مواد پر جائیں

شق القمر غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]

(16)

شق قمرکا مشاہدہ نہ کرنے والے اصحاب کی روایات

شق قمر کی روایت کرنے والوں میں عینی شاہدین کے علاوہ وہ اصحاب بھی شامل ہیں، جنھوں نے اِس واقعے کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے بعض مدینہ میں تھے، بعض کم سن تھے اور بعض ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اِن میں سے حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم نمایاں ہیں۔ اِن کی روایات درجِ ذیل ہیں:

1۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدنی صحابی ہیں۔ یہ ہجرت سے تقریباً 30 سال پہلے یثرب میں پیدا ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر کم و بیش 25 سال تھی اور یہ یثرب (مدینہ) میں مقیم تھے۔ اِن سے منقول روایت کا خلاصہ یہ ہے:

* ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ میں ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے پہلے سورۂ قمر کی آیات پڑھیں اور پھر اِس واقعے کا ذکر کیا۔

* اُنھوں نے بتایا کہ شق قمر کا واقعہ چونکہ ظاہر ہو چکا ہے، اِس لیے اب قیامت بہت قریب ہے۔

روایت یہ ہے:

عن ابن عيينة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: سمعت حذيفة يوم الجمعة وهو على المنبر قرأ: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ، فقال: قد اقتربت الساعة وقد انشق القمر فاليوم المضمار وغدًا السباق. (رقم 5285)

’’ابن عیینہ بیان کرتے ہیں، اُن سے عطا بن سائب بیان کرتے ہیں کہ ابو عبدالرحمٰن سلمی فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ اُنھوں نے سورۂ قمر کی ابتدائی آیات تلاوت کیں: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ پھر فرمایا: قیامت قریب آ گئی ہے اور چاند دو ٹکڑے ہو چکا ہے۔ چنانچہ آج کا دن تیاری کا دن ہے اور کل کا دن سبقت کر کے آگے بڑھنے کا دن ہو گا۔ ‘‘

2۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فرزند ہیں۔ ہجرت سے دس گیارہ سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر تقریباً پانچ چھ سال تھی۔اِن سے منقول ترمذی اور مستدرک کی روایتوں کا خلاصہ یہ ہے:

* ترمذی کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔

* آپ نے فرمایا تھا : تم لوگ گواہ رہنا۔

* حاکم کی ’’مستدرک علی الصحیحین‘‘ میں اِس پر یہ اضافہ ہے کہ چاند کا ایک ٹکڑا سامنے رہا اور دوسرا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا۔

دونوں روایتیں درج ذیل ہیں:

حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داؤد، عن شعبة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال: انفلق القمر على عهد رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم، فقال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم: اشهدوا.

(ترمذی، رقم 2182)

’’ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، اُنھوں کے کہا کہ ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے اعمش نے اور اُن سے مجاہد نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو۔‘‘

فحدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، ثنا أبو داؤد الطيالسي، ثنا شعبة، عنِ الأعمشِ، عن مجاهد، عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنه، فِي قوله عز وجل: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ. قال: كان ذلك على عهد النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم، انشق القمر فلقتين فلقة من دون الجبل، وفلقة خلف الجبل. فقال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم: اللهم اشهد.

(المستدرك للحاکم، رقم 3759)

’’ہم سے ابو عباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن مرزوق بصری نے مصر میں بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ مجھ سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے اعمش نے بیان کیا، اُن سے مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہ نے سورۂ قمر کی ابتدائی آیت کی شرح کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑوں میں شق ہو گیا تھا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے سامنے تھا اور دوسرا اُس کے پیچھے۔ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پروردگار میں گواہی دیتا ہوں۔‘‘

3۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے ہیں۔ اِن کی پیدایش ہجرت سے 3 سال قبل شعبِ ابی طالب میں ہوئی تھی۔ شق قمر کا واقعہ اِن کی پیدایش سے پہلے کا ہے۔بخاری و مسلم میں درج اُن سے منقول روایت کے مطابق اُنھوں نے فقط اتنی بات بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔

روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثنا يحيى بن بكير، قال: حدثني بكر، عن جعفر، عن عراك بن مالك، عن عبيد اللّٰہ بن عبد اللّٰہ بن عتبة بن مسعود، عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنهما، قال: انشق القمر في زمان النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم . (بخاری، رقم 4866)

’’ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا، اُن سے جعفر نے، اُن سے عراک بن مالک نے، اُن سے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

حدثنا موسى بن قريش التميمي، حدثنا إسحاق بن بكر بن مضر، حدثني ابي، حدثنا جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عبید اللّٰہ بن عبد اللّٰہ بن عتبۃ بن مسعود، عن ابن عباس، قال: إن القمر انشق على زمان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم. (مسلم، رقم 7257)

‏

’’ہم سے موسىٰ بن قریش بن التمیمی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے اسحاق بن بکر بن مضر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، اُن سے عراك بن مالك نے بیان کیا، اُن سے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

4۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدنی صحابی ہیں۔ یہ ہجرت سے دس سال پہلے یثرب میں پیدا ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر کم و بیش پانچ سال تھی اور یہ یثرب (مدینہ) میں مقیم تھے۔ اِن سے منقول روایت کا خلاصہ یہ ہے:

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

* چاند اِس طرح دو حصوں میں تقسیم ہو گیا کہ حرا پہاڑ اِن دونوں کے درمیان نظر آنے لگا۔

* اِس موقع پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اِس پر گواہ رہنا۔

روایات درجِ ذیل ہیں:

حدثنا مسدد، حدثنا يحيى حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال: انشق القمر فرقتين.

(بخاری، رقم 4868)

’’ہم سے مسدد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے، اُن سے قتادہ نے اور اُن سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔‘‘

وحدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، وابو داؤد. وحدثنا ابن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، وابو داؤد كلهم، عن شعبة، عن قتادة، عن انس، قال: انشق القمر فرقتين، وفي حديث ابي داؤد: انشق القمر على عهد رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم. (مسلم رقم، 7256)

’’ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابنِ بشار نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

[باقی]

تفہیم الآثار