مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے نکاح کوقانونی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے آج کی جدید تہذیب ہو یا قدیم ترین سماج، الہامی مذاہب یا انسان کے بنائے ہوئے مذاہب، ہر قانون و شریعت میں مرد و عورت کی بلوغت کو بنیادی شرط ماناجاتا ہے۔اس کا تعلق نہ کسی خاص تہذیب و تمدن سے ہے، نہ کسی خاص زمانے سے۔ جب سے انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے اس دنیا میں بس رہا ہے، وہ نکاح ہو یا دوسرے فریق کے ساتھ جنسی تعلق کا معاملہ، بلوغت ہی کے ساتھ مشروط ہے۔ اس سے اگر انحرافات ہوئے ہیں تو انسانی ضمیر نے اسے کبھی قبول نہیں کیا اور اس کی حیثیت ہمیشہ ایک ناقابل قبول عمل ہی کی رہی ہے۔ اسے شدید نا پسند کیا گیا ہے، اسے جرم سمجھا گیا ہے اور جس معاشرے میں بھی اس طرح کی کوئی رسم یا رواج جاری ہوا ہے، اس معاشرے نے اس کی اصلاح کی ہے اور اسے اپنے اندر سے ختم کیا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ انسانی ضمیر کے لیے فطرت اور عقل سلیم کے عین مطابق ہے۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور ان کے بعد صحابہ کے دور میں اس بات کا کوئی علمی ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی کوئی تہذیبی اور سماجی روایت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ نکاح اور جنسی تعلق کے لیے بلوغت کا عمومی طور پرکوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ اور یہ اس سماجی حقیقت کے باوجود ہے کہ عرب کے اس معاشرے میں لونڈیوں کی ایک کثیر تعداد موجودتھی جن کے رسالت کے ظہور سے پہلے کوئی سماجی، جسمانی یا اخلاقی حقوق نہیں تھے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ڈیڑھ صدی ہجری کے بعد سے مسلمانوں کی علمی تاریخ میں،ایک بہت بڑی اکثریت یقینی طور پر یہ راے رکھتی ہے کہ نکاح یا جنسی تعلق استوار کرنے میں عمر کی کوئی تحدید نہیں ہے۔ چنانچہ ’’بدایۃ المجتہد‘‘ میں علامہ ابن رشد نکاح کے شرائط میں تمام ائمۂ فقہا کی راے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’شوہر دیدہ، مگر نابالغ عورت کے بارے میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ کی راے ہے کہ باپ اسے نکاح پر مجبور کر سکتا ہے، جب کہ امام شافعی کے نزدیک باپ اسے مجبور نہیں کر سکتا۔ متاخرینِ فقہا کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں تین اقوال ہیں: ایک یہ کہ وہ شادی کے وقت نابالغ تھی اور پھر طلاق ہو گئی۔ اگر وہ اب بھی نابالغ ہے تو باپ جبراً اس کا نکاح کرا سکتا ہے۔ دوسرا قول ہے کہ اگر وہ بالغ ہو گئی ہے تو طلاق کے بعد اسے نکاح پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور تیسری راے یہ ہے کہ بالغ مطلقہ کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘(635)
بہ ظاہر یہ بات بعید از قیاس نظر آتی ہے کہ علماے اسلام اس قدر فطری معاملے میں ایسی راے کیوں رکھتے ہیں ؟ اس لیے کہ شادی کا معاملہ تو اسی وقت درپیش ہوتا ہے جب فریقین بالغ ہوں۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ جمہور علماے اسلام کے نزدیک قرآن و حدیث کے بعض قرائن اس پر واضح ہیں کہ شریعت کو نابالغ عورت و مرد، یعنی بچوں کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، حتیٰ کہ نابالغ بچیوں کے ساتھ نکاح کرکے ان سے جنسی تعلق بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے، ہم مسلمانوں کی علمی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی علماے اسلام اس حوالے سے یہی راے رکھتے ہیں اور کیا واقعی قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے ؟
1۔ شادی کے لیے مرد وعورت کی عمر کی کوئی تحدید نہیں۔
2۔ کیا نابالغ بچیوں سے نکاح کرکے ان سے جنسی تعلق بنایا جا سکتا ہے ؟
3۔کیا اسلام میں نابالغ مردو عورت کے نکاح اور ان کے درمیان جنسی تعلق رکھنے کی عام اجازت دی گئی ہے یا اسے محض قبول کیا گیا ہے اور اسے ایک خاص دور تک محدود رکھا گیا ہے ؟
نابالغ بچی سے نکاح کے پیش کردہ دلائل
اس حوالے سے پہلے فقہا کی راے جانتے ہیں ۔
علامہ ابن عبدالبرلکھتے ہیں:
’’علماے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بچی سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کر دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھ یا سات برس کی عمر میں نکاح کیا اور یہ نکاح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد نے کیا تھا۔‘‘
(الاستذکار16/49-50)
امام احمد (المسائل3/ 129)، امام مروزی (اختلاف العلماء125)، علامہ ابن المنذر (الاجماع 91)، امام بغوی (شرح السنۃ 37/9)، امام نووی (شرح صحیح مسلم 9/ 206) اور حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری 12/27) جیسے جید اور مستند ائمۂ محدثین بھی اس ضمن میں یہی راے رکھتے ہیں۔
ابن تيميہ كہتے ہيں:
’’عورت كى اجازت كے بغير كوئى بھى اس كى شادى نہيں كر سكتا، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے حكم ديا ہے، اور اگر وہ اسے ناپسند كرے تو اسے نكاح پر مجبور نہيں كر سكتا، ليكن چھوٹى عمر كى كنوارى بچى كى شادى اس كا والد كرے گا، اور اس (بچی) كو اجازت كا حق نہيں۔‘‘
(مجموع الفتاوىٰ32/39)
دارالعلوم دیوبند سے جاری ہونے والے فتویٰ میں لکھا ہے :
’’نابالغوں کا نکاح جو ولی کریں، صحیح ہے، نابالغوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اولیا کا سمجھنا اور اجازت دینا کافی ہے، عمر کی کچھ تحدید لازمی نہیں ہے۔‘‘ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند 7 /48)
ان تمام آرا سے ہم یہ نتائج نکال سکتے ہیں :
اگرچہ اللہ کے رسول کا واضح فرمان ہے کہ عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر وہ عورت ابھی بالغ نہیں ہوئی تو اس کا حقیقی والد اس کا نکاح اپنی مرضی سے کرا سکتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی دلیل وہ روایت ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سیدہ عائشہ سے نکاح بلوغت سے پہلے ہوا ہے، کیونکہ مشہور روایات کے مطابق اس وقت سیدہ عائشہ کی عمر 6 یا 7 برس ہی تھی اور رخصتی کے وقت ان کی عمر نو برس تھی۔
حضرت عائشہ نابالغ تھیں اور ان کے والد حضرت ابوبکر نے اپنی مرضی سے بیٹی کا نکاح کرایا تھا، یوں ثابت ہوا کہ نابالغ بچی کا نکاح ہو سکتا ہے اور والد نابالغ بچی کا نکاح کرا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ نابالغ بچی کے نکاح کی دور رسالت میں سیدہ عائشہ کے نکاح کے علاوہ کوئی دوسری صحیح روایت نہیں ملتی۔
یہاں تک فقہا اور علما کا استدلال صرف اس روایت سے رہا ہے جس کا تعلق بہ قول متذکرہ علما کے براہ راست اللہ کے رسول کے اپنے عمل سے ہے۔ اور اس بات کی بھی تصریح ہے کہ ایسا کوئی فرمان بھی منقول نہیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ سیدہ عائشہ سے نکاح آپ نے بہ طور رسول کیا تھا اور اب کسی دوسرے مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے۔
قرآن سے استدلال کی تاریخ
آئیے، اب جائزہ لیتے ہیں کہ جو علما اس راے کی بنیاد قرآن مجید کو مانتے ہیں، ان کا استدلا ل کیا ہے ؟
ہماری علمی تاریخ یہی کہتی ہے کہ رخصتی اور جنسی تعلق کے لیے بھی بلوغت کی کوئی شرط ثابت نہیں، بلکہ اسے عین قرآن کے مطابق کہا جاتاہے۔ ان علما کے استدلال کی بنیاد سورۂ طلاق (65)کی آیت 4 ہے، جہاں بیان کیا گیا ہے :
وَ الِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشۡہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔ لَمۡ یَحِضۡنَ .
’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔‘‘
اس آیت میں ’ لَمْ يَحِضْنَ‘، یعنی جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو، کو بنیاد بنا کر مفسرین کی ایک کثیر تعداد نے جو راے قائم کی ہے، ان میں بہت ہی چیدہ اور ہر دور کے جید مفسرین کی راے ہم باری باری بیان کرتے ہیں :
تابعی قتادہ ( وفات 118 ھ)نے ’ لَمْ يَحِضْنَ‘ (جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو) کی تشریح میں کہا: ’’وہ باکرہ دوشیزائیں جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچیں۔‘‘ (تفسیر در منثور مترجم 6 /614)
دوسری صدی ہجری کے پہلے مفسر ِقرآن ابن جریر طبری (متوفی310ھ) نے اس سے مراد ایسی نابالغ بچیاں ہی لیا ہے کہ جنھیں چھوٹی عمر کی وجہ سے ابھی تک حیض نہیں آیا اور دخول کے بعد طلاق ہوئی ہو۔ ان کے الفاظ میں :
وكذلك عدد اللائي لم يحضن من الجواري لصغر إذا طلقهنّ أزواجهنّ بعد الدخول.
امام بخاری (المتوفی 256ھ) نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے:
باب إِنْكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِّغَارَ (آدمی اپنی نابالغ بچی کا نکاح کر سکتا ہے)۔
اس کے بعد سورۂ طلاق کی اسی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے :
لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ} فَجَعَلَ عِدَّتَهَا ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ. (بخاری، رقم 5132)
’’کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ ‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عورت کی بلوغت سے پہلے اس کی عدت تین ماہ مقرر کی۔‘‘
امام طحاوی (متوفی321ھ) نے بھی اس سے مراد وہ نابالغ بچیاں لی ہیں، جنھیں کم عمری کی وجہ سے حیض نہیں آیا:
و کانت الصغیرۃ التی لم تحض ازا طلقت فدخلت فی العدۃ.
(احکام القرآن2 /402)
’’اور جس بچی کو حیض نہ آیا ہو، اگر اسے طلاق ہو گئی تو وہ عدت میں داخل ہو گئی۔‘‘
امام بغوی (متوفی 516ھ) نے بھی اس آیت کی تشریح میں یہی لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ چھوٹی بچیاں ہیں جنھیں ابھی حیض آیا ہی نہیں تو ان کی عدت بھی تین ماہ ہے:
يعني الصغار اللائي لم يحضن فعدتهن أيضاً ثلاثة أشهر. (تفسیر معالم التنزیل 8/ 152)
پانچویں و چھٹی صدی ہجری کے ماہر لغت و کلام مفسر علامہ زمخشری (متوفی 538ھ) نے بھی یہی کہا ہے کہ جنھیں حیض نہیں آیا، کیونکہ وہ عمر میں چھوٹی ہیں:
والئى لَمْ يَحِضْنَ هن الصغائر. (الكشاف560/4)
ابن کثیر (متوفی774ھ) نے بھی اس آیت کی تفسیر میں بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ اس سے وہ چھوٹی بچیاں مراد ہیں جو ابھی اس عمر کو پہنچی ہی نہیں کہ انھیں حیض آئے:
وكذا الصغار اللائي لم يبلغن سن الحيض. (تفسير القرآن العظيم 149/8)
دورِ جدید میں بھی علما نے اس آیت کی تفسیر میں اسی راے کو اختیار کیا ہے۔ اور واضح طور پر لکھا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں چھوٹی بچیوں کی مدت عدت بیان ہوئی ہے کہ جنھیں ابھی حیض نہیں آیا۔
مشہور سلفی عالم و مفسر شیخ عبدالرحمٰن ناصر السعدی اسی آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا. . . ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔‘‘
(تفسیر السعدی 870)
بریلوی مکتب فکر کے احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر ’’ نور العرفان‘‘ میں ’’جنھیں ابھی حیض نہ آیا‘‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’ (یعنی) بچپن کی وجہ سے، ان کی عدت بھی تین مہینے ہے۔‘‘(891)
دیوبندی مکتب فکر کے مفتی محمد شفیع (سابق مفتی اعظم پاکستان) نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’اور اس طرح جن عورتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے) حیض نہیں آیا (ان کی عدت بھی تین مہینے ہے)۔‘‘ (معارف القرآن 8/ 474)
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کی تشریح میں ’لَمْ يَحِضْنَ ‘ کی وضاحت کم سنی ہی سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کر دینا جائز ہے، بلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس بات کو قرآن نے جائز قرار دیا ہو اسے ممنوع قرار دینے کا کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا۔‘‘ (تفہیم القرآن5 /571 )
اس تفصیل سے یہ معلوم ہو گیا کہ مذکورہ بالا تمام مفسرین سورۂ طلاق کی اس آیت کے الفاظ سے یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ :
1۔ نابالغ بچی سے نکاح جائز ہے۔
2۔ چونکہ متذکرہ تمام مفسرین کے نزدیک حیض نہ آنے کی و جہ صرف عدم بلوغت ہی ہوتی ہے، اس لیے یہ یقینی ہے کہ یہاں ایسی بچیوں کی عدت مقرر کی گئی ہے جن سے جنسی عمل ہوا ہے۔ کیونکہ قرآن نے ایک دوسری جگہ واضح کیا ہے کہ غیر مدخولہ مطلقہ کی کوئی عدت نہیں ہے۔ سورۂ احزاب (33) آیت 49 میں ہے :
’’ایمان والو، جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرتے ہو، پھر ہاتھ لگانے سے پہلے ان کو طلاق دے دیتے ہو تو ان پر تمھاری خاطر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کا تم کوئی شمار کرو گے۔‘‘
3۔ قرآن نے’لَمْ يَحِضْنَ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں ، اس لیے ان الفاظ کا مطلب ہے کہ پہلے کبھی حیض نہیں آیا اور ایسی کیفیت صرف نابالغ بچی ہی کی ہو سکتی ہے، چنانچہ اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اس سے مراد نابالغ بچیاں ہی ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ
اس راے پر تین قوی اعتراض کیے جاتے ہیں :
پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ بات بالبداہت غلط ہے کہ حیض نہ آنے کی وجہ صرف عدم بلوغت ہے، کیونکہ ایسا کسی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے اور کسی عارضی رکاوٹ سے بھی۔ اس لیے یہ دلیل کافی نہیں کہ حیض نہ آنے کی وجہ محض کم سنی ہے۔ ایسی عورتوں کو بلوغت کے باوجود بھی حیض نہ آنے کی کوئی طبی وجہ ہو سکتی ہے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ فطرت کے خلاف ہے کہ نابالغ بچی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا جائے۔ شادی و نکاح کا سوال ہی تب ہوتا ہے جب فریقین بلوغت کو پہنچ جائیں۔ اور اس بات پر تمام فقہا اور علما متفق ہیں کہ نکاح کے بنیادی شرائط میں یہ شامل ہے کہ فریقین جملہ گواہوں کی موجودگی یا معنوی موجودگی میں اپنی رضامندی کا اظہار کریں۔ اب ایک نابالغ بچی، جسے نکاح کے معنی ہی معلوم نہ ہوں،وہ اپنی رضامندی کا اظہارکیسے کرے گی ؟ اسی اصول کی بنیاد پر نابالغ بچوں پر نماز اور روزہ جیسے دینی فرائض واجب نہیں ہوتے۔چنانچہ نابالغ بچی نکاح کے حقوق و فرائض کا کیا تصور کرے گی؟ دوسرے الفاظ میں، نابالغ بچی کو یہ کہا جائے گا کہ تمھیں نماز اور روزہ رکھنے کی تو ضرورت نہیں، کیونکہ یہ تم پر فرض نہیں، لیکن حقوق زوجیت، البتہ ادا کرنا فرض ہے ؟ سوال یہ ہے کہ جس بچی کو جنسی عمل کے بارے میں کوئی شعور ہی نہیں، وہ اسے پسند یا نا پسند کرنے کے بارے میں کیا راے دے سکتی ہے ؟
تیسرااعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ قرآن نے سورۂ نساء میں جہاں یتیم بچوں کے مال کی حفاظت کا حکم دیا ہے، وہاں اس بات پر توجہ دلائی ہے کہ ان کے مالوں کی اس وقت تک حفاظت کی جائے جب تک وہ بلوغت ہی نہیں، بلکہ رشد، یعنی سمجھ داری کی عمر تک نہ پہنچ جائیں۔ سورۂ نساء (4)کی آیت 5 میں بیان ہوا ہے :
’’اور (یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنے وہ اموال جن کو اللہ نے تمھارے لیے قیام وبقا کا ذریعہ بنایا ہے، اِن بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ ‘‘
قرآن مجید کےاس حکم کے بعد یہ کیسے مانا جا سکتا ہے کہ وہ نا بالغ اور نا سمجھ بچوں کی شادی کا حکم دے سکتا ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ یتیم بچوں کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ ان کی بلوغت ہی نہیں، بلکہ سمجھ داری کا یقین کرنے کے بعد ان کے مالوں پر انھیں تصرف کرنے کا حق دیا جائے۔ اب یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان کے نکاح کے بارے میں یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ مال کے لیے تو سمجھ داری ضروری ہے، لیکن جنسی تعلق قائم کرنے اور گھر بار کی ذمہ داری کے لیے نہ بلوغت کی ضرورت ہے، نہ سمجھ داری کی ۔
مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں ’’یتیموں کا مال کب اُن کے حوالے کیا جائے؟‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :
’’یہ وہ طریقہ بتایا ہے جو یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے کے معاملے میں سر پرستوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ یتیموں کو جانچتے رہو یعنی کوئی چھوٹی موٹی ذمہ داری ان کے سپرد کر کے ان کی صلاحیت کا امتحان کرتے رہو کہ معاملات کی سوجھ بوجھ ان کے اندر پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔ نکاح کی عمر، یعنی بلوغ تک، ان کے ساتھ یہی معاملہ رکھنا چاہیے۔‘‘(2255/)
چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ طبی طور پر یہ متفق علیہ ہے کہ نابالغ بچے تو اس عمل کے کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کے اعضا اس قابل ہی نہیں ہوتے۔ ان کی نفسیات اور جسمانی وجود اس کے برے اثرات سے کسی صورت نہیں بچ سکتے۔ اسی لیے بعض فقہا نے ’’تحمل ‘‘ کی شرط کو بھی بیان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فلاں نابالغ بچی اس تشدد کی متحمل ہو گی اور فلاں نہیں ؟ کیا اس عمل میں زخمی ہونے یا مستقبل میں طبی پیچیدگیوں کا اندازہ کسی ماہر ڈاکٹر یا ماہر نفسیات کی راے جانے بغیر ممکن ہو سکتا ہے ؟ کیا عدم تحمل کا مطلب صرف جان لیوا ہونا ہی ہے؟ کیا اس عمل میں نابالغ بچی زخمی ہو جائے یا اس کی جان چلی جائے تو کیا شوہر پر کوئی دیت ہو گی ؟
پانچواں اعتراض یہ ہے کہ آیت میں تین مہینے کی عدت بیان ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ حیض نہیں آتا، لیکن شک اور امکان موجود ہے کہ حمل ٹھیر جائے۔ کیا نابالغ بچی کے بارے میں یہ امکان موجود ہو سکتا ہے کہ اسے حمل ٹھیر جا ئے گا؟ اس لیے یہ بات کسی صورت درست نہیں کہ قرآن مجید نے یہ عدت نابالغ بچی کے لیے بیان کی ہے۔ اسی بات کو مولانا امین احسن اصلاحی نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’اسی بنیاد پر آئسہ غیرمدخولہ اور صغیرہ غیرمدخولہ کے لیے تو کسی عدت کی ضرورت نہیں ہے لیکن آئسہ یا صغیرہ، جس کو حیض نہ آیا ہو، اگر مدخولہ ہوں تو ان کے بارے میں چونکہ شبہ کا امکان ہے اس وجہ سے ان کے لیے عدت ہے۔‘‘( 442/8)
مولانا اصلاحی کے مطابق عدت اس لیے بیان ہوئی ہے کہ کم عمر ( نہ کہ نا بالغ ) لڑکیوں کے بارے میں یہ امکان موجود ہے کہ وہ پیٹ سے ہوں۔ اس شک کے امکان کو دور کرنے کے لیے ’ان ارْتَبْتُم‘، یعنی اگر تمھیں شک ہے، کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس لیے مولانا اصلاحی کے نزدیک ’ لم یرضین‘ سے مراد عدم بلوغت نہیں، بلکہ ’’کم عمری ‘‘ ہے۔
جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر
سورۂ طلاق کی آیت 4 کے حوالے سے جاوید احمد صاحب غامدی ایک منفرد نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ وہ آیت کے زیر بحث حصے کا ترجمہ یہ کرتے ہیں :
’’تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔ ‘‘ ( البیان232/5)
یہ راے اختیار کرنے کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں :
’’’وَالِّٰٓیۡٔ لَمْ یَحِضْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں اور ’لم‘ عربی زبان میں نفی جحد کے لیے آتا ہے۔ لہٰذا اِس سے وہ بچیاں مراد نہیں ہو سکتیں جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا، بلکہ وہی عورتیں مراد ہوں گی جنھیں حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود حیض نہیں آیا۔‘‘( البیان232/5)
یعنی عربی زبان میں نفی کے لیے عام لفظ ’ ما‘ ہے، لیکن جب ’لم‘ کے لفظ کے ساتھ کسی فعل کے واقع ہونے کی نفی کی جاتی ہے تو اس میں شدت ہوتی ہے اور اس فعل کے امکان کو بھی رد کر دیا جاتا ہے، جیسے سورۂ اخلاص میں جب فرمایا گیا کہ ’لَمۡ یَلِدۡ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ‘ تو اس امکان کی بھی پوری شدت کے ساتھ نفی کر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی بیٹا ہو سکتا ہے اور نہ وہ باپ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح یہاں مطلب ہو گا کہ وہ عورتیں جنھیں نہ ماضی میں پہلے حیض آیا اور نہ مستقبل میں آئے گا۔ اب یہ صفت نابالغ لڑکیوں کی نہیں ہو سکتی، کیونکہ ان کو بلوغت کے بعد لازمی یہ کیفیت پیش آئے گی۔ اب جب یہاں نابالغ بچیوں کی بات ہی نہیں ہو رہی اور زبان کے اصول کے لحاظ سے ایسا ہونا محال ہے تو لازمی طور پر یہاں ان عورتوں کا ذکر ہے جو اصل میں تو دائمی طور پر حیض کی کیفیت سے محروم ہیں۔ اسی لیے اس سے مراد یقیناًوہی عورتیں ہیں جو بڑی عمر، یعنی بالغ ہیں، لیکن کسی عارضے کی وجہ سے انھیں حیض نہیں آتا۔
یہاں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر یہاں ایسی عورتیں مراد ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق کبھی حیض نہیں آنا اور مدخولہ ہونے کے باوجود ان کو حمل کبھی نہیں ہو سکتا تو ان کی عدت مقرر کرنے کا کیا سبب ہے ؟
اصل میں اللہ نے آیت میں بتادیا کہ’’اگر تمھیں شک ہو ‘‘، یعنی شک کی نسبت انسانوں کی طرف کی ہے کہ تم میں سے کسی کو شک ہو گیا ہے تو اس کے لیے یہ تین مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ معاشرے میں محض شک کی بنیاد پر کسی فساد کا اندیشہ نہ رہے۔
صحابہ کا فہم
یہ ایک علمی حقیقت ہے کہ کسی بھی صحابی سے اس آیت کا یہ مفہوم منقول نہیں ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی صحابی کا یہ عمل کہیں بھی روایت نہیں ہوا کہ اس نے کسی نابالغ لڑکی سے شادی کی ہو۔ اس حوالے سے عملی طور پر صرف حضرت عائشہ صدیقہ ہی کی بلوغت سے پہلے نکاح اور رخصتی کی روایت ملتی ہے۔ اس روایت کے اوپر جو تنقیدات آچکی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ روایت درایتاً درست نہیں ہے اور مشہور ہونے کے باوجود اسے خبر واحد ہی کا درجہ حاصل ہے۔اس حوالے سے متعدد اہل علم اور دور جدید کے محدثین نے ناقابل تردید شواہد سے یہ بات ثابت کی ہے کہ سیدہ عائشہ کی نکاح کے وقت عمر اٹھارہ یا انیس برس سے کسی طور کم نہیں تھی۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ اس فہم کی پہلی روایت تابعی قتادہ سے ملتی ہے۔ اور یہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے دور سے تعلق رکھتے ہیں اور اس دور میں سیدہ عائشہ صدیقہ کی چھ برس کی عمر میں نکاح کی روایت منظر پر آچکی تھی۔ اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ اگر قتادہ سے منسوب روایت درست ہے تو اس آیت کا یہ مفہوم اسی روایت کے زیر اثر لیا گیا ہے۔
اس غلط فہمی کی وجہ
آیت کے فہم میں غلطی کی بنیادی وجہ ہمارے نزدیک سیدہ عائشہ کی چھ برس والی روایت ہی ہے، کیونکہ جب کسی کام کی نسبت اللہ کے رسول سے بیان ہو کر عام ہوجائے اور اسے قبولیت و شہرت بھی حاصل ہو جائے اور وہ عام رواج، فطرت اور عقل کے خلاف بھی ہو تو اسے معقولیت دینے اور قابل قبول بنانے کے لیے کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ چنانچہ جب اس وقت کے معاشرے میں اس کی کوئی عملی مثال نہ ملی تو فقہا اور مفسرین نے ا سے قرآن سے ثابت کرنے کی راہ ہموار کی۔اس مقصد کے تحت نہ انھوں نے زبان کے متفقہ علیہ قواعد وضوابط کی پروا کی اور نہ فطرت اور بنیادی اخلاقیات کی کوئی رعایت کی۔ محض ایک مشہور روایت کو مان کر فقہ و شریعت کو بھی اس کے مطابق کرنے کی روش اختیار کی۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سیدہ عائشہ سے نکاح کی روایت کے مشہور ہونے کے باوجود امت نے اس نکاح کو حضور کا اسوہ قرار دے کر اس پر عمل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ چنانچہ عالم اسلام کی کسی ثقہ شخصیت نے اس فعل کو حضور کی سنت کے طور پر بیان بھی نہیں کیا اور اس کی کوئی فضیلت اور اس پر عمل کرنے کی کوئی تبلیغ کبھی نہیں کی۔ کسی بھی دور میں، کسی بھی معاشرے میں، چاہے وہ عرب کا ہو یاعجم کا، نابالغ بچی سے نکاح کی کوئی روایت جنم نہ لے سکی۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کی چند ایک مثالوں کو چھوڑ کر کسی بھی صاحب علم نے اس نکاح کو حضور کے اختصاص میں بھی شامل نہیں کیا۔
کیا ماضی میں اس مفہوم کی کوئی مثال ملتی ہے ؟
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی اور مفسر یا صاحب علم نے اس آیت کا وہ مفہوم بیان کیا ہے جسے جاوید احمد غامدی نے سمجھا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے۔ قدما میں قاضی عبداللہ ابن شبرمہ اور ابوبکر الاصم اسی راے کے حامل تھے۔ اہل تشیع علما کی ایک بہت بڑی اکثریت نے ’لم یحضن‘ سے نابالغ بچی مراد نہیں لیا۔ ’’تفسیر نمونہ‘‘ کے مولف آیت اللہ مکارم شیرازی نے سورۂ طلاق میں مذکورہ آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے :
’’ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا، بلکہ وہی عورتیں مراد ہوں گی جنھیں حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود حیض نہیں آیا۔ ‘‘
اہل تشیع کے ایک دوسرے عالم محمد حسین نجفی اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں :
’’اور تمھاری (مطلقہ) عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان عورتوں کا ہے جنھیں (باوجود حیض کے سن و سال میں ہو نے کے کسی وجہ سے) حیض نہ آتا ہو اور حاملہ عورتوں کی میعاد وضعِ حمل ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔‘‘ (909)
’’تفسیر امین‘‘ کے مفسر محمد امین اکبر سورۂ طلاق کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’بہت سے لوگ اس آیت سے کم عمری میں شادی اور خلوت کے جواز کو ثابت کرتے ہیں۔جن عورتوں کو حیض نہیں آتا کا ترجمہ ”حیض شروع نہیں ہوا“ کرتے ہیں، اصل لفظی ترجمہ ہے جن کو حیض نہیں آتا۔ یعنی پہلے حصے میں شک کی بات تھی اور یہاں یقین کی صورت میں حکم ہے۔اس آیت کا کم عمری کی شادی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے، بس حیض کے بارے میں شبہ، یقین اور حاملہ مطلقہ کی عدت کا بیان ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ عدت کی مدت کا تعین صرف حیض سے ہی نہیں ہو سکتا بلکہ حیض نہ آنے کی صورت میں ہوسکتا ہے اور اس صورت میں یہ مدت تین ماہ ہوگی۔ یہ آیت عورتوں یعنی النساء کے بارے میں ہے۔ عربی میں’نساء‘ کا لفظ عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کم عمر لڑکیوں کے لیے نہیں۔ کم عمر لڑکیوں کوعربی میں ”جاریہ“ کہتے ہیں۔ ‘‘
خلاصۂ بحث
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ :
1۔ سورۂ طلاق کی آیت 4 سے مشہور فہم کے بالکل برعکس یہاں پر ایسی خواتین کی عدت بیان ہوئی ہے جن کو حیض کی عمر کے باوجود حیض نہیں آیا۔
2۔ سورۂ نساء کی آیات 5 اور 6 سے یہ بات بالبداہت لفظوں میں بیان ہوئی ہے کہ شادی کے لیے نہ صرف بلوغت، بلکہ رشد، یعنی سمجھ داری بھی ضروری ہے۔
3۔ دور رسالت اور دور صحابہ اس بات سے خالی ہے کہ کسی نے قرآن مجید یا سنت رسول یا فرمان رسول سے یہ سمجھا اور بیان کیا ہو کہ نکاح کے لیے بلوغت کی کوئی شرط نہیں۔ یہ ایک فطری معاملہ ہے اور اسے ایک ثابت شدہ معاشرتی قدر کے تحت ہی سمجھا جائے گا۔ مسلمانوں کے ہر دور کی معاشرتی، سماجی اور قانونی روایت نے اسی کی تصدیق کی ہے۔ مزید یہ کہ اللہ کے رسول کا واضح اور متفقہ علیہ فرمان ہے کہ نکاح عورت و مرد کی رضامندی کے بغیر منعقد ہی نہیں ہوتا۔
4۔ یہ تاثر درست نہیں کہ اس معاملے میں علماے اسلام کا اجماع ہے کہ نکاح اور جنسی عمل کے لیے بلوغت کی کوئی شرط نہیں۔ اگرچہ علماے اہل ِسنت کی کثیر تعداد یہی راے رکھتی ہے، لیکن ماضی سے لے کر موجودہ دور تک ایسے علما ہمیشہ سے موجود رہے ہیں جو اس راے کے بالکل برعکس نکاح اور اس کے معمولات کے لیے بلوغت اور رشد کو ضروری خیال کرتے ہیں اور اسے عقل، فطرت اور شریعت کا عین تقاضا سمجھتے ہیں۔