مواد پر جائیں

شادی: فلاح یا عدم تحفظ — ایک حقیقت

رابعہ جہاں گیر اردو

نقطۂ نظر کے عنوان سے شائع ہونے والے مضامین ان کے مصنفین کی رائے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس مضمون میں جدید ریاستی بندوبست کے بعد شادی کے ادارے کو عورت کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ مضمون میں جو نقطۂ نظر اختیار کیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں شوہر خاندان کے ادارے کا سربراہ نہیں ہو سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ شوہر اور بیوی کو یکساں اختیار دینے کو عورت کے لیے زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس نقطۂ نظر پر تنقید کرنے والے قارئین کے لیے یہ صفحات حاضر ہیں۔ (ایڈیٹر)

ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر شادی کو عورت کے لیے ایک مضبوط سہارا سمجھا جاتا ہے۔ خاندان اکثر اسے “گھر کا بس جانا” کہہ کر ایک خوش آئند منزل کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ معاشرہ اسے تحفظ اور استحکام کی علامت قرار دیتا ہے۔ بلاشبہ شادی ایک مقدس، فطری اور نہایت اہم ادارہ ہے جو مرد و عورت کے درمیان باہمی تکمیل، سکون اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بنتا ہے، اور کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کی حیثیت بنیادی ہے۔ اس تناظر میں نہ مرد مکمل طور پر عورت سے بے نیاز ہے اور نہ عورت مرد سے، بلکہ دونوں ایک باوقار اور متوازن رشتے میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

تاہم، جب اسی اہم اور مقدس ادارے کو اس حد تک مرکزی حیثیت دے دی جائے کہ اسے عورت کی فلاح، تحفظ اور بقا کا تقریباً واحد ذریعہ تصور کیا جانے لگے، تو اس سوچ میں ایک طرح کی یک رخی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں…

نقطۂ نظر

غیر محسوس طور پر عورت کی شخصیت کے دیگر پہلو، جیسے اس کی خود مختاری، صلاحیتیں اور انفرادی شناخت پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ یہ تاثر اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے کہ گویا عورت کی فلاح، عزت اور استحکام کا بنیادی راستہ صرف شادی ہی ہے۔

اسلام، بلاشبہ، شادی کو ایک بابرکت، فطری اور باوقار ادارہ قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید اسے سکونِ قلب، مودّت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

ترجمہ: اور یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ (سورۂ روم: 21)

لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ شادی اہم ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب شادی کو عورت کے لیے واحد ذریعۂ بقا بنا دیا جائے تو کیا وہ قرآن کے بیان کردہ مقصد پر قائم رہتی ہے، یا آہستہ آہستہ ایک سماجی مجبوری، نفسیاتی دباؤ اور غیر مرئی قید کی صورت اختیار کر لیتی ہے؟

شادی بطور متبادل فلاح

پاکستان جیسے معاشروں میں، جہاں ریاستی فلاح اور سماجی تحفظ کے ادارے کمزور ہیں، شادی سے وہ توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں جو دراصل ریاست اور سماج پر عائد ہوتی ہیں۔ عورت کی رہائش، معاش، صحت اور حتیٰ کہ اس کی سماجی شناخت تک ایک ہی رشتے کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ گویا اگر رشتہ محفوظ ہے تو عورت محفوظ ہے، اور اگر رشتہ ٹوٹ جائے تو اس کی زندگی بھی غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔

یہاں ایک خاموش مفروضہ کارفرما ہوتا ہے کہ مرد اپنی ذات میں ایک فلاحی نظام ہے اور شادی گویا ایک سوشل سکیورٹی اسکیم۔ اس تصور میں عورت کے لیے کسی ریاستی سہولت، سماجی تحفظ یا مضبوط قانونی ڈھانچے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کا مستقبل پہلے ہی ایک فرد کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے۔

نقطۂ نظر

حالانکہ اسلامی تصورِ فلاح محض خاندانی انتظام تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اجتماعی اخلاقی نظام ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، بیت المال، یتیموں اور مسکینوں کی کفالت جیسے ادارے اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں فلاح انفرادی نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایسے میں شادی کو فلاح کا متبادل بنا دینا دراصل دین کی تعلیم نہیں بلکہ ہماری سماجی کمزوریوں اور ریاستی ناکامیوں کا اظہار ہے۔

معاشی انحصار اور طاقت کا عدم توازن

نکاح کے ساتھ ذمہ داریاں لازم ہوتی ہیں۔ شوہر پر نان و نفقہ فرض کیا گیا ہے، مگر اسی کے ساتھ قرآنِ مجید عورت کے ساتھ حسنِ سلوک، مشاورت اور انصاف کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام رشتے کو محض مالی بندوبست نہیں بلکہ ایک اخلاقی شراکت سمجھتا ہے۔

لیکن جب عورت کی پوری معاشی زندگی شادی سے وابستہ ہو جائے تو رشتے میں طاقت کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ فیصلہ سازی، صحت، تعلیم، بچوں کی پرورش اور حتیٰ کہ اپنی ذات سے متعلق بنیادی معاملات میں بھی اس کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ ایک شریک کے بجائے ایک تابع فریق میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہ صورتِ حال اسلامی عدل کے اس تصور سے متصادم ہے جس میں ہر انسان، خواہ مرد ہو یا عورت، بذاتِ خود ایک مکمل اخلاقی وجود رکھتا ہے جس کی عزت، رائے اور وقار بذاتِ خود قابلِ احترام ہیں۔

انفرادی ذمہ داری اور شادی کا اخلاقی مفہوم

اگر شادی کو اجتماعی ناکامیوں کا متبادل بنا دیا جائے تو فرد کی اخلاقی ذمہ داری بھی دھندلا جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام ہر انسان کو اپنے اعمال اور فیصلوں کا خود ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

شادی دو آزاد، باشعور اور ذمہ دار انسانوں کے درمیان ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔ یہ کسی ایک کی ملکیت اور دوسرے کی مجبوری نہیں بلکہ ایک ایسی شراکت ہے جس میں دونوں فریق اپنی مرضی، شعور اور اختیار کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے شادی کو ایسی بیساکھی بنا دینا جو انسان کو خود مختاری کے بجائے محتاجی کی طرف لے جائے، اسلامی تصورِ انسان کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔

نقطۂ نظر

عزت اور صبر: مفہوم کی لغزش

ہمارے معاشرے میں عزت اور صبر جیسے بلند اخلاقی تصورات کو اکثر عورت کی خاموشی اور برداشت کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ قرآنِ مجید انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیتا ہے، چاہے اس کی قیمت خود اپنے خلاف ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

اسلام میں صبر ظلم کو قبول کرنے کا نام نہیں بلکہ ناانصافی کے مقابلے میں وقار، شعور اور حکمت کے ساتھ کھڑے رہنے کا نام ہے۔ اس لیے کسی نقصان دہ یا غیر محفوظ شادی کو محض سماجی عزت کے نام پر جاری رکھنا دراصل صبر کی روح کو مسخ کرنا ہے۔

جب شادی سہارا نہ بن سکے

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر شادی محفوظ نہیں ہوتی۔ طلاق، بیوگی، علیحدگی یا گھریلو تشدد جیسے حالات میں اگر عورت کے پاس کوئی قانونی یا سماجی سہارا نہ ہو تو اس کی کمزوری پوری شدت سے سامنے آجاتی ہے۔ ایسے میں وہ صرف ایک رشتہ ہی نہیں کھوتی بلکہ اکثر اپنی سماجی حیثیت، معاشی تحفظ اور نفسیاتی وقار بھی کھو بیٹھتی ہے۔

قرآنِ مجید عورتوں کو نقصان پہنچانے، دباؤ میں رکھنے اور اذیت دینے سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام شادی کو قید نہیں بلکہ انسانیت، تحفظ اور وقار کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔

شادی سے آگے تحفظ کا تصور

اگر عورت کی فلاح کو صرف شادی سے مشروط کر دیا جائے تو عدم تحفظ معاشرے کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ اسلامی تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع اور متوازن ہے۔ تعلیم، صحت، قانونی تحفظ، معاشی خود کفالت اور سماجی احترام یہ سب عورت کے تحفظ کے بنیادی ستون ہیں۔

اسلام رشتوں کو جوڑنے کا درس دیتا ہے، مگر ظلم سہنے کا نہیں۔ وہ تعلق نبھانے کی ترغیب دیتا ہے، مگر عزتِ نفس کو مٹانے کی نہیں۔

نتیجہ: شادی تقریب نہیں، ایک ذمہ داری

ہمارے معاشرے میں شادی کو اکثر ایک خوشی کی تقریب اور سماجی روایت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رسومات اور

نقطۂ نظر

تقریبات اس قدر نمایاں ہو جاتی ہیں کہ اصل حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ حالانکہ شادی کسی تقریب کا نام نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔

یہ دراصل دو انسانوں کے درمیان ایک شراکت ہے، جس میں اعتماد، احترام اور ذمہ داری بنیادی ستون ہوتے ہیں۔

اس شراکت کو کامیاب بنانا دونوں فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں یہ شعور عام کیا جائے کہ شادی صرف ایک رسم نہیں بلکہ زندگی کا ایک سنجیدہ مرحلہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ اس ذمہ داری کو سمجھ سکیں۔

تعلیم اور تربیت دونوں اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو شادی سے پہلے عملی ذمہ داریوں سے گزارا جانا چاہیے، چاہے وہ ملازمت ہو، کاروبار ہو یا کسی اور نوعیت کی ذمہ داری، تاکہ وہ ذمہ داری اٹھانے کی اصل حقیقت کو سمجھ سکیں۔

جب شادی شعور، ذمہ داری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے تو وہ صرف دو افراد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو استحکام عطا کرتی ہے۔