مواد پر جائیں

شق القمر غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]

(10)

2۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ میں آیا ہے۔ اِن مقامات پر اُن کے چار نمایاں معجزات بیان ہوئے ہیں۔ آلِ عمران میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی بشارت دی تو اُنھوں نے سوال کیا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے، جب کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہو گا، کیونکہ اللہ جس معاملےکا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کے حکم سے وہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ وہ اُنھیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ اِسی سلسلۂ بیان میں پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کے چار معجزات کا ذکر آیا ہے۔ اِن میں سے ایک مٹی سے پرندہ تخلیق کرنا ہے، دوسرا مادر زاد اندھے کو بینا کرنا ہے، تیسرا کوڑھ کے مریض کو اِس لاعلاج مرض سے نجات دلانا ہے اور چوتھا مردوں کو زندہ کرنا ہے۔ اِس ضمن میں یہ بات نہایت صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ یہ تمام معجزات اللہ ہی کے حکم سے ظاہر ہوئے تھے۔1 آیات درج ذیل ہیں:

قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.

وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ. وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ.

اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ. (آل عمران 3: 47-49)

’’وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے، پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہو جا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔

(لہٰذا اِسی طرح ہو گا) اور اللہ اُسے قانون اور حکمت سکھائے گا، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دے گا۔ اوراُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اور اُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔

میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں؛ اور میں تمھیں بتا سکتا ہوں، جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقیناً ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔‘‘

3۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات

رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بڑا معجزہ دیا گیا، وہ قرآنِ مجید ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے خود اپنا مبارک کلام آپ کی زبانِ فیض ترجمان پر جاری فرما دیا۔ اِس کے الفاظ، اِس کے جملے، اِس کے اسالیب، اِس کے مضامین، اِس کے اخبار، اِس کے احکام، سب اللہ پروردگارِ عالم کے ہیں۔ اِسی بنا پر یہ ایک ایسا معجزہ ہے، جو اپنی ذات میں یکتا، اپنی نوعیت میں بے مثل، اپنے شہود میں کامل اور اپنے ظہور میں لازوال ہے۔

یہ بلاشبہ، خارقِ عادت ہے، کیونکہ انسانی تاریخ میں یہ واحد کتاب ہے، جس کے متن میں نہ کوئی تضاد و تناقض ہے، اور نہ تنزل و ارتقا۔ زبان و ادب اِس کی فصاحت و بلاغت اور لطافت و حلاوت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اِس میں کمال معنویت ہے، بلند خیالی ہے، ژرف نگاہی ہے، وسعتِ نظری ہے۔ یہ عالم الغیب والشہادہ کا قول ہے،لہٰذا کرۂ ارض پر یہ تنہا نوشت ہے، جو مکان و لامکان، دونوں سے باخبر کرتی ہے۔ اِسے پڑھیے تو ماضی کے گم شدہ حقائق واشگاف ہوتے اور مستقبل کے نامعلوم اخبار معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر صاحبِ عقل خواہی نا خواہی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ یہ علم و عرفان کا مرقع، دین و اخلاق کا خزانہ اور شریعت و حکمت کا مجموعہ ہے اور انسانوں کی رشد و ہدایت اور فوز و فلاح کے لیے اِس سے بہتر نسخہ زمین پر دستیاب نہیں ہے۔

استاذ ِگرامی اِس کے اعجاز کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزہ اِس حیثیت سے دیا گیا، وہ قرآن ہے۔ عربی زبان کے اسالیبِ بلاغت اور علم و ادب کی روایت سے واقف ادبی ذوق کے حاملین اِسے پڑھتے ہیں تو صاف محسوس کرتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ایک سے زیادہ مقامات پر اِس نے خود اپنے مخاطبین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اگر اپنے اِس گمان میں سچے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد اِسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہے ہیں تو جس شان کا یہ کلام ہے، اُس شان کی کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کریں۔ اُن کی قوم کا ایک فرد اگر اُن کے بقول بغیر کسی علمی اور ادبی پس منظر کے یہ کام کرسکتا ہے تو اُنھیں بھی اِس میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے۔

قرآن کا یہ دعویٰ ایک حیرت انگیز دعویٰ تھا۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ایک ایسا کلام ہے، جس کے مانند کوئی کلام انسانی ذہن کے لیے تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ فصاحت وبلاغت اور حسن بیان کے لحاظ سے قرآن کی غیرمعمولی انفرادیت کا دعویٰ تھا۔ یہ اِس بات کا دعویٰ تھاکہ وہ کوئی ایسا کلا م پیش کریں،جس میں قرآن ہی کی طرح خدا بولتا ہوا نظر آئے، جو اُن حقائق کو واضح کرے، جن کا واضح ہونا انسانیت کی شدید ترین ضرورت ہے اور وہ کسی انسان کے کلام سے کبھی واضح نہیں ہوئے، جو اُن معاملات میں رہنمائی کرے، جن میں رہنمائی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک ایسا کلام جس کے حق میں وجدان گواہی دے، علم و عقل کے مسلمات جس کی تصدیق کریں، جو ویران دلوں کو اِس طرح سیراب کر دے، جس طرح مردہ زمین کو بارش سیراب کرتی ہے، جس میں وہی شان اور وہی تاثیر ہو، جو قرآن کا پڑھنے والا، اگر اُس کی زبان سے واقف ہوتو اُس کے لفظ لفظ میں محسوس کرتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کے مخاطبین میں سے کوئی بھی اِس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کرسکا۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ. فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ۚ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ.

(البقرہ 2:24-23)

’’(یہی اِس کتاب کی دعوت ہے، اِسے قبول کرو)، اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے، اُس کے بارے میں اگرتمھیں شبہ ہے تو (جاؤ اور) اِس کے مانند ایک سورہ ہی بنا لاؤ اور (اِس کے لیے) خدا کے سوا تمھارے جو زعماہیں، اُنھیں بھی بلا لو، اگرتم (اپنے اِس گمان میں) سچے ہو۔‘‘

خداکی یہ کتاب اِس وقت بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ اِس پر کم وبیش چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ اِس عرصے میں دنیا کیا سے کیا ہوگئی۔ بنی آدم نے نظریہ و خیال کے کتنے بت تراشے اور پھر خود ہی توڑ دیے۔ انفس وآفاق کے بارے میں انسان کے نظریات میں کتنی تبدیلیاں آئیں اور اُس نے ترک واختیار کے کتنے مرحلے طے کیے۔ وہ کس کس راہ سے گزرا اور بالآخر کہاں تک پہنچا، لیکن یہ کتاب جس میں بہت سی وہ چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں، جو اِن پچھلی دو صدیوں میں علم وتحقیق کا خاص موضوع رہی ہیں، دنیا کے سارے لٹریچر میں بس ایک ہی کتاب ہے، جو اِس وقت بھی اُسی طرح اٹل اور محکم ہے، جس طرح اب سے چودہ سوسال پہلے تھی۔ علم وعقل اِس کے سامنے جس طرح اُس وقت اعترافِ عجز کے لیے مجبور تھے، اُسی طرح آج بھی ہیں۔ اِس کا ہر بیان آج بھی پوری شان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ دنیا اپنی حیرت انگیز علمی دریافتوں کے باوجود اُس میں کسی ترمیم وتغیر کے لیے کوئی گنجایش پیدا نہیں کرسکی:

وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا.

(بنی اسرائیل 17: 105)

’’ہم نے اِس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے اور ہم نے، (اے پیغمبر)، تم کو صرف اِس لیے بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) خوش خبری دو اور (نہ ماننے والوں کو) متنبہ کر دو۔‘‘‘‘

(میزان 136-138)

قرآنِ مجید کے اِس عظیم الشان معجزے کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً مختلف معجزے عطا کیے جاتے رہے ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ اللہ کے رسول کی ذات بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہوتی ہے۔ اللہ اُس سے ہم کلام ہوتا ہے، جبریل امین اُس تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، وہ فرشتوں کی معیت میں ہوتا ہے، اُس کی زبان سے اللہ کا کلام جاری ہوتا ہے۔ وہ آسمان سے خبریں پا کر لوگوں کو غیب سے مطلع کرتا ہے، فیوض وبرکات اُس کے وجود سے صادر ہوتے ہیں۔شاید ہی کوئی دن ہو، جب اللہ کی کوئی آیت، کوئی نشانی اُس کے ماحول میں یا اُس کے وجود سے صادر نہ ہوئی ہو۔ اِس نوعیت کی بعض نشانیاں قرآنِ مجید میں اور بعض حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں۔2 اِن میں سے بہ طورِ مثال دو معجزات کا تذکرہ درجِ ذیل ہے۔

ایک معجزہ جنگِ بدر کا ہے، جب آپ نے مٹھی بھر خاک کفار کے لشکر کی طرف پھینکی تو وہ ریت کا طوفانی غبار بن کر منکرین کی آنکھوں میں داخل ہو گئی۔ اِس معجزے کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے اور روایتوں میں بھی بعض تفصیلات مذکور ہیں۔ سورۂ انفال میں ارشاد ہے:

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ. (8: 17)

’’(ایمان والو، تم کیوں جان چراؤ، جب کہ تمھاری طرف سے خدا لڑتا ہے)؟ سو حقیقت یہ ہے کہ (اِس جنگ میں) تم نے اِن کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اِن کو قتل کیا ہے اور، (اے پیغمبر)، جب تو نے اِن پر (خاک) پھینکی تو تو نے نہیں پھینکی، بلکہ اللہ نے پھینکی ہے، اِس لیے کہ منکروں کو اپنی شانیں دکھائے اور اِس لیے کہ مسلمانوں کو اللہ اپنی طرف سے اچھا انعام عنایت فرمائے۔ بے شک، اللہ سمیع و علیم ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی وضاحت کے لیے ’’ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین سے دستِ غیب کے کارنامے‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے اور اُس کے تحت لکھا ہے:

’’’فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ‘ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے اور ’وَمَا رَمَیْتَ‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اِس وجہ سے دونوں میں جمع اور واحد کا فرق ہے۔ ’رمی‘ تیر مارنے، کنکر پتھر پھینکنے، خاک اور راکھ جھونکنے، سبھی کے لیے آتا ہے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار کی فوجیں سامنے ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور ’شاھت الوجوہ‘ کہہ کر کفار کی طرف پھینکی۔ ’شاھت الوجوہ‘ عربی میں لعنت کا فقرہ ہے اور کسی کے اوپر خاک جھونکنا نہایت قدیم زمانہ سے لعنت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ تورات میں بھی اِس کا ذکر آتا ہے اور عرب کی روایات سے بھی اِس کا پتا چلتا ہے۔ سورۂ فیل کی تفسیر میں مولانا فراہی نے اِس کے حوالے دیے ہیں۔ یہاں زبان کا یہ اسلوب بھی نگاہ میں رہے کہ بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اُس فعل کے ساتھ اُن شان دار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے، جو اُس فعل کے پردے میں ظاہر ہوئے۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کا قریش کی دل بادل غرقِ آہن فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دینا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے پھینکی ہوئی چٹکی بھر خاک کا ایک ایسا طوفان بن جانا کہ تمام کفار کو اپنی اپنی آنکھوں کی پڑ جائے، یہ مسلمانوں کی چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواروں یا پیغمبر کی ’رمی‘ کے کارنامے نہیں تھے، بلکہ اُس دستِ غیب کے کارنامے تھے، جو مسلمانوں کی میانوں اور پیغمبر عالم کی آستینوں میں چھپا ہوا تھا۔‘‘(تدبر قرآن 3/451)

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی ایک مثال اللہ کی طرف سے نازل کردہ پیشین گوئیاں ہیں، جن کا اعلان آپ کی زبانِ مبارک سے ہوا۔ اِن میں سے بعض کا ذکر قرآنِ مجید میں ہوا ہے اور بعض روایتوں میں منقول ہیں۔ سرزمین عرب میں آپ کے غلبے، ام القریٰ مکہ کی فتح اور لوگوں کے جوق در جوق دین میں داخل ہونے کے عظیم اور غیر متوقع واقعات کے وقوع سے بہت پہلے آپ نے مطلع فرما دیا تھا۔ ایرانیوں سے مغلوب ہوجانے کے بعد رومیوں کی دوبارہ فتح کی پیشین گوئی بھی ایسی ہی وہم و گمان سے ماورا اور امید و امکان سے بالاتھی۔ قرآنِ مجید میں یہ اِس طرح بیان ہوئی ہے:

غُلِبَتِ الرُّوۡمُ. فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ. فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ. بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ. وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ. (الروم 30:2-6)

’’رومی مغلوب ہو گئے ہیں۔ قریب کی سرزمین میں، لیکن اپنی اِس مغلوبیت کے بعد وہ جلد ہی غالب ہو جائیں گے۔ اگلے چند برسوں میں۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہواہے، وہ بھی اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور جو کچھ بعد میں ہو گا، وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور ایمان والے اُس دن اللہ کی مدد سے مسرور ہوں گے۔ اللہ جس کی چاہتا ہے، مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور بڑا مہربان بھی۔ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

استاذ گرامی نے اِس واقعے کی تفصیل اِن الفاظ میں کی ہے:

’’اصل میں ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے، جو عرب کی سرزمین کے بالکل متصل تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اُس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں : ایک مسیحی رومی سلطنت، دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔ 603ء کا واقعہ ہے کہ ایک بغاوت کو فرو کرنے کا بہانہ بنا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ اِس کے بعد رومیوں کو شکست پر شکست ہوتی رہی، یہاں تک کہ 616ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چھٹا یا ساتواں سال تھا۔ قرآن نے یہ پیشین گوئی 617ء اور 620ء کے درمیان کسی وقت کی ہے۔ ’’زوال روما‘‘3 کے مصنف ایڈورڈ گبن کا بیان ہے کہ یہ جس زمانے میں کی گئی، اُس وقت کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعیداز وقوع نہیں ہو سکتی تھی، اِس لیے کہ رومی حکمران ہرقل کے پہلے بارہ سال رومی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ بہت دن نہیں لگیں گے، یہ زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی (بِضْعِ سِنِیْنَ)کے اندر پوری ہو جائے گی۔ چنانچہ ٹھیک اِس اعلان کے مطابق یہ پوری ہو گئی اور مارچ 628ء میں رومی حکمران اِس شان سے قسطنطنیہ واپس آیا کہ اُس کے رتھ کو چار ہاتھی کھینچ رہے تھے اور بےشمار لوگ دارالسلطنت کے باہر چراغ اور زیتون کی شاخیں لیے اپنے ہیرو کے استقبال کے لیے موجو د تھے۔

اِس تعیین و تصریح کے ساتھ اور اِس حتمی اسلوب میں یہ پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی دلیل کے طور پر کی گئی۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیوں کے ساتھ مذہبی قربت، قرآن کی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ، خاص طور پر حبشہ میں اُن کے طرزعمل کی وجہ سے مسلمان قدرتی طور پر اُن سے ہم دردی رکھتے تھے۔ قرآن نے اُنھیں اطمینان دلایا کہ وہ رنجیدہ خاطر نہ ہوں، اُن کے اہل کتاب بھائی عنقریب غلبہ حاصل کر لیں گے اور یہ پیشین گوئی اُس نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل بن جائے گی، جس پر وہ ایمان لائے ہیں، اِس لیے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ایسی صراحت اور حتمیت کے ساتھ مستقبل کے بارے میں اِس طرح کی خبر نہیں دے سکتا۔‘‘(البیان 4 / 44-43)

[باقی]

  1. ۔اِن میں سے دوسرے اور تیسرے معجزے کا ذکر انجیل میں بھی آیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ قرآن میں اِن میں سے ہر ایک کے ساتھ باذن اللہ کی قید لگی ہوئی ہے، لیکن انجیل میں یہ تصریح نہیں ہے۔ قرینِ قیاس ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لیے خدا کا تصور پیدا ہوا ہو گا تو ایسے الفاظ اِس تصور سے بے جوڑ سمجھ کر حذف کر دیے گئے ہوں گے۔
  2. ۔ بعض محققین نے اِن کا استقصا کر کے دلائل النبوہ اور معجزات البنی کے عنوانات کے تحت باقاعدہ کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔
  3. ۔زوال روما،ایڈورڈگبن2/ 788۔