]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
سر سید نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، لیکن ان کی فکر کا مرکزی پہلو علم کلام سے تعلق رکھتا ہے۔ برصغیر ہند میں اسلامی جدیدیت کے نقیب کی حیثیت سے انھوں نے اسلامی فکر کی تشکیل نو کے پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس خطے میں اغلباً جدید علم کلام کی اصطلاح پہلی بار سرسید نے استعمال کی۔1 البتہ اس فکر کو پروان چڑھانے اور اس کے خدوخال کی وضع و ترتیب میں اہم کردار شبلی نعمانی نے ادا کیا۔ اس حوالے سے شبلی کی کتاب ’’الکلام‘‘ اردو میں تصنیف کردہ پہلی کتاب ہے۔ فکرسرسید کے مطابق عصرحاضر کا سب سے اہم تقاضا یہ تھا کہ اسلامی فکرکوجدید عقلیاتی بنیادوں پراستوارکرنے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ انھوں نے اس کو اپنی فکری کاوشوں کا محور بنایا ۔ جدید علم کلام کے اصول مرتب کیے اوران کی روشنی میں عقل ونقل کے درمیان توافق وہم آہنگی کی کوشش کی۔ اس میں شک نہیں کہ اس معاملے میں انھوں نے جابجا ٹھوکریں کھائیں۔ قدم قدم پرفکری مغالطوں کا شکارہوئےاورغلط مقدمے سے حاصل شدہ غلط نتائج کے بہت سے اذہان پرمنفی اثرات مرتب ہوئے، لیکن یہ اسلامی فکری روایت میں کوئی نیا واقعہ نہیں تھا ۔اسلام کی متمول فکری روایت تاریخ کے مختلف مراحل میں مختلف النوع فکری رجحانات سےاخذ واستفادہ کرتے ہوئے آگے بڑھی ہے۔ اس مقالے میں سرسید کی کلامی فکر اور اس کے منہج کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اس کی قدرپیمائی ہوسکے اوراس کے مثبت اورمنفی پہلو سامنے آسکیں۔
علم کلام میں سرسید کا حصہ
سر سید نےعلم کلام کی تشکیل جدید کواس وقت اپنی فکرکا موضوع بنایا جس وقت عالم اسلام میں اس موضوع پر غور و فکر کرنے والے اذہان بہت کم تھے۔ ان کے معاصرین میں جمال الدین افغانی اورمفتی محمد عبدہ جیسے روشن خیال مفکرین عالم اسلام کے دوسرے حصوں میں موجود تھے، لیکن افغانی کی توجہ اسلام کی سیاسی فکر کی اصلاح پر مرکوز رہی ۔ البتہ مفتی محمد عبدہ نے اسلام کی مذہبی فکرکی تشکیل جدید کےبعض پہلوؤں پراہمیت کے ساتھ زوردیا، لیکن علم کلام میں ان کی کتاب ’’رسالۃ التوحید ‘‘2میں جو قدیم یونانی فلسفیانہ اصول ونظریات کو بنیاد بناکر لکھی گئی، اسلامی فکرکودرپیش جدید چیلنجوں سے نمٹنے کا سامان نہیں تھا۔3 سر سید نے مجموعی طور پر اسلامی فکر کو اپنا موضوع بنایا اور خاص طور پر اسلامی الہٰیات کو معاصر عقلی تقاضوں کے مطابق مرتب ومستحکم کرنے کی کوشش کی۔ درحقیقت شبلی کواس باب میں سرسید کی فکرسے ہی ہمت وحوصلہ حاصل ہوا،جس کے نتیجے میں ان کے قلم سے ’’علم الکلام‘‘ اور ’’الکلام‘‘ جیسی گراں مایہ کتب علم کلام کے موضوع پر وجود میں آئیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ برصغیر ہند میں سر سید نے جدید علم کلام کی بنیاد رکھی۔ شبلی نےاس کے خدوخال مرتب کرنے کی پہلی باضابطہ کوشش کی، جب کہ اقبال نےاسےایک نظام فکر کی شکل میں پیش کیا ۔حقیقت میں یہ سرسیّد ہی تھے جنھوں نے پوری شدومد کے ساتھ اس حقیقت پرزوردیا کہ اب قدیم یونانی فلسفہ و منطق کے قالب میں ڈھلا ہواعلم کلام کا سرمایہ جو ہماری علمی درس گاہوں میں اب بھی زیرتدریس ہے، موجودہ عہد میں کار آمد نہیں رہا۔ اس کا احساس تو سبھی کو تھا کہ عہد عباسی میں جس طرح یونانی فلسفہ مذہب کے حریف کی شکل میں سامنے آیا تھا، اب اس کی جگہ عہد حاضر میں جدید سائنس نے لے لی ہے، لیکن اس کو مدلل انداز میں بلند آہنگی کے ساتھ سرسید نے فکری حلقوں کے ذہن نشیں کرنے کی کوشش کی۔ اشعری فکر کے غلبے سےعقل و نقل کے درمیان تطبیق کے باب میں افراط وتفریط کی جوکیفیت پیدا ہو گئی تھی، ماتریدی فکرنےاس کو دور کرنے اور اعتزال واشعریت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی سعی محمود کی، لیکن ماتریدیت کی اتباع کےادعا کے باوجود اس خطے میں اشعریت کا غلبہ رہا۔ سرسید نے اس پر کاری ضرب لگائی اورفلاسفۂ اسلام کی دبی ہوئی روایت کے احیا کو اپنا ہدف قرار دیا۔ یہ کوششیں خلا میں نہیں رہیں، بلکہ ان کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اقبال لکھتے ہیں:
’’وہ پہلے ہندوستانی مسلمان تھے جنھوں نے اسلام کی جدید تعیین سمت کی ضرورت محسوس کی، لیکن اس موضوع پر کام بھی کیا۔ ہم سرسید کے مذہبی خیالات سے تو اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ سرسید کی بے چین روح نے ہی سب سے پہلے عہد جدید کے چیلنج کو محسوس کیا۔ پھر اسلام کی نئی تعبیر کی ضرورت محسوس کرکے اس کے لیے سعی بھی کی۔‘‘ 4
سر سید کا کلامی منہج اوراس کی خصوصیات
سرسید کے کلامی نظریات کے رد میں ایک پورالٹریچر تیارہو چکا ہے ،جس کی ابتدا خود سرسید کی زندگی سے ہی ہو چکی تھی، لیکن یہ بات حقیقت سے بعید نہیں ہے کہ سرسید کی کلامی فکر کا سنجیدگی اورغیر جانب داری کے ساتھ جائزہ بہت کم ہی لیا جاسکا۔ زیادہ تر تجزیے میں سرسید کی مذہبی فکر کے نقائص کواجاگرکرنے پرتوجہ مرکوزرہی۔اس میں شک نہیں کہ سر سید کی کلامی فکرمیں انحرافات کے مظاہرنمایاں ہیں، لیکن اسلامی فکری روایت میں وہ اجنبی نہیں ہیں ۔ عام طورپر سرسید کی فکر کو اعتزال کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے اور یہ تاثردینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی فکرکا خمیراعتزالی فکرسے تیارہوا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ انھوں نے مختلف امور میں معتزلہ کی پیروی کی۔ چنانچہ مثلاً وہ صفات باری کومعتزلہ کی طرح ذات باری کا عین تصورکرتے تھے۔ اشیا کے حسن وقبح کے مسئلے میں وہ مکمل طورپرمعتزلہ کے ہم نوا تھے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ سرسید کی بنیادی دینی فکر مسلم فلاسفہ کی فکر سے متاثر ہے، جن میں فارابی، ابن سینا اور ابن رشد وغیرہ کا نام آتا ہے۔ چنانچہ فارابی وابن سینا نے نوافلاطونی اثرات کے تحت اسلامی مابعد الطبیعیات کی جس طرح تفہیم و تعبیر اور اس کے ذریعے سے عقل وشریعت کےدرمیان تطبیق کی کوشش کی، سرسید کی تعقل پسند طبیعت نے اسے قبول کیا۔اس طرح نبوت ،جبریل، فرشتے، جن، حشرونشراورجنت ودوزخ وغیرہ کے تصورات ومفاہیم ان کی نگاہ میں بدل گئے۔سرسید نے مسلم فلاسفہ کے نظریے کے مطابق یا ان سے قریب تر ان کی تشریحات اختیار کیں یاانھیں حقیقت کے بجاے مجاز پرمحمول کیا ۔ مثلاً نبوت کے بارے میں فارابی کا تصور یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کی قوت متخیلہ درجہ ٔ کمال کوپہنچ گئی ہو اور اس کا نفس محسوسات سے مجرد ہوگیا ہو۔ایسی صورت میں عقل فعال کے توسط سے اس پروحی کا فیضان ہوتا ہے۔5گویا کوئی ایسی خارجی ایجنسی نہیں ہوتی جس کے ذریعے سے نبی تک وحی پہنچتی ہو۔ سرسید قوت متخیلہ کے بجاے داخلی سطح پر نبی کی اپنی ذات کے اندر پائی جانے والی اسی قوت کو ’’قوت جبریلیہ‘‘6سے تعبیر کرتے رہے ہیں۔دونوں کا مآل ایک ہے۔معتزلہ اپنی تمام ترعقلی جولانیوں کے باوجود نبوت وآخرت کی بنیادی تعبیرات و تصورات میں اپنا موقف اہل سنت والجماعت کے مطابق یا ان سے قریب تررکھتے ہیں اور اس حوالے سے مسلم فلاسفہ کے ساتھ ان کا اختلاف نمایاں ہے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سر سید نے کوئی نیا زاویۂ فکر وضع نہیں کیا، بلکہ اس زاویۂ فکر کی پیروی کی کوشش کی جس کی قوت نمو کو غزالی نے بہت حد تک توڑ دیا تھا۔7 وہ کم زور توہوئی، لیکن ختم نہیں ہوئی۔کیونکہ ابن رشد کی فکربھی اصحاب علم کے ایک حلقۂ فکر میں مقبول ومروج رہی۔ اس طرح گویا سرسیدنےغزالی کے مقابلے میں ابن رشد کی فکر کو اختیار کیا اور نئے دلائل و براہین کے ساتھ موجودہ دورمیں رشدی فکر کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ جس طرح انھوں نے غزالی کو تفصیل کے ساتھ پڑھا تھا، اسی طرح ابن رشد کی فلسفیانہ فکر سے بھی استفادہ کیا تھا۔ ابن رشدکی بنیادی اصولی فکر کا وہ ادراک رکھتے تھے، جس سے انھیں اپنے فکری منہج کی تشکیل میں مدد ملی۔
میرا خیال ہے کہ سرسیدی فکر کی اصل جدت اسلامی مابعدالطبیعات کی عقلی توجیہ نہیں ہے، بلکہ اصل جدت اس فلسفیانہ زاویہ فکرکوتفسیرقرآن پرمنطبق کرنا ہے۔ سرسید کی بڑے پیمانے پرمخالفت کی وجہ یہی تھی۔اس فلسفیانہ زاویہ ٔ نظر کو سنی فریم ورک میں دورجدید میں سرسید نے ہی باضابطہ طور پر استعمال کیا۔
سرسیدی منہج فکر کے اصولی رخ کو سمجھنے کے لیے ان کے رسالے ’’تحریر فی اصول التفسیر‘‘ کو پیش نظررکھنا چاہیے۔ انھوں نےتفسیر قرآن کے کل پندرہ اصول بیان کیے ہیں، جن میں انھوں نےنص کی تفسیروتعبیرکے حوالے سے اپنا نقطہ ٔ نظرواضح کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے علاوہ، مولانا قاسم نانوتوی کے ساتھ مراسلت میں بھی ،جو ’’تصفیۃ العقائد‘‘ کے نام سے رسالے کی شکل میں شائع ہوچکا ہے ،انھوں نے بعض اصولوں کا ذکر کیا ہے اور بعض مقالات میں بھی اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے ۔اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرسید کے کلامی منہج فکر کے جو خدّوخال سامنے آتے ہیں ،ذیل میں تین بنیادی عنوانات کے تحت اس سے بحث کی جاتی ہے۔سرسید کے کلامی منہج فکر کے بنیادی اورضروری پہلو ان تینوں مباحث کے تحت سامنے آجاتے ہیں:
اصول فطرت
ان میں سے ایک بنیادی اصول وہ ہے جسے انھوں نےقانون فطرت کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق وہ قانون فطرت جس پرکائنات کا نظام قائم ہے، ’ورک آف گاڈ‘ ہے، جو ایک عملی عہد ہے اورنص ’ورڈ آف گاڈ‘ ہے، جو ایک قولی معاہدہ ہے۔ ان دونوں میں اختلاف وتناقض ممکن نہیں ہے۔قانون فطرت اٹل اورنا قابل تغیرہے، اس لیے نص کی کوئی بھی ایسی تفہیم صحیح نہیں ہے جس سے قانون فطرت کی مخالفت اوراس کے ساتھ تصادم لازم آتا ہو۔ 8 یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ قانون فطرت میں استثنا ہوسکتا ہے، لیکن اس کوثابت کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان کے الفاظ میں:’’ امکان عقلی توشے وجودی نہیں ہے صرف ایک خیال غیرمحقق الوقوع ہے‘‘۔9سرسید کے اس موقف پرشدید تنقیدیں کی گئیں، لیکن ان تنقیدوں نے سرسید کے موقف میں مزید شدت پیدا کردی۔
غزالی نے اپنے زمانے کے فطرت پسندوں ، جنھیں انھوں نے’ طبعیین‘ کا نام دیا ہے ،کو منحرف گروہوں میں شمارکیا ہے،کیونکہ غزالی کے بہ قول وہ یہ تصوررکھتے ہیں کہ اعادۂ معدوم ممکن نہیں ہے۔10 بایں معنی انھوں نے آخرت اورجنت وجہنم کا انکار کردیا۔11 سرسید غزالی کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مثبت معنوں میں خود کو فطرت پسندوں کے اسی گروہ میں شمار کرتے ہیں ۔12
سرسید اعادۂ معدوم کی فلسفیانہ بحث سے قطع نظر اس تصور کے نتائج وانطباقات پریقین رکھتے تھے ۔یعنی معاد جسمانی ممکن نہیں ہے اورجنت و دوزخ کی حیثیت مجازی ہے، نہ کہ حقیقی ۔ غزالی معاد کے بارے میں تاویل کوجائز نہیں سمجھتے ۔ ایسا کرنے کواس کے انکار کے مترادف تصور کرتے ہیں۔ بریں بنا، ایسا کرنے والا ان کےنزدیک دائرۂ ایمان سے خارج ہے۔چنانچہ اسی بنا پر انھوں نے ابن سینا وفارابی کی تکفیر کی،13 لیکن سرسید غزالی کے اس موقف کے شدید ناقد ہیں۔14 وہ کہتے ہیں کہ خود غزالی کی فکر میں اس تعلق سے تضاد پایاجاتا ہے۔’’الاقتصاد فی الاعتقاد‘‘ میں وہ میزان اوربعض دیگرامورآخرت کوحقیقت پر، جب کہ ’المضنون بہ علی غیر اہلہ‘ میں انھوں نے انھیں مجاز پرمحمول کیا ہے۔ 15
سرسید نے اس موقف پرجس طرح اصرار کیا ہے اوراسے نص کی تفہیم کی شاہ کلید کے طور پر استعمال کیا ہے،وہ یقیناً غلط ہے،تاہم ان کا اختیارکردہ یہ موقف مسلم فلاسفہ سے قریب ترہے۔ مسلم فلاسفہ یونانی فلسفے کے زیراثروجودی حقیقت کی تشریح وتفہیم کے ضمن میں نص کے مقابلے میں جس برہان کواختیارکرنے پرزوردیتے ہیں، وہ کم وبیش سرسید کے موقف کے مطابق یا اس سے قریب تر ہے۔ان فلاسفہ کے مطابق اصل حقیقت وجود ہے۔نص کی تشریح و تعبیر اسی وجودی حقیقت کے تابع ہو کر کی جائے گی۔ یہی وجودی حقیقت برہان کے معنی کومتضمن ہے۔ ’’فصل المقال‘‘ میں ابن رشد لکھتے ہیں:
ونحن نقطع قطعا ان کل ما ادی الیہ البرھان وخالفہ ظاھر الشرع، ان ذلک الظاھریقبل التاویل علی قانون التاویل العربی. وھذہ القضیۃ لا یشک فیھا مسلم ولا یرتاب بھا مؤمن. وما اعظم ازدیاد الیقین بھا عند من زاول ھذا المعنی وجربہ وقصد ھذ ا المقصد من الجمع بین المعقول والمنقول.
’’ہم یہ قطعی یقین رکھتے ہیں کہ ہر وہ مفہوم جس کی طرف برہان لے جاتا ہے اور وہ ظاہر شرع کے خلاف ہے، اس میں عربی قانون کے مطابق تاویل کی جائے گی۔ اس مسئلے میں کوئی مسلمان شک نہیں کرسکتا اور نہ کسی مومن میں کوئی خلجان پیدا ہوسکتا ہے۔ جو لوگوں نے معقول و منقول کے درمیان جمع وتطبیق کا قصد کیا ہے اور اس مفہوم کے (استنباط کے) تجربے سے گزرے ہیں،ان کا یقین اس حقیقت پرمزید بڑھ جاتا ہے۔‘‘16
ابن رشد کا دوٹوک موقف یہی ہے کہ اگرنص سے ثابت ہونے والا معنی برہان کے مطابق نہ ہوتونص کی تاویل کی جائے گی۔ گویاابن رشد کی نظر میں نص اور عقل کے تعارض میں نص کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ برہان عقلی سے اپنی مطابقت پیدا کرے۔برہان عقلی کو نص کے مطابق کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔اس طرح ابن رشد کے عقلی پروجیکٹ میں نص کو تابع اور عقل کو متبوع کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ نصر حامد ابو زید نے غزالی اور ابن رشد کے مناہج فکر کی تشریح علمیاتی تناظر میں اس طرح کرنے کی کوشش کی ہے کہ غزالی کے یہاں علم و معرفت عالم ملکوت سے نص اور نص سے عالم حس و مشاہدہ میں آتی ہے، جب کہ ابن رشد کے نزدیک اس کے برعکس عالم طبیعی سے عالم ما بعد الطبیعات تک پہنچتی ہے۔ عالم طبیعی ہی عالم مابعدالطبیعیات کا مقدمہ ہے۔17 سرسید دراصل اسی کے قائل تھے۔ سر سید نے یورپ کے نیچر پرستوں (naturalists) کا اثر قبول کیا، کیونکہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں فطرت پرستانہ رجحان تیز تر تھا اور یورپ کی مخالف مذہب فکری سرگرمیاں اس رجحان کے تابع تھیں، لیکن یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ سرسید کی فکر کا ماخذ یہی رجحان تھا، بلکہ خود اسلامی فکری روایت میں یہ رجحان موجود تھا ،جس پر سر سید نے اپنی فکر کی بنیاد رکھی۔ البتہ اس کی عمارت کھڑی کرنے میں انھوں نے مغربی فطرت پسندوں کے افکار سے آگے بڑھ کر استفادہ کیا۔ اس فرق کے ساتھ کہ ابن رشد نے یونانی فلسفیانہ کلیات کے تحت جس’’وجودی حقیقت‘‘ کوسمجھنے کی کوشش کی، سرسید نے اسی کواصول فطرت کے تحت جدید سائنسی نظریات کے تابع ہوکراپنی فکرکا حصہ بنایا۔
نظریۂ تاویل
تاویل نصوص کا مسئلہ اسلامی فکری روایت میں ابتدا سے ہی بحث و تنازع کا موضوع رہا ہے۔ محدثین اس کے قائل نہیں ہیں۔ اس رجحان کو ابن تیمیہ نے مدلل ومبرہن کر کے آگے بڑھایا۔ دوسری طرف فلاسفہ ہیں جو فہم نصوص میں تاویل کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور تاویل کی بنیاد پر اسلامی مابعد الطبیعات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان دو طرفوں کے وسط میں اشاعرہ و معتزلہ ہیں۔ اشاعرہ زیادہ احتیاط کے ساتھ، جب کہ معتزلہ زیادہ فراوانی کے ساتھ تاویل کا موقف رکھتے ہیں۔ سر سید نے اصولی موقف تو فلاسفہ کا اختیار کیا ہے، لیکن وہ مختلف مسائل میں معتزلہ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ مثلاً وہ امکان عقلی یا وجود ذہنی کو تسلیم نہیں کرتے، حالاں کہ یہ یونانی اور ان کے متبعین مسلم فلاسفہ کے نزدیک مسلم ہے ۔ مسلم فلاسفہ کا موقف یہ ہے کہ نبی حقیقت کے برخلاف بات کہہ سکتا ہے اگر عوام کے اندر اس کے فہم کی صلاحیت نہ ہو ۔سرسید اس کے قائل نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ اس کے قائل ہیں کہ:
’’جن خیالات پرلوگ مجبول ہوئے ہیں،اگر وہ خیالات مقاصد نبوت کے منافی نہیں بلکہ ان کی تائید کرنے والے ہیں،تو وہ(انبیا) ان خیالات کی صحت یا غلطی سے کچھ تعرض یا غلطی نہیں کرتے، بلکہ انھی خیالات کے موافق ان سے خطاب کرتے ہیں۔‘‘18
تاویل کے حوالے سے سرسید کا نقطۂ نظر اہل تاویل کے تمام یا اکثر گروہوں سے مختلف ہے۔ تاویل ان کے نزدیک یہ ہے کہ قائل کے کلام کا جو مطلب سمجھ میں آتا ہے، وہ مطلب صحیح اور حقیقت واقعہ کے مطابق نہ ہو :
’’اس وقت اس کلام کے دوسرے معنی اختیار کیے جاویں تاکہ وہ کلام صحیح ہو جاوے۔ اور اگر قائل کا درحقیقت وہی مقصد ہو جو بعد تاویل کے قرار دیا گیا ہے تو وہ تاویل نہیں ہے بلکہ قائل کے اصلی مقصد کا ظاہر کرنا ہے۔‘‘19
عرف عام میں تاویل اصحاب تاویل کے نزدیک لفظ کے اصل معنی سےعدول کر کے مجازی معنی مراد لینا ہے، جیسے اسد ( شیر) بول کرحیوان کے بجاے بہادراورشجاع آدمی مراد لینا۔ سرسید کے نزدیک یہ تاویل نہیں ہے، بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ قائل نے اس لفظ کو اسی معنی مجازی میں استعمال کیا ہے۔سرسید کا یہ موقف محدثین سے قریب تر ہے۔ اس کے مطابق جس معنی یا معانی کو مجازی قرار دیا جاتا ہے، جیسے ہاتھ (ید) بول کر قدرت مراد لینا وہ خود متعلقہ لفظ کی دلالت میں شامل ہوتا ہے، لفظ بجاے خود تو سیعی طور پر ان تمام معانی کو وضع لغت کے وقت سے ہی شامل ہوتا ہے جسے مجاز کی سطح پر فرض کرنا ضروری تصورکیا جاتا ہے۔ 20
سرسید کے تصور تاویل کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے نزدیک الفاظ قرآنی کا اعجاز یہ ہے کہ قرآن کے معنی میں تجدد اور ارتقا ہوتا رہتا ہے۔اس کے الفاظ کی دلالت کو کچھ متعین معنوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔21 انھوں نے یہ نقطۂ نظراس اعتراض سے بچنے کے لیے اختیار کیا ہے کہ قوانین فطرت کی جس سائنسی تشریح کے مطابق ورک آف گاڈ اورورڈ آف گاڈ میں توافق پیدا کرنے کے لیے جو معنی متعین کیے گئے ہیں، سائنسی نظریات کی تبدیلی کے نتیجے میں وہ تبدیل ہو سکتے ہیں۔
سرسید کے موقف پر یہ اعتراض جس قدر وزنی ہے، حقیقت یہ ہے کہ سرسید کا جواب اتنا ہی بے وزن ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر سرے سے ان الفاظ اور محاوروں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے جو معانی کی اساس اور پیمانے کی حیثیت رکھتے ہیں جب کہ پہلے ہی یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ لفظ کے اطلاقات میں سرخ، سفید، سیاہ اور جو بھی رنگ فرض کیے جا سکتے ہوں، وہ سب صحیح ہیں۔ اگر آپ زمین بول کرآسمان اورآسمان بول کرزمین مراد لینے کا امکان فرض کرلیتے ہیں تو پھر نص کی اپنی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی ۔دیکھا جائے تو یہ صورت نص کی توضیح کی نہیں، ایجاد کی بن جاتی ہے اور یہ نقطۂ نظرمغرب کی تاویل نصوص کی فکر(hermeneutic approach) کے اس رجحان کے مشابہ ہوجاتا ہےجس کے مطابق صاحب نص کی وفات کے بعد یہ قاری پر منحصرہوتا ہے کہ وہ کس طرح اورکن بنیادوں پر نص سے معانی کا استخراج کرے۔ تاویل پرانھوں نے غزالی کی فکرکا مطالعہ کیا ہے اوراس موضوع پرغزالی کی بنیادی تحریریں ان کے پیش نظررہی ہیں،22 جن میں غزالی نے تاویل کے لیے ضروری اصول وقوانین وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر ان کی کتاب ’’قانون التاویل ‘‘محدثین اوراصحاب اعتزال کے دو انتہا پسندانہ رجحانات کے درمیان اعتدال پرمبنی تاویلی فکرکوآگے بڑھاتی ہے، لیکن سرسید سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی تکفیر اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ کسی بھی صریح سے صریح تر آیت کا مفہوم خود سے نہ نکال لے۔ اس طرح وہ گویا ہرشخص کوانفرادی طورپرتاویل کا اختیاردیتے ہیں، چاہے وہ اپنے موقف کے حق میں جیسی بھی تاویل کرے۔
اس تعلق سے وہ کسی بھی اصول اور حد کو تسلیم کرنے کےخواہاں نظر نہیں آتے۔ غزالی کا موقف یہ ہے کہ اصول ایمان میں تاویل جائز نہیں ہے اور ان کے نزدیک اصول ایمان صرف تین ہیں: خدا، رسول اور آخرت پر ایمان۔ ان کے علاوہ سب فروع ہیں۔ اصول میں کوئی تاویل نہیں کی جا سکتی۔ تاویل کا محل فروع ہیں، ما سوا اس کے جو تواتر سے ثابت ہو، جیسے کعبہ کہ اس کا مکہ میں ہونا تواتر عقلی سے ثابت ہے یا حضرت عائشہ پر افک کی تہمت، جس کی براءت پر قرآن میں آیات نازل ہوئیں،23 لیکن سر سید غزالی کے اس موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ موقف رکھتے ہیں کہ اس باب میں بھی ایک شخص کو تاویل کا حق دیا جائے گا، کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی مراد یہ ہو کہ اصل خانۂ کعبہ عبداللہ ابن زبیر کے وقت میں جل گیا تھا، پھر جب ابن زبیر نے بنایا تو حجاج نے اسے ڈھا دیا تھا۔24 اس طرح ان کے نزدیک متبادر الی الذہن معنی کی باضابطہ اہمیت باقی نہیں رہتی، جس پر اصحاب اصول زور دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف وہ اصحاب اصول کے موقف کے مطابق اپنی تفسیر و تاویل میں لغت و کلام عرب کی پابندی ضروری تصور کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف وہ لغت عرب کو ظنی قرار دیتے ہیں۔25 لغت اور اس کے الفاظ و محاورات کے استعمال کے باب میں سر سید ایک اورفکری اجتہاد کے قائل نظرآتے ہیں۔ ان کی نظر میں مفسرین کا وتیرہ یہ ہے کہ پہلے وہ نص قرآنی میں وارد ایک لفظ کا معنی اپنے ذہنی رجحان کے مطابق حتمی طورپرمتعین کرلیتے ہیں، پھر اس معنی کے لغوی استشہاد کے لیے جاہلی شعرا کے کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سرسید کی نگاہ میں اس اصول کے مطابق اگرکسی لفظ کا ایک معنی متعین کرلیا گیا توسمجھاجائے گا کہ وہ کلام جاہلیت سے ہی ماخوذ ہے یا یہ کہ اس میں اس کی دلیل موجود ہے،چاہے موجود نہ ہو کیونکہ جاہلی شعرا کے کلام کا بڑا حصہ ضائع ہوگیا ہے۔
لغت عرب کے حوالے سے ان تصورات کو اختیار کرنا سرسید کی اس لیے مجبوری بن جاتی ہے کہ نص کی تفہیم و تعبیر کے باب میں اختیار معنی کی لامحدود گنجایش باقی رہے، لیکن اس پیمانے کو رد کر دینے کے منطقی نتیجے پر انھوں نے غور نہیں کیا کہ اس طرح نص( قرآن) میں محکم کا مسلمہ وجود ختم ہو کر پوری نص متشابہ بن جاتی ہے اور ایمانیات کی دیوار گر جاتی ہے، کیونکہ اسے شک و ظن کی بنیاد پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔ مزید انھوں نے اس پر بھی غور نہیں کیا کہ پھر شارع پر عائد ہونے والے اس الزام کو کس طرح رفع کیا جاسکتا ہے کہ اس نے ایسی چیزوں کے اعتقاد و عمل کا بندوں کو مکلف کیا ہے اور ان پر سعادت و شقاوت اخروی کی بنیاد رکھی ہے جو مبہم، غیر واضح اور بایں معنی مشکوک ہیں۔ سر سید آیات قرآنی کی تاویل کو اپنے وضع کردہ اصول کی بنا پر کفر تصور کرتے ہیں۔26
لیکن تاویل کے یہ معنی سرسید کے ذہن کی پیداوار ہیں۔ سرسید کا ذہن یہ ہوگا کہ نصوص کے فہم و تاویل کے اصول وضع کرنے کی انھیں کیوں اجازت حاصل نہ ہو اور اسے امام شافعی و ابن تیمیہ وغیرہ تک ہی محدود کیوں رکھا جائے ؟اصولاً تو یہ بات بہ ظاہر صحیح نظر آتی ہے، لیکن تاویل کے یہ معنی نہ تو لغت کے لحاظ سے درست ہیں اور نہ کلام شارع کے لحاظ سے۔27 تو پھر سکوت کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تاویل کے باب میں سرسید کی فکر اصولی طور پر انتہا پسندی اورافراط وتفریط پرمبنی ہے۔
[باقی]
- ۔ مکمل مجموعہ لکچرز واسپیچز، علی گڑھ: سر سید اکاڈمی ،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، 2010ء،ص295۔
- ۔ اس کا اردوترجمہ راقم الحروف کے قلم سے گلوبل میڈیا پبلی کیشنز،نئی دہلی سے 2019ءمیں شائع ہوا۔
- ۔ اس پرایک متوازن تنقید کے لیے دیکھیے: عبد المجید الشرفی: الاسلام والحداثۃ، تونس: الدارالتونسیۃ للنشر،1991ء، ص 44وما بعد ۔
- ۔ اقبال، اسلام اوراحمدی تحریک، انجمن خدام الدین لاہور، 1963ء، ص12۔
- ۔ فارابی کے وحی ونبوت کے بارے میں نظریات کے لیے دیکھیے: کتاب آراء اہل المدینۃ الفاضلہ، باب 26 ، تقدیم وتعلیق،البیر نصری نادر، بیروت: دار المشرق،1968ء، ص 114۔
- ۔ سرسید احمد خاں،تحریر فی اصول التفسیر ،پٹنہ: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری،1995ء،ص،32۔
- ۔ یہ تصور صحیح نہیں ہوگا کہ غزالی نے ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ اور اپنی دیگر تحریروں کے ذریعے سے فلسفیانہ رجحان کو ختم کر دیا ۔حقیقت یہ ہےکہ غزالی کا اس باب میں کارنامہ اصلاً الہٰیات کے باب میں فلسفیانہ در اندازیوں اورموشگافیوں کوروکنا تھا۔ الہٰیات کے علاوہ میدانوں میں فلسفہ کا زوربہت حد تک قائم رہا، جن میں سب سےاہم میدان تصوف تھا۔
- ۔ تحریرفی اصول التفسیر37-42۔
- ۔ تحریرفی اصول التفسیر42۔
- ۔ فلاسفۂ یونان کی اکثریت کا خیال تھا کہ موت کے بعد انسانی جسم اپنے تمام اجزا وعناصرکے ساتھ بکھرکر معدوم ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کا اعادہ ممکن نہیں رہتا، کیونکہ انسان کی قوت عاقلہ اس کے مزاج کے تابع ہے اورجب مزاج اپنی حالت پرباقی نہ رہے تو قوت عاقلہ بھی معدوم ہوجاتی ہے ۔اس طرح گویا روح ختم ہونے کے بعدزندہ نہیں ہوسکتی۔السید الشریف الجرجانی ،شرح المواقف لعضد الدین الایجی،بیروت: دار الکتب العلمیۃ،1998 ،8/321-327۔
- ۔ المنقذ من الضلال35-36 ۔ مشمولہ ’مجموعۃ رسائل امام الغزالی‘(وضع حواشیہ وخرج احادیثہ وقدم لہ) احمد شمس الدین، بیروت: دارالکتب العلمیہ،1988ء۔
- ۔ مقالات سرسید(مرتبہ:مولانا محمد اسماعیل پانی پتی)لاہور: مجلس ترقی ادب، 1984ء ، 3/68۔
- ۔ الغزالی،تہافت الفلاسفۃ،(تحقیق وتقدیم الدکتورسلیمان الدنیا) القاہرہ:دار المعارف، ط8، سن غیر مذکور، ص307-308۔
- ۔ مقالات سرسید3/ 70-71۔
- ۔ مقالات سرسید 3/85وما بعد۔
- ۔ ابن رشد،فصل المقال فی تقریرما بین الشریعۃ والحکمۃ من الاتصال،(مع مدخل ومقدمہ الدکتور محمد عابد الجابری) بیروت:مرکز دراسات الوحدۃ العربیۃ، 1997ء ص98۔
- ۔ نصر حامد ابوزید،الخطاب والتاویل ،الدار البیضا،المرکزالثقافی العربی ،2008ء، ص47۔
- ۔ الطاف حسین حالی،حیات جاوید، ارسلان بکس، کشمیر، 2000ء، 2/156۔
- ۔ تحریر فی اصول التفسیر55۔
- ۔ ابن تیمیہ،الرسالۃ المدنیۃ (بہ تحقیق،الولید بن عبد الرحمٰن الفریان)ص53۔
- ۔ تحریر فی اصول التفسیر 61۔
- ۔ مقالات سرسید کی جلدسوم میں متعدد مضامین غزالی کی مختلف کتب ورسائل کے حوالے سے موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، متعدد تحریروں میں سرسید غزالی کی کلامی فکر سے بحث کرتے نظر آتے ہیں۔
- ۔ الغزالی، فیصل التفرقہ بین الاسلام والزندقۃ(تخریج وتعلیق، محمود بیجو)،دمشق: مکتبہ دار البیروتی، ص61-62۔
- ۔ مقالات سرسید3/ 160-161۔
- ۔ مقالات سرسید 3/163۔
- ۔ سر سید کے بعض ناقدین نے اس ’تضاد‘ پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایک طرف سرسید تاویل کو کفر سمجھتے ہیں، جب کہ دوسری طرف تاویل میں انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔انھوں نے اس پر غور نہیں کیا اصلاً سرسید کا تصور تاویل کیا ہے؟ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں وضاحت کی، سر سید کے نزدیک تاویل کا مطلب قائل کے کلام کی غلطی کی اصلاح ہے اور اس معنی میں نص کی تاویل یقیناً کفر ہے۔
- ۔ دیکھیے، ابن منظور الافریقی:لسان العرب 11/ 32-33۔ لغت اور اس کے الفاظ سماع پرمبنی ہیں ۔ ان میں اجتہاد جائز نہیں ہے،لیکن بجاے خود تاویل کے معروف معنی بھی اس بنا پر ظنی قرار دیے جائیں کہ جو لغات عرب ہم تک پہنچی ہیں وہ خود ظنی ہیں ( مقالات سرسید3/ 164)۔