۵ ۱جولائی ۳ ۲۰۲ء
عزیزم سید منظور الحسن
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ عنایت نامہ ملا۔ ”اشراق“ اِس سے پہلے ہندوستان سے شائع ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں سے آپ چاہیں، اِسے شائع کر سکتے ہیں۔ اِس کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ میری دعائیں آپ کے شامل حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر کام میں نیت اور ارادے کی پاکیزگی قائم رکھے اور دنیا و آخرت، دونوں میں آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔ ’ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ، وفی الآخرۃ حسنۃ‘۔
جاوید
بگیر ایں ہمہ سرمایۂ بہار از من
کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند1
——–
۲ ۱جولائی۳ ۲۰۲ء
واجبِ صد ہزار احترام استاذِگرامی
السلام علیکم
یہ اطلاع آپ کے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث ہو گی کہ ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کی امریکہ سے اشاعت کے اسبا ب پیدا ہو گئے ہیں۔ ادارت کے لیے میری خدمات حاضر ہیں اور انتظامی امور کا ذمہ ’’المورد‘‘ یو ایس نے لیا ہے۔ اِس بندوبست کے بعد اب آپ سے درخواست ہے کہ اِس کے اجرا کی اجازت عطا فرمائیں تاکہ یہ رسالہ ’’المورد امریکہ‘‘ کے ترجمان کا کردار ادا کر سکے۔اجرا کی اجازت کے ساتھ سرپرستی اور رہنمائی کی استدعا بھی پیشِ خدمت ہے ۔
یہ درخواست اگر قبول ہوتی ہے تو میں دل و جان سے کوشش کروں گا کہ رسالے میں وہ دینی روایات ، وہ اخلاقی اقدار اور وہ علمی معیارات ملحوظ رہیں، جن کی آپ نے تعلیم دی ہے اور جن کی روشنی میں میں گذشتہ 20 سالوں سے ’’اشراق‘‘ (پاکستان) کی ادارت کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ’’المورد‘‘ یو ایس کے احباب بھی پورے جوش و جذبے سے پر امید ہیں کہ ’’اشراق امریکہ‘‘ اُس علمی روایت کو پروان چڑھائے گا، جسے ’’اشراق پاکستان‘‘ نے قائم کیا تھا اور ’’اشراق ہند‘‘ نے آگے بڑھایاتھا۔ان شااللہ العزیز۔
والسلام
آپ کا شاگرد
منظور الحسن
-
1۔ میں بہار کا یہ سرمایہ لایا ہوں، تم اِسے لے لو۔ اِس لیے کہ پھول تمھارے ہاتھ میں دے دیا جائے تو وہ شاخ سے بھی زیادہ تر و تازہ اور شاداب رہتا ہے۔