مواد پر جائیں

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی) (18) ]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [ تقسیم ہند اور مولانا اصلاحی

حیات ِامین اردو

مولانا اصلاحی تقسیم ہند کے موقع پر کیا موقف رکھتے تھے، اس حوالے سے ہم ان کی ادارت میں شائع ہونے والے جریدے ’’الاصلاح‘‘ کے اقتباسات پچھلے صفحات میں بیان کر چکے ہیں۔ یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ وہ مسلم لیگ کے اس بیانیے سے اختلاف رکھتے تھے کہ قومیت کی بنیاد پر چلنے والی مسلم لیگ کی تحریک کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی پر بھی تنقید کی اور آخر انھوں نے مولانا اصلاحی کے موقف کو تسلیم کر لیا۔ اس ہم آہنگی کے بعد ہی وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔

جنگ عظیم دوم کے بعد( 1945 ء) میں جب برطانیہ نے ہندستان چھوڑ دینے کا عندیہ دیا تو پورے ملک میں ہر طرف یہ سوال زیر بحث آگیا کہ ہندستان تقسیم ہو یا متحد رہے؟ اس بابت مولانا اصلاحی کیا موقف رکھتے تھے؟ اس حوالے سے انھوں نے فروری 1946ء کے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے شمارے میں ایک تفصیلی مضمون لکھا،جو ’’ اشارات‘‘ کے عنوان سے بہ طور اداریہ شائع ہوا تھا۔اس تفصیلی مضمون کا خلاصہ انھوں نے آخر میں یہ بیان کیا:

’’الف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام دنیا میں تبلیغ ِدین کی جو ذمہ داری ڈالی گئی تھی، اس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرما کر اللہ کی طرف سے اس کی تکمیل کا کام اپنی امت کے سپرد فرمایا تاکہ یہ امت ہر ملک، ہر قوم اور ہر زبان میں قیامت تک اس دین کی تبلیغ کرتی رہے۔

ب : اس تبلیغ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ شرط ہے کہ دل سے کی جائے، زبان سے کی جائے،عمل سے کی جائے، بلا تقسیم و تفریق پورے دین کی کی جائے،بے خوف اور بِلا لومتِ لائم اور بے رو رعایت کی جائے اور اگر ضرورت آئے تو جان دے کر کی جائے۔

ج۔ اس جماعتی فرض کی ادائیگی کا باضابطہ ادارہ خلافت کا ادارہ تھا اور جب تک یہ ادارہ موجود تھا، ہر مسلمان اس فرض کی ذمہ داریوں سے سبک دوش تھا۔

د۔ اس ادارے کے منتشر ہو جانے کے بعد اس فرض کی ذمہ داری امت کے تمام افراد پر ان کے درجہ اور استعداد کے لحاظ سے تقسیم ہو گئی۔

ہ۔ اب اس فرض کی مسئولیت اور ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کے لیے دو ہی راہیں مسلمانوں کے لیے باقی رہ گئی ہیں: اس ادارے کو قائم کریں یا کم از کم اس کو قائم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائیں۔

و۔ اگر مسلمان ان میں سے کوئی بات بھی نہ کریں تو وہ اس فرضِ رسالت کو ادا کرنے کے مجرم ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سپرد کیا گیا ہے اور صرف اپنی ہی غلط کاریوں کا وبال اپنے سر نہیں لیں گے، بلکہ خلق کی گم راہی کا وبال بھی ان کے سر آئے گا۔‘‘

اسی بات کو مولانا اصلاحی نے دوسری جگہ یوں بیان کیاہے :

’’ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ دعوت دین کی تجدید کے لیے اٹھیں گے، وہ اگرچہ ہر اس بات کو جو کفر و شرک ہے، کفر و شرک ہی کہیں گے اور لوگوں کے اعمال و عقائد میں جہاں اس کا کوئی شائبہ موجود ہوگا، بے دھڑک اس کی نشان دہی بھی کریں گے، لیکن اس کے باوجود نہ ان کو کافر و مشرک سمجھیں گے، نہ کافر و مشرک کہیں گے اور نہ کافر و مشرک قرار دے کر ان سے براءت کا اظہار کریں گے۔ یہ تبلیغ اور دعوت کا دور ہے، جس کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں میں کفر و ایمان کا امتیاز پیدا ہو۔ جب یہ امتیاز پیدا ہو جائے یا وہ شرائط پوری ہو جائیں جو یہ امتیاز پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے، تب وہ وقت آتا ہے کہ ان لوگوں کے کفر کا فیصلہ کیا جائے جو اپنے کفر پر اڑے ہوئے ہیں۔‘‘ (اشارات، مارچ 1946ء، 10)

چنانچہ ان کے نزدیک خلافت کے قیام کی دعوت مسلمانوں کو بھی دینی چاہیے تھی اور غیر مسلم کو بھی۔ ان کے نزدیک مسلم ہندو کی بحث فضول تھی اور پاکستان کے قیام کا مطالبہ بھی مسئلے کا کوئی حل نہیں تھا۔ البتہ، جب انگریزی حکومت نے تین جون 1947ء کو تقسیم کے فیصلےکا اعلان کر دیا تو جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت نہیں کی، البتہ اپنے موقف کو مسلم لیگ کی قیادت تک پہنچانے کے لیے جماعت اسلامی کے اُس وقت کے سیکرٹری قمرالدین خان،مولانا مودودی کے ایما پر محمد علی جناح سے دہلی میں ان کی قیام گاہ’’گلِ رعنا‘‘میں جاکر ملے اور ان کے سامنے جماعت اسلامی کے قیام کے مقاصد بیان کیے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کو نیک اور اہل قیادت نہ ملی تو اس آ زادی کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔

محمد علی جناح نے پورے تحمل سے 45 منٹ تک ان کی بات سنی۔ اور اس کے جواب میں کہا کہ وہ مولانا مودودی کی دینی خدمات کو نہایت پسند کرتے ہیں۔البتہ، اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد ریاست کے حصول کی ضرورت ہے، ورنہ ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا اور وہ انگریزوں کے بعد ہندو اکثریت کے غلام بن جائیں گے۔ چنانچہ پاکستان ناگزیر ہے اور یہ کام کردار کی تطہیر سے بھی زیادہ اہم اور فوری نوعیت کا حامل ہے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ اصل میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ میں کوئی اختلاف نہیں۔ جماعت جس اعلیٰ مقصد کے لیے کام کررہی ہے، مسلم لیگ اس کام کے فوری حل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ اگر یہ کام اس وقت نہ ہوا تو جماعت کا کام بھی مکمل نہ ہوسکے گا۔

کہا جا سکتا ہے کہ جناح نے ایک طرف جماعت اسلامی کی تطہیر ِافکار اور تعمیر کردار کے کام کی تائید کی اور دوسری طرف قیام پاکستان کے بعد اس کام کو آگے بڑھانے کی طرف اشارہ کیا۔یہ ایک ماہر سیاست دان کی تدبیر تھی، جس پر جماعت کے رہنما خاموش ہو گئے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کی خاموش حمایت کی۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد جماعت اسلامی نے بھی اپنے دو حصے کیے۔ مرکزی حصے نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے جماعت کے نظم کی پابندی کی اور ان کی راے بھی یہی تھی کہ جماعت اسلامی کو اپنی جدوجہد کا محور اب پاکستان ہی کو بنانا چاہیے۔

فسادات پر نقطۂ نظر

قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں جب ہندستان کے بعض حصے شدید فسادات کا شکار ہوئے تو مسلم لیگ اور دوسری سیاسی ومذہبی جماعتیں اپنے اپنے فرقوں اور جمعیتوں کی حمایت میں کھڑی ہوئیں تو جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے مولانا اصلاحی نے ایک بالکل مختلف بات کی۔ وہ ’’اشارات‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں :

’’قوموں کی یہ عجیب فطرت ہے کہ جب ان پر کوئی تباہی آتی ہے تو ہمیشہ اس کے اسباب اپنے اندر تلاش کرنے کے بجاے دوسروں کے اندر ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں حالاں کہ اس کے اسباب خود ان کے اندر موجود ہوتے ہیں…قوموں کی اس غلطی کی دو کھلی وجہیں ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کا قومی غرور اس امر کے اقرار میں مانع ہوتا ہے کہ ان پر جو تباہی آئی ہے، وہ خود ان کی کسی مذہبی اور اخلاقی کم زوری کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ اس چیز کا اگر وہ اعتراف کرلیں تو اس پر اصلاحِ احوال کی ایک بہت بڑی ذمہ داری آجاتی ہے، لیکن اس سے ان کے غرور ِنفس اور احساس ِبرتری کو بڑی چوٹ لگتی ہے۔ اس وجہ سے وہ اصل حقیقت کی طرف توجہ کرنے کے بجاے کوشش اس بات کی کرتی ہیں کہ یا تو اس کو ایک اتفاقی حادثہ قرار دے کر گزر جائیں یا اس کا سارا الزام ظلم و زیادتی کرنے والے پر تھوپ کر اپنے آپ کو بھی مظلوم سمجھ لیں۔

دوسری چیز جو ہمارے ارکان کو پیشِ نظر رکھنی ہے، وہ یہ ہے کہ حالات قومی تعصب کو کتنے ہی بھڑکانے والے ہوں، لیکن ہمیں بہرحال قومی تعصبات سے بالاتر رہ کر حق کی دعوت دینی ہے اور اسی پر عمل کرنا ہے۔ہم جن اصولوں کو لے کر اٹھے ہیں، ان کو کسی قوم کی نفرت اور عداوت کی وجہ سے نہیں بدل سکتے۔…

جو لوگ متحدہ قومیت کا پرچار کر رہے تھے اور اسی میں ہندوستان کی نجات سمجھتے تھے، ان فسادات کے واقعات کے بعد اس قدر بوکھلا گئے ہیں کہ انھوں نے بہار میں نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ اپنے اس محبوب اصول کو بھی ذبح کر ڈالا۔ عدم تشدد، عدم تشدد کی پکار سے جن لوگوں کے ہونٹ خشک ہو رہے تھے اور جن کا دعویٰ تھا کہ دنیا میں نجات ہے تو اسی عقیدے میں ہے، اب وہ قومی تعصب میں،جنون میں برملا ’’تشدد‘‘ کی آواز کہنے لگے ہیں۔لیکن ہمارے لیے یہ بات جائز نہیں ہوگی کہ ہم اس طرح جذبات سے مغلوب ہو کر حق اور عدل کی راہ سے ہٹ جائیں۔ بہار اور دوسرے مقامات میں جو کچھ ہوا ہے، وہ کتنا ہی شرم ناک اور وحشیانہ ہو، لیکن اسلام نے ہم کو یہی تعلیم دی ہے کہ ہم زید کی غلطی کا بدلہ بکر سے نہیں لے سکتے۔ اگر خدانخواستہ کسی جگہ اس طرح کے حالات پیش آ جائیں جیسے کہ ’’نوا کھلی‘‘ میں پیش آئے ہیں اور ہمارا وہاں پر ایک رکن بھی موجود ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ پوری قوت سے مسلمانوں کو اس طرح کی زیادتی سے روکے اور مظلوم فریق کی مدد کرے اور اس راہ میں اس کی جان بھی چلی جائے تو اس کی پروا نہ کرے۔ زیادتی کرنے والے مسلمان کو زیادتی کرنے سے روکنا نہ صرف اس فریق کی مدد ہے جس پر زیادتی ہو رہی ہے، بلکہ یہ زیادتی کرنے والے مسلمان کی مدد ہے، جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔‘‘ (اشارات، دسمبر1946ء)

مولانا اصلاحی کا یہ موقف صرف انھی کا موقف نہ تھا، بلکہ یہ پوری جماعت اسلامی کی راے تھی۔ یہ اسلام کے اصولوں کے عین مطابق تھی۔ جماعت اسلامی نے اس پُر آشوب حالات میں ایسی عمدہ مثال پیش کی جس کی جتنی بھی توصیف کی جائے، کم ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ان اصولوں کی برملا خلاف ورزی کی گئی اور اس کی طرف مولانا اصلاحی نے زور دار طریقے سے توجہ دلائی۔ اس کا ذکر آگے کے صفحات میں آئے گا۔

مہاجر کیمپ اور مولانا اصلاحی

پاکستان بننے کے بعد جب پنجاب اور بنگال میں فسادات پھوٹ پڑے تو اس موقع پر جماعت اسلامی نے مذہب و قوم سے بالاتر ہو کر مظلومین کی حمایت اور عملی مدد کی۔

جماعت اسلامی نے مصیبت زدگان کی امداد کے لیے پٹنہ ( بنگال)میں ریلیف کیمپ قائم کیا۔ یہ امدادی کیمپ مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب عبدالجبار غازی کی سرکردگی میں قائم کیا گیا تھا۔ کیمپ کئی ماہ تک وہاں مظلوم مہاجرینِ فسادات کے لیے کام کرتا رہا۔

جماعت اسلامی کا مرکز پٹھان کوٹ میں تھا۔ یہ علاقہ ضلع گورداس پور میں شامل تھا۔ اس کے بارے میں زیادہ امکان یہی تھا کہ یہ پاکستان میں شامل ہو گا، لیکن آخری وقت میں اسے ہندستان میں شامل کر دیا گیا۔اور یہ سارا علاقہ شدید فسادات کی لپیٹ میں تھا۔ چنانچہ اس فیصلے نے جماعت اسلامی سمیت علاقے کے تمام مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

یاد رہے کہ یہاں پر جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ موجود تھی۔ جماعت کی لائبریری اور سارا سازو سامان بھی یہیں تھا۔

اس نازک موقع پر مولانا مودودی، مولانا اصلاحی اور جماعت اسلامی کے دوسرے رہنماؤں نے شان دار کردار پیش کیا۔ ان کی بہادری، جرأت اور ذہانت سے بیسیوں مسلمانوں کی جانیں اور عزتیں فسادیوں سے محفوظ رہیں۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب کی صاحب زادی سیدہ حمیرا مودودی اپنی یادداشتوں کی کتاب ’’شجر ہائے سایہ دار‘‘ میں دارالاسلام میں اگست 1947ء کے واقعات کے بارے میں لکھتی ہیں:

’’یہ اگست 1947ء کے وہ دن تھے جب فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے۔ ابا جان اور دارالاسلام کے کارکنوں کا رعب و دبدبہ اس قدر تھا کہ آس پاس کے ہندوؤں اور سکھوں کو جرأت نہیں ہوئی کہ وہ دارالاسلام کی حدود میں قدم بھی رکھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مضافات کے دیہات سے لوگ اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کے ساتھ دارالاسلام میں پناہ لینے کے لیے آگئے تھے۔ پورا علاقہ مسلمانوں سے پٹا پڑا تھا۔ متاثرین کی آمد کا اتنا دباؤ تھا، لیکن اُس وقت فوج کی ہم راہی میں صرف تین بسیں لوگوں کو لینے کے لیے آئیں۔ ان میں سے بھی ایک بس چودھری نیاز علی خان صاحب کے گھر والوں کو لینے کے لیے بھیج دی گئی۔اب صرف دو بسیں دارالاسلام والوں اور وہاں پہنچنے والے پناہ گزینوں کے لیے رہ گئیں۔

ابا جان نے فوری طور پر فیصلہ کیا:’’اس وقت صرف عورتیں اور بچے ان دو بسوں میں چلے جائیں، مرد بعد میں جائیں گے‘‘۔غضب یہ ہوا کہ جو فوجی جوان بسوں کے ساتھ آئے تھے، انھوں نے حکم صادر کیا:’’دس منٹ کے اندر اندر آپ لوگ بسوں میں بیٹھ جائیں،ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔‘‘ اس وقت دادی اماں اور اماں جان نے کہا:’’ہم مردوں کے بغیر اکیلے کیسے جائیں، جب کہ قدم قدم پر سکھ کرپانیں لیے کھڑے ہیں!‘‘ تقریباً یہی سوال ہر گھر میں اٹھا ہوا تھا اور چونکہ ہمارا گھر نمونے کا گھر تھا، اس لیے سب کی نظریں اس گھر پر ٹکی ہوئی تھیں۔

ابا جان نے کہا:’’آس پاس کے دیہات کے مسلمان میرے پاس پناہ کے لیے آئے ہیں، میں انھیں کیسے بلوائی سکھوں اور ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اور اپنے بیوی بچوں کو لے کر چلا جاؤں؟‘‘ ابا جان نے مزید کہا:’’عورتوں اور بچوں کی موجودگی میں بہادر سے بہادر مرد بھی بزدلی دکھا کر جان بچانے کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے۔عورتوں اور بچوں کے جانے کے بعد ہم عزتیں بچانے کی فکر سے تو آزاد ہوجائیں گے۔ باقی رہیں ہماری اپنی جانیں تو جو اللہ کو منظور ہوا وہی ہوگا، اس کی فکر نہ کریں۔‘‘

اسی گومگو میں وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا۔ فوجی جوان سیٹیوں پر سیٹیاں بجا رہے تھے۔ بالآخر ابا جان نے بڑے مستحکم لہجے میں اماں جان سے کہا:

’’جب تک آخری آدمی یہاں سے پاکستان نہیں چلا جاتا، میں یہاں سے ہلوں گا بھی نہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی دادی اماں نے اپنا قرآن شریف گلے میں ڈالا، وضو کا لوٹا ہاتھ میں لیا اور اماں جان کے ساتھ بچوں کا ہاتھ پکڑ کر ستے ہوئے چہروں، بھنچے ہوئے ہونٹوں اور آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ بس میں سوار ہوگئیں۔ جیسے ہی دادی اماں اور اماں جان بس میں بیٹھیں، باقی گھروں کی خواتین اور بچے بھی سوار ہوگئے۔ جب بسیں چلیں تو کچھ لوگ بے اختیار ہوکر ساتھ ساتھ دوڑنے لگے، لیکن ہم نے مڑ کر کھڑکی سے دیکھا تو ابا جان، چٹان کی طرح جمے اپنی جگہ پر خاموش کھڑے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔

عصر اور مغرب کے درمیان یہ بسیں سرنا سے روانہ ہو کر عشا کے لگ بھگ امرتسر پہنچیں اور پوری رات وہاں کھڑی رہیں، کیونکہ اندھیرے میں سفر خطرناک تھا۔آدھی رات کو دادی اماں حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے لیے سب کے روکنے کے باوجود اصرار کر کے بس سے اتر گئیں۔ جب خاصی دیر ہو گئی اور دادی اماں واپس نہیں آئیں اور سب لوگ مایوس ہو گئے تو اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ دو سکھ دادی اماں کا ہاتھ پکڑے انہیں ساتھ لیے چلے آرہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ اماں جی پہچانو، تہاڈی بس کیڑی ہے؟ ہم نے فوراً آواز دی۔ دادی اماں ادھر آ جائیے۔ غرض دونوں سکھ سہارا دے کر اماں جی کو بس میں چڑھا کر سلام کر کے خاموشی سے واپس چلے گئے۔ ایک کے ہاتھ میں پانی کا بھرا ہوا لوٹا تھا، وہ بھی اس نے کھڑکی سے اماں جی کو پکڑا دیا۔ بعد میں دادی جان نے ہم سے کہا تم لوگ خواہ مخواہ سمجھتے ہو کہ سکھ مارتے ہیں حالانکہ مارنے جلانے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

ابا جان نے بطور احتیاط دارالاسلام ہی سے جماعت اسلامی کے ایک بزرگ محترم عبدالجبار غازی کو ہمارے قافلے کے ساتھ بھیجا اور ان کو یہ ہدایت کر دی تھی بسیں لے کر سیدھے گوال منڈی لاہور میں ملک نصر اللہ خان صاحب عزیز کے گھر چلے جائیں اور وہاں سے ہم لوگوں کو تانگے میں سوار کر کے اسلامیہ پارک پر فصیح منزل میں مولوی ظفر اقبال صاحب کے گھر پہنچا دے۔ اسی طرح ابا جان نے عبدالجبار غازی صاحب کو تاکید کر کے یہ بھی کہا کہ سب خواتین کو ان کے رشتہ داروں کے گھر پہنچا دیں۔ ہم فصیح منزل میں چند روز تک مقیم رہے۔ اس عرصہ میں ابا جان کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں آئی کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں ؟ طلوع ہونے والا ہر دن دادی اماں اور اماں جان کے لیے ایک ایک صدی بن کر گزرتا تھا۔ ہر روز، ہر رات قیامت کی مانند ہوتی تھی۔ اس پورے عرصے میں مولوی ظفر اقبال صاحب کے گھر والوں نے جس طرح ہماری خاطر مدارات، دل جوئی اور علاج معالجے کے لیے سہولیات فراہم کیں، اس نے انصار مدینہ کی جانب سے مکہ کے وہاں حاضرین کی آؤ بھگت کی یاد تازہ کر دی اور پھر ایک دن اچانک ابا جان اپنے رفقاء کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔‘‘ (10-11)

[باقی]

محمد امین*

سید سلیمان ندوی

’’شذرات سلیمانی‘‘ کے آئینے میں

سید سلیمان ندوی ایک ہمہ جہت اور جامع شخصیت کے مالک تھے۔ ’’عرب اور ہند کے تعلقات‘‘ اور ’’ عربوں کی جہاز رانی‘‘ میں وہ ایک بلند پایہ مورخ نظر آتے ہیں تو ’’خیام‘‘ میں ایک بلند پایہ ادیب۔ ’’دروس الادب‘‘ اور ’’لغات جدیدہ‘‘ لکھ کر اپنی عربی دانی کا لوہا منوایا تو اردو زبان میں مستعمل الفاظ کے ماخذ و مخارج پر مشتمل ان کی تحریریں اردو زبان کی ایک اہم خدمت تسلیم کی جاتی ہیں۔ سید صاحب کی جملہ تصانیف اور تحاریر پر ایک سرسری نظر بھی قاری کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ اپنے دور کے اہل علم اور اہل نظر میں اتنا تنوع اور کمالِ جامعیت رکھنے والا شخص خال خال ہی نظر آتا ہے۔

سید صاحب مرحوم کے فرزند ڈاکٹر سید سلمان ندوی لکھتے ہیں:

’’یہ تسلیم ہے کہ سید صاحب جیسی متنوع شخصیت پر کام کرنا آسان نہیں اور کسی ایک شخص کے لیے مشکل ہے کہ ان کی بوقلمونیوں کو کما حقہٗ ایک جگہ سمیٹ سکے۔‘‘ 1

لہٰذا میں نے بھی اپنی نا اہلی اور لاعلمی کو مد نظر رکھتے ہوئے سید صاحب کے تمام پہلوؤں کو سمیٹنے کے بجاے صرف ایک پہلو کو اپنی اس تحریر کا موضوع بنایا ہے۔

سید سلیمان ندوی کی دیگر تصانیف کے متعلق جتنا اور جیسا کچھ لکھا گیا ہے اس کا عشر عشیر بھی ان کی صحافتی خدمات پر نہیں لکھا گیا۔وجہ جو کچھ بھی ہو، لیکن ہے بہت افسوس ناک!

ویسے تو سید صاحب چار سال تک ’’علی گڑھ‘‘ منتھلی کا اردو حصّہ ایڈٹ کرتے رہے، ’’الندوہ‘‘ کے نائب ایڈیٹر بھی رہے، ’’الہلال‘‘ کی ادارت میں مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم کے شریک بھی رہ چکے تھے، لیکن صحافت کے میدان میں ان کا اصل جوہر ’’معارف‘‘ میں ظاہر ہوا۔رسالہ ’’معارف‘‘ کا آغاز جولائی 1916ء میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہوا۔سید صاحب نے 1916ء سے 1950ء تک ’’معارف‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری حسن و خوبی کے ساتھ خود سنبھالی۔سید صاحب نے اس رسالے کو قدیم و جدید کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ جولائی 1916ء کے شذرات میں اس وقت کی عام علمی و مذہبی فضا کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

’’ملک میں اس وقت علم و مذہب کے متعلق جو خیالات بھی پھیلے ہوئے ہیں،وہ بالکل غیر معتدل ہیں،کچھ ایسے اشخاص ہیں جو عقل پرستی کے غرور میں مذہب اور مذہبی علوم کے ساتھ جاہلانہ تمسخر سے نہیں شرماتے،دوسری طرف حامیان مذہب و علوم کا جمہور اعظم ہے جو عقل و علم،مصالح و حکم،فلسفہ و اسرار کی ضرورت سے منکر ہے۔‘‘2

آگے ’’معارف‘‘ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہماری جماعت صلح عام کی منا دی ہے۔ وہ دونوں فریق کو مصالحت کی دعوت دیتی ہے،وہ جدید علوم، تازہ خیالات اور نئی تحقیقات کےبجان و دل سے قدر دان ہے لیکن اس کے لیے اپنے بزرگوں کا اندوختہ کھونا نہیں چاہتی ہے،یہ ان نادانوں پر ہنستی ہے جو تمام سرمایا دے کر بازار فرنگ کی ہر چمکتی ہوئی چیز کے خریدار بن جاتے ہیں لیکن ہماری جماعت ہر چیز کو خریدنے سے پہلے یہ جان لینا چاہتی ہے کہ یہ ہمارے بزرگوں کے تہ خانوں،خرابوں اور مدفون خزانوں میں موجود تو نہیں ہے،اگر ہے،تو وہ کون احمق ہوگا جو گھر کی ایک چیز کو چھوڑ کر اس کی تلاش میں گلیوں اور بازاروں کی آوارہ گردی قبول کرے گا۔‘‘

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سید صاحب مرحوم نے ہمیشہ اسی اصول،اسی اسلوب کی پابندی کی، نہ قدامت پرستی کے عشق میں گرفتار تھے نہ جدید یت کی زلفِ سیاہ کے اسیر تھے، بلکہ ہمیشہ اپنے لیے راہ اعتدال کا انتخاب کیا۔اور ’’معارف‘‘ کو بھی اسی راہ پر گامزن رکھا۔سید صاحب وقت کی نزاکت سے باخبر تھے،زمانے کی چال سے واقف تھے۔وہ قدیم و جدید کے درمیان مجادلہ نہیں، بلکہ معانقہ کرانا چاہتے تھے۔لیکن معانقے کی یہ راہ آسان بھی نہیں تھی۔اپنے پرائے کے ہاتھوں مطعون ہونا پڑا۔سید صاحب ہی کا جگر تھا جو اس پرخار راستے سے بہ سلامت گزر گئے۔خود سید صاحب نے اپنی آبلہ پائی کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے،لکھتے ہیں:

’’ملک میں قدیم و جدید تعلیم یافتوں کی دو برابر کی جماعتیں قائم ہیں،ہمارے کام کا پروگرام تو ایسا تھا کہ ان دونوں کے درمیان سلسلۂ اتصال کا کام دیتا لیکن کبھی کبھی ہم کو عجیب و غریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہی وقت ہوتا ہے جب ہمارے کانوں میں یہ آواز آتی ہے:

دو دل بودن دریں رہ سخت تر عیب است سالک را

خجل ہستم زکفر خود کہ دارد بوئے ایماں ہم

فریق اول کہتا ہے،کہ یورپ کے علوم کی آمیزش سے تم قدیم علوم کے حرم اقدس کی توہین کرتے ہو،جدید فرقہ الزام دیتا ہے کہ پرانے اور فرسودہ علوم کو زندہ کر کے تم ہمارے پاؤں میں وہی زنجیر یں ڈالنا چاہتے ہو،جن کو پچاس برس کی محنت میں ہم نے مشکل سے کاٹا ہے۔‘‘3

لیکن سید صاحب کی حقیقت شناس نظر نے دونوں فریقوں کو ان کی غلطیوں پہ متنبہ کیا اور اپنے مخصوص انداز میں انھیں حقیقت حال سے باخبر کیا۔اور علمی اور فکری افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو باور کرانے کی کوشش کی کہ قدیم و جدید علوم ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس پیدا کریں۔اسی احساس کو بیدار کرنے کی غرض سے سید صاحب لکھتے ہیں:

’’اصل یہ ہے کہ ہماری قوم کی مختلف ضرورتیں ہیں، ان میں سے کسی ضرورت کو کوئی بے سود نہیں کہہ سکتا، ہم کو طبیعات فلسفہ اور علم النفس کی بھی ضرورت ہے اور فقہ و اصول و تفسیر کی بھی، اگر تم اپنے مذاق کے مطابق دنیا کا فیصلہ کرتے ہو تو اس کے یہ معانی ہوں گے کہ ایک طبیعی کے نزدیک نفسیات کا دلدادہ اتنا ہی احمق ہے، جتنا ایک فلسفی کی نگاہ میں ایک منقولی، حالاں کہ ہمیں دونوں کی ضرورت ہے اور ترمیم کے ساتھ ہم دونوں کے طالب ہیں۔‘‘

سید صاحب نے واعظانہ اسلوب نگارش کے بجاے دوستانہ اور ہم دردانہ اسلوب اختیار کیا۔اور اس کا انھیں فائدہ بھی ہوا۔ان کی آواز کانوں کے پردوں سے ٹکرا کر واپس نہیں آئی، بلکہ کان کے راستے دل تک پہنچی، جیسا کہ مشہور مورخ،پروفیسر خلیق احمد نظامی نے اپنے مضمون ’’مولانا سید سلیمان ندوی کےعلمی کارناموں پر ایک نظر‘‘ میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’سید صاحب طبقۂ علما میں شاید پہلے شخص تھے جن کی علمی کاوشوں کو جدید اور قدیم دونوں مکتب خیال کے لوگوں نے یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھا اور ان کی تحقیق کی ندرت،فکر کی جودت،اور دلائل کے استحکام کا لوہا مانا۔‘‘4

’’معارف‘‘ شہرت اور قبولیت کی جس بلندی تک پہنچا اس کے پیچھے اس کے وه اداریےتھے جو سید سلیمان ندوی نے 1916ء سے 1950ء تک ’’شذرات‘‘ کے نام سے لکھے۔یہ شذرات اردو صحافت کی روایت میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔اردو رسائل کے اکثر اداریے کے برخلاف سید صاحب کے شذرات پر سکّہ بند ہونے کا الزام نہیں لگ سکتا۔اپنی نوعیت میں تازگی کا احساس دلانے والے ان شذرات نے ’’معارف‘‘ کے قاری کو 34 سال تک اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔ہم اسے سید صاحب کے شذرات کا اعجاز ہی سمجھتے ہیں کہ اتنے لمبے عرصے تک ’’معارف‘‘ کا قاری ذہنی تھکن کا شکار نہیں ہوا، بلکہ ہر لمحہ تازہ دم رہا۔سید صاحب کے شذرات کی پذیرائی علمی حلقوں میں جس طرح کی گئی اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباسات سے ہوگا،اس وقت کےایک بڑے صاحب علم، صاحب قلم،نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن خاں شیروانی مرحوم نے فرمایا کہ ’’ آپ (سید سلیمان ندوی) کے ’’شذرات‘‘ اور ’’معارف‘‘ کا وجود ’’ندوۃ العلماء‘‘ کی کامیابی پر برہان قاطع ہے۔‘‘

ایک خاص اسلوب نگارش کے موجد اور خاتم مولانا ماجد دریابادی نے اپنے ہی انداز میں ’’شذرات سلیمانی‘‘ کے متعلق بیان فرمایا۔ لکھتے ہیں:

’’صاحب معارف کی شذرات نگاری ایک خصوصی و امتیازی شانِ نگارش رکھتی ہے، بے لاگ لیکن نہ درشت نہ کرخت،عمیق لیکن نہ ادق نہ مغلق،رنگین لیکن نہ پر تکلف نہ ثقیل، سلیس، لیکن نہ سطحی نہ عامیانہ، شگفتہ لیکن نہ ناولانہ نہ خطیبانہ، جاندار لیکن نہ گرما گرم نہ پر خروش، صالح، لیکن نہ خشک نہ مولویانہ،سلیمانی ادب و انشا کا اردو کی تاریخ ادب و انشا میں جو ایک خاص مقام ہے … اس کی اصل بنیاد ہی معارف کے ادارتی صفحات سے پڑی اور معارف کے شذرات نے بہتوں کے لیے ایک نئی راہ کھولی۔‘‘5

سید صاحب نے ان شذرات میں اپنے زمانے کے ہر اس مسئلے پر تبصرہ کیا ہے، جس کا تعلق مسلمانوں کی مذہبی و ملی زندگی سے تھا۔خدا نے انھیں قوم و ملت کا سچا درد عطا فرمایا تھا۔سید صاحب کی زندگی کا مطالعہ کرنے والا بہ خوبی جانتا ہے کہ ان کی پوری زندگی خصوصاً دو مقاصد کے لیے وقف تھی۔ایک قوم و ملت کی خدمت اور دوسرا طلب علم کی سچی لگن۔ طلب علم کی خاطر وہ اپنی زندگی کی قیمتی سے قیمتی شے کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔اس کی ایک نادر مثال شذرات ہی سے پیش کرتا ہوں۔سید صاحب مارچ 1917ء کے شذرات میں اپنی بیمار بیوی کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ایک عالم سے جب کہ وہ مطالعہ میں مصروف تھے،ان کی بی بی نے کہا کہ ’’ایک نگاہ غلط انداز کی میں بھی مستحق ہوں‘‘۔ بولے: ’’دو سوکن ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں‘‘۔ کتاب اور عورت دو سوکنیں ہیں،جو دماغ عورت کی زلف دراز سے الجھ جاتا ہے وہ کتاب کی سطریں نہیں گنتا،کیوں کہ گیسوئے پرخم میں جو سیاہی ہے وہ اس میں کہاں، لیکن سیاہ بخت کتابوں کی سطروں میں الجھ جاتے ہیں، … مجھ بد قسمت کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے مذہب اور علم دونوں کی خدمتیں تفویض کی ہیں،اس لیے بی بی کے معاملے میں مجھے ان متضاد فتوؤں نے عجیب کشمکش میں مبتلا کر رکھا ہے،میری اہلیہ جو ایک لڑکی اور ایک صغیر السن بچہ کی ماں ہیں،عرصہ آٹھ سال سے امراض مختلفہ میں علیل ہیں اور اب ڈاکٹر نے دق تجویز کیا ہے، اس لیے میں سخت پریشان ہوں … ناظرین سے درخواست ہے،کہ وہ مذہبی حیثیت سے دعا کریں کہ خدا میرے سرمایۂ حیات کو میرے ہی پاس رہنے دے، لیکن اگر علمی خدمتیں سب کچھ لے کے اس کو بھی چھیننا چاہتی ہیں تو پھر وہی جو خدا کی مرضی ہے،میں ہر حال میں راضی برضائے الہٰی ہوں۔‘‘

اللہ اللہ ! خادمان علم و حکمت کے مجذوبانہ جذبوں کی کیسی کیسی حکایتیں اس دھرتی کے سینے میں دفن ہیں۔بلاشبہ سید صاحب کا جذبۂ ایثار بھی انھی حکایات کا ایک تسلسل ہے۔جب بندہ اپنے کسی جذبے میں سچا ہوتا ہے تو خدا بھی اس کے جذبے کی قدر کرتا ہے۔سید صاحب اپنی بیمار بیوی کی زندگی میں غالب کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے:

میں بھی تمھیں بتاؤں کہ مجنوں نے کیا کیا

فرصت کشاکشِ غِم پنہاں سے گر ملے

اپنی اہلیہ مرحومہ کے انتقال پر سید صاحب اپنی دل سوز کیفیت کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں:

’’اس پیکر وفا نے جان دے کر مجھے علم و ملت کی خدمت گزاری کے لیے کشاکشِ غم پنہا ں سے فرصت عطا کی، لیکن ایسا کانٹا دل میں چبھ کر رہ گیا جو شاید عمر بھر نہ نکلے۔‘‘

زمانہ سید صاحب کی طلب علم کی سچی لگن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے علمی کارناموں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔آسمانِ علم و ادب میں سید صاحب جیسے لوگ ستاروں کی مانند ہوتے ہیں جن کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی۔

سید سلیمان ندوی صاحب مسلمانانِ ہند کے علمی و فکری مسائل پر گہری حکیمانہ نظر رکھتے تھے۔ سید صاحب کی پوری زندگی مسلمانوں کی علمی اور فکری جمود کو توڑنے میں صرف ہوئی۔ قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کبھی کوئی قوم ذہنی طور پر اپاہج ہو جاتی ہے تو اسی قوم کے اندر ایسے کچھ افراد ضرور پیدا ہو تے ہیں جن کی زندگی کا مشن ہی اپنی قوم کے اپاہج پن کو دور کرنا ہوتا ہے۔ہماری ہند مسلم روایت میں بھی ایسے کئی لوگ پیدا ہوئے جن کی زندگیاں قوم کو قعرِ ذلت سے نکال کر بام عروج تک پہنچانے کی جد وجہد میں کٹ گئی۔بلاشبہ ہمارے سید صاحب کا شمار بھی انھی لوگوں کی جماعت میں ہوتا ہے۔بلکہ بعض معاملات میں تو سید صاحب اس جماعت کی امامت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

تاریخِ اقوامِ امم کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے اندر نفسیاتی طور پر کئی پیچیدگیاں جنم لے لیتی ہیں۔ انھی میں احساس کمتری اور احساس برتری کے نفسیاتی امراض بھی ہیں۔

بیسوی صدی کا مسلمان بھی ان دو خطرناک امراضِ نفسانی کا بری طرح شکار تھا۔سید صاحب ایک طبیب حاذق کی طرح ان امراض کی دفع کی ہر ممکن کوشش میں لگے رہتے تھے۔سید صاحب تشخیص اور علاج کی جن جزیات پر حکیمانہ نظر رکھتے تھے اس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں خال خال نظر آتی ہے۔ ابھی اوپر ہم احساس کمتری اور احساس برتری جیسے امراض کا ذکر کر آئے ہیں۔ دوسری قوموں کی طرح مسلمانان ہند بھی احساس برتری یا احساس تفاخر کا شکار ہوئے اور اپنے تفاخر کے اظہار کے مختلف اسالیب بھی وضع کرنے لگے۔ہم بطور واقعہ ’’شذرات سلیمانی‘‘ سے ایک اقتباس پیش کرنا چاہتے ہیں۔سید صاحب لکھتے ہیں:

’’مولانا حالی مرحوم نے سر سید کی ایک ضخیم لائف کیا لکھ دی، کہ قومی بزرگی کا یہ ایک جزء لا ینفک قرار پا گیا کہ ہر محسن قوم کے حالات،واقعات،مدائح اور مناقب ایک کثیر الاوراق کتاب کی صورت ضرور چھپ جانے چاہیے،کسی شخص کی زندگی کو ایک پوری کتاب میں پھیلانے کے لیے صرف زندگی کی بڑائی اور عظمت کا ترانہ کافی نہیں،بلکہ اس میں گونا گوں واقعات،کثیر التعداد احوال، تاریخی مختلف الشیون حالات،مدوجزر اور نشیب و فراز کی کیفیات ملک و قوم کے انقلابات کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کسی بزرگ کی زندگی میں یہ سرمایہ ہاتھ نہ آ سکے تو اس کی کوئی ضخیم اور کثیر الاوراق سیرت جس کو عرف عام میں سوانح عمری کہہ سکے، تیار نہ ہو سکے گی۔‘‘

بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ سید صاحب ایک علمی مسئلے میں قوم کی توجہ مبذول کرانا چاہ رہے ہیں، لیکن سید صاحب کی نظر بہت دور تک گئی ہے۔دراصل مسلمانان ہند اپنے بڑوں کی مدح سرائی میں غیر محسوس طریقے سے اپنے جذبۂ تفاخر کو تسکین دے رہے تھے۔ظاہر ہے کہ یہ عمل مسلمانوں کے لیے سخت نقصان ده تھا،بلکہ غافل قوم کو تھپکیاں دے کر مزید سلانے کے مترادف تھا۔ لہٰذا سید صاحب نے اپنی بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے قوم کو اس فعل عبث پر متنبہ کیا۔

سید صاحب نے مسلمانوں کی ترقی اور تنزلی دونوں کے اسباب پر کافی غور و فکر کا مظاہرہ کیا ہے، انھوں نے عظمت رفتہ کے گیت سنا کر سینوں کو جہاں گرمايا ہے وہیں وقتِ ضرورت مسلمانوں کو ان کی تنزلی کے اسباب بھی بیان کیے ہیں۔سید صاحب نے قوم و ملت کو علو ہمتی، استقامت اور جہد مسلسل کا سبق دینا اپنے شذرات کا نصب العین بنا لیا تھا۔ہم اپنی بات کی تصدیق کے لیے شذرات ہی سے کچھ حوالے پیش کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں:

’’مسلمانوں کی ترقی اور تنزلی دونوں کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے ان کا فوری اور وقتی جوش،وہ سیلاب کے مانند پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں لیکن کوہ کن کی طرح ایک ایک پتھر جدا کر کے راستہ صاف نہیں کر سکتے … وہ ایک مسجد کی مدافعت میں اپنا خون پانی کی طرح بہا سکتے ہیں، لیکن ایک منہدم مسجد کو دوبارہ بنانے کے لیے مسلسل کوشش جاری نہیں رکھ سکتے۔‘‘

’’ہماری نا کامی کا اصل سبب کیا ہے،یہ ہے،کہ ہم آندھی کی طرح آتے ہیں اور بجلی کی طرح گزر جاتے ہیں،ہم کو دریا کے اس پانی کی طرح ہونا چاہیے،جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور سالہا سال میں کناروں کو کاٹ کر اپنا دہانہ وسیع کرتا جاتا ہے۔کامیابی صرف مسلسل اور پائیدار کوشش میں ہے۔‘‘

’’ہم نے کہا ہے اور پھر کہتے ہیں،کہ مسلمان دم میں جل جانے والے اور جلا دینے والے کوہ آتش فشاں ہیں، لیکن ہمیشہ سلگنے والے اور جلتے رہنے والے آتش كده نہیں،وہ ایک لمحے کے آنے والے اور گزر جانے والے طوفان آب ہیں لیکن ہمیشہ بہنے والے ہمالیہ کی برفشانی چوٹیوں کے چشمے نہیں۔‘‘

’’مسلمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کل کا مقابلہ میدان جنگ میں تیغ و خنجر کے ذریعے سے تھا، … لیکن آج مقابلہ کا میدان دوسرا ہے،آج امن و سلامتی اور خاموشی کے ساتھ ہندوستان کے گاؤں گاؤں اور گلی گلی میں شدھی اور سنگھٹن کا جال پھیلایا جا رہا ہے، … اس کے لیے غور و فکر،مسلسل جد و جہد،ہوشیاری و بیداری اور کام اور عمل کی ضرورت ہے۔‘‘

سید سلیمان ندوی صاحب کے متعلق اس مضمون میں جن اوصاف کا ایک مختصر سا خاکہ پیش کیا گیا ہے،ان کے علاوہ بھی کئی ایسی خوبیاں ہیں جو سید صاحب میں بدرجۂ کمال و تمام پائی جاتی ہیں۔جی تو یہی چاہتا ہے کہ اپنی نا اہلی کے باوجود ان تمام اوصا ف کو قلم بند کروں، لیکن سید صاحب جیسی عبقری شخصیت کو اس چھوٹے سے مضمون میں قید کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔اللہ سے دعا گو ہوں کہ مجھے اتنی فرصت اور ہمّت عطا ہو کہ سید صاحب پر ويسا لکھ سکوں، جیسا ان پر لکھنے کا حق ہے۔

خیال و خامہ

  1. * مصنف کلکتہ یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ میں ریسرچ اسکالر ہیں۔۔ علامہ سید سلیمان ندوی: شخصیت و ادبی خدمات، ڈاکٹر نعیم صدیقی 9۔
  2. ۔ شذرات سلیمانی 1/6۔
  3. ۔ شذرات سلیمانی 1/11۔
  4. ۔ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کی علمی و دینی خدمات پر ایک نظر، سید صباح الدین عبد الرحمٰن۔
  5. ۔ علامہ سید سلیمان ندوی: شخصیت و ادبی خدمات، ڈاکٹر نعیم صدیقی 388۔