مواد پر جائیں

شرک، کفر اور ارتدادکا استیصال غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

شرک، کفر، ارتداد کے بارے میں رائج مذہبی بیانیہ یہ ہے کہ اِن کا استیصال شریعت کا حکم ہے۔اِس مقصد کے لیے وہ مسلمانوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ دنیا پر اسلام کے غلبے کے لیے سرگرم ہوں،دعوت و جہاد کا علم اٹھائیں اور اقوام عالم کی سرحدوں پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کریں کہ ’’اسلام لاؤ، جزیہ دو یا لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘ گویا دنیا کے غیر مسلم جو اِس بیانیے کی رو سے کافر اور مشر ک ہیں،اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو اُن کے لیے زندگی کی گنجایش صرف اِس صورت میں ہے کہ وہ مسلمان ریاست میں ذمی یا محکوم ہو کر رہنے کا فیصلہ کریں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی مسلمان دین سے منحرف اور مرتد ہوکر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرے تو اُسے محکوم ہو کر بھی زندہ رہنے کا حق نہیں ہے، شریعت میں اُس کے لیے موت کی سزا مقرر ہے، جو ہر حال میں اُس پر نافذ ہونی چاہیے۔

جناب جاوید احمد غامدی اِس موقف کو دین و شریعت کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک اِس کی تائید میں پیش کیے جانے والے قرآن و حدیث کے نصوص اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے بعض اقدامات کا تعلق اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت سے ہے، اسلامی شریعت سے اِن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے جلیل القدر علما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ حیثیتِ رسول بعض خصوصی ذمہ داریوں کی تعمیم کر کے یہ نقطۂ نظر مرتب کیا ہے اور کچھ ایسے احکام کو شریعت میں داخل کر دیا ہے، جو شریعت کا حصہ نہیں تھے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’شرک، کفر اور ارتداد یقیناً سنگین جرائم ہیں، لیکن اِن کی سزا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو نہیں دے سکتا۔ یہ خدا کا حق ہے۔ قیامت میں بھی اِن کی سزا وہی دے گا اور دنیا میں بھی، اگر کبھی چاہے تو وہی دیتا ہے۔ قیامت کا معاملہ اِس وقت موضوع بحث نہیں ہے۔ دنیامیں اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں اپنی عدالت کے ظہور کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اُس کی طرف اپنا رسول بھیجتے ہیں۔ یہ رسول اُس قوم پر اتمام حجت کرتا ہے، یہاں تک کہ کسی کے پاس خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ اِس کے بعد خدا کا فیصلہ صادر ہوتا ہے اور جو لوگ اِس طرح اتمام حجت کے بعد بھی کفر و شرک پر اصرار کریں، اُنھیں اِسی دنیا میں سزا دی جاتی ہے۔ یہ ایک سنت الہٰی ہے جسے قرآن نے اِس طرح بیان فرمایا ہے کہ ’’ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آ جاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘ (یونس: 47) اِس کی نوعیت بالکل وہی ہے جو اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی اور واقعۂ خضر میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ اِس کا عام انسانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم جس طرح کسی غریب کی مدد کے لیے اُس کی اجازت کے بغیر اُس کی کشتی میں شگاف نہیں ڈال سکتے، کسی بچے کو والدین کا نافرمان دیکھ کر اُس کو قتل نہیں کر سکتے، اپنے کسی خواب کی بنیاد پر ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے بیٹے کے گلے پر چھری نہیں رکھ سکتے، اُسی طرح کسی شخص کو اُس کے شرک، کفر یا ارتداد کی سزا بھی نہیں دے سکتے، الاّ یہ کہ وحی آئے اور خدا اپنے کسی رسول کے ذریعے سے براہ راست اِس کا حکم دے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اِس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔‘‘

(مقامات 200)

چنانچہ اُن کے نزدیک شرک،کفر اور ارتداد کے حوالے سے قرآن و حدیث کے احکام کا تعلق زمانۂ رسالت کے مشرکین عرب اور یہود و نصاریٰ سے ہے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست انکار کی پاداش میں عذابِ الٰہی نازل کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کفر، شرک اور ارتداد کے مرتکبین اور دنیاکے باقی انسانوں سے اب اِن احکام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’منکرین حق کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے انھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق اس کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اُس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔‘‘ (میزان 599)

البیان