[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]
(6)
2۔ بنی اسرائیل پر بدلیوں کے سایے اور من و سلویٰ کی نعمتیں
قرآنِ مجید نے مختلف مقامات پر اُن عظیم الشان انعامات کا ذکر کیا ہے،جو بنی اسرائیل کو عطا کیے گئے۔ اِن میں سے بہت سی نعمتیں خرقِ عادت نوعیت کی ہیں۔ بعض اُن کے انبیا کے توسط سے اور بعض براہِ راست نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں ’اٰیَۃٍ بَیِّنَۃٍ‘ (واضح نشانیاں) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ…. (2: 211)
’’بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے اُن کو کتنی واضح نشانیاں دیں، (مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا)؟ …۔‘‘
اِن آیاتِ بینات میں سے دو نمایاں آیات یہ ہیں کہ اُن پر بدلیوں کا سایہ کیا گیا اور من و سلویٰ اتارا گیا۔ فرمایا ہے:
وَظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ…. (2: 57)
’’اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارے، کھاؤ یہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تمھیں دی ہیں…۔‘‘
یہ اصل میں وہ انعامات ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں صحراے سینا میں عطا فرمائے۔ اِس چٹیل صحرا میں نہ اُن کے پاس مکانات تھے، نہ خیمے اور خرگاہیں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے تھے۔ اِس صورتِ حال میں اُنھیں دھوپ کی حدت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ نے اُن پر بدلیوں کا سایہ کیے رکھا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
’’. .. بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر، سر چھپانے کے لیے اُن کے پاس خیمے تک نہ تھے۔ اُس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدت تک آسمان کو ابر آلود نہ رکھا جاتا تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی۔‘‘
(تفہیم القرآن1/77-78)
اللہ نے اُن کی سکونت کے لیے جہاں بادلوں کا سائبان تان دیا، وہاں خوانِ نعمت کے طور پر من و سلویٰ کا اہتمام کیا۔ اِس خوان سے مستفید ہونے کے لیے نہ اُنھیں زمین کو تیار کرنا پڑتا تھا، نہ فصل بونے اور کاٹنے کی مشقت اٹھانی پڑتی تھی اور نہ کھانا تیار کرنے کا ترددکرنا پڑتا تھا۔ اِس خوان کو قرآن نے من و سلویٰ سے تعبیر کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے بائیبل کی کتاب خروج کے حوالے سے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’یہ (مَنّ) شبنم کی طرح کی ایک چیز تھی، جو زمین پر ٹپکتی تھی اور پالے کے دانوں کی طرح جم جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اِسے سورج کی تمازت بڑھنے سے پہلے جمع کر لیتے تھے۔ تمازت بڑھتے ہی یہ دانے پگھل جاتے تھے۔ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں جہاں غذا کے اسباب مفقود تھے، یہ ایک عظیم نعمت تھی،جو بغیر کوئی مشقت اٹھائے بنی اسرائیل کو خدا کے حکم پر پیغمبر کے ساتھ ہجرت کرنے کے صلے میں حاصل ہوئی۔ ’مَنّ‘ کے معنی فضل و عنایت کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِسی مناسبت سے اِس کانام ’مَنّ‘ قرار پایا۔
اِس (السَّلۡوٰی)سے مراد وہ پرندے ہیں،جو اللہ تعالیٰ نے صحراے سینا میں بنی اسرائیل کے لیے بھیجے، یہ بٹیروں سے ملتے جلتے تھے اور بٹیروں ہی کی طرح نہایت آسانی سے شکار ہو جاتے تھے۔‘‘ (البیان 1/68-69)
3۔ بنی اسرائیل پر کوہِ طور کا معلق ہونا
اِسی طرح کی ایک اور نشانی وہ ہے، جب اللہ کے حکم پر کوہِ طور بنی اسرائیل کے سروں پر معلق ہو گیا۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑا اور شامیانے کی طرح اُن کے اوپر لٹکنے لگا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اُس وقت رونما ہوا، جب اللہ نے وادیِ سینا میں بنی اسرائیل پر احکام شریعت کی الواح نازل فرمائیں۔ اُس موقع پر اُن سے عہد لیا گیا کہ وہ تورات کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور اُس کے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا رہیں گے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّاذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ.
(2: 63)
’’اور یاد کرو،جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور (اِس کے لیے) طور کو تم پر اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اُس چیز کوپوری قوت کے ساتھ پکڑو،جو ہم نے تمھیں دی ہے، اور جو کچھ اُس میں (لکھا) ہے، اُسے یاد رکھو تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچے رہو۔‘‘
سورۂ اعراف(7) آیت 171 میں اِس واقعے کے لیے ’وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ‘ (جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر اُن کے اوپر معلق کر دیا تھا گویا وہ سائبان ہے اور وہ گمان کر رہے تھے کہ وہ اُن پر گرا ہی چاہتاہے۔) کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک عظیم پہاڑ اُن کے سروں پر لٹکنا شروع ہو گیا اور وہ خیال کرنے لگے کہ یہ اب گرا کہ اب گرا۔ اِس سے ظاہر ہے کہ اُن پر اللہ کی قدرت کی ہیبت طاری ہو گئی۔
استاذِ گرامی کے نزدیک یہ واقعہ اللہ کی قدرت اورجلالت کا مظاہرہ تھا۔ اِس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جو ہستی اُن سے میثاق کر رہی ہے، وہ قادرِ مطلق ہے۔ کوئی چیز اُس کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ اگر اُنھوں نے اِس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اِس واقعے کی بہ دولت اپنے انجام کا بہ خوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قرآن اور بائیبل، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد پہاڑ کے دامن میں اِس طرح لیا گیا کہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ کر سائبان کی طرح اُن کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اُنھیں لگتا تھا کہ وہ اُن پر گر کر رہے گا۔ قرآن نے یہاں اِس حالت کو پہاڑ کے اُن پر اٹھا لینے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ خدا کی قدرت اور اُس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا، جو اِس لیے کیا گیا کہ بنی اسرائیل ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ یہ عہد باندھ رہے ہیں، اُس کی قدرت کتنی بے پناہ ہے اور اُنھوں نے اگر اِس کی خلاف ورزی کی تو وہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کر سکتا ہے۔‘‘ (البیان 1/78)
4۔ اصحاب کہف کا قریباً دو سو سال تک سوئے رہنا
اصحاب کہف کو قرآنِ مجید نے ’کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ لوگ اللہ کی نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر کم و بیش دو سو سال تک نیند کی حالت طاری رکھی اور پھر اُنھیں بیدار کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ واقعہ سورۂ کہف (18) کی آیات 9 تا 25 میں بیان ہوا۔ تمہیداً واقعے کا خلاصہ بیان فرمایا ہے اور اُس کے بعد تفصیلات ذکر کی ہیں۔ تمہیدی آیات یہ ہیں:
اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا. اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا. فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا. ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا. (18:9-12)
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے؟ اُس وقت، جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے؟‘‘
اصحاب کہف کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں، جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (The Seven Sleepers)کہے جاتے ہیں۔ اِن کا تعلق افیسس (Ephesus) شہر سے ہے۔ یہ ترکیہ کے مغربی ساحل پر واقع ایک مشہور شہر تھا۔ یہ بت پرستی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 249ء سے 251ء تک یہاں قیصر ڈیسیس (Decius) کی حکومت قائم تھی۔ اِس عرصے کے دوران میں مسیح علیہ السلام کے پیرو اپنی دعوت لے کر یہاں پہنچے۔ اصحاب کہف اِسی شہر کے اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان تھے۔ اُنھوں نے پیروانِ مسیح کی دعوت کو صدقِ دل سے قبول کیا اور جوش و جذبے کے ساتھ اُس کی تبلیغ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا معاشرہ اُن کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہ اُنھیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔ اِس سے بچنے کے لیے وہ شہر سے باہر ایک بڑے غار میں پناہ گزین ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی حفاظت فرمائی اور طویل مدت کے لیے اُن پر نیند طاری کر دی۔ فرشتے اُن کے پہلو بدلتے رہے۔ اُن کے کتے کو غار کے دہانے پر ایسے بٹھا دیا گیاکہ جیسے وہ پہرا دے رہا ہو۔ اللہ کے حکم سے اور اُس کے فرشتوں کی نگرانی میں یہ لوگ کم و بیش 196 سال سوتے رہے۔ پھر بالآخر قیصر تھیوڈوسیس ثانی(Theodosius II) کی سلطنت کے اڑتیسویں سال 444ء یا 447ء میں یہ لوگ بیدار ہوئے۔ اِس دوران میں مسیحی مبلغین کی تبلیغ سے رومی شہنشاہ قسطنطین ( 337ء272-ء) عیسائیت قبول کر چکا تھا اور اِس کے نتیجے میں ساری رومی سلطنت میں مسیح علیہ السلام کا مذہب پھیل گیا تھا۔ چنانچہ جب یہ لوگ بیدار ہوئے تو ہر طرف مسیحیت کا غلبہ تھا۔ باہر کے حالات سے بے خبراِن لوگوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو شہر میں بھیجا تاکہ وہ وہاں سے کھانا لے کر آئے۔ جب کھانا خریدنے کے لیے اُس نے قیصر ڈیسیس کے زمانے کا سکہ پیش کیا تو دکان دار کو شک ہوا کہ شاید اُسے پرانے زمانے کا کوئی دفینہ ملا ہے۔ اِس پر دونوں میں تکرار ہوئی، جس سے لوگ جمع ہو گئے۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے حکام تک پہنچ گیا۔ اُس شخص کو اُن کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہاں سوالات ہوئے تو اُسے معلوم ہوا کہ قیصر ڈیسیس کو مرے تو برس ہا برس بیت چکے ہیں۔ یہ جان کر اُس نے اپنی ساری داستان اُنھیں سنا دی۔ اُسے سن کر حکام بہت حیران ہوئے اور تصدیق کے لیے اُس کو لے کر غار کی طرف چل پڑے۔ لوگوں کا ایک ہجوم اُن کے ساتھ تھا۔ وہاں پہنچ کر یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ فی الواقع قیصر ڈیسیس کے زمانے کے لوگ ہیں۔ نئے رومی حکمران قیصر تھیوڈوسیس کو اِس غیر معمولی خبر سے مطلع کیا گیا۔ وہ اُن کی زیارت کے لیےاحتراماً پیدل چل کروہاں آیا اور آکر اُن سے برکت لی۔ اِس کے بعد یہ ساتوں نوجوان غار میں جا کر لیٹ گئےاور اچانک وفات پا گئے۔1
قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو آیت قرار دیا ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک خارقِ عادت نشانی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اِس کے ظاہر کرنے کا سبب کیا تھا؟ استاذِ گرامی نے اِس کے بارے میں اپنا رجحان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اِس حسی دلیل کی ضرورت غالباً اِس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے میں مسیحی دعوت یونان کے فلسفے اور رومی شرک و بت پرستی کی روایت سے نبردآزما تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ نشانی دکھائی تاکہ زندگی بعد موت کے معاملے میں عقلی دلائل کے ساتھ یہ حسی دلیل بھی پیش کر دی جائے۔ اِس سے مقصود یہ تھا کہ نئے نئے جو لوگ ہزاروں کی تعداد میں مسیحی ہوئے ہیں، اُن کے لیے دین کا یہ بنیادی عقیدہ فلسفیانہ موشگافیوں کا موضوع بن کر نہ رہ جائے۔ بائیبل اور قرآن، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ رسالت میں اِس طرح کے حسی دلائل اِس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔‘‘(البیان 3/ 131)
[باقی]
- ۔یہ تفصیلات ’’البیان‘‘ میں سورۂ کہف کے حواشی 8 تا 36 سے ماخوذ ہیں۔