[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]
(8)
رابعا ً،انبیا علیہم السلام کو معجزات عطا کرنے کے اصل اسباب تو اتمام حجت اور اُن کے مطالبۂ عذاب کے جواب میں عذاب سے قبل آخری تنبیہات ہی ہوتی ہیں، لہٰذا بالعموم یہ اُن کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں دیے جاتے ہیں، مگر بعض صورتوں میں دعوت کی ابتدا ہی میں اُنھیں اِن سے لیس کر دیا جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پرمقصد مخاطبین کو مرعوب کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ کسی جابرانہ اقدام سے باز رہیں اور بات سننے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔ اِس کی نمایاں مثالیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے جانے والے عصا اور یدِ بیضا کے معجزات ہیں۔ رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنِ مجید کی صورت میں جو عظیم الشان معجزہ عطا کیا گیا، اُس کا ایک پہلو بھی یہی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے معجزات کے حوالے سے اِسی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’…معجزات کے باب میں معروف سنتِ الہٰی تو یہ رہی ہے کہ وہ حضرات انبیا کو اُس وقت دیے گئے ہیں، جب اُن کی قوموں نے شدت کے ساتھ اُن کا مطالبہ کیا ہے اور مقصود اِن کے دیے جانے سے صرف اتمام حجت رہا ہے کہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لے رہے ہیں، کسی معجزے ہی کے لیے بہ ضد ہیں، اُن کے پاس حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ خاص معاملہ کیوں ہوا کہ اُن کو منصبِ نبوت پر مامور کرتے ہی دو معجزے دے دیے گئے؟ ہمارے نزدیک اِس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے سرکش اور جابر حکمران کی طرف رسول بنا کر بھیجے جا رہے تھے،جو شخصی اور قومی، دونوں اعتبار سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جانی دشمن تھا۔ اُن کی بات سننا اور سمجھنا تو درکنار اندیشہ اِس بات کا تھا کہ یہ علم ہوتے ہی کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، فوراً اُن کے قتل کا حکم دے دیتا۔ بلکہ اُن کے قتل کا حکم تو اُسی وقت وہ دے چکا تھا، جب قبطی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا،لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام چھپ کر مدین چلے گئے، اِس وجہ سے وہ اپنے ارادے میں ناکام رہا۔ ایک ایسے منتقم و جبار کے سامنے اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک رسول کی حیثیت سے انذار کے لیے جاتے تو بھلا وہ اُن کی بات سننے کا کب روادار ہوتا! وہ تو صرف اُسی شکل میں کوئی بات سننے کے لیے تیار ہو سکتا تھا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی، جو اُس کو مرعوب کر دیتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں اُن کو دو ایسے معجزوں سے مسلح کر دیا، جن کی مدد سے وہ اپنے دشمن کی ہر تعدی سے محفوظ رہے اور اُنھوں نے فرعون کے سامنے جاتے ہی، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہو گا، اپنے اِن معجزات کا اظہار بھی کر دیا تاکہ وہ خبردار رہے کہ اگر اُس نے کوئی غلط اقدام کیا تو وہ بھی خالی ہاتھ نہیں آئے ہیں، بلکہ اُن کے ہاتھ میں بھی وہ عصا ہے، جو ہر کبر و غرور کا سر پاش پاش کر دینے کے لیے بالکل کافی ہے۔‘‘ (تدبر قر آن 5/ 36)
خامساً، آیاتِ بینات یا انبیا کے معجزات کی نوعیت کے تعین میں مخاطبین کے حالات اور رجحانات کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا کے ہاتھوں ایسے خارقِ عادت معاملات کا صدور ہوتا ہے، جو اُن کے فہم و استدلال، بود و باش اور تہذیب و تمدن سے مناسبت رکھتے ہیں۔ اِسی بنا پر یہ اُن کے لیے توجہ اور حیرت و استعجاب کا باعث ہوتے اور نتیجتاً اتمام حجت کا ذریعہ بنتے ہیں۔امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’معجزات کے باب میں سنتِ الہٰی یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ قوموں کے مذاق اور رجحانات کی رعایت سے دیے جاتے ہیں تاکہ اُن پر حجت ہو سکیں۔ مصر میں، تاریخوں سے پتا چلتا ہے کہ اِس دور میں سحر و شعبدہ کا بڑا زور اور سوسائٹی میں ساحروں کو بڑا مقام حاصل تھا، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزے دیے، جن سے ساحروں کے طلسم کو باطل کیا جا سکے۔ عربوں میں اِس کے برعکس، سب سے زیادہ قدر و عظمت فصاحت و بلاغت کو حاصل تھی اور سوسائٹی پر دھاک خطیبوں اور شاعروں کی بیٹھی ہوئی تھی۔ اِس وجہ سے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا معجزہ عطا ہوا، جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے فصیحوں بلیغوں کو عاجز و درماندہ کر دیا۔‘‘(تدبر قرآن 3/ 343)
سادساً، اِن نشانیوں کے حوالے سے یہ بات بھی متحقق ہے کہ یہ اگرچہ پیغمبر کے ہاتھ سے صادر ہوتی ہیں، مگر اِن کا تعلق اصلاً پیغمبر کی منصبی ذمہ داریوں سے نہیں ہوتا۔ یہ خالصتاً من جانبِ اللہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اِن کی نوعیت، اِن کے ظہور یا عدم ظہور اور موقع ظہور کا فیصلہ نہ پیغمبر کرتا ہے اور نہ یہ مخاطبین کے مطالبے کے جواب میں ظاہر کی جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِس بات کو سورۂ رعد میں نہایت صراحت سے واضح کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ.
اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ. (13: 7-8)
’’یہ منکرین کہتے ہیں کہ اِس شخص پر اِس کے پروردگار کی طرف سے (عذاب کی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اِنھیں بتاؤ کہ یہ تمھارا کام نہیں ہے، اِس لیے کہ) تم تو صرف خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لیے اِسی طرح ایک راہ بتانے والا آتا رہا ہے۔
(اِن پر عذاب کے لیے کوئی نشانی کب ظاہر ہو گی؟ اِسے اللہ جانتا ہے، جس طرح) ہر مادہ کے حمل کو اللہ جانتا ہے اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے، اُس کو بھی جانتا ہے۔ ہر چیز اُس کے ہاں ایک اندازے کے مطابق ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِن آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’اٰیت‘ سے مراد یہاں کوئی نشانی عذاب ہے۔ اوپر والی آیت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے، یہ اُسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں،آخر اُس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ فرمایا کہ تمھارا کام صرف لوگوں کو اِس عذاب سے خبردار کر دینا ہے، اُس کی کوئی نشانی دکھانا یا اُس عذاب کو لا دینا تمھارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ اُن کی بکواسوں کی پروا مت کرو … ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے، اُس میں اِس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اُس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا اُن کے مطالبے پر اُس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اُس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اِس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اِس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے، اُس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اُس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ اِن باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اِس بنیاد پر ایک حاملہ کے حاملہ ہونے سے انکار کرتا ہے۔ یہی مثال اُن ظالموں کے لیے عذاب الہٰی کی ہے۔ اُنھوں نے اپنے عقائد و اعمال کے فساد کے باعث اِس کا حمل قبول کر لیا ہے اور یہ حمل لازماً اپنی مدت کو پہنچ کر ظہور میں آئے گا،لیکن کب آئے گا اور کس شکل و صورت میں آئے گا،اِس کا ٹھیک ٹھیک پتا صرف اللہ ہی کو ہے، کسی دوسرے کو اِس کا علم نہیں ہے۔اللہ کے ہاں ہر چیز کے لگے بندھے ضابطے، معین پیمانے اور مقرر اوقات ہیں۔ لوگوں کی جلد بازی سے وہ سنتِ الہٰی متغیر نہیں ہوتی، جو اُس نے ہر چیز کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/ 274)
سابعا ً، قرآنِ مجید سے واضح ہوتا ہے کہ معجزات اگرچہ معمول سے ہٹ کر ہوتے ہیں اور عام عادات اور قوانین کے برخلاف ہوتے ہیں، مگر اُن کا ظہور اسباب کے دائرے کے اندر اور اُنھی کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مطالبات کو رد فرما دیتے ہیں، جو حیطۂ اسباب سے باہر ہوں۔ سورۂ مائدہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق اپنی نشانیوں کا ذکر کیا ہے، وہاں حواریوں کا یہ سوال بھی مذکور ہے کہ کیا اللہ آسمان سے کھانے کے خوان اتار سکتا ہے؟ اِس بے جا مطالبے پر حضرت مسیح علیہ السلام نے اُنھیں تنبیہ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اِسے پسند نہیں فرمایا۔ یہ مقام درجِ ذیل ہے:
اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ.
قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ. قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ.
قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ.
(5: 112-115)
’’اُس وقت، جب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ ابنِ مریم، کیا تمھارا پروردگار یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان اتارے؟ عیسیٰ نے کہا: خدا سے ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو۔
اُنھوں نے جواب دیا: ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ اِس خوان سے کھائیں اور اِس کے نتیجے میں ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم یہ جان لیں کہ تونے ہم سے سچی بات کہی تھی اور ہم اِس پر گواہی دینے والے بن جائیں۔ اِس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی: اے اللہ، اے ہمارے پروردگار، تو ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر دے، جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے ایک یادگار بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ (پروردگار)، ہم کوعطا فرما اور تو بہترین عطا فرمانے والا ہے۔
اللہ نے فرمایا: میں اِس کوتم پر ضرور نازل کر دوں گا، مگر اِس کے بعد جو تم میں سے منکر ہوں گے، اُنھیں ایسی سخت سزا دوں گا، جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی ’ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّک‘کے الفاظ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّک‘کے سوال کے باب میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حواریین کا سوال خدا کی قدرت سے متعلق نہیں، بلکہ اُس کی حکمت سے متعلق تھا کہ اِس قسم کی کھلی ہوئی نشانی دکھانا اُس کی حکمت کے مطابق بھی ہو گا یا نہیں؟ حواریین با ایمان لوگ تھے، وہ اِس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو سکتے تھے کہ اُن کی یہ درخواست مشابہ ہے اُس مطالبہ سے جو بنی اسرائیل نے خدا کو دیکھنے کے لیے کیا تھا، جس کے نتیجہ میں اُن کو کڑک نے آ دبوچا تھا۔ معجزات ہر چند خارقِ عادت ہوتے ہیں، تاہم وہ اسباب کے پردے ہی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ تمام پردے اٹھا دیے جائیں۔ اِسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کے مطالبات کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی،جن میں خواہش اُن حدود سے متجاوز ہو جائے، جو معجزات کے ظہور کے لیے سنت اللہ میں مقرر ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اِس سے روکا اور جب حواریین کی دوبارہ درخواست پر اِس کے لیے درخواست فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اِس درخواست کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ ارشاد ہوا کہ اتارنے کو تو میں مائدہ اتار دوں گا،لیکن یاد رکھو کہ جو لوگ اتنی کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد کفر میں مبتلا ہوں گے، اُن کو سزا بھی وہ دوں گا، جو کسی اور کو نہ دوں گا۔ معلوم ہوتا ہے اِس کے بعد حواریین اپنی اِس درخواست سے باز آ گئے۔ اہل تاویل میں سے بھی ایک گروہ کا یہی خیال ہے کہ اِس کا نزول نہیں ہوا۔ انجیلوں میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 608)