[یہ مضمون ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کی ایک تقریر کے منتخب حصے پر مشتمل ہے، جسے راقم نے کچھ مزید وضاحت اور ربط کے ساتھ پیش کیا ہے۔]
ہم سب کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی پریشانی سے گزرتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی آزمایش ہمارے سامنے آتی ہے۔ کبھی کسی کی وفات ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، بعض اوقات ہمیں مالی تنگی کا سامنا ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ زندگی مختلف آزمایشوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید کے مطابق یہ زندگی ایک امتحان ہے۔ سورۂ ملک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا‘، ’’(وہی) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘ (67: 2)، یعنی یہ دنیا راحت گاہ نہیں، بلکہ امتحان گاہ ہے، جہاں ہمیں صبر اور شکر، دونوں رویے اپنانے کی تلقین کی گئی ہے۔
آزمایش کے دوران میں انسان کو لگتا ہے کہ جیسے اس کا کوئی سہارا باقی نہیں رہا، مگر قرآن مجید اس موقع پر ہماری ڈھارس بندھاتا ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے قریب آنا چاہتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ ان آزمایشوں کا حل کیا ہے تو ہمیں اپنی نعمتوں پر غور کرنا چاہیے۔ کچھ دیر کے لیے اس نقصان کو چھوڑ دیں جو ہمیں پہنچا ہے اور یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا کیا عطا کر رکھا ہے۔ یہ ایک طرح سے شکرگزاری کی تھیراپی (gratitude therapy) ہے، جس کے ذریعے سے ہم اپنی ہر پریشانی کا علاج کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی بیماری میں مبتلا ہے تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہاتھ، آنکھیں، کان اور دیگر صحت مند اعضا عطا کیے ہیں۔ اسے دو وقت کی روٹی مل رہی ہے، تعلیم حاصل کرنے کی سہولت میسر ہے، ڈاکٹر تک رسائی حاصل ہے۔ جب ہم اس زاویے سے سوچتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں لاکھوں لوگ ہم سے زیادہ مشکلات میں ہیں۔
دنیا میں کئی لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ آج تو کھا رہے ہیں، مگر کل کا پتا نہیں ۔ اگر آپ کبھی جھگیوں کی بستیوں میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ لوگ کیسے مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بارش، گرمی اور سردی میں ان کے لیے کوئی امان نہیں ہوتی۔ بچے نیم برہنہ گھوم رہے ہوتے ہیں، خواتین چولہے پر کام کر رہی ہوتی ہیں اور کپڑے اِدھر اُدھر ٹنگے ہوتے ہیں۔ اس سب کے باوجود وہ اپنی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح کئی مزدور ایسے ہیں جنھیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ آج انھیں دیہاڑی ملے گی یا نہیں، اور اگر مل بھی گئی تو اس کی اجرت پوری ملے گی یا نہیں۔ ان کی روزی، گویا ہوا میں معلق ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ جیتے ہیں۔
اگر ہم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر غور کریں تو ان کی کوئی حد نہیں۔ مثال کے طور پر ہماری آنکھیں ایک عظیم نعمت ہیں۔ کبھی آپ چند لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں بند کر کے دیکھیں اور روزمرہ کے کام کرنے کی کوشش کریں، جیسے کپڑے بدلنا، پانی پینا، یا چلنا۔ چند لمحوں بعد آپ کو احساس ہوگا کہ یہ کیسی عظیم نعمت ہے۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے:’وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا‘، ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو اُنھیں گن نہیں سکو گے‘‘(النحل18:16)۔
بھولنے یا نسیان کی صلاحیت جو ہمیں عام طور پر بری لگتی ہے، یہ بھی درحقیقت اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اگر ہم اپنے غموں کو کبھی نہ بھولیں تو ہماری زندگی اذیت بن جائے۔ اگرچہ ایک طالب علم کے لیے امتحان میں بھولنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن عمومی زندگی میں بھول جانے سے ہمیں کئی صدمات سے نجات مل جاتی ہے۔ بڑے بڑے حادثے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے ذہن سے محو ہو جاتے ہیں اور ہم ان کے اثر سے نکل آتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے۔
نیند بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دنیا میں کئی لوگ بے خوابی (insomnia) کا شکار ہیں اور نیند کے لیے دوائیں لینے پر مجبور ہوتے ہیں، جب کہ ہم میں سے اکثر لوگ سکون سے نیند لے سکتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔
زندگی میں دو واقعات ایسے گزرے ہیں جنھوں نے شکر کے بارے میں مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ دونوں واقعات مختصر ہیں، لیکن گہرا اثر رکھتے ہیں۔
پہلا واقعہ ایک قریبی عزیزہ کے بارے میں ہے، جو لنگز کینسر کے باعث وفات پا گئیں۔ کینسر کے اس مرحلے میں پھیپھڑوں میں جگہ کم ہوتی چلی جاتی ہے، اور سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم عام طور پر بغیر کسی دھیان کے سانس لیتے ہیں، لیکن ان کے لیے ہر سانس شعوری کوشش کا محتاج تھا۔ جب میں نے یہ دیکھا تو احساس ہوا کہ میں کتنی بڑی نعمت سے غافل ہوں—یہ حقیقت کہ میں آسانی سے سانس لے سکتا ہوں، یہ خود ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ اس دنیا میں آزمایش کے ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اللہ کی بے شمار نعمتوں میں جی رہے ہیں۔
دوسرا واقعہ ایک شادی کی تقریب میں پیش آیا۔ شادی کے کھانے میں جب اعلان ہوا تو سب لوگ کھانے کی جگہ کی طرف بڑھ گئے۔ میں ان آخری لوگوں میں سے تھا جو اندر جا رہے تھے، میں نے دیکھا کہ جب کھانے کی جگہ بھر گئی تو قنات گرا دی گئی تاکہ مزید لوگ اندر نہ آ سکیں۔ کچھ دیر بعد جب لوگ کھانے سے فارغ ہو گئے اور قنات ہٹائی گئی تو تقریباً دس پندرہ بچے اندر بھاگتے ہوئے آئے۔ وہ زمین پر گری ہڈیوں، بوٹیوں اور چاولوں کو کھانے لگے، کچھ نے اپنے تھیلوں میں بھی ڈال لیے۔ ان کے چہروں پر خوشی تھی۔ یہ دیکھ کر میرا دل دہل گیا۔ یہ وہ بچے تھے جو اسکول میں ہونے چاہییں تھے، مگر وہ یہاں شادیوں میں آ کر لوگوں کے بچے کھچے کھانے پر گزارہ کرتے تھے۔ ایک میزبان نے بتایا کہ یہ بچے اکثر یہاں آ کر لائن میں لگ جاتے ہیں تاکہ جیسے ہی لوگ کھانے سے فارغ ہوں، وہ بچا کھچا کھانے کے لیے اندر آ سکیں۔ اس لمحے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ہم کتنی آسانی سے کھانا کھا رہے ہوتے ہیں، جب کہ کچھ لوگوں کے لیے ایک وقت کی روٹی حاصل کرنا بھی کتنا مشکل ہے۔
بچپن میں، یاد ہے کہ ہمارے اسکول میں ’’نیچر اسٹڈی واک‘‘ کرائی جاتی تھی، جہاں ہمیں صحرائی یا میدانی علاقوں میں لے جایا جاتا تھا اور سورج، چاند اور ستاروں کا مشاہدہ کروایا جاتا تھا۔ ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ یہ سب چیزیں ہماری خدمت کے لیے ہیں—یہ سورج، چاند اور ستارے ہمارے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ ہوا، پانی اور غذا اللہ نے ہمارے لیے مہیا کی ہے۔ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمارا کتنا خیال رکھا ہے، اور پھر ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاندان بھی دیا ہے، جو ہمارے ساتھ ہوتا اور ہمارا خیال رکھتا ہے۔
امتحانوں سے بھری اس زندگی میں، ہمیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شکرگزاری کا یہ رویہ ہمیں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی قوت دیتا ہے اور اس دنیا میں جنت کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔