عن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: لَمَّا جَاءَ الْمُغِيرَةُ إِلَى الْقَنْطَرَةِ فَعَبَرَهَا إِلَى أَهْلِ فَارِسَ حَبَسُوهُ وَاسْتَأْذَنُوا رُسْتُمَ فِي إِجَازَتِهِ، وَلَمْ يُغَيِّرُوا شَيْئًا مِنْ شَارَتِهِمْ تَقْوِيَةً لِتَهَاوُنِهِمْ، فَأَقْبَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَالْقَوْمُ فِي زِيِّهِمْ، عَلَيْهِمُ التِّيجَانُ وَالثِّيَابُ الْمَنْسُوجَةُ بِالذَّهَبِ، وَبُسُطُهُمْ عَلَى غَلْوَةٍ لا يَصِلُ إِلَى صَاحِبِهِمْ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَيْهِمْ غَلْوَةً، وَأَقْبَلَ الْمُغِيرَةُ وَلَهُ أَرْبَعُ ضَفَائِرَ يَمْشِي، حَتَّى جَلَسَ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ وَوِسَادَتِهِ، فَوَثَبُوا عَلَيْهِ فَتَرْتَرُوهُ وَأَنْزَلُوهُ وَمَغَثُوهُ، فَقَالَ: كَانَتْ تَبْلُغُنَا عَنْكُمُ الأَحْلامُ وَلا أَرَى قَوْمًا أَسْفَهَ مِنْكُمْ! إِنَّا مَعْشَرَ الْعَرَبِ سَوَاءٌ، لا يَسْتَعْبِدُ بَعْضُنَا بَعْضًا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مُحَارِبًا لِصَاحِبِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّكُمْ تُوَاسُونَ قَوْمَكُمْ كَمَا نَتَوَاسَى، وَكَانَ أَحْسَنَ مِنَ الَّذِي صَنَعْتُمْ أَنْ تُخْبِرُونِي أَنَّ بَعْضَكُمْ أَرْبَابُ بَعْضٍ، وَأَنَّ هَذَا الأَمْرَ لا يَسْتَقِيمُ فِيكُمْ فَلا نَصْنَعُهُ، وَلَمْ آتِكُمْ وَلَكِنْ دَعَوْتُمُونِي، الْيَوْمَ عَلِمْتُ أَنَّ أَمْرَكُمْ مُضْمَحِلٌّ وَأَنَّكُمْ مَغْلُوبُونَ، وَأَنَّ مُلْكًا لا يَقُومُ عَلَى هَذِهِ السِّيرَةِ وَلا عَلَى هَذِهِ الْعُقُولِ.
فَقَالَتِ السَّفَلَةُ: صَدَقَ وَاللّٰهِ الْعَرَبِيُّ، وَقَالَتِ الدَّهَّاقِينُ: وَاللّٰهِ لَقَدْ رَمَى بِكَلامٍ لا يَزَالُ عَبِيدُنَا يَنْزَعُونَ إِلَيْهِ، قَاتَلَ اللّٰهُ أَوَّلينَا، مَا كَانَ أَحْمَقَهُمْ حِينَ كَانُوا يُصَغِّرُونَ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ! فَمَازَحَهُ رُسْتُمُ لِيَمْحُوَ مَا صَنَعَ، وَقَالَ لَهُ: يَا عَرَبِيُّ، إِنَّ الْحَاشِيَةَ قَدْ تَصْنَعُ مَا لا يُوَافِقُ الْمَلِكَ، فَيَتَرَاخَى عَنْهَا مَخَافَةَ أَنْ يَكْسِرَهَا عَمَّا يَنْبَغِي مِنْ ذَلِكَ، فَالأَمْرُ عَلَى مَا تُحِبُّ مِنَ الْوَفَاءِ وَقُبُولِ الْحَقِّ، مَا هَذِهِ الْمَغَازِلُ الَّتِي مَعَكَ؟ قَالَ: مَا ضَرَّ الْجَمْرَةَ أَلاَّ تَكُونَ طَوِيلَةً! ثُمَّ رَامَاهُمْ. وَقَالَ:مَا بَالُ سَيْفِكَ رَثًّا! قَالَ: رَثُّ الْكِسْوَةِ حَدِيدُ الْمَضْرَبَةِ، ثُمَّ عَاطَاهُ سَيْفَهُ.
ثُمَّ قَالَ لَهُ رُسْتُمُ: تَكَلَّمُ أَمْ أَتَكَلَّمُ؟ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: أَنْتَ الَّذِي بَعَثْتَ إِلَيْنَا فَتَكَلَّمْ، فَأَقَامَ التَّرْجُمَانُ بَيْنَهُمَا، وَتَكَلَّمَ رُسْتُمُ، فَحَمِدَ قَوْمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُمْ وَطَوَّلَهُ، وَقَالَ: لَمْ نَزَلْ مُتَمَكِّنِينَ فِي الْبِلادِ، ظَاهِرِينَ عَلَى الأَعْدَاءِ، أَشْرَافًا فِي الأُمَمِ، فَلَيْسَ لأَحَدٍ مِنَ الْمُلُوكِ مِثْلُ عِزِّنَا وَشَرَفِنَا وَسُلْطَانِنَا، نُنْصَرُ عَلَى النَّاسِ وَلا يُنْصَرُونَ عَلَيْنَا إِلاَّ الْيَوْمَ وَالْيَوْمَيْنِ أَوِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ لِلذُّنُوبِ، فَإِذَا انْتَقَمَ اللَّهُ فَرَضِيَ رَدَّ إِلَيْنَا عِزَّنَا، وَجَمَعَنَا لِعَدُوِّنَا شَرَّ يَوْمٍ هُوَ آتٍ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي النَّاسِ أُمَّةٌ أَصْغَرُ عِنْدَنَا أَمْرًا مِنْكُمْ، كُنْتُمْ أَهْلَ قَشَفٍ وَمَعِيشَةٍ سَيِّئَةٍ، لاَ نَرَاكُمْ شَيْئًا وَلاَ نَعُدُّكُمْ، وَكُنْتُمْ إِذَا قَحِطَتْ أَرْضُكُمْ وَأَصَابَتْكُمُ السَّنَةُ اسْتَغَثْتُمْ بِنَاحِيَةِ أَرْضِنَا، فَنَأمُرُ لَكُمْ بِالشَّيءِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ ثُمَّ نَرُدُّكُمْ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْكُمْ عَلَى مَا صَنَعْتُمْ إِلاَّ مَا أَصَابَكُمْ مِنَ الْجَهْدِ فِي بِلادِكُمْ، فَأَنَا آمِرٌ لأَمِيرِكُمْ بِكِسْوَةٍ وَبَغْلٍ وَأَلْفِ دِرْهَمٍ، وَآمِرٌ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِوِقْرِ تَمْرٍ وَبِثَوْبَيْنِ، وَتَنْصَرِفُونَ عَنَّا، فَإِنِّي لَسْتُ أَشْتَهِي أَنْ أَقْتُلَكُمْ وَلاَ آسِرَكُمْ.
فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَرَازِقُهُ، فَمَنْ صَنَعَ شَيْئًا فَإِنَّمَا هُوَ الَّذِى يَصْنَعُهُ هُوَ لَهُ، وَأَمَّا الَّذِي ذَكَرْتَ بِهِ نَفْسَكَ وَأَهْلَ بِلادِكَ مِنَ الظُّهُورِ عَلَى الأَعْدَاءِ وَالتَّمَكُّنِ فِي الْبِلادِ وَعِظَمِ السُّلْطَانِ فِي الدُّنْيَا فَنَحْنُ نَعْرِفُهُ وَلَسْنَا نُنْكِرُهُ، فَاللّٰهُ صَنَعَهُ بِكُمْ وَوَضَعَهُ فِيكُمْ، وَهُوَ لَهُ دُونَكُمْ، وَأَمَّا الَّذِي ذَكَرْتَ فِينَا مِنْ سُوءِ الْحَالِ وَضِيقِ الْمَعِيشَةِ وَاخْتِلافِ الْقُلُوبِ فَنَحْنُ نَعْرِفُهُ وَلَسْنَا نُنْكِرُهُ، وَاللّٰهُ ابْتَلانَا بِذَلِكَ وَصَيَّرَنَا إِلَيْهِ، وَالدُّنْيَا دُوَلٌ، وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ شَدَائِدِهَا يَتَوَقَّعُونَ الرَّخَاءِ حَتَّى يَصِيرُوا إِلَيْهِ، وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ رَخَائِهَا يَتَوَقَّعُونَ الشَّدَائِدَ حَتَّى تَنْزِلَ بِهِمْ وَيَصِيرُوا إِلَيْهَا، وَلَوْ كُنْتُمْ فِيمَا آتَاكُمُ اللّٰهُ ذَوِي شُكْرٍ كَانَ شُكْرُكُمْ يَقْصُرُ عَمَّا أُوتِيتُمْ، وَأَسْلَمَكُمْ ضَعْفُ الشُّكْرِ إِلَى تَغَيُّرِ الْحَالِ، وَلَوْ كُنَّا فِيمَا ابْتُلِينَا بِهِ أَهْلَ كُفْرٍ كَانَ عَظِيمُ مَا تَتَابَعَ عَلَيْنَا مُسْتَجْلِبًا مِنَ اللّٰهِ رَحْمَةً يُرَفِّهُ بِهَا عَنَّا، وَلَكِنَّ الشَّأْنَ غَيْرُ مَا تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ أَوْ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَنَا بِهِ، إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى بَعَثَ فِينَا رَسُولاً —ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ الْكَلامِ الأَوَّلِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ:—وَإِنِ احْتَجْتَ إِلَيْنَا أَنْ نَمْنَعَكَ فَكُنْ لَنَا عَبْدًا تُؤَدِّي الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتَ صَاغِرٌ، وَإِلاَّ فَالسَّيْفُ إِنْ أَبَيْتَ! فَنَخَرَ نَخْرَةً وَاسْتَشَاطَ غَضَبًا، ثُمَّ حَلَفَ بِالشَّمْسِ لا يَرْتَفِعُ لَكُمُ الصُّبْحُ غَدًا حَتَّى أَقْتُلَكُمْ أَجْمَعِينَ.
فَانْصَرَفَ الْمُغِيرَةُ، وَخَلَصَ رُسْتُمُ تَأَلُّفًا بِأَهْلِ فَارِسَ، وَقَالَ: أَيْنَ هَؤُلاءِ مِنْكُمْ؟ مَا بَعْدَ هَذَا! أَلَمْ يَأْتِكُمُ الأَوَّلَانِ فَحَسَرَاكُمْ وَاسْتَحْرَجَاكُمْ، ثُمَّ جَاءَكُمْ هَذَا فَلَمْ يَخْتَلِفُوا، وَسَلَكُوا طَرِيقًا وَاحِدًا، وَلَزِمُوا أَمْرًا وَاحِدًا، هَؤُلاَءِ وَاللّٰهِ الرِّجَالُ، صَادِقِينَ كَانُوا أَمْ كَاذِبِينَ! وَاللّٰهِ لَئِنْ كَانَ بَلَغَ مِنْ إِرْبِهِمْ وَصَوْنِهِمْ لِسِرِّهِمْ أَلا يَخْتَلِفُوا فَمَا قَوْمٌ أَبْلَغُ فِيمَا أَرَادُوا مِنْهُمْ، لَئِنْ كَانُوا صَادِقِينَ مَا يَقُومُ لِهَؤُلاءِ شَيْءٌ! فَلَجُّوا وَتَجَلَّدُوا، وَقَالَ: وَاللّٰهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكُمْ تَصْغَونَ إِلَى مَا اَقُولُ لَكُمْ، وَاَنَّ هٰذَا مِنْكُمْ رِيَاءٌ، فَازْدَادُوا لَجَاجَةً.
(تاریخ الطبری 3/ 518-524)
’’ابو عثمان النہدی کا بیان ہے کہ جب مغیرہ پل تک گئے اور اسے عبور کر کے اہل فارس کے پاس پہنچے تو انھوں نے انھیں روک لیا اور رستم سے ان کو آگے بھیجنے کی اجازت چاہی۔ اہل فارس نے اپنی بے اعتنائی کا تاثر مضبوط بنانے کے لیے اپنے بنائے ہوئے ماحول میں سے کوئی چیز تبدیل نہیں کی تھی۔ مغیرہ بن شعبہ آئے تو وہ لوگ اپنی اسی پوشاک میں موجود تھے۔ ان کے سروں پر تاج اور سونے سے آراستہ ملبوسات تھے، ان کے قالین کافی وسیع جگہ پر بچھے ہوئے تھے اور مغیرہ کافی دور تک ان قالینوں پر چلے بغیر رستم تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ مغیرہ کے سر پر بھی بالوں کی چار چوٹیاں تھیں۔ وہ چلتے ہوئے آگے بڑھے اور رستم کے ساتھ اس کے تخت اور تکیے پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ رستم کے محافظ ان پر پل پڑے، انھیں جھنجھوڑا اور رگیدا اور تخت سے نیچے اتار دیا۔ مغیرہ نے کہا: ہمیں تمھارے متعلق عقل مند ہونے کی خبریں پہنچتی تھیں، لیکن مجھے تم سے زیادہ احمق کوئی قوم دکھائی نہیں دیتی۔ ہم عرب کے لوگ سب برابر ہوتے ہیں، کوئی کسی کو اپنا بندہ نہیں بناتا، سواے اس کے کہ وہ کسی کے خلاف جنگ کر رہا ہو۔ میرا گمان تھا کہ تم اہل فارس بھی اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی برابری کا سلوک کرتے ہو، جیسے ہم کرتے ہیں۔ جو کچھ تم نے کیا ہے، اس سے تو بہتر یہ تھا کہ تم مجھے پہلے ہی بتا دیتے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے آقا اور غلام ہو اور یہ کہ (آقا کے برابر بیٹھنے کا) یہ طریقہ تمھارے ہاں روا نہیں، تو ہم ایسا نہ کرتے۔ اور میں خود تمھارے پاس نہیں آیا، بلکہ تم نے مجھے بلایا ہے (اور پھر اس کا پاس نہیں رکھا)۔ آج میں جان گیا ہوں کہ تمھارا اقتدار زوال پذیر ہے اور تم مغلوب ہونے والے ہو اور یہ کہ (کسی قوم کا) اقتدار اس طرح کے کردار اور ایسی عقلوں کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔
(مغیرہ کی باتیں سن کر) ان میں سے نچلے طبقے کے لوگوں نے کہا کہ بخدا، یہ عربی سچ کہہ رہا ہے، جب کہ ان کے سردار کہنے لگے کہ بخدا، اس نے ایسی بات کر دی ہے کہ ہمارے غلام اب اس کی طرف مائل ہوتے جائیں گے۔ اللہ ہمارے اگلوں کو برباد کرے، وہ اس امت کو معمولی اور حقیر جاننے میں کتنے نادان تھے! پھر رستم، مغیرہ کی باتوں کا اثر زائل کرنے کے لیے ان کے ساتھ مزاح کرنے لگا۔ اس نے کہا: اے عربی، بعض دفعہ اہل دربار ایسے کام کر گزرتے ہیں جن پر بادشاہ راضی نہیں ہوتا، لیکن وہ ان سے درگذر کرتا ہے تاکہ کہیں ان کا حوصلہ نہ توڑ دے۔ پس بات کی پاس داری اور حق کو قبول کرنے میں معاملہ ویسے ہی ہونا چاہیے، جیسے تمھیں پسند ہے۔ (پھر اس نے مغیرہ کے نیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا): یہ تمھارے پاس تکلے کیسے ہیں؟ مغیرہ نے کہا کہ انگارہ اگر بہت لمبا نہ بھی ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ پھر مغیرہ نے ان کو اپنی نیزہ بازی کا ہنر دکھایا۔ رستم نے کہا کہ یہ تمھاری تلوار کی نیام اتنی بوسیدہ کیوں ہے؟ مغیرہ نے کہا کہ نیام بوسیدہ ہے، لیکن پھل تیز دھار ہے۔ پھر مغیرہ نے اپنی تلوار (دیکھنے کے لیے) رستم کے ہاتھ میں پکڑا دی۔
پھر رستم نے کہا: تم بات کرو گے یا میں بات کروں؟ مغیرہ نے کہا: تم نے ہی تو پیغام بھیج کر بلوایا ہے، تو تم ہی بات کرو۔ رستم نے درمیان میں ترجمان کو کھڑا کیا۔ رستم نے بات کا آغاز کیا اور اپنی قوم کی تعریف اور ان کی سلطنت کی بڑائی اور وسعت بیان کی۔ اس نے کہا کہ ہم اس سرِزمین میں طاقت ور اور دشمنوں پر غالب چلے آ رہے ہیں، قوموں میں ہمیں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور بادشاہوں میں کسی کو ہمارے جیسا عز و شرف اور اقتدار حاصل نہیں۔ ہم دشمنوں پر غالب آتے ہیں اور دشمن ہم پر غالب نہیں ہوتے، مگر چند دنوں یا ایک دو مہینوں کے لیے ہمارے گناہوں کے سبب (وقتی طور پر انھیں ہم پر غلبہ مل جاتا ہے)۔ پھر جب اللہ ہمارے گناہوں کی سزا دے کر ہم سے راضی ہو جاتا ہے تو ہماری عزت ہمیں لوٹا دیتا ہے اور ہمیں اپنے دشمنوں کے خلاف ایک ایسے دن کے لیے اکٹھا کر دیتا ہے جو ان کی قسمت کا بدترین دن ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ ہمارے نزدیک قوموں میں تم اہل عرب سے زیادہ معمولی قوم کوئی نہیں تھی۔ تم تنگ دستی او ربدحالی کا شکار رہتے تھے اور ہم تمھاری نہ کوئی حیثیت سمجھتے تھے اور نہ تمھیں کسی شمار میں لاتے تھے۔ تمھارے علاقے میں جب قحط پھیلتا تھا تو تم ہماری سلطنت کے ایک کونے میں آ کر پناہ لے لیتے تھے اور ہم تمھیں کچھ کھجوریں اور وغیرہ دے کر واپس بھیج دیتے تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ تم لوگ جو یہاں آئے ہو، اس پر تمھیں اسی بدحالی نے مجبور کیا ہے، جس سے تم اپنے علاقے میں دوچار ہو۔ سو میں تمھارے امیر کو ایک جوڑا، ایک خچر اور ایک ہزار دینار اور تم میں سے ہر آدمی کو کھجور کا ٹوکرا اور دو دو کپڑے دینے کا حکم دے دیتا ہوں۔ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ، کیونکہ میں تمھیں قتل کرنے یا قیدی بنانے کی خواہش نہیں رکھتا۔
جواب میں مغیرہ بن شعبہ نے بات کی اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: بے شک، اللہ ہر چیز کا خالق اور رازق ہے؛ کوئی انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، حقیقت میں اللہ ہی اس کے لیے کرتا ہے۔ اور تم نے اپنے اور اپنی قوم کے متعلق جن باتوں کا ذکر کیا کہ تم دشمنوں پر غالب رہتے ہو، اور تمھاری سلطنت مضبوط ہے اور دنیا میں تمھیں عظیم اقتدار حاصل ہے، تو ہم اس کو جانتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ نے ہی تمھارے ساتھ یہ معاملہ کیا اور تمھیں اقتدار سونپا ہے جو حقیقت میں تمھارا نہیں، بلکہ اسی کا ہے۔ اور تم نے ہمارے بارے میں جو ذکر کیا ہے کہ ہم تنگ دستی، اور رزق کی کمی اور باہمی اختلاف اور تقسیم کا شکار رہے، وہ بھی ہم جانتے ہیں اور اس کے منکر نہیں؛ اللہ نے ہی ہمیں اس حالت میں مبتلا اور اس صورت حال سے دوچار کیا؛ دنیا کے حالات تو بدلتے رہتے ہیں؛ جو لوگ سختیوں میں مبتلا ہوں، وہ خوش حالی کے منتظر رہتے ہیں، یہاں تک کہ اس کو پا لیتے ہیں؛ اور جو راحت میں ہوتے ہیں، وہ بھی سنگین حالات کے منتظر رہتے ہیں، یہاں تک ان سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اگر تم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار ہوتے تو بھی تمھارا شکر ان نعمتوں کے برابر نہ ہوتا، اور تمھارے شکر کے ناکافی ہونے کے نتیجے میں تمھاری حالت تبدیل ہو جاتی؛ اسی طرح اگر ہم اپنی بدحالی میں ناشکرگزار ہوتے تو بھی ہم پر مسلسل طاری رہنے والے بڑے بڑے مصائب اس کا سبب بن جاتے کہ اللہ کی رحمت کو ہماری طرف متوجہ کریں اور وہ ہماری مشکلات میں تخفیف فرما دے۔ لیکن بات یہ ہے کہ معاملہ وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو اور ہماری صورت حال بھی وہ نہیں ہے جس سے تم (ماضی میں) ہمیں جانتے تھے۔ معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے ہم میں ایک رسول بھیجا —پھر مغیرہ نے وہی باتیں کہیں جو پہلے ذکر کی جا چکی ہیں —یہاں تک کہ انھوں نے کہا: اور اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمھاری حفاظت کریں تو ہمارے محکوم بن جاؤ اور مطیع بن کر پستی کی حالت میں جزیہ دینا قبول کر لو، اور اگر یہ قبول نہ کرو تو پھر تلوار ہے۔ یہ سن کر رستم کے نتھنے پھڑکنے لگے اور وہ غصے سے بھڑک اٹھا۔ پھر اس نے سورج کی قسم کھا کر کہا کہ کل کی صبح نمودار نہیں ہوگی کہ میں تم سب کو قتل کر چکا ہوں گا۔
اس کے بعد مغیرہ وہاں سے واپس آ گئے اور رستم نے اپنے فارس کے سرداروں کے ساتھ مشاورت کی اور کہا: ان لوگوں کا اور تمھارا کیا موازنہ ہے؟ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا؟ کیا ان کے پہلے دو نمایندے نہیں آئے تھے اور تمھیں ذلیل اور تنگ کر کے چلے گئے؟ پھر یہ شخص آیا (اور اس نے بھی ایسا ہی کیا)۔ ان کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں اور وہ سب ایک ہی طریقے پر چلے اور ایک ہی بات پر کاربند رہے۔ بخدا، یہی لوگ مرد ہیں، چاہے سچے ہوں یا جھوٹے۔ بخدا، اگر ان کے ارادے اور اپنے دل کی بات کو محفوظ رکھنے میں ان کی پختگی یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ ان کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے توان سے بڑھ کر کوئی قوم اپنی مراد کو پہنچنے والی نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ سچ کہہ رہے ہیں تو ان کے سامنے کوئی بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ یہ سن کر اہل فارس بحث کرنے اور اپنی مضبوطی ظاہر کرنے لگے۔ رستم نے کہا: بخدا، مجھے معلوم ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں، تم (دل میں) اس کی طرف مائل ہو، لیکن ظاہر کچھ اور کر رہے ہو۔ اس بات پر اہل فارس اس سے مزید جھگڑنے لگے۔‘‘
لغوی تشریح
’عَلَى غَلْوَةٍ‘: ’غَلْوَة‘ کا لفظی مطلب وہ فاصلہ ہوتا ہے جس تک کمان سے پھینکا گیا تیر پہنچ سکتا ہے۔ یہ تعبیر فاصلے یا جگہ کی وسعت کو بیان کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ ’عَلَى غَلْوَةٍ‘ کا مطلب یہ ہوگا کہ دربار میں زمین کے کافی وسیع حصے پر قالین بچھائے گئے تھے۔
’تَرْتَرُوهُ‘: یعنی جھنجھوڑا۔
’مَغَثُوهُ‘:یعنی رگیدا۔
’الْمَغَازِلُ‘:’مغزل‘ تکلے کو کہتے ہیں، جو چرخے میں سوت کو گھمانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نوک دار ہونے کی وجہ سے نیزے کے مشابہ ہوتا ہے۔ رستم یہاں طنزاً عربوں کے چھوٹے چھوٹے نیزوں کو تکلوں سے تعبیر کر رہا ہے۔
’اسْتَشَاطَ‘: ’شاط‘ سے مشتق ہے، جس میں سرکشی اور حد سے نکل جانے کا معنی پایا جاتا ہے۔ اہل لغت کے ایک قول کے مطابق شیطان کا اشتقاق بھی اسی سے ہوا ہے۔’اسْتَشَاطَ‘، یعنی غصے سے بھڑک اٹھا۔
شرح ووضاحت
1۔ رستم کے ساتھ اس کے تخت پر چڑھ کر بیٹھ جانے کا ظاہراً عجیب طرز عمل اختیار کرنے کا اصل مقصد اہل فارس کو ردعمل پر انگیخت کرنا اور پھر اس کی روشنی میں ان کو یہ جتلانا تھا کہ انھوں نے اپنی قوم کو آقا وبندہ میں تقسیم کر کے اور آقاؤں سے متعلق مصنوعی اور پرتکلف آداب وضع کر کے اپنی قوم کے نچلے طبقات کو احساس کہتری میں مبتلا کر رکھا ہے اور یوں ایک غیر انسانی طرز معاشرت کو اپنالیا ہے، جو ان کی قوت کا نہیں، بلکہ ان کی داخلی کم زوری کا غماز ہے اور اسی سے یہ پتا چل رہا ہے کہ ان کے اقتدار کے زوال کا وقت آ چکا ہے۔
2۔ مغیرہ بن شعبہ نے کسی قوم کو سلطنت واقتدار ملنے یا چھن جانے سے متعلق اللہ تعالیٰ کی عام تکوینی سنت کی بھی وضاحت کی ہے، جو دنیا میں جاری ہے اور اس کے ساتھ اس خاص موقع پر اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کو بھی بیان کیا ہے، جسے وہ اپنے نبی کی بعثت کے ذریعے سے رو بہ عمل کرنا چاہتا ہے۔ عام تکوینی سنت کی وضاحت کرتے ہوئے مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی قوم کو سلطنت واقتدار اور و سائل واسباب عطا کرنے اور کسی کو بدحالی اور تنگ دستی کی کیفیت میں مبتلا رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن کسی بھی قوم کے لیے یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ مغیرہ نے واضح کیا کہ اس عام سنت کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ چاہتا تو اہل فارس کو طویل عرصے تک اقتدار دینے کے بعد اسے ان سے چھین سکتا اور اہل عرب کی طویل بدحالی کے بعد انھیں زمین کے اسباب وو سائل کا مالک بنانے کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ تاہم بات صرف اتنی نہیں ہے، بلکہ اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنا ایک نبی اہل عرب میں مبعوث کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو مامور کیا ہے کہ وہ اس دین کی دعوت دوسری قوموں تک بھی پہنچائیں اور جو اسے قبول نہ کریں، انھیں زمین کے اقتدار سے محروم کر دیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اپنی بعثت کے اس تاریخی پس منظر اور مقصد کو یوں واضح فرمایا ہے:
عن عياض بن حمار المجاشعي، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال ذات يوم في خطبته: ألا إن ربي أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني يومي هذا، كل مال نحلتُه عبدًا حلال، وإني خلقت عبادي حنفاء كلهم، وإنهم أتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم، وحرمت عليهم ما أحللت لهم، وأمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانًا، وإن اللّٰه نظر إلى أهل الأرض فمقتهم عربهم وعجمهم إلا بقايا من أهل الكتاب، وقال: إنما بعثتك لأبتليك وأبتلي بك.
(مسلم، رقم 7386)
’’عیاض بن حمار مجاشعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ میں فرمایا:سنو، میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں وہ باتیں سکھاؤں جنھیں تم نہیں جانتے اور جو اس دن مجھے سکھائی گئی ہیں۔ ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا، وہ حلال ہے۔ اور میں نے اپنے سب بندوں کو فطرتِ توحید پر پیدا کیا، لیکن شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے ہٹا دیا، اور ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں، اور انھیں سکھایا کہ وہ میرے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جن کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اور اللہ نے اہلِ زمین کی طرف نظر کی تو ان سب سے ناراض ہوا، خواہ وہ عرب ہوں یا عجم، سواے چند باقی ماندہ اہلِ کتاب کے۔ اور اللہ نے (مجھ سے) فرمایا: میں نے تجھے بھیجا ہے تاکہ تجھے بھی آزماؤں اور تیرے ذریعے سے دوسروں کو بھی آزماؤں۔“
3۔ مغیرہ بن شعبہ کے اس جملے سے کہ’فَكُنْ لَنَا عَبْدًا تُؤَدِّي الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتَ صَاغِرٌ‘ (ہمارے محکوم بن جاؤ اور مطیع ہو کر پستی کی حالت میں جزیہ دینا قبول کر لو) جزیہ کی حقیقت بھی واضح ہو رہی ہے۔ اس عہد کے سیاسی تمدن میں جزیہ کی رقم محکومی اور زیردستی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جو محکوم اور مطیع قومیں خود سے طاقت ور اور بالادست قوموں کے اقدام جنگ سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے انھیں ادا کیا کرتی تھیں۔ رستم اسی لیے جزیہ کا سن کر بھڑک اٹھا اور بات چیت کو ختم کر دینے کا اعلان کیا۔
تخریج اور اختلاف طرق
رستم کے ساتھ مغیرہ بن شعبہ کا یہ مکالمہ سیف بن عمر کے طریق سے الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاکتفاء 2/457- 461)، البتہ دونوں نے مغیرہ بن شعبہ کی گفتگو کا ایک حصہ نقل کرنے پر اکتفا کیا اور باقی حصے سے متعلق دیگر روایات کا حوالہ دیا ہے جو آگے نقل کی گئی ہیں۔
(13)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: … فَكَلَّمَهُ رُسْتُمُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ كُنْتُمْ أَهْلَ شَقَاءٍ وَجَهْدٍ، وَكُنْتُمْ تَأْتُونَنَا مِنْ بَيْنَ تَاجِرٍ وَأَجِيرٍ وَوَافِدٍ، فَأَكَلْتُمْ مِنْ طَعَامِنَا، وَشَرِبْتُمْ مِنْ شَرَابِنَا، وَاسْتَظْلَلْتُمْ مِنْ ظِلالِنَا، فَذَهَبْتُمْ فَدَعَوْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، ثُمَّ أَتَيْتُمُونَا بِهِمْ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ مَثَلُ رَجُلٍ كَانَ لَهُ حَائِطٌ مِنْ عِنَبٍ، فَرَأَى فِيهِ ثَعْلَبًا وَاحِدًا، فَقَالَ: مَا ثَعْلَبٌ وَاحِدٌ! فَانْطَلَقَ الثَّعْلَبُ، فَدَعَا الثَّعَالِبَ إِلَى الْحَائِطِ، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَ فِيهِ جَاءَ الرَّجُلُ فَسَدَّ الْجُحْرَ الَّذِي دَخَلْنَ مِنْهُ، ثُمَّ قَتَلَهُنَّ جَمِيعًا. وَقَدْ أَعْلَمُ أَنَّ الَّذِي حَمَلَكُمْ عَلَى هَذَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ الْجَهْدُ الَّذِي قَدْ أَصَابَكُمْ، فَارْجِعُوا عَنَّا عَامَكُمْ هَذَا، فَإِنَّكُمْ قَدْ شَغَلْتُمُونَا عَنْ عِمَارَةِ بِلادِنَا وَعَنْ عَدُوِّنَا، وَنَحْنُ نُوقِرُ لَكُمْ رَكَائِبَكُمْ قَمْحًا وَتَمْرًا، وَنَأْمُرُ لَكُمْ بِكِسْوَةٍ، فَارْجِعُوا عَنَّا عَافَاكُمُ اللّٰهُ!
فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: لا تَذْكُرُ لَنَا جَهْدًا إِلاَّ وَقَدْ كُنَّا فِي مِثْلِهِ أَوْ أَشَدَّ مِنْهُ، أَفْضَلُنَا فِي أَنْفُسِنَا عَيْشًا الَّذِي يَقْتُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَيَأْخُذُ مَالَهُ فَيَأْكُلُهُ، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَالْعِظَامَ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ اللّٰهُ فِينَا نَبِيًّا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَدَعَانَا إِلَى اللّٰهِ وَإِلَى مَا بَعَثَهُ بِهِ، فَصَدَّقَهُ مِنَّا مُصَدِّقٌ وَكَذَّبَهُ مِنَّا آخَرُ، فَقَاتَلَ مَنْ صَدَّقَهُ مَنْ كَذَّبَهُ حَتَّى دَخَلْنَا فِي دِينِهِ، مِنْ بَيْنَ مُوقِنٍ بِهِ وَبَيْنَ مَقْهُورٍ، حَتَّى اسْتَبَانَ لَنَا أَنَّهُ صَادِقٌ، وَأَنَّهُ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ.
فَأَمَرَنَا أَنْ نُقَاتِلَ مَنْ خَالَفَنَا، وَأَخْبَرَنَا أَنَّ مَنْ قُتِلَ مِنَّا عَلَى دِينِهِ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ عَاشَ مَلَكَ وَظَهَرَ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ، فَنَحْنُ نَدْعُوكَ إِلَى أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَتَدْخُلَ فِي دِينِنَا، فَإِنْ فَعَلْتَ كَانَتْ لَكَ بِلادُكَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْكَ فِيهَا إِلا مَنْ أَحْبَبْتَ، وَعَلَيْكَ الزَّكَاةُ وَالْخُمُسُ، وَإِنْ أَبَيْتَ ذَلِكَ فَالْجِزْيَةُ، وَإِنْ أَبَيْتَ ذَلِكَ قَاتَلْنَاكَ حَتَّى يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ. (تاریخ الطبری 3/ 574)
’’عبد اللہ بن زبیر کا بیان ہے: رستم نے مغیرہ بن شعبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اے گروہ عرب، تم انتہائی بدحالی اور تنگ دستی کا شکار تھے اور تم تاجر اور مزدور اور مہمان بن کر ہمارے پاس آتے تھے اور ہماری خوراک کھاتے اور ہمارے مشروب پیتے اور ہماری سایہ دار جگہوں کے سایے میں ٹھہرتے تھے۔ پھر تم گئے اور اپنے ساتھیوں کو دعوت دے کر انھیں ہمارے پاس لے آئے۔ تمھاری مثال اس شخص کی ہے جس کا انگور کا ایک باغ تھا۔ اس نے اس میں ایک لومڑی کو دیکھا تو کہا کہ ایک لومڑی سے کیا ہوتا ہے! پھر وہ لومڑی گئی اور دوسری لومڑیوں کو بھی باغ میں لے آئی۔ جب وہ ساری اکٹھی ہو گئیں تو باغ کا مالک آیا اور اس نے وہ سوراخ بند کر کے جس سے لومڑیاں آئی تھیں، ان سب کو قتل کر دیا۔ اے گروہ عرب، مجھے معلوم ہے کہ تمھیں اس پر تمھاری بدحالی نے مجبور کیا جس میں تم مبتلا ہو۔ (میں تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ) اس سال یہاں سے واپس لوٹ جاؤ، کیونکہ تم نے ہماری توجہ اپنے ملک کی تعمیر اور ہمارے دشمن سے ہٹا دی ہے۔ ہم تمھاری سواریوں پر گندم اور کھجوریں لاد دیتے ہیں اور تمھیں پہننے کے لیے کپڑے بھی دے دیتے ہیں۔ تم یہاں سے واپس چلے جاؤ، اللہ تمھیں عافیت عطا کرے۔
مغیرہ بن شعبہ نے جواب میں کہا: تم ہماری جتنی بھی بدحالی بیان کرو، ہم واقعتاً اس میں، بلکہ اس سے زیادہ بدحالی میں مبتلا تھے۔ ہماری نظر میں سب سے افضل (اور بہادری کی) زندگی اس کی ہوتی تھی جو اپنے چچا زاد کو قتل کر کے اس کا مال ہڑپ کر لے۔ ہم مردار اور خون اور ہڈیاں کھاتے تھے۔ ہماری یہی حالت رہی، یہاں تک کہ اللہ نے ہمارے اندر ایک نبی کو بھیجا اور اس پر کتاب نازل کی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف اور جو اللہ نے اس کو دے کر بھیجا ہے، اس کی طرف بلایا۔ ہم میں سے کچھ نے اس کی تصدیق اور کچھ نے اسے جھٹلایا۔ پھر نبی کی تصدیق کرنے والوں نے جھٹلانے والوں کے خلاف جنگ کی، حتیٰ کہ ہم سب اس کے دین میں داخل ہو گئے، اس طرح کہ کچھ دل سے یقین رکھنے والے تھے اور کچھ نے جبراً اس کو قبول کیا، تاآنکہ ہم پر واضح ہو گیا کہ وہ نبی سچا ہے اور اللہ کی طرف سے رسول ہے۔
پھر اس نے ہمیں حکم دیا کہ جو ہمارے دین پر نہیں ہیں، ان کے خلاف جنگ کریں۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ جو ہمارے دین پر قتل ہوں گے، ان کو جنت ملے گی اور جو زندہ رہیں گے، ان کو دشمنوں پر اقتدار اور غلبہ نصیب ہوگا۔ سو ہم تمھیں دعوت دیتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو تمھارا ملک تمھارے پاس ہی رہے گا اور کوئی تمھارے ملک میں نہیں آئے گا، سواے ان کے جن کو تم پسند کرو۔ اور تمھیں زکوٰۃ اور خمس ادا کرنا ہوگا۔ اگر اس سے انکار کرتے ہو تو پھر جزیہ ادا کرو اور اگر اس سے بھی انکار کرتے ہو تو ہم تم سے جنگ کریں گے، یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمھارے مابین فیصلہ کر دے۔“
شرح وو ضاحت
1۔ گفتگو کے اس حصے میں مغیرہ بن شعبہ نے اتمام حجت کے اس عمل کی وضاحت کی ہے جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جزیرۂ عرب کے لوگوں پر واضح ہوئی اور انکار و مزاحمت اور جنگ وپیکار کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد طوعاً یا کرہاً پورے عرب نے آپ کی اطاعت کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد آپ کی پیروی قبول کرنے والی امت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں اس دین کی دعوت اپنے اردگرد کی دوسری اقوام تک بھی پہنچائیں اور جس طرح اس کے انکار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخاطبین کے خلاف قتال کا اقدام کیا، اسی طرح وہ بھی جزیرۂ عرب کے باہر دوسری قوموں پر اللہ کے اس فیصلے کو نافذ کر دیں۔ قرآن مجید میں اس ذمہ داری کے لیے ’’شہادت علی الناس“ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔
سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَجَاهِدُوا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِيكُمْ اِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ.
(22: 78)
’’اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو، جیسا کہ جدوجہد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمھیں چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔ اپنے باپ ابراہیم کی ملت (کی پیروی کرو)۔ اُسی نے تمھارا نام مسلم رکھا تھا، اِس سے پہلے بھی اور اِس قرآن میں بھی۔ اِس لیے چن لیا ہے کہ رسول تم پر (اِس دین کی) گواہی دے اور دنیا کے سب لوگوں پر تم (اِس کی) گواہی دینے والے بنو۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے اہل عرب پر اتمام حجت اور پھر ان پر شہادت علی الناس کی ذمہ داری عائد کیے جانے کی وضاحت صحابہ نے اس سے پہلے یزدگرد کے دربار میں بھی کی تھی اور رستم کے ساتھ ان کے مکالموں میں بھی بہ تکرار اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس مرحلے کے بعد رستم کے پاس ایک وفد کی صورت میں بھیجے جانے والے عرب نمایندوں کی گفتگو میں بھی یہ پہلو بہت وضاحت سے بیان ہوا ہے، جس کا ذکر آیندہ روایات میں آئے گا۔
2۔ اس روایت میں مغیرہ بن شعبہ کی گفتگو کے آخر میں ’وَعَلَيْكَ الزَّكَاةُ وَالْخُمُسُ‘ (اور تم پر زکوٰۃ اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا لازم ہوگا) کا جملہ بے محل اور راوی کے غلط قیاس کا نتیجہ ہے۔ رستم کے ساتھ مکالمے کا واقعہ طبری نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے اور اس طریق کے علاوہ کسی دوسرے طریق میں اس کا ذکر نہیں۔ اس کے علاوہ، سرداران فارس کے ساتھ ہونے والے دوسرے مکالموں میں بھی اس مطالبے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ یہ شرط دراصل جزیرۂ عرب کے اندر آباد ان قبائل کے لیے تھی جن کے لیے مدینہ میں قائم حکومت کی سیاسی اطاعت قبول کرنا اور اسے اپنے علاقے سے جمع کردہ زکوٰۃ اور مال غنیمت کا خمس ادا کرنا لازم تھا۔ جزیرۂ عرب سے باہر قائم سلطنتوں سے صحابہ کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ وہ اسلام قبول کر کے اپنی سلطنت کا نظام کتاب الہٰی کے مطابق چلانے کا عہد کر لیں۔ ان سے یہ مطلوب نہیں تھا کہ وہ خود کو اہل عرب کی سلطنت میں ضم کر دیں یا اس کے ساتھ کسی نوعیت کی سیاسی اطاعت کا تعلق قائم کریں، اس لیے ان سے زکوٰۃ یا خمس کی ادائیگی کا مطالبہ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
تخریج اور اختلاف طرق
طبری نے عبد اللہ بن زبیر کی مذکورہ روایت کے علاوہ بھی متفرق مقامات پر مغیرہ بن شعبہ اور رستم کی گفتگو کے متعلق مختلف راویوں کے بیانات نقل کیے ہیں۔ مثلاً :
شعبی اور سعید بن مرزبان کے بیان میں رستم اور مغیرہ بن شعبہ کے مابین ترجمانی کا فریضہ انجام دینے والے کا نام عبود بتایا گیا ہے، جو حیرہ کا ایک عربی باشندہ تھا (تاریخ الطبری 3/524)۔
شقیق اپنے بیان میں بتاتے ہیں کہ وہ قادسیہ کی جنگ میں شریک تھے اور بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ شقیق کے مطابق مسلمانوں کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب مغیرہ بن شعبہ، رستم کے تخت پر چڑھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئے تو رستم کے بھائی نے اس پر سخت ناگواری ظاہر کی۔ اس پر مغیرہ نے کہا:
لاَ تَنْخَرْ، فَمَا زَادَنِي هَذَا شَرَفًا وَلاَ نَقَصَ أَخَاكَ. (تاریخ الطبری 3/525)
’’ناک نہ چڑھاؤ۔ یہاں بیٹھنے سے نہ میری عزت میں کوئی اضافہ ہوا ہے اور نہ تمھارے بھائی کی عزت میں کوئی کمی۔“
ابو وائل کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں کی تعداد سات ہزار کے لگ بھگ تھی، جب کہ اہل فارس تیس ہزار کا لشکر لے کر آئے تھے (تاریخ الطبری 3/496- 497 )۔
ابو وائل کے طریق سے یہ واقعہ درج ذیل مصادر میں بھی نقل ہوا ہے:
الخراج، ابو یوسف 1/40۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 33747۔
(14)
عن ابن الرفيل عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعَ الْمُغِيرَةِ رَجُلاً وَقَالَ لَهُ: إِذَا قَطَعَ الْقَنْطَرَةَ وَوَصَلَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَنَادِ: إِنَّ الْمَلِكَ كَانَ مُنَجِّمًا قَدْ حَسَبَ لَكَ وَنَظَرَ فِي أَمْرِكَ، فَقَالَ: إِنَّكَ غَدًا تُفْقَأُ عَيْنُكَ، فَفَعَلَ الرَّسُولُ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: بَشَّرْتَنِي بِخَيْرٍ وَأَجْرٍ، وَلَوْلا أَنْ أُجَاهِدَ بَعْدَ الْيَوْمِ أَشْبَاهَكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَتَمَنَّيْتُ أَنَّ الأُخْرَى ذَهَبَتْ أَيْضًا، فَرَآهُمْ يَضْحَكُونَ مِنْ مَقَالَتِهِ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ بَصِيرَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَى الْمَلِكِ بِذَلِكَ، فَقَالَ: أَطِيعُونِي يَا أَهْلَ فَارِسَ، وَإِنِّي لأَرَى لِلّٰهِ فِيكُمْ نَقْمَةً لا تَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا عَنْ أَنْفُسِكُمْ. (تاریخ الطبری 3/524)
’’ابن الرفیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: رستم نے مغیرہ کے ساتھ ایک آدمی کو بھیجا اور اس سے کہا: جب یہ پل پار کر کے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو آواز دے کر اس سے کہنا کہ بادشاہ منجّم ہے، اس نے تمھارے بارے میں حساب لگایا اور غور کیا ہے، اور کہا ہے کہ کل تمھاری آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ قاصد نے ایسا ہی کیا۔ مغیرہ نے جواب دیا: تم نے مجھے خیر اور اجر کی خوش خبری دی ہے۔ اگر آج کے بعد مجھے تم جیسے مشرکین سے جہاد نہ کرنا ہوتا تو میری یہ خواہش ہوتی کہ میری دوسری آنکھ بھی چلی جائے۔ قاصد نے دیکھا کہ لوگ مغیرہ کی بات پر ہنسنے لگے اور ان کی حاضر جوابی پر تعجب کرنے لگے۔ قاصد نے یہ بات بادشاہ (یعنی رستم) تک پہنچائی تو اس نے کہا: اے اہلِ فارس، میری بات مانو، میں اللہ کی طرف سے تم پر ایک ایسی سزا آتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جسے تم خود پر سے ٹال نہیں سکو گے۔“
شرح ووضاحت
مغیرہ بن شعبہ کی ایک آنکھ جنگ یرموک میں ضائع ہو گئی تھی۔ رستم نے یہ دیکھتے ہوئے ان پر پھبتی کس کر مسلمانوں کاحوصلہ پست کرنا چاہا، جس پر مغیرہ بن شعبہ نے اپنی حاضر جوابی سے رستم کا وار اسی پر پلٹ دیا۔ رستم کی مراد یہ تھی کہ تمھاری ایک آنکھ تو پہلے ہی نہیں ہے اور دوسری کل ہمارے ساتھ جنگ میں پھوڑ دی جائے گی۔ مغیرہ نے اپنے جواب سے اسے پیغام دیا کہ اگر میری کوئی آنکھ پھوٹی تو یہ میرے لیے اللہ کے ہاں اجر کا موجب ہوگا، لیکن پھوٹنے والی آنکھ وہی ہوگی جو بینائی سے محروم ہے اور دوسری آنکھ تمھیں شکست دینے کے بعد دوسرے کفار سے جہاد کے لیے محفوظ رہے گی۔ گویا انھوں نے رستم ہی کی بات سے یہ فال نکال لی کہ میدان میں اہل فارس کو ہی شکست ہوگی اور مغیرہ کی آنکھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ اس کےبعد کے معرکے بھی لڑ سکیں۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ واقعہ بہ ظاہر طبری نے ہی نقل کیا ہے۔