مواد پر جائیں

شادی: ایک نعمت

عائشہ کلیم اردو

شادی کو ہمیشہ سے دنیا بھر کی تمام تہذیبوں، مذاہب اور معاشروں میں محبت، خلوص اور باہمی نگہداشت کے ایک مقدس رشتے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ جب سے انسان اس زمین پر آباد ہوا ہے، یہ تعلق انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ رہا ہے۔ اگرچہ ہر معاشرے میں شادی اپنے مخصوص رسم و رواج، اقدار، روایات اور مذہبی عقائد کے مطابق انجام پاتی ہے، اسی لیے نکاح کے طریقۂ کار اور قوانین میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ افراد جو اپنے اصل معاشرے سے دور، کسی دوسرے ملک میں ملازمت یا خاندانی ذمہ داریوں کے باعث مقیم ہوتے ہیں، ان کے لیے شادی کے انداز اور ترجیحات مختلف ہو جاتی ہیں۔ اس حوالے سے دریا کو کوزے میں بند کرتی ایک مؤثر تحریر

طارق ایک معزز اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی پرورش اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ ہوئی تھی۔ جب اس نے اپنے کیریئر میں استحکام حاصل کیا تو اس نے اپنے والدین سے درخواست کی کہ اب اس کے لیے ایک مناسب جیون ساتھی کی تلاش شروع کی جائے۔ والدین اس کی اس خواہش پر خوش ہوئے، مگر ساتھ ہی انہوں نے طارق کو مشورہ دیا کہ وہ خود بھی اپنی ترجیحات کے مطابق تلاش جاری رکھے۔ یوں اس جستجو کا آغاز ہوا۔

طارق اور اس کے اہلِ خانہ مختلف گھروں میں لڑکیوں سے ملنے گئے، مگر نتائج حیران کن بلکہ توقعات سے بالکل مختلف نکلے۔ کچھ لڑکیوں نے فخر سے یہ بات کہی کہ انہیں گھریلو امور، خصوصاً باورچی خانے کے کاموں کا کوئی تجربہ نہ تو ہے اور نہ ہی دلچسپی۔

نہ ہی وہ ان میں دلچسپی رکھتی ہیں، چاہے یہ روز مرہ زندگی کا حصہ ہی کیوں نہ ہوں۔ بعض نے ملنے سے انکار کر دیا، جبکہ کئی نے واضح طور پر یہ ترجیح دی کہ وہ شادی کے بجائے اپنے کیریئر کو اہمیت دیتی ہیں۔ یوں طارق کی تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔

آخر کار طارق نے اپنی تلاش کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا اور سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا۔ مگر بیشتر پلیٹ فارمز دراصل ڈیٹنگ سائٹس کی شکل اختیار کر چکے تھے، جبکہ طارق کا مقصد صرف اور صرف شادی تھا، نہ کہ وقتی تعلقات۔ اس کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی کوشش جاری رکھی۔

شادی زندگی کا ایک نہایت اہم رشتہ ہے، اسی لیے درست جیون ساتھی کا انتخاب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ جدید دور کے رجحانات کافی مختلف ہو چکے ہیں اور دونوں جنسوں کو مناسب شریک حیات کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ میرج بیوروز، آن لائن میٹرومونی سائٹس اور دیگر ذرائع موجود ہیں، مگر اس کے باوجود یہ عمل آسان نہیں۔ آن لائن رشتوں کی تلاش بظاہر سہل معلوم ہوتی ہے، مگر اس میں دھوکا دہی کے امکانات بھی موجود رہتے ہیں، اور بعض اوقات اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اسے مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں کہا جا سکتا۔

بلاشبہ، ہر تعلق اپنے ساتھ کچھ پیچیدگیاں لے کر آتا ہے۔ اکثر افراد اپنے شریکِ حیات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں، جس کے باعث باہمی اعتماد قائم نہیں ہو پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی شادیاں جلد ہی اختلافات کا شکار ہو کر علیحدگی یا طلاق پر منتج ہو جاتی ہیں۔

ازدواجی رشتہ دراصل مشترکہ ذمہ داری، باہمی احترام، سمجھ بوجھ، ذہنی ہم آہنگی اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی عزت و وقار کے تحفظ کا نام ہے۔ افسوس کہ ایسے تعلیمی یا تربیتی ادارے بہت کم ہیں جو شادی کے لیے تیار نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مؤثر ازدواجی مشاورت (کاؤنسلنگ) فراہم کی جائے تاکہ مستقبل کے میاں بیوی کو بہتر انداز میں رہنمائی مل سکے۔ مزید برآں، نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو شادی کے تصور، اس کی ذمہ داریوں اور ناکام ازدواجی زندگی کے سنگین نتائج سے آگاہ کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔

شادی دراصل ایک مقدس بندھن اور میاں بیوی کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدہ ہے۔ اس حوالے سے والدین کا کردار انتہائی اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی درست رہنمائی کریں اور انہیں اس رشتے کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ شادی کے بندھن سے پہلے اس کی تعلیم دینا والدین کا نہایت ضروری فریضہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ نئی نسل کو شادی کی اہمیت اور اس کے معاشرتی اثرات سے روشناس کروائیں، کیونکہ شادی ہی انسانی معاشرے اور ثقافت کی بنیادی اکائی ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کو ایک مثبت مثال کے طور پر پیش کریں تاکہ بچوں کے دل میں شادی کے بارے میں اعتماد پیدا ہو۔ گھریلو مسائل کو بچوں کے سامنے زیرِ بحث لانے کے بجائے باہمی طور پر حل کرنا چاہیے، تاکہ بچوں کے ذہن میں الجھن یا منفی تاثر پیدا نہ ہو۔

لہٰذا چاہے وہ طارق ہو یا کوئی طاہرہ، جب لڑکا لڑکی شعور کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنا جیون ساتھی تلاش کرنے میں اولین فریضہ ان کے والدین کا ہے۔ وہ اس سلسلے میں اپنی اولاد کی پسند، طبیعت، مزاج اور طبی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی مدد کریں۔ وہ اپنے تجربے سے ان کو مشورہ ضرور دیں لیکن اپنے فیصلے ٹھونسنے سے پرہیز کریں۔

شادی ایک مضبوط اور صحت مند خاندان کی بنیاد ہوتی ہے اور خاندان ہر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو باہمی اعتماد، محبت اور خلوص سے بھرپور ہو، چاہے وہ رشتہ خاندان، قبیلے اور برادری کے اندر ہو یا اس کے باہر۔