہو؟ اور کیا چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہم وہ چیز پانے کے لیے آئے ہیں، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ رستم نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تمھارا علاقہ، تمھارے بیٹے اور تمھاری جانیں، اگر تم اسلام قبول کرنے سے انکار کرو۔ رستم نے کہا: اگر تم اس سے پہلے قتل کر دیے گئے تو؟ اس نے کہا: اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو ہم میں سے فتح سے پہلے قتل ہو گئے، وہ انھیں جنت میں داخل کرے گا، اور جو زندہ رہیں گے، ان کے لیے اس وعدے کو پورا کرے گا جو میں نے تمھیں بتایا ہے۔ سو ہمیں اس پر پورا یقین ہے۔ رستم نے کہا: تو گویا اس نے ہمیں تمھارے ہاتھوں میں دے دیا ہے! اس نے کہا: تیرا ناس ہو رستم! تمھارے اعمال نے تمھیں اس حال تک پہنچایا ہے اور اللہ نے انھی کے سبب سے تمھیں ہمارے حوالے کر دیا ہے، اس لیے جو کچھ تمھیں اپنے ارد گرد نظر آ رہا ہے، اس سے دھوکا نہ کھاؤ، کیونکہ تم انسانوں سے نہیں، بلکہ (اللہ کی) تقدیر اور قضا سے مقابلہ کر رہے ہو۔ یہ سن کر رستم غضب ناک ہو گیا اور حکم دیا کہ اس کی گردن مار دی جائے تو اس کی گردن مار دی گئی۔
پھر رستم کوثیٰ سے نکلا تاکہ برس میں جا کر پڑاؤ ڈالے۔ وہاں اس کے ساتھیوں نے لوگوں کے مال چھینے، عورتوں پر دست درازی کی اور شرابیں پینے لگے۔ اس پر عوام چیخ اٹھے اور رستم کے پاس شکایت لے کر آئے اور بتایا کہ ان کے مال اور اولاد کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ رستم اپنے ساتھیوں کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: اے اہلِ فارس، اللہ کی قسم، اس عربی نے سچ کہا تھا۔ اللہ کی قسم، ہمیں ہمارے اعمال نے ہی ہلاک کیا ہے۔ اللہ کی قسم، عربوں نے ان لوگوں کے ساتھ تم سے بہتر سلوک کیا ہے، حالاں کہ وہ ان کے اور ہمارے دشمن ہیں۔ اللہ تمھیں دشمن پر اس وقت تک فتح دیتا رہا اور اس سرزمین میں تمھیں غلبہ دیتا رہا جب تک تمھاری سیرت اچھی تھی، تم ظلم سے بچتے تھے، عہد پورا کرتے تھے اور بھلائی کرتے تھے۔ لیکن جب تم نے ان اچھے اعمال کو چھوڑ کر یہ برے کام شروع کیے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اللہ تمھارے غلبے کو (شکست سے) بدل دے گا، اور مجھے خوف ہے کہ اللہ تم سے اپنی سلطنت چھین لے۔ پھر اس نے آدمی بھیجے جو کچھ مجرموں کو گرفتار کر کے لائے۔ چند آدمی لائے گئے اور رستم نے ان کی گردنیں اڑا دیں۔“
لغوی تشریح
’العُلُوجُ‘: ’عِلج‘ کی جمع ہے۔ تنومند اور مضبوط جسم کے مالک کو کہتے ہیں۔ عموماً عجم کے اہل کفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
شرح ووضاحت
1۔ پکڑے گئے عربی کو غصے میں آکر قتل کرانے سے رستم کی ذہنی کشمکش اور اس کی دوہری شخصیت واضح ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ علم نجوم کی روشنی میں یہ سمجھتا ہے کہ اہل عرب کو اس جنگ میں فتح حاصل ہونے والی ہے۔ اہل عرب کے اخلاقی رویے اور اہل فارس کی بدکرداری کے تقابل سے بھی اس کے یقین میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن یہی بات عربی کے منہ سے سن کر وہ خود پر قابو نہیں رکھ پاتا اور اپنے قومی پندار کے مجروح ہونے پر غصے میں آ کر اسے قتل کرا دیتا ہے۔
2۔ رستم نے اہل فارس کی اخلاقی صورت حال کو اسی تناظر میں ان کی متوقع شکست کا سبب قرار دیا ہے۔ اس کا ذکر اہل فارس کے دوسرے ذمہ دار افراد کے ہاں بھی ملتا ہے، جیسا کہ بعض آثار میں دیکھا جا سکے گا۔ یہ اہل فارس کے ہاں حکومت وسلطنت سے متعلق پائے جانے والے مذہبی و اخلاقی تصورات پر مبنی ہے۔ ان کے مذہبی ادب اور بادشاہوں کے فرامین میں حکومت و اقتدار کے، عدل وانصاف کے ساتھ مشروط ہونے کا ذکر اور اس کے بغیر اپنا جواز کھو دینے کا ذکر کثرت سے ہوا ہے۔ ساسانی بادشاہوں میں سے بعض مثلاً انوشیروان اور اردشیر وغیرہ کے نام اس حوالے سے تاریخی مثالوں کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاكتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء 2/440-441)۔
(9)
عَنْ سَيْفٍ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الرُّفَيلِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: … وَكَتَبَ جَابَانُ إِلَى جُشْنَسْمَاهَ: إِنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ زَالَ أَمْرُهُمْ، وَأُدِيلَ عَدُوُّهُمْ عَلَيْهِمْ، وَذَهَبَ مُلْكُ الْمَجُوسِيَّةِ، وَأَقْبَلَ مُلْكُ الْعَرَبِ وَأُدِيلَ دِينُهُمْ، فَاعْتَقِدْ مِنْهُمُ الذِّمَّةَ، وَلَا تَخْلُبَنَّكَ الْأُمُورُ، وَالْعَجَلَ الْعَجَلَ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذَ! فَلَمَّا وَقَعَ الْكِتَابُ إِلَيْهِ خَرَجَ جُشْنَسْمَاهُ إِلَيْهِمْ حَتَّى أَتَى الْمُعَنَّى، وَهُوَ فِي خَيْلٍ بِالْعَتِيقِ، وَأَرْسَلَهُ إِلَى سَعْدٍ، فَاعْتَقَدَ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَمَنْ اسْتَجَابَ لَهُ وَرَدَّهُ، وَكَانَ صَاحِبَ أَخْبَارِهِمْ. (تاریخ الطبری 3/507)
’’ سیف، نضر بن سری، ابن رفیل سے روایت ہے کہ ان کے والد رفیل کا بیان ہے کہ (یزدگرد کے شاہی نجومی) جابان نے گُشنسب ماہ کو لکھا کہ اہل فارس کی سلطنت زوال سے دوچار ہونے والی ہے اور ان کے دشمن کو ان پر غلبہ ملنے والا ہے اور مجوسیت کا اقتدار ختم ہونے والا ہے۔ اب اہل عرب کے اقتدار کا دور ہے اور ان کے دین کو غلبہ ملنے والا ہے، اس لیے تم اہل عرب کے ساتھ ذمہ کا معاہدہ کر لو اور معاملات کا ظاہر تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ کام جلد سے جلد کر لو، اس سے پہلے کہ زد میں آ جاؤ۔ جب گُشنسب ماہ کو خط ملا تو وہ اہل عرب کی طرف نکلا اور (ان کے امیر) مُعنیٰ سے ملا جو اپنے گھڑسواروں کے ساتھ مقام عتیق پر موجود تھا۔ مُعنیٰ نے اسے سعد بن ابی وقاص کے پاس بھیج دیا اور سعد نے اسے اس کی جان، اس کے خاندان اور دوسرے لوگوں کے لیے جو اس کی بات مان لیں، عقد ذمہ دے کر اسے واپس بھیج دیا۔ (اس کے بعد) گُشنسب ماہ انھیں (اہل فارس کی) اطلاعات پہنچانے لگا۔‘‘
لغوی تشریح
’أُدِيلَ‘: ’دولة‘ سے مشتق ہے، جس کا لفظی مطلب پانسا پلٹ جانا ہے۔ ’أُدِيلَ عَدُوُّهُمْ عَلَيْهِمْ‘ کا مطلب ہوگا: دشمن کو ان کے خلاف کامیابی مل گئی ہے۔
’لَا تَخْلُبَنَّكَ‘: ’خلب‘ سے ہے، یعنی دھوکا دینا۔ (حدیث میں ہے: ’إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلَابَةَ‘، یعنی جب کوئی سودا کرو تو کہہ دیا کرو کہ دھوکا نہیں چلے گا)۔
شرح ووضاحت
1۔ جابان، یزدگرد کے دربار کا شاہی نجومی تھا۔ اپنے علم کی رو سے اس پر بھی واضح ہو گیا تھا کہ اہل فارس کی سلطنت کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔ چنانچہ اس نے سرداران فارس میں سے ایک سردار گشنسب ماہ کے ساتھ ذاتی تعلق کی بنا پر اس کی خیر خواہی کرتے ہوئے اسے خفیہ طور پر اس سے آگاہ کر دیا اور اسے مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں سے اپنے لیے امان حاصل کر لے۔
2۔ اہل عرب ساسانی سلطنت کے سرکاری مذہب، زرتشتیت (Zoroastrianism) کو مجوسیت سے تعبیر کرتے تھے۔ مجوسی (Magians) دراصل زرتشتی مذہب کے معبدوں میں مذہبی رسوم بجا لانے والے خاص طبقے کا نام تھا۔ اس مناسبت سے عرب میں اس مذہب کے لیے مجوسیت کی تعبیر رائج ہو گئی۔ قرآن مجید نے بھی اس مذہب کے پیروکاروں کا ذکر ’المجوس‘ کے نام سے ہی کیا ہے (الحج 22: 17)۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاكتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء 2/440-441)۔
(10)
عَنْ ابْنِ الرَّفِيلِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رُسْتُمُ عَلَى العَتِيقِ وَبَاتَ بِهِ أَصْبَحَ غَادِيًا عَلَى التَّصَفُّحِ وَالحَزْرِ، فَسَايَرَ العَتِيقَ نَحْوَ خُفَّانَ، حَتَّى أَتَى عَلَى مُنْقَطَعِ عَسْكَرِ المُسْلِمِينَ، ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى القَنْطَرَةِ، فَتَأَمَّلَ القَوْمَ حَتَّى أَتَى عَلَى شَيْءٍ يُشْرِفُ مِنْهُ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى القَنْطَرَةِ رَاسَلَ زُهْرَةَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى وَاقَفَهُ، فَأَرَادَهُ أَنْ يُصَالِحَهُمْ، وَيَجْعَلَ لَهُ جُعْلًا عَلَى أَنْ يَنْصَرِفُوا عَنْهُ، وَجَعَلَ يَقُولُ فِيمَا يَقُولُ: أَنْتُمْ جِيرَانُنَا، وَقَدْ كَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فِي سُلْطَانِنَا، فَكُنَّا نُحْسِنُ جِوَارَهُمْ، وَنَكُفُّ الأَذَى عَنْهُمْ، وَنُوَلِّيهِمُ المَرَافِقَ الكَثِيرَةَ، نَحْفَظُهُمْ فِي أَهْلِ بَادِيَتِهِمْ، فَنَرْعِيَهِمْ مَرَاعِينَا، وَنَمِيرُهُمْ مِنْ بِلَادِنَا، وَلا نَمْنَعُهُمْ مِنَ التِّجَارَةِ فِي شَيْءٍ مِنْ أَرْضِنَا، وَقَدْ كَانَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ مَعَاشٌ – يُعَرِّضُ لَهُمْ بِالصُّلْحِ، وَإِنَّمَا يُخْبِرُهُ بِصَنِيعِهِمْ، وَالصُّلْحَ يُرِيدُ وَلا يُصَرِّحُ –
فَقَالَ لَهُ زُهْرَةُ: صَدَقْتَ، قَدْ كَانَ مَا تَذْكُرُ، وَلَيْسَ أَمْرُنَا أَمْرَ أُولَئِكَ وَلا طِلْبَتَنَا، إِنَّا لَمْ نَأْتِكُمْ لِطَلَبِ الدُّنْيَا، إِنَّمَا طِلْبَتُنَا وَهِمَّتُنَا الآخِرَةُ، كُنَّا كَمَا ذَكَرْتَ يَدِينُ لَكُمْ مَنْ وَرَدَ عَلَيْكُمْ مِنَّا، وَيَضْرَعُ إِلَيْكُمْ يَطْلُبُ مَا فِي أَيْدِيكُمْ، ثُمَّ بَعَثَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْنَا رَسُولًا، فَدَعَانَا إِلَى رَبِّهِ فَأَجَبْنَاهُ، فَقَالَ لِنَبِيِّهِ صلی اللّٰہ علیه وسلم: إِنِّي قَدْ سَلَّطْتُ هَذِهِ الطَّائِفَةَ عَلَى مَنْ لَمْ يَدِنْ بِدِينِي، فَأَنَا مُنْتَقِمٌ بِهِمْ مِنْهُمْ، وَأَجْعَلُ لَهُمُ الغَلَبَةَ مَا دَامُوا مُقِرِّينَ بِهِ، وَهُوَ دِينُ الحَقِّ، لا يَرْغَبُ عَنْهُ أَحَدٌ إِلَّا ذَلَّ، وَلا يَعْتَصِمُ بِهِ أَحَدٌ إِلَّا عَزَّ.
فَقَالَ لَهُ رُسْتُمُ: وَمَا هُوَ؟
قَالَ: أَمَّا عَمُودُهُ الَّذِي لاَ يَصْلُحُ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا بِهِ فَشَهَادَةُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، وَالإِقْرَارُ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَعَالَى.
قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا! وَأَيُّ شَيْءٍ أَيْضًا؟
قَالَ: وَإِخْرَاجُ العِبَادِ مِنْ عِبَادَةِ العِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللّٰهِ تَعَالَى.
قَالَ: حَسَنٌ، وَأَيُّ شَيْءٍ أَيْضًا؟
قَالَ: وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَحَوَّاءَ، إِخْوَةٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ. قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا!
ثُمَّ قَالَ لَهُ رُسْتُمُ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي رَضِيتُ بِهَذَا الأَمْرِ وَأَجَبْتُكُمْ إِلَيْهِ وَمَعِي قَوْمِي كَيْفَ يَكُونُ أَمْرُكُمْ؟ أَتَرْجِعُونَ؟
قَالَ: إِيْ وَاللّٰهِ، ثُمَّ لا نَقْرَبُ بِلَادَكُمْ أَبَدًا إِلَّا فِي تِجَارَةٍ أَوْ حَاجَةٍ.
قَالَ: صَدَقْتَنِي وَاللّٰهِ، أَمَا إِنَّ أَهْلَ فَارِسَ مُنْذُ وَلِيَ أَرْدَشِيرُ لَمْ يَدَعُوا أَحَدًا يَخْرُجُ مِنْ عَمَلِهِ مِنَ السَّفِلَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا خَرَجُوا مِنْ أَعْمَالِهِمْ: تَعَدَّوْا طَوْرَهُمْ وَعَادَوا أَشْرَافَهُمْ.
فَقَالَ لَهُ زُهْرَةُ: نَحْنُ خَيْرُ النَّاسِ لِلنَّاسِ، فَلا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَكُونَ كَمَا تَقُولُونَ، نُطِيعُ اللّٰهَ فِي السَّفِلَةِ، وَلا يَضُرُّنَا مَنْ عَصَى اللّٰهَ فِينَا.
فَانْصَرَفَ عَنْهُ، وَدَعَا رِجَالَ فَارِسَ فَذَاكَرَهُمْ هَذَا، فَحَمُوا مِنْ ذَلِكَ وَأَنِفُوا، فَقَالَ: أَبْعَدَكُمُ اللّٰهُ وَأَسْحَقَكُمْ! أَخْزَى اللّٰهُ أَخْرَعَنَا وَأَجْبَنَنَا!
فَلَمَّا انْصَرَفَ رُسْتُمُ مِلْتُ إِلَى زُهْرَةَ، فَكَانَ إِسْلَامِي، وَكُنْتُ لَهُ عَدِيدًا، وَفُرِضَ لِي فَرَائِضُ أَهْلِ القَادِسِيَّةِ. (تاریخ الطبری 3/517- 518)
’’ابنِ رفیل نے اپنے والد رفیل سے نقل کیا ہے: جب رستم مقامِ عتیق پر آ کر ٹھہرا اور وہاں رات گزاری تو اگلی صبح (لشکر کا) جائزہ لینے اور صورت حال کا اندازہ کرنے کے لیے نکلا۔ وہ عتیق سے مقامِ خفان کی طرف چلنے لگا، یہاں تک کہ مسلمانوں کے لشکر کے کنارے تک پہنچ گیا۔ پھر وہ بلندی کی طرف بڑھتے ہوئے پل پر پہنچ گیا۔ وہ مسلمانوں کے لشکر کا جائزہ لینے لگا، یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں وہ اوپر سے کھڑے ہو کر ان کو دیکھ سکے۔ جب وہ پل پر کھڑا ہوا تو اس نے (مسلمانوں کے امیر لشکر) زُہرہ کو پیغام بھیجا۔ زہرہ نکل کر آئے اور رستم کے روبرو کھڑے ہو گئے۔ رستم کا ارادہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو صلح کی پیشکش کرے اور اس پر آمادہ کرے کہ رستم انھیں ایک خاص رقم دے دے اور وہ یہاں سے واپس چلے جائیں۔ چنانچہ رستم نے اپنی گفتگو میں زُہرہ سے کہا : تم ہمارے پڑوسی ہو، اور تم میں سے ایک جماعت ہمارے زیرِ اقتدار بھی رہی ہے۔ ہم اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے تھے، اُنھیں تکلیف سے بچاتے تھے، اُنھیں بہت سی سہولیاتِ زندگی فراہم کرتے تھے، ہم اُن کے صحرا نشینوں کا خیال رکھتے تھے اور انھیں اپنی چراگاہوں میں جانور چرانے دیتے تھے۔ ہم اپنے ملک سے اُنھیں غلہ بھی دیتے تھے، اور اُنھیں اپنے علاقے میں کہیں بھی تجارت سے نہیں روکتے تھے، اور یہ ان کا ذریعۂ معاش تھا۔
(ان باتوں سے) رستم صلح کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ وہ زہرہ کو اہل فارس کا حسن سلوک بتا رہا تھا، جس سے اس کا مقصد صلح کی پیشکش تھا، لیکن وہ کھل کر یہ بات نہیں کہہ رہا تھا۔
زُہرہ نے اس کے جواب میں کہا: تم نے سچ کہا، صورت حال ایسی ہی تھی، لیکن ہمارا معاملہ اُن لوگوں جیسا نہیں ہے۔ ہم دنیا کے طالب نہیں، ہمارا مطلوب اور ہمارا مطمح نظر آخرت ہے۔ جیسا کہ تم نے بتایا، پہلے جو لوگ تمھارے پاس آتے تھے، وہ تمھارے تابع فرمان ہوتے تھے اور تمھارے پاس جو کچھ ہے، اس کے طلب گار ہوتے تھے۔ پھر اللہ نے ہماری طرف ایک رسول کو بھیجا، اُس نے ہمیں اپنے رب کی طرف بلایا، اور ہم نے اُس کی دعوت قبول کی۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا: میں نے (اپنے پیروکاروں کی) اس جماعت کو اُن لوگوں پر مسلط کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو میرے دین کو نہیں مانتے تاکہ ان کے ذریعے سے اُن سے انتقام لوں، اور جب تک یہ دین پر قائم رہیں گے، میں اُنھیں غلبہ دیے رکھوں گا۔ یہ دینِ حق ہے، جو اِسے چھوڑے گا وہ ذلیل ہوگا، اور جو اِسے مضبوطی سے تھام لے گا، وہ عزت پائے گا۔
رستم نے پوچھا: وہ دین کیا ہے؟
زُہرہ نے کہا: اُس کا ستون تو یہ ہے کہ یہ گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جو کچھ اللہ کی طرف سے آیا ہے، اُس پر ایمان لایا جائے۔
رستم نے کہا: یہ تو بہت اچھا ہے! اس کے علاوہ اور کیا ہے؟
زُہرہ نے کہا: بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لانا۔
رستم نے کہا: یہ بھی اچھا ہے! اور کیا ہے؟
زُہرہ نے کہا: سب انسان ایک ہی ماں باپ، آدم اور حوّا کی اولاد ہیں، اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
رستم نے کہا: یہ بھی بہت اچھا ہے! پھر اُس نے پوچھا: اگر میں اور میری قوم یہ دین قبول کر لے تو پھر تمھارا کیا مطالبہ ہوگا؟ کیا تم واپس چلے جاؤ گے؟
زُہرہ نے کہا: اللہ کی قسم، ہاں! (ہم چلے جائیں گے اور) پھر کبھی تمھارے ملک کے قریب نہیں آئیں گے، سواے تجارت یا کسی ضرورت کے۔
رستم نے کہا: بخدا، تم نے درست کہا، لیکن اردشیر کے زمانے سے اہل فارس کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ ادنیٰ طبقے کے کسی شخص کو اس کے خاص دائرۂ کار سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر کوئی اس سے نکلنے کی کوشش کرے تو کہتے ہیں کہ اُس نے اپنی اوقات سے تجاوز کیا اور اپنے اشراف کی مخاصمت کا رویہ اپنایا ہے۔
زُہرہ نے کہا: ہم، لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہیں اور ہم وہ طریقہ اختیار نہیں کر سکتے جو تم بتا رہے ہو۔ ہم کم تر حیثیت رکھنے والوں کے متعلق بھی اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اور ہم میں جو اللہ کی نافرمانی کرنا چاہے، ہم اس کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
اس کے بعد رستم اپنی قوم کے پاس واپس گیا اور یہ باتیں اُنھیں سنائیں۔ وہ اس پر غضب ناک ہوئے اور غیرت میں آ گئے (اور رستم کو بزدلی کے طعنے دینے لگے)۔ رستم نے کہا: اللہ تمھیں ہلاک اور نابود کرے! ہم میں سے جو بزدل اور کم زور ہو، اللہ اس کو رسوا کرے!
(رفیل کہتے ہیں) جب رستم واپس چلا گیا تو میں (اہل فارس کو چھوڑ کر) زُہرہ کی طرف آ گیا، اور یہی میرے قبول اسلام کا سبب تھا۔ مجھے قادسیہ کے لشکر میں شمار کیا گیا اور اُنھی کے برابر مجھے (غنیمت میں سے) حصہ بھی دیا گیا۔“
لغوی تشریح
’نَمِيرُ‘: ’مِيرَة‘ غلے اور خوراک کو کہتے ہیں۔ ’مارَ عِيالَه‘ کا مطلب ہوگا: اپنے گھر والوں کے لیے خوراک کا انتظام کیا۔ (وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا۔ یوسف12: 65 )
’السَّفِلَة‘: یعنی معاشرے کے پست طبقے، رذیل لوگ۔
’حَمُوا‘: ’حَمِيَّة‘ سے ہے، شدید غیرت محسوس کرنا۔
’أَنِفُوا‘:کسی بات پر شدید ناگواری محسوس کرنا، غضب ناک ہو جانا۔
’أَخْرَعَ‘:کم زور، کم ہمت۔
’عَدِيد‘: جس کو کسی گروہ میں سے شمار کیا جائے، اگرچہ وہ ان میں سے نہ ہو (العَدِيدُ من القَوْمِ: مَنْ يُعَدُّ فِيهِمْ وَلَيْسَ مَعَهم۔تاج العروس 356/8)
شرح ووضاحت
1۔ یزدگرد کے دربار میں ہونے والی گفتگو کے بعد ایرانی سپہ سالار رستم کے ساتھ مسلمانوں کا یہ پہلا مکالمہ ہے، جو تاریخی مصادر میں نقل ہوا ہے۔ اس میں مسلمانوں کی نمایندگی زہرہ بن جویہ (یا حویہ) نے کی، جن کا تعلق بنو سعد سے تھا اور وہ عرب لشکر کے مقدمۃ الجیش کے امیر تھے۔ رستم نے اپنی گفتگو میں، یزدگرد کے طریقے کو اپناتے ہوئے، ابتداءً زہرہ کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ کچھ سامان زندگی لے کر واپس لوٹ جائیں۔ اس میں ناکامی کے بعد اس نے ایک دفعہ پھر ان سے اسلام کی بنیادی تعلیم کے متعلق سوالات کیے۔ زہرہ نے اپنے جواب میں اس پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا کہ اسلام، لوگوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لانا چاہتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے کی صورت میں اہل فارس کو اپنی سلطنت میں حاکم اور محکوم طبقوں کا موجودہ امتیاز ختم کرنا پڑے گا۔
2۔ اہل فارس کے ہاں رائج طبقاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے رستم نے اردشیر کا حوالہ دیا ہے، جس نے تیسری صدی عیسوی میں پارتھی سلطنت کا خاتمہ کر کے ساسانی خاندان کی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ ساسانی سلطنت میں ایرانی معاشرہ مختلف طبقات میں تقسیم تھا اور ہر طبقہ اپنی مخصوص ذمہ داریوں کی ادائیگی کا پابند سمجھا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر کوئی خاص پیشہ یا ہنر سیکھنے والے سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اسی تک خود کو محدود رکھے اور دوسرے اہل پیشہ کے کام میں دل چسپی نہ لے۔ سب سے نچلا طبقہ عام لوگوں کا تھا، جن کے لیے اپنے سماجی رتبے سے بلند ہو کر بالاتر طبقوں میں شامل ہونے کے مواقع بہت محدود تھے (مفید رائف محمود العابد، معالم تاریخ الدولۃ الساسانیہ، دار الفکر دمشق، 1990، ص 129)۔
رستم اس سے پہلے یزدگرد کے دربار میں بھی دیکھ چکا تھا اور دوسرے مشاہدات اور معلومات سے بھی اس کے علم میں تھا کہ اہل عرب جس نئے دین کے تحت متحد ہوئے ہیں، اس میں اس طرح کی درجہ بندی اور طبقاتی تقسیم روا نہیں رکھی جاتی۔ اسلام کی تعلیم کو اصولاً پسند کرنے کے باوجود رستم نے اس خاص پہلو سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور بتایا کہ فارسی سلطنت میں طبقاتی تقسیم پر مبنی جو نظام رائج ہے، یہاں کے بالادست طبقات اس میں کسی تبدیلی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
تخریج اور اختلاف طرق
رفیل کا بیان کردہ یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے، البتہ واقعے کے آخر میں رفیل کے قبول اسلام سے متعلق جملہ اس میں شامل نہیں (الاكتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء2/457)۔