عام طور پر ہمارے علما کی یہی رائے ہے کہ خواتین کو شریعت نے اکیلے سفر کرنے سے روکا ہے۔ ضروری ہے کہ ان کے ساتھ محرم موجود ہو۔ چنانچہ دار الافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کا فتویٰ کچھ یوں ہے:
اگر عورت کا اپنے شہر یا علاقے سے باہر سفر کا ارادہ ہو اور اڑتالیس میل (سوا ستر کلو میٹر) یا اس سے زیادہ مسافت کا سفر ہو تو جب تک مردوں میں سے اپنا کوئی محرم یا شوہر ساتھ نہ ہو، اس وقت تک عورت کے لیے شرعاً سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ البتہ سفرِ شرعی سے کم مسافت کے سفر میں اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اکیلے سفر کی گنجائش ہے۔ عمومی احوال میں بھی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اڑتالیس میل سے کم یا شہر کے اندر بھی بالکل تنہا سفر نہ کرے۔
اس فتویٰ کی بنیاد بخاری اور مسلم میں جو احادیث بیان کی جاتی ہیں، وہ یہ ہیں:
عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم».
(صحيح مسلم، 1/433، كتاب الحج، ط: قدیمی)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔
اسی طرح بخاری شریف کی ایک روایت ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لا يخلون رجل بامرأة، ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبت في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحج مع امرأتك». (صحیح البخاری، 4/59)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:
کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔
اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا:
یا رسول اللہ! میں نے فلاں غزوے میں شرکت کے لیے اپنا نام لکھوا دیا ہے، جبکہ میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر شہزاد سلیم لکھتے ہیں:
اس بات کو پیش نظر رہنا چاہیے کہ بہت سی احادیث ایسی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مصلحت اور عمومی بھلائی کے لیے ہدایات دی ہیں اور یہ ہدایات شریعت کا کوئی مستقل حصہ نہیں ہیں۔ مزید برآں اس نوعیت کے احکام حالات سے مشروط ہوتے ہیں۔ اگر حالات تبدیل ہو جائیں تو ان ہدایات کا اطلاق بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔
چنانچہ عرب جیسے انارکی سے بھرپور معاشرے میں مسلمان خواتین کے سفر کو محفوظ بنانے اور ان کے کردار کو کسی بھی اسکینڈل سے بچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں محرم کے ساتھ سفر کرنے کا حکم فرمایا۔ ہر وہ سفر جس میں خواتین کے لیے خطرات موجود ہوں، وہاں انہیں اپنی حفاظت کے لیے مناسب تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔
جدید دور میں سفر کے ذرائع اور حالات بہت مختلف ہو چکے ہیں۔ اب ایسے ذرائع میسر ہیں جن میں ایک خاتون کی جان، مال اور آبرو کو مناسب تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں محرم کی شرط ہر حال میں ضروری نہیں رہتی۔ البتہ یہ فیصلہ کہ کون سا سفر محفوظ ہے، خاتون کو اپنے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے خود کرنا چاہیے۔
استاذ جاوید احمد غامدی کے نزدیک خواتین کا محرم کے بغیر سفر کرنا شرعاً حرام نہیں ہے۔ ان کی رائے کی بنیاد یہ ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث جن میں محرم کے بغیر سفر سے روکا گیا، اُس زمانے کے غیر محفوظ حالات کے پیش نظر تھیں۔
ان احادیث کا اصل مقصد عورت کی حفاظت اور عزت ہے، کوئی دائمی اور مطلق پابندی عائد کرنا نہیں۔
اگر آج کے زمانے میں سفر محفوظ ذرائع سے ہو (جیسے جہاز، ٹرین، بس) اور عورت کی جان، عزت اور وقار محفوظ ہوں تو محرم کے بغیر سفر جائز ہے۔
غامدی صاحب کی رائے کا خلاصہ ایک سطر میں یہ ہے کہ حکم کی اصل روح حفاظت ہے، محرم بذاتِ خود شرطِ حرمت نہیں۔
غامدی صاحب کے استدلال کا اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ احادیث حرام یا حلال کا مستقل قانون بنانے کے لیے نہیں تھیں، بلکہ یہ اُس دور کے حالات کے مطابق حفاظتی ہدایات تھیں، اور یہی ان احکام کی اصل علت تھی۔ یہ علت ختم ہو جائے تو حکم ختم ہو جاتا ہے۔ اور یہاں علت تھی:
غیر محفوظ سفر
ڈاکو، اجنبی راستے
تنہا عورت کے لیے خطرات
غامدی صاحب ایک اور اہم حدیث سے بھی دلیل لیتے ہیں۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایک وقت آئے گا کہ عورت حیرہ سے مکہ تک اکیلی سفر کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری)
غامدی صاحب کہتے ہیں کہ اگر محرم کے بغیر سفر بذاتِ خود حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے مثبت پیش گوئی کے طور پر بیان نہ فرماتے۔ اس لیے ان احادیث کی درست تفہیم یہی ہے کہ ان میں خواتین کے لیے اکیلے سفر کی مطلق ممانعت نہیں ہے، بلکہ محفوظ طریقے سے سفر کرنے کی تاکید ہے۔