مواد پر جائیں

شخصی انفرادیت کا آغاز اور احترام

ثوبیہ نورین اردو

حِرا ٹی وی کے سامنے بیٹھی اپنی بھنووں کے آڑے ترچھے ڈیزائن بنائےناخن چبانے میں مصروف تھی۔ یکدم دادی جان کی نگاہ اس پر پڑی توان سے رہا نہ گیا،وہ آج صبح ہی آئی تھیں۔حرا کو خوب ڈانٹا ڈپٹا۔کچھ لمحوں کے لیے تو حرا جھینپ گئی، پھر سب کی موجودگی میں اپنی شرمندگی چھپانےکے لیے ہنسنے لگی۔دادی جان نے حرا کی اسحرکت کوگستاخی گردانا اور سیخ پا ہو نےلگیں۔ اب تو حِرا كے ساتھ ساتھ اسکی ماما شازیہ بھی اس غصّے کی لپیٹ میں آ گئیں۔

” ناجانے آج کل کے بچوں کو مائیں عزت کرنا کیوں نہیں سکھاتیں ؟مجال ہے چھوٹے بڑے کا لحاظ کریں۔ایک تو ناخن چبانے جیسی قبیح حرکت اور اوپر سے ڈھٹائی سے بزرگوں کے سامنے ہنسنا، توبہ ہے، مجال ہے جو ماں نے کبھی سمجھایا ہو۔۔۔۔۔۔۔”

آنٹی جی ، ایسی بات نہیں ، بچے آپ کی عزت کرتے ہیں ،آپ سے پیار بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن شازیہ کے الفاظ تو بیچ ہی میں رہ گئے۔ جب حِرا نے منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے کھسکنے میں عافیت سمجھی ۔

یہ کیا بڑ بڑ کر رہی ہوبد تمیز؟” دادی جان نے جاتے جاتے ایک اور وار کیا۔”

کچھ نہیں! حرا ممیاتی ہوئی آواز میں بولی۔ مگر دادی تو جیسے کچھ سُن بیٹھی تھیں ، بچی کا پیچھا چھوڑنے کے لئے آمادہ ہی نہ تھی”بول! کیا کہا، کس کی عزت کرنے کی بات بڑبڑا رہی تھی؟” ہاں بولو، بتاؤ ذرا میں بھی سنوں آخر! “ایک ہی منٹ کی بحث و تکرار کے بعد شازیہ کی ممتا جاگ اٹھی۔بولیں: آنٹی ، یہ کیا آپ بچی کے پیچھے پڑ گئی ہیں ! جاؤ حِرا ، آپ جا کر ہوم ورک کرو!

اس وقت تو یہ بات وقتی طور پر دب گئی مگر گھر میں کئی دن تک اس چھوٹی سی بات کی وجہ سے ٹینشن کی فضا بنی رہی۔ دادی جان نےاپنے بیٹے وسیم کو شازیہ کے بارے میں کافی کچھ کہااور یہ بھی کہا کہ تم نے اپنی فیملی کو کافی ڈھیل دے رکھی ہے۔ لہذابہو صاحبہ بچے بگاڑ نے پر لگی ہوئی ہیں۔

اس گھر میں تو کوئی تمیز تہذیب نام کی چیز ہی نہیں ،آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ چلتے پھرتے ، کھیلتے کودتےدادی جان کے ایسے کئی جملے حرا کی سماعت سے ٹکراتے رہتےاور اسے اندر ہی اندر زخمی کرتے۔

ادھر ماما پاپا کے کمرے میں سے تکرار کی آوازیں معمول بن کے گھر کا ماحول خراب کئے دے رہی تھیں ۔

“آنٹی آخر ہمارے معاملات میں کیوں دخل دیتی ہیں۔میں تنگ آگئی ہوں۔بچے دادی کی موجودگی سے خائف رہنے لگے ہیں انہیں آپ سمجھائیں”۔

” وہ میری والدہ ہیں ،میں انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا ،تم خاموش ہو جایا کرو۔ کیوں بحث کرتی ہوں۔ تم سنتی کب ہو کسی کی۔ہزار بار سمجھا چکا ہوں۔ابوبھی کل تمہاری شکایت کر رہے تھے۔تمہیں چاہیے تھا کہ حرا کو سمجھاتی کہ وہ دادی سے معافی مانگے۔ لیکن تمہیں کون سمجھائے،یہاں تو تم سے زیادہ کوئی عقل مند ہے ہی نہیں، بہت تنگ آگئی ہو تو کر لو اپنا بندوبست۔۔۔۔۔”

گیارہ سالہ حرا گھر کے اس کٹھن زدہ ماحول کی وجہ سے سخت ذہنی تنائو میں رہنے لگی ۔

ناخن چبانا کیا بہت بُری بات ہے ؟ڈانٹنا بھی تو بُری بات ہے؟ میرے ناخن چبانے سے دادی جان کو کیسے درد ہوتا ہے؟ ماما مجھے طریقہ کیوں نہیں سیکھاتی؟ دادی جان کو کون سا طریقہ پسند ہے؟ عزت کیسے کرتے ہیں؟ماما روتی کیوں رہتی ہیں؟ دادی ماما کی باتیں بابا کو کیوں بتاتی ہیں ؟ بابا ، دادا، دادی کی باتیں ماما کو کیوں بتاتے ہیں ؟ میں اتنی بُری کیوں ہوں ؟ میری وجہ سے لڑائی ہوئی اس لئے میں گندی بچی ہوں ! میں عزت نہیں کرتی! میں عزت کیسے کروں؟ اب میں ناخن نہیں چبائوں گی! ایک دن بابا بھی تو اپنے منہ سے ناخن کاٹ رہے تھے، دادی جان نے ان کو کیوں نہیں ڈانٹا؟ ماما کو چپ کرواتی ہوں تو ماما مجھے اور زیادہ کیوں ڈانٹتی ہیں؟ ماما ، پاپا ، دادی ، دادا سب بُرے ہیں؟

اس کی خو د کلامی گہری ہو تی ہوئی شدید غصّے اور نفرت کو ہوا دے رہی ہے ۔۔۔۔ یہ سب سوال اس کے اندر شور مچاتے رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں، ہمارے خاندانوں میں یہ عام مناظر ہیں کہ جس کے نتیجے میں ایک انسان کی شخصی آزادی کا خون بچپن ہی میں کیا جانے لگتا ہے۔ بے اطمینانی، بے چینی ،مایوسی،شدت پسندی، الزام تراشی، نفرت، ہیجان انگیزی و جذباتیت کا کلچر فروغ پانے لگتا ہے۔

در حقیقت مسئلہ ہے کیا ؟ہمارے ہاں جمہوریت کے نعرے تو لگائے جاتے ہیں، مگر ہم اس جمہوریت کے آغاز _احترام رائے کے کلچرسے ناواقف ہے۔میڈیا پر جمہوریت کے راگ الاپنا الگ بات ہے اور جمہوری ذہن رکھنا،جمہوری اقدار کو اپنانا،سراہنااور ان کو فروغ دینا یہ بالکل مختلف باتیں ہیں۔

اس پیچیدہ معمے کوسمجھنے ،سمجھانے کے لیے چند سوالات سامنے رکھنا چاہوں گی۔ جو شاید گھر سے لے کر معاشرے تک جمہوریت اور شخصی انفرادیت کو سمجھنے میں مدد دیں ۔

مثلا، عورت شادی کے بعد جاب کرے گی یا نہیں، سسرال کے ساتھ رہے گی یا الگ، اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کووقت دینے کے لیے کب اور کتنا وقت نکالے گی، نکالے گی بھی یا نہیں، شادی کے کتنے عرصے بعد میاں بیوی بچہ پیدا کریں گے ، کرنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟ بچے کی ایف ایس سی کے مضمون ابّا کی مرضی کے ہونگے یا انکی طبیعت کے میلان کے مطابق؟ بچوں کو نوکری کرنی ہے یا بزنس؟ بیٹا،اپنی اماں کی بھانجی سے شادی کرے یا اپنی یونیورسٹی میں جس سے دو سال سے انڈرسٹینڈنگ چل رہی ہے، اس سے؟

ہم اب تھوڑا سا اس آگے چلتے ہیں۔ ملک و معاشرے کے سب سے چھوٹے یونٹ کے اندر دیکھتے ہیں ، تربیت اولاد میں جمہوری اقدار کے فروغ میں ہم کس قدر فعال کردار نبھا رہے ہیں۔

اگر آپ ماں ہیں اور آپ کا بچہ کسی پارٹی یا شادی پر جانے کے لیے اپنی مرضی کے کپڑے پہننے کی ضد کر رہا ہو تو آپ کیا کرتی ہیں؟

ا گر آپ کا بچہ ٹی وی پر اپنی مرضی کا دیکھنا چاہ رہا جب کہ والد ِ محترم کسی اور پر سیاسی گفتگو میں دلچسپی رکھتے ہیں تو کس کی خواہش کا احترام کیا جائے گا؟

اگر آپ کی فیملی کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جا رہی ہو، شوہر صاحب مٹن کڑاہی یا شنواری کھانا چاہتے ہیں ، بیگم چائنیز؟اور بچے فاسٹ فوڈ ۔۔۔۔تو آخر کس کی پسند کا کھانا کھایا جاتا ہے ؟ اور یہ فیصلہ کس عمل سے ہو کر گزرتا ہے؟

بچے کو کس سکول میں داخلہ دلوانا ہے حتمی فیصلہ کس کا ہے؟ کیا مشاورت کے عمل سے یہ طے پایا جائے گا؟

بچے رات دس کے بعد بھی جاگنا چاہیں یا سکول جانے سے انکاری ہوں تو کیا بچوں کے یہ مطالبات لائق توجہ سمجھے جائیں گے اور کون ان مطالبات بارے منظوری یا نا منظوری کا اختیار رکھتا ہے؟

خاتون خانہ اس عید پر سسرال نہ جانا چاہے یا سسرالیوں کی دعوت کے لیے تیار نہ ہو تو کیا ہوگا ؟ کیا ہوتا ہے؟ اور کیسے ہوتا ہے؟

بچہ اگر کسی رشتے دار سے نہ ملنا چاہے، کسی عزیز کے گھر نہ جانا چاہے تو اس موقع پہ کیا کیا جاتا ہے ؟

خاتون خانہ اگر اپنی شادی کی جیولری بیچ کے اپنے بھائی کی شادی کرنا چاہیں یا؟اپنی والدہ کو عمرہ کرانا چاہیں، لائبریری بنانا چاہیں یا اپنے کورسز کی فیس ادا کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ تو نہ ہوگی؟

گھر میں موجود ماں باپ کے برعکس سارے بچوں کو اگر ساگ کریلے نہ پسند ہو تو پھر کھانا کس کی مرضی کا بنے گا؟

بچے ‘اپنی عیدی’ کی رقم کب اور کیسے خرچ کرینگے ان فیصلوں میں والدین کا رول کیسا ہوتا ہے؟

بچے اپنی زندگی کے ٹائم ٹیبل میں آپ کی زندگی کے تجربات کی روشنی میں بننے والے آپ کے ٹائم ٹیبل کو فالو نہ کرنا چاہیں ؟ وہ چار بجے قاری صاحب کے پاس ناظرہ پڑھنے کے لیے نہ تیار ہوں اور شام چھ کے بعد گراونڈ میں سپورٹس کرنا چاہیں تو ان مسائل کا حل آپکے گھر میں کیسے نکلتا ہے؟

زوجین میں سے اگر کوئی ایک تھکن ، سٹریس یا ذہنی الجھنوں کے باعث یا بغیر کسی وجہ کہ اگر اپنا جسم و روح ، اپنی انرجی دینے سے معذور ہو یا تیار نہ ہو تو رات کس کی مرضی سے، کیسے کٹے گی؟ اور اسکے نتائج دن کی روشنی میں کیا کیا ہوتے ہیں؟

یہ جبر و استبد اد پر کھڑے ہر معاشرے کے سوالات ہیں ۔ ہزاروں جوابات سے گزر کر میں یہ جان پائی ہوں کہ احترام انسانیت کیا ہے۔ جمہوریت کے نعروں اور الیکشن کے نتائج پر زور و شور سے کی جانے والی تنقید اور اصلی جمہوری اقدار میں کیافرق ہے۔ تربیت اولاد کس چڑیا کا نام ہے۔ دین کی بنیاد کیا ہے۔ آپ بھی ۔

ان چند سوالوں کے جواب سوچنے اور لکھنے سے روح گھائل تو ہوگی مگر نئی سوچ و اساسات ، افکار و خیالات کے لامتناہی سلسلے کا بھی جنم ہو گا۔