]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
تصور عقل
سرسید علمیاتی(epistemic) نقطۂ نظر سے عقل کو وحی پر فوقیت دیتے ہیں، اگرچہ وہ صریح لفظوں میں اس کا اقرار نہیں کرتے۔عقل کو وحی پر فوقیت دینے کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک عمومی پہلو تو اشیا میں حسن وقبح عقلی کے مسئلے سے تعلق رکھتا ہے، جس کے معتزلہ قائل رہے ہیں۔ یعنی کسی شے کے حسن و قبح کی اصل فیصل عقل ہے، نہ کہ شرع۔ سرسید اس میں مکمل طور پر معتزلہ کے ساتھ نظر آتے ہیں،1 لیکن سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ انسانی عقل کا بنیادی حوالہ جدید سائنس کو تصورکرتے ہیں، جوطبیعاتی مشاہدات و تجربات پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں قدیم سائنس یا یونانی فلسفے کووہ محض ظن و تخمین تصورکرتے ہیں۔2 البتہ وہ مباحث جو سائنس کے دائرۂ عمل میں نہیں آتے، ان میں وہ قدیم فلسفیانہ اصول و اصطلاحات سے اپنے موقف کے اثبات کی کوشش کرتے ہیں۔ سائنس کو وہ انسانی عقل کا اس درجے میں معیار تصورکرتے ہیں کہ وہ سائنس پرستی (scientism) کی حد تک پہنچ جاتا ہے، جو مغرب میں مذہب مخالف رجحانات میں سب سے زیادہ شدت پسندانہ رجحان ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سرسید وجدان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے،3 حالاں کہ قدیم و جدید، دونوں فلسفیانہ روایت میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ غالباً سرسید کی نگاہ میں وجدان کو ایک ذریعۂ علم تصور کرنے میں جو چیزیں مانع ہیں،ان میں سے پہلی چیزسائنس پرستی ہے، جب کہ دوسری چیز جو ایک لحاظ سےپہلے کی فرع ہے،ذاتی تجربۂ علم سے متعلق صوفیہ کا غلو آمیز تصورہے،جوروحانی مکاشفات کے صوفیانہ دعاوی کی شکل میں سامنےآتا ہے۔سرسید کی نگاہ میں وہ’’خیال ہی خیال ہیں۔خیال کے سواکچھ نہیں‘‘۔4 سرسید نے کشف اور وجدان میں فرق نہیں کیا۔ اس میں شک نہیں کہ صوفیانہ کشف وجدان کی ہی ایک شکل ہے اور اس سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن کشف کے ابطال کی بنیاد پر وجدان کا انکار و استر داد اس سائنس پرستی کا نتیجہ ہے، جس نے سرسید کے ذہن کواپنی گرفت میں لے لیا تھا۔
غزالی نے اس کو جس فلسفیانہ حقیقت کے طورپرپیش کیا،اس پرہمیشہ سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اس معاملے میں سرسید تنہا نہیں ہیں۔ تاہم جس اسلوب میں سرسید نے اس کو مکمل طور پر رد کرنے کی کوشش کی ہے،وہ ان کی مزاجی افتاد اور اسلوبیاتی شدت پر دلالت کرتی ہے۔ سرسید فرماتے ہیں کہ انسان کو عقل کی بنیاد پر مکلف کیا گیا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ جن امور کا اسے مکلف کیا گیا ہے، وہ اس کے دائرۂ عقل سے باہر ہوں۔5 اصولی طور پراس میں کسی کوکلام نہیں، لیکن سرسید جزئیات کی سطح پرجس طرح اس کومنطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اس پرمحسن الملک کا اعتراض بجا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ دین کے تمام تراصول و اعتقادات کو جدید سائنس اور لا آف نیچر کے مطابق ثابت کرنے کا دعویٰ فضول اور غیر ضروری ہے،6 حالاں کہ ابن رشد جنھیں اسلامی جدیدیت پسندی کا نقیب تصور کیا جاتا ہے اورجن کی فکرنے سرسید کی فکرپرگہرے اثرات مرتب کیے ہیں،عقل کی محدودیت کو تسلیم کرتے تھے۔ وہ عقل کو نصوص کے فہم کا سب سے اہم وسیلہ تصور کرتے ہیں اور اس حوالے سے حقیقت کے ادراک کا اہم ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ تاہم وہ فرق کو پیش نظررکھتے ہیں کہ عقل تمام تر حقائق کا ادراک کرنے سے عاجز ہے۔ اس طرح وحی عقل کا تتمہ (complementary) ہے:’کل ما عجز عنہ العقل افادہ اللّٰہ تعالی الانسان من قبل الوحی‘، ’’ہر وہ چیزجس سے عقل قاصر رہ جاتی ہے،اللہ تعالیٰ انسان کو اس کا علم وحی کے ذریعے سے عطا کرتا ہے‘‘۔7 اس لیے ہمیں ایسے تمام مواقع پر شریعت سے رجوع کرنا چاہیے۔ (یجب ان نرجع فیہ الی الشرع)8 وحی سے جوچیز حاصل ہوتی ہے، وہ غیب کا علم ہے۔عالم غیب و عالم شہادت اپنی ذات اور جوہر کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے غیب کو شہود پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح ابن رشد نے مذہبی اور فلسفیانہ حقائق کے درمیان خط امتیاز قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابن رشد کی نظر میں مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان دونوں حقائق کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کردیا جاتا ہے۔دونوں کا اپنا دائرۂ عمل ہے۔اس کواسی کے اندر رکھ کردیکھنا چاہیے۔ سر سید عقل اور اس کی کارپردازی کو جس مجرد اور تکنیکی انداز میں دیکھتے ہیں، وہ اسلامی عقلی روایت میں بھی بہت حد تک اجنبی ہے۔ فلاسفہ و متکلمین اور اصولیین کے یہاں عقل،اس کی فعالیت اور معیار کے حوالے سے اس کی تقسیم کی جو بحثیں ملتی ہیں، سرسید کا ذہن اس سے بھی بالکل خالی محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق چودھویں صدی کے بعد جو دور شروع ہوا، اس میں عقل کو حقیقت اشیا کی معرفت میں مطلق حکمرانی حاصل ہو گئی ہے۔ اب جوکچھ بھی عقل کے دائرے سے خارج ہے،وہ ناقابل تسلیم ہے۔
سرسید کی کلا می فکر اور منہج پر ایک تنقیدی نظر
مندرجہ بالا سطور میں ہم نے سرسید کی کلامی خدمات اور اس حوالے سے ان کی فکر اور منہج کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں کچھ تنقیدی نکات بھی پیش کیے ہیں۔ ان سطور میں سرسید کی مجموعی فکر پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سر سید نے جدید علم کلام کی تشکیل کا جو بیڑا اٹھایا، ماحول اس کا عین متقاضی تھا، لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ عالم اسلام میں سر سید اس فکر کے نقیب تھے۔البتہ سر سید کے خلاف مخالفتوں کا جو طوفان برپا ہوا، اس نے اس حوالے سے ان کے نام اور کام کو زیادہ مرکز توجہ بنا دیا۔ البتہ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کا کام برصغیر ہند کی خاموش کلامی فضا میں لہریں پیدا کرنے والا تھا۔ سرسید کی کلامی فکر کی خوبیاں بھی ہیں اور کم زوریاں بھی، سرسید کے مادحین اور ناقدین نے ان کی مدح اور قدح، دونوں میں مبالغہ کیا ہے۔ ناقدین نے تو تکفیر سے گریز نہیں کیا، لیکن مادحین نے مدح میں مبالغہ کرنے میں بھی کوئی کسرنہیں چھوڑی۔شیخ محمد اکرام کی نظر میں: ’’شاید اس کے سوا سرسید کا کوئی قصور نہ تھا کہ وہ دوسرے علما کی بہ نسبت زیادہ دور اندیش اور دور رس تھے‘‘۔9حقیقت یہ ہے کہ سرسید ایک عبقری ذہن و شخصیت کے مالک ضرور تھے، لیکن ان کی دانش ورانہ انانیت پرمبنی نفسیات اسلامی الہٰیاتی فکر کی تجدید کی راہ پُرخار کے عبور کرنے میں حارج رہی۔ انھوں نے سائنسی فکر کے عنوان سے جس مجرد عقلی زاویۂ فکر کو اپنے استدلا ل کی بنیاد بنایا، اسےکینیڈین فلاسفر چارلس ٹیلر نےعقل آلی (instrumental reason) کا نام دیا ہے، جس کے خلاف اٹھارھویں صدی میں ہی خودمغرب میں رومانویت پسندی اور دوسری تحریکوں کی شکل میں ردعمل کا آغاز ہوچکا تھا۔ ٹیلرکے بہ قول یہ موجودہ مغربی جدیدیت کو لاحق تین بڑی بیماریوں (malaises of modernity) میں سے ایک ہے۔10
اسلامی فکری روایت پر سیرسید کی نگاہ زیادہ گہری اور وسیع نہ تھی۔ صاحب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ نے بھی یہ بات لکھی ہے۔ البتہ ان کے دوسرے متعدد الزامات سرسید کے تعلق سے غلط ہیں۔ 11 یہ مطالعہ سے زیادہ ان کی طباعی کا کمال تھا کہ وہ ناقص مواد سے ’کامل‘اور غیر معمولی نتائج برآمد کر لیتے تھے۔ البتہ انھوں نے غزالی اورشاہ ولی اللہ کوتفصیل کے ساتھ پڑھا اور ان سے استفادہ کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ سے وہ زیادہ متاثر نظرآتے ہیں۔ان کے بہت سے افکارواصول میں شاہ صاحب کی فکرکی گونج سنائی دیتی ہے۔ 12
سرسیدمسلم فلاسفہ کی طرح جدید سائنس سے نہایت مرعوب اور تاثرپذیر ذہنیت رکھتے تھے۔ مسلم فلاسفہ نے یونانی فلسفے کے کم وبیش تمام اصول وکلیات کی پیروی کوتعقل پسندی کی شرط تصورکیا،جب کہ سرسید نے جدید سائنس کواسلامی تفکر کی بنیاد قراردیا۔غزالی نے اپنے عہد میں فلسفۂ یونان سے مسحور اس ذہنیت کے سانچے کو توڑ دیا تھا، لیکن موجودہ عہد میں جدید سائنس کے مقابلے میں گذشتہ تین سو سالوں میں ایسا کام سامنے نہ آ سکا، جس سے سائنس سے مذہب کو درپیش چیلنجوں کا دفاع ممکن ہو سکے۔
سرسید جس چیلنج سے مذہبی فکر کا تحفظ چاہتے تھے، اس کو براہ راست اور اصل ذرائع سے پڑھنے اور سمجھنے کی کماحقہٗ صلاحیت ان میں نہیں تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ وہ کسی بھی مغربی زبان سے واقف نہیں تھے کہ مغربی فکر کا براہ راست مطالعہ کرسکیں۔ مزید یہ کہ مغربی فکر کا ان کا مطالعہ یک طرفہ تھا۔ خود مغرب کی ابھرتی اس سائنسی فکر پر جس کی زد بہ ظاہر مذہبی ماورائیت پر پڑ رہی تھی، داخلی سطح پر ہونے والی تنقیدات اور اس کے خلاف پنپنے والے رجحانات سے وہ آشنا نہیں تھے۔ مذہبی فکر کے اثبات میں وہ عقل انسانی کو لامحدود صلاحیتوں کا حامل تصور کرتے تھے، حالاں کہ اگر انھوں نے کانٹ ہی مطالعہ کیا ہوتا جس کا فکری غلغلہ مغرب میں موجود تھاتو وہ عقل کو مذہب کے باب میں غیرمحدود اختیارات عطا کرنے کے شاید قائل نہ ہوتے۔ وہ یورپ کی نیچرلزم کی تحریکات سے متاثر ہوئے، لیکن ان تحریروں میں کہیں حوالہ نہیں آتا کہ اس موضوع پر ان کے مطالعے اور فکر کا ماخذ کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ خود مغربی سائنسی فکر کو ثانوی ذرائع سے سمجھنے میں انھوں نے اسی طرح غلطیاں کیں، جس طرح ابن سینا نے کی تھیں، جن پر ابن رشد نے ’’تہافت التہافت‘‘ میں تنقید کی ہے۔ 13
ایک اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کی ماہیت کا اصولی مطالعہ انھوں نے نہیں کیا کہ وہ اور اس کا دائرۂ کار متعین طور پر کیا ہے، جو اب فلسفۂ سائنس کے مباحث ومشمولات کا حصہ ہے؟ انھوں نے سائنس کے تصور سے وہ چیز برآمد کرنے کی کوشش کی جس کی خود سائنس دعوے دار نہیں ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اصول فطرت میں ’فطرت‘ کی مروج تشریحات کو من و عن قبول کرلیا، لیکن یہ خیال نہیں کیا کہ یہ تشریحات تغیرپذیر ہیں،اٹل نہیں ہیں۔ یہ قوانین فطرت انسانی فہم وادراک پرمبنی ہیں اور انسانی فہم اورتجربات میں اضافہ اور ارتقا ہوتا رہتا ہے۔
سرسید نے اپنی کلامی فکر کے مقدمات طے کرنے میں جن اصولوں سے کام لیا، ان میں متعدد اصول بہت اہم ہیں اور ان کے ذہن خلاق کی غمازی کرتے ہیں۔ لیکن چند ایک اصول جن پر انھوں نے اپنی فکر کی عمارت استوار کرنے کی کوشش کی ہے،وہ بہت کم زور ہیں۔ ان پر کوئی مضبوط فکری عمارت اٹھائی نہیں جا سکتی۔ مثلاً مولانا قاسم نانوتوی کے ساتھ مکاتبت میں سرسید نے کل پندرہ اصول لکھے تھے۔نواں اصول یہ ہےکہ:
’’انسان خارج ازطاقت ِانسانی مکلف نہیں ہوسکتا، پس اگر وہ ایمان پرمکلف ہے توضروری ہے کہ ایمان اوراس کے وہ احکام جن پرنجات منحصرہے،عقل انسانی سے خارج نہ ہوں۔‘‘14
مولانا نانوتوی نے اس پردواعتراضات کیے: ایک یہ کہ تکلیف مالایطاق کے نہ ہونے کی علت اعمال ہیں، نہ کہ ایمان۔دوسرے یہ کہ ’’عمل قوت عاملہ کا محتاج ہے، قوت عاقلہ کا محتاج نہیں جو اس کی سر ّومصلحت سے آگاہ نہ ہونا مانع تکلیف ہوسکے‘‘۔15 ایمانیات و اعمال کے بہت سے عناصر و اجزا اور ان کے مصالح کاصحیح ادراک عقل انسانی نہیں کرسکتی۔ مولانا نانوتوی نے عقل کی اپنی کار پردازی کے لحاظ سے اس کی حیثیت اور معیار کا سوال بھی اٹھایا ہے،16 جو اصولی طورپرصحیح ہے۔ جن کلامی مسائل پر انھوں نے داد تحقیق دی، وہ انتہائی غور و خوض کے متقاضی تھے، لیکن بہ ظاہر محسوس ہوتا ہے کہ مختلف سرگرم مشاغل میں گھرے سرسید کو اس پر مطلوبہ غوروخوض کی فرصت نہیں تھی۔
سرسید کی کلامی فکر کاسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے جس اصولی فریم ورک میں گفتگوکی ہے، وہ روایت سے مکمل انقطاع پرمبنی ہونے کے ساتھ اپنے متعلقہ پہلوؤں کے لحاظ سے بہت مربوط ومنظم (cohesive) نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں، مثلاً حسین آفندی الجسر (م 1909ء) نے کلیات پر زور دیا، جیسے نظریۂ ارتقا کے تناظر میں بحث کرتے ہوئے انھوں نے یہ اصول اختیار کیا کہ اگرکوئی سائنسی تحقیق برہان اوریقین قطعی کوپہنچ جائے توپھرتاویل کی جاسکتی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
لو فرض ان ادلتکم علی النشوء بلغت الی درجۃ الیقین وھدیتم الی اعتقاد دین محمد الذی اساسہ ان لا خالق لشیء الا اللّٰہ تعالی فلا حجر علیکم فی تاویل تلک النصوص وصرفھا عن ظاھرھا وتطبیقھا علی ماقامت علیہ الادلۃ قاطعۃ من النشوء مع اعتقاد انہ بخلق اللّٰہ تعالی ولا ینافی ذلک.
’’اگریہ فرض کرلیا جائے کہ نظریۂ ارتقا کے حوالے سے تمھاری دلیلیں یقین کے درجے تک پہنچ چکی ہیں اور تم دین محمدی میں یقین رکھتے ہو،جس کی اساس اس پر ہے کہ کسی چیز کاخالق سواے خدا کے کوئی اور نہیں تو پھر تمھارے لیے نصوص کی تاویل، انھیں ظاہر سے پھیرنے اور نظریۂ ارتقا سے متعلق قائم ہو جانے والے دلائل قطعی پر منطبق کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگرچہ اسی کے ساتھ یہ اعتقاد ضروری ہے کہ یہ خدا کے خلق کی ہی کارفرمائی ہے اوروہ اس کے منافی نہیں ہے۔‘‘17
اسی طرح فرید وجدی (م1954ء) نے یہ نقطۂ نظراختیارکیا کہ قرآن کے کائناتی مظاہرکے تعلق سے بیانات کی سائنسی نظریات پرتطبیق کی کوشش غلط ہے، کیونکہ قرآن کواس سے کچھ غرض نہیں ہے کہ فی الواقع ان کی کیا حقیقت ہے۔ اس کا مقصدصرف نفس انسانی کی تربیت اور اسے کائنات میں غوروفکر پر ابھارنا ہے۔18 ابن تیمیہ نے’’ درء تعارض العقل والنقل‘‘ میں اس حوالے سے کلیات طے کرنے کی کوشش کی، جس کی اساس پر مولانا تھانوی وغیرہ نے اصول سازی کی کاوشوں کو آگے بڑھایا۔ انھوں نے عقل ونقل کے درمیان تعارض کی چارممکنہ شکلوں کوفرض کرکے اصولی فریم ورک میں عقل ونقل کے درمیان تطبیق کی کوشش کی ہے۔19 اگرچہ ان اصول و کلیات میں کلام کی گنجایش ہے اور انھیں حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم نص سے عقل کے معارضے کو دور کرنے کی جہت میں ان سے اصولی اور قابل عمل رہنمائی ملتی ہے۔سرسید اپنا جواصولی فریم ورک متعین کرتے ہیں، وہ بہت ڈھیلا ڈھالا ہے اوراس لحاظ سے اس کی کم زوری مزید عیاں ہوجاتی ہے کہ سرسید اس پر وارد ہونے والے اعتراضات سے علمی سنجیدگی کے ساتھ اعتنا نہیں کرتے۔
خلاصۂ بحث
سر سید احمد خاں نے جس عہد میں اپنی کلامی فکر ترتیب دینے کی کوشش کی، وہ اسلامی فکر کے لیے نہایت آشوب ناک تھا۔ نہ صرف برصغیر، بلکہ عالم اسلام کے مراکز میں فکر اسلامی کے افق پر تقلید وجمود کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس کے خلاف عالم اسلام میں اساسی طور پر دو طرح کے رجحانات پیدا ہوئے: ایک رجحان یہ تھا کہ داخلی سطح پر اورخود اسلامی فکری روایت کے اندر رہتے ہوئے اسلامی فکر کو درپیش عقلی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے اور اس تعلق سے اسلامی روایت کی وسعت وتنوع اور تمول سے فائدہ اٹھایا جائے۔برصغیر ہند میں اس رجحان کی نمایندگی شبلی سے ہوتی ہے، جب کہ اس خطے میں دوسرا رجحان یہ ابھر کر سامنے آیا کہ اسلامی فکری روایت کے امتیازی عناصرکو بہت حد تک پس پشت ڈالتے ہوئے اس چیلنج کے مقابلے کے لیے نئی فکری بساط بچھائی جائے۔اس فکر کی نمایندگی سر سید اور مفکرین کے اس قافلے سے ہوتی ہے جس میں چراغ علی اور امیر علی وغیرہ شامل ہیں اور سرسید کو اس کی سپہ سالاری حاصل ہے۔
اگرچہ سرسید نے جن اصولوں پراپنی کلامی فکری عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی بنیادیں کم زوراورتخلخل کا شکار ہیں۔ تاہم ان سے بند فکری راہوں کو کھلنے میں اسی طرح مدد ملی، جس طرح اعتزالی فکر کے نتیجے میں علماے اہل سنت کی فکر کو تحریک حاصل ہوئی۔ سرسید کی کلامی فکراورمنہج کے دور رس اثرات مرتب ہوئے، جن کی مثبت اورمنفی، دونوں بنیادوں پرتحکیم کی جاسکتی ہے۔تاہم اس کے مثبت اثرات بھی نمایاں ہیں اور برصغیر ہند میں انھیں خود شبلی و اقبال اورفراہی اسکول کی علمی وفکری کاوشوں میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔20
- ۔ مقالات سرسید 3/19۔
- ۔ مقالات سرسید 1/150۔
- ۔ مقالات سرسید 1/112۔
- ۔ مقالات سرسید 1/112۔
- ۔ مقالات سرسید 3/9۔
- ۔ تحریر فی اصول التفسیر 18۔
- ۔ ابن رشد:تہافت التہافت (تحقیق :سلیمان دنیا) دار المعارف1980ء، 2/758۔
- ۔ ابن رشد:تہافت التہافت (تحقیق :سلیمان دنیا) دار المعارف1980ء، 2/758۔
- ۔ شیخ محمد اکرام، موج کوثر،دہلی:ادبی دنیا،سال اشاعت غیرمذکور، ص 162۔
- ۔ دوسری دو بڑی بیماریوں میں سے ایک انفرادیت پسندی(individualism ) اوردوسری سیاسی معاشرہ (political society) ہے۔ انفرادیت پسندی سے مراد فرد کوحاصل ہونے والا غیرمحدود اختیار ہے،جس کا ایک مظہر یہ ہے کہ وہ اپنے لیے جو بھی طرز زندگی چاہے اختیار کرے (right to choose for themselves their own pattern of life)، جب کہ سیاسی معاشرے سے مراد وہ ماحول ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ اس عقل آلی یا تکنیکی کواستعمال میں لاتے ہوئے فرد اور معاشرےکو کون سی پسند اختیار کرنی چاہیے اورکون سی نہیں۔ دیکھیے: The Malaises of Modernityپہلا باب : Three Malaises اس کے مختلف پہلوؤں پر ٹیلر نے اپنی زیادہ معروف کتاب A Secular ( (Harvard University Press, 2018)Age کے آٹھویں باب(311-318) میں گفتگو کی ہے۔کئی حیثیتوں سے یہ بحث انتہائی اہم اورقابل مطالعہ ہے۔
- ۔ نزہۃ الخواطر کے مصنف سرسید کے بارے میں لکھتے ہیں: ’فان رئیت مصنفاتہ علمت انہ کان کبیرًا لعقل قلیل العلم ومع ذلک کان سامحہ اللّٰہ تعالی قلیل العمل، لا یصلی ولا یصوم غالباً‘، ’’اگرآپ ان کی تصنیفات کا جائزہ لیں تومعلوم ہوگا کہ ان کے اندر عقل ودانش توکافی تھی، لیکن زاد علم کم تھا۔ علاوہ ازیں،اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرے،عمل کے لحاظ سے وہ کوتاہ کار تھے۔ زیادہ تر نماز روزے کی پروا نہیں کرتے تھے۔‘‘( عبد الحئی الحسنی، الاعلام بمن فی تاریخ الہند من الاعلام المسمی بنزہۃ الخواطر وبہجۃ المسامع والنواظر، بیروت: دار ابن حزم،1999ء، 8/ 1175)
- ۔ دیکھیے،تحریر فی اصول التفسیر،صفحات32، 33، 35، 43، 48وغیرہ۔
- ۔ ابن رشد، تہافت التہافت، التحقیق: الدکتورسلیمان الدنیا،قاہرہ: دارالمعارف،1964ء، ص 140۔
- ۔ مولانا قاسم نانوتوی،تصفیۃ العقائد،دیوبند: کتب خانہ رحیمیہ،سال اشاعت غیرمذکور،ص15۔
- ۔ مولانا قاسم نانوتوی،تصفیۃ العقائد،دیوبند: کتب خانہ رحیمیہ،سال اشاعت غیرمذکور،ص15۔
- ۔ مولانا قاسم نانوتوی،تصفیۃ العقائد،دیوبند: کتب خانہ رحیمیہ،سال اشاعت غیرمذکور،ص15۔
- ۔ حسین آفندی جسر، الرسالۃ الحمیدیۃ فی حقیقۃ الدیانۃ الاسلامیۃ وحقیۃ الشریعۃ المحمدیۃ،تقدیم،عصمت نصار، القاہرۃ: دارالکتاب المصری،2012ء،ص293۔
- ۔ محمد فرید وجدی: الاسلام فی عصر العلم،بیروت: دار الکتاب العربی،اشاعت سوم، سن اشاعت غیر مذکور، ص490-491۔
- ۔ اشرف علی تھانوی:الانتباھات المفیدۃ عن الاشتباھات الجدیدہ،کراچی : مکتبہ البشریٰ،ص 23-26۔
- ۔ سرسید کی کلامی فکر کامحورومرکز ان کی تفسیر ’’ تفسیر القرآن‘‘ ہے، جس کے اثرات کوبرصغیر ہند کے بعد کے مفسرین نے قبول کیا۔ اس کا اعتراف اصحاب علم وقلم کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹررضی الاسلام ندوی لکھتے ہیں: ’’ اس تفسیر کے مابعد تفاسیر پر اثرات مرتب ہوئے اور اہل علم نے اس کے اسلوب اور انداز تحقیق کو اپنایا‘‘(برصغیر میں مطالعۂ قرآن، دہلی: اسلامک بک فاؤنڈیشن، 2010ء، ص23)۔ اسی طرح یٰسین مظہر صدیقی کی نظر میں’’معجزات کے بارے میں فکر فراہی خالصتاً سرسید کی آرا کی بازگشت ہے۔ اور اس طرح شانِ نزول میں قرآن مجید کی آیات پرانحصارکرنے کی فکر مودودی وفراہی بھی اسی کی دین ہے (یٰسین مظہر صدیقی کا مقالہ بہ عنوان، ’’سرسید کے تفسیری اصول، مشمولہ، ماہنامہ تہذیب الاخلاق، اکتوبر،1995ء،مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ،ص18)۔