مواد پر جائیں

شہادت علی الناس کی ذمہ داری (20) (1)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّا لَنَجِدُ صِفَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا،  وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُهُ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَتَجَاوَزُ، وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتَّى يُقِيمَ الْمِلَّةَ الْمُتَعَوِّجَةَ بِأَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، نَفْتَحُ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ كَعْبًا يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ.

(سنن الدارمی، رقم 3439)

’’عطاء بن یسار روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ ہم (انبیا کے صحائف میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اوصاف پاتے ہیں: ہم نے تمھیں گواہی دینے والا، خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور امیوں کی حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے اپنے بندے کا نام ’متوکل‘ رکھا ہے۔ وہ نہ سخت مزاج ہے، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے۔ وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا، بلکہ معاف کر دیتا اور درگذر سے کام لیتا ہے۔ اور میں اس کو اس وقت تک (دنیا سے) نہیں اُٹھاؤں گا جب تک وہ کج رَو ملت کو سیدھا نہ کر دے کہ اس بات کی گواہی دی جانے لگے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اس کے ذریعے سے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور بند دلوں کو کھول دیں گے۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابو واقِد لیثی نے بتایا کہ انھوں نے کعب الاحبار سے بھی یہی اوصاف سنے جو عبد اللہ بن سلام نے بیان کیے ہیں۔‘‘

لغوی تشریح

’حِرْز‘: کسی چیز کا حصار، حفاظت کا ذریعہ۔

’فَظٍّ‘: تند خو، بد مزاج۔

’غُلْفًا‘:اغلف کی جمع ہے، یعنی جس پر پردہ چڑھا ہو۔

شرح ووضاحت

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم یعنی بنی اسمٰعیل کتاب الہٰی کی نعمت سے محروم اور انبیا کے ذریعے سے نبوت ورسالت سے ناآشنا تھی(یس 36: 6۔ الانعام 6: 156)۔ اسی تناظر میں قرآن مجید میں ان کے لیے ’امیین‘ کی تعبیر اختیار کی گئی (آل عمران 3: 20۔ الجمعہ 62: 2)۔ اور ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر احسان وامتنان کے پہلو سے کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے اپنی قوم پر شاہد بنا کر بھیجا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا میں بھی اپنی قوم کے سامنے اللہ کے دین کی شہادت دینے پر مامور ہیں اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی اللہ کی بارگاہ میں ان کے بارے میں اپنی گواہی پیش کریں گے(البقرہ 2: 143۔ النساء 4: 41۔ النحل 16: 89۔ الاحزاب 33: 45۔ الفتح 48: 8۔ المزمل 73: 15)۔ سورۂ احزاب میں ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا. (33: 45)

’’اے نبی، ہم نے تمھیں (دین کی) گواہی دینے والا اور بشارت سنانے والا اور (عذاب سے) آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔“

یہاں ’شَاهِدًا‘ کی تعبیر صرف پیغام پہنچا دینے کے معنی میں نہیں، بلکہ اتمام حجت کے درجے میں لوگوں پر حق کو واضح کر دینے کے مفہوم میں ہے جس کے بعد ان کے پاس انکار کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ ابن عاشور نے اس کا مفہوم واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

ارسلناك في حال أنك تشهد على الأمة بالتبليغ بحيث لا يعذر المخالفون عن شريعتك فيما خالفوا فيه، وتشهد على الأمم، وهذه الشهادة حاصلة في الدنيا وفي يوم القيامة. (التحریر والتنویر 26/ 155)

’’ہم نے آپ کو اس حیثیت سے مبعوث کیا ہے کہ آپ اس امت کو دین پہنچا کر اس طرح گواہ بن جائیں کہ جو لوگ آپ کی شریعت کی مخالفت کریں، ان کے لیے اختلاف میں کوئی عذر باقی نہ رہے، اور آپ دوسری امتوں پر بھی گواہ بنیں۔ یہ گواہی دنیا میں بھی ہے اور قیامت کے دن بھی ہوگی۔“

2۔ زیر بحث اثر میں عبد اللہ بن سلام اور کعب الاحبار نے صحائف انبیا کی روشنی میں بعثت نبوی کے اسی پہلو کو ’حِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ‘ اور ’يُقِيمَ الْمِلَّةَ الْمُتَعَوِّجَةَ بِأَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ‘ کی تعبیرات سے واضح کیا ہے۔ اثر میں جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا ذکر یسیعیاہ نبی کے صحیفے میں متفرق مقامات پر ہوا ہے۔ مثلاً‌ ایک مقام پر ہے:

’’دیکھو تمھارا خدا آئے گا اور تمھارے دشمنوں کو جو انھوں نے کیا ہے، اس کی سزا دے گا۔ وہ یقیناً‌ آئے گا اور تمھیں جزا دے گا اور تمھاری حفاظت کرے گا۔ پھر تو اندھے دیکھنے لگیں گے، ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور بہرے سن سکیں گے اور ان کے کان کھل جائیں گے۔ … اس وقت وہاں ایک راہ بن جائے گی اور اس شاہراہ کا نام ہوگا ’’مقدس راہ “۔ اس راہ پر ناپاک لوگوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کوئی بھی احمق اس راہ پر نہیں چلے گا۔ صرف خدا کے مقدس لوگ ہی اس پر چلا کریں گے۔ “ (35: 4- 8)

دوسرے مقام پر ہے:

’’میرے خادم کو دیکھو! وہی ایک ہے جس کی میں حمایت کرتا ہوں۔ میں نے اس کو چنا تھا۔ میں اس سے نہایت خوش ہوں۔ میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں انصاف جاری کرے گا۔ وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ ہی بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی۔ وہ باوقار ہوگا۔ کچلی ہوئی گھاس کے تنکے تک کو وہ نہیں روندے گا۔ وہ ٹمٹماتی بتی تک کو نہیں بجھائے گا۔ وہ سچ مچ میں انصاف لائے گا۔ وہ نہ ماند پڑے گا اور نہ ہی کچلا جائے گا، جب تک کہ وہ انصاف کو زمین پر قائم نہ کر لے۔ جزیرے اس کی شریعت کا انتظار کریں گے۔“ (42: 1- 4)

ایک اور مقام پر ہے:

’’ کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ۔ سنو اور تمھاری جان زندہ رہے گی اور میں تم کو ابدی عہد یعنی داؤد کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔ دیکھو، میں نے اسے امتوں کے لیے گواہ مقرر کیا، بلکہ امتوں کا پیشوا اور فرماں روا۔ دیکھ تو ایک ایسی قوم کو جسے تو نہیں جانتا، بلائے گا اور ایک ایسی قوم جو تجھے نہیں جانتی تھی، خداوند تیرے خدا اور اسرائیل کے قدوس کی خاطر تیرے پاس دوڑی آئے گی کیونکہ اس نے تجھے جلال بخشا ہے۔ “ (55 : 3- 5)

یسعیاہ نبی کے صحیفے میں یہ پیشین گوئیاں سیاق کلام کے لحاظ سے خدا کے خادم کے حوالے سے بیان ہوئی ہیں جو بائیبل میں بنی اسرائیل کے لیے اختیار کی گئی تعبیر ہے۔ زیر بحث اثر میں علماے اہل کتاب نے ان اوصاف کو امیین عرب میں مبعوث کیے جانے والے نبی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منطبق کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسے نبی کی بعثت کا وعدہ جو دعوت توحید کو اقصاے عالم تک پہنچا دے، ایک مشروط وعدہ تھا جس کی تکمیل بنی اسرائیل کی طرف سے بہ حیثیت قوم اپنے عہد پر قائم رہنے پر موقوف تھی۔ تاہم بنی اسرائیل اس عہد پر قائم نہیں رہ سکے اور ان کی تاریخ میں اس وعدے کا ظہور بھی نہیں ہوا۔ پھر جب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پیشین گوئیوں کی تکمیل امیین عرب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے کرنے کافیصلہ فرما یا تو مآلاً‌ آپ اور آپ کی قوم ہی ان کا مصداق قرار پائے۔ علماے اہل کتاب اسی تناظر میں اپنی سینہ بہ سینہ چلی آنے والی روایات کی روشنی میں صحیفۂ یسعیاہ اور دیگر صحائف میں مذکور اوصاف کا مصداق نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو قرار دیتے تھے۔

3۔ قرآن مجید میں تورات کا عنوان اس کتاب کے لیے آیا ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی، تاہم احادیث وآثار میں تورات کی تعبیر کافی وسیع مفہوم میں استعمال ہوتی ہے اور اس کا اطلاق بائیبل کے دیگر صحائف کے علاوہ یہودی دینی لٹریچر مثلاً‌ مشنا اور تالمود وغیرہ پر بھی کر دیا جاتا ہے۔ زیر بحث اثر بھی اسی کی مثال ہے۔

(2)

أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ بِالسُّنْحِ – قَالَ إِسْمَاعِيلُ: يَعْنِي بِالعَالِيَةِ – فَقَامَ عُمَرُ يَقُولُ: وَاللّٰهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، قَالَتْ: وَقَالَ عُمَرُ: وَاللّٰهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللّٰهُ فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ، قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُذِيقُكَ اللّٰهُ المَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ، فَحَمِدَ اللّٰهَ أَبُو بَكْرٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَلا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللّٰهَ فَإِنَّ اللّٰهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، وَقَالَ : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ، وَقَالَ : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللّٰهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشَّاكِرِينَ، قَالَ: فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ.

(بخاری، رقم 3500)

’’عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت مقام سنح میں تھے۔ راوی اسمٰعیل نے کہا کہ مقام سنح مدینہ کی بالائی جانب میں واقع ہے۔ یہ خبر سن کر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی۔ سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ (بعد میں) عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کی قسم، اس وقت میرے دل میں یہی خیال آتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ کو ضرور دوبارہ اٹھائے گا اور آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے (جو کہہ رہے ہیں کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے)۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اندر جا کر آپ کی نعش مبارک کے اوپر سے کپڑا اٹھایا اور بوسہ دیا اور کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد وہ باہر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اے قسم کھانے والے، ذرا ٹھہر و۔ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: لوگو، دیکھو، اگر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پوجتا تھا (یعنی یہ سمجھتا تھا کہ وہ کبھی وفات نہیں پائیں گے) تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔ (پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سورۂ زمر کی یہ آیت پڑھی):’إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ‘، ’’اے پیغمبر، تمھیں بھی موت آنی ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے“۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشَّاكِرِينَ‘، ’’محمد بھی ایک رسول ہی ہیں۔ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انھیں شہید کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے‘‘۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔“

لغوی تشریح

’عَلَى رِسْلِكَ‘ : یعنی ٹھہر جاؤ، توقف سے کام لو۔

’فَنَشَجَ‘، یعنی آواز کے ساتھ رونے لگے۔ ’نشیج‘ رونے کی آواز کو کہتے ہیں۔

شرح ووضاحت

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ نہیں تھی کہ اللہ کے نبی کی وفات نہیں ہو سکتی اور نہ یہ صدمے کے زیر اثر کوئی جذباتی ردعمل تھا۔ دراصل ان کا گمان یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر دنیا سے رخصت نہیں ہو سکتے۔ ان کے اس گمان کا پس منظر اور استدلال آیندہ آثار میں مزید وضاحت سے سامنے آئے گا۔

تخریج اور اختلاف طرق

عروہ بن زبیر کے طریق سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:

الطبقات الکبریٰ، ابن سعد 2/‏269۔ دلائل النبوہ، بیہقی 7/ 217- 218۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 16614۔ الاعتقاد، بیہقی 1/‏346۔

عروہ کے علاوہ اسے سیدہ سے ابن ابی ملیکہ اور یزید بن بابنوس نے بھی تفصیلات کے کچھ فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔

ابن ابی ملیکہ کی روایت میں ہے:

فجعلوا يقولون: لم يمت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، إنما هو بعض ما كان يأخذه عند الوحي، … وعمر في ناحية المسجد يقول: واللّٰه ما مات رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا يموت حتى يقطع أيدي أناس من المنافقين كثير وأرجلهم.(ابن ماجہ، رقم 1599)

’’لوگ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی۔ آپ پر بس ویسی کیفیت طاری ہوئی ہے جیسی وحی کے نزول کے وقت ہوتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک کونے میں (لوگوں سے) کہہ رہے تھے کہ بخدا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی اور آپ کی وفات نہیں ہوگی جب تک آپ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ نہیں دیں گے۔“

یزید بن بابنوس کی روایت کے مطابق اس موقع پر سیدنا عمر مغیرہ بن شعبہ کے ہم راہ سیدہ کے حجرے میں آئے تھے۔ جب مغیرہ نے ان سے کہا کہ آپ کا انتقال ہو چکا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:

كذبت، بل أنت رجل تحوسك فتنة، إن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا يموت حتى يفني اللّٰه عز وجل المنافقين. (مسند احمد، رقم 25841۔ دلائل النبوہ، بیہقی 7/214)

’’تم جھوٹ کہہ رہے ہو، بلکہ تم ایسے شخص ہو جو فتنے میں مبتلا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوگا یہاں تک کہ آپ منافقین کا خاتمہ نہ کر دیں۔“

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ یہ واقعہ ابن عمر، انس، ابو ہریرہ، سالم بن عبید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بھی نقل کیا ہے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس جملے کا پس منظر بھی واضح کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کو قتل کر دیں گے:

فلما خرج مر بعمر رحمة اللّٰه عليه وهو يقول: واللّٰه ما مات رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا يموت حتى نقتل المنافقين، قال: وقد كانوا استبشروا بموت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ورفعوا رءوسهم.

(مسند البزار، رقم 103)

’’جب ابوبکر باہر نکلے تو ان کا گزر عمر کے پاس سے ہوا، اللہ ان پر رحمت کرے۔ عمر کہہ رہے تھے کہ بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے جب تک کہ ہم منافقوں کو قتل نہ کر دیں۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ آپ کی وفات کی خبر پر منافقین میں خوشی پھیل گئی تھی اور انھوں نے اپنے سر اٹھا لیے تھے۔“

سیدنا انس کی روایت میں ہے:

وقام عمر فقال: إن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم يمت، ولكن ربه أرسل إليه كما أرسل إلى موسى أربعين ليلة عن أربعين ليلة، واللّٰه إني لأرجو أن يعيش رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتى يقطع أيدي رجال من المنافقين وألسنتهم يزعمون أو قال يقولون: إن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد مات.

(مصنف عبد الرزاق، رقم 9754)

’’عمر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا، بلکہ آپ کے رب نے ان کو اس طرح اپنے پاس بلایا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن کے لیے بلایا تھا۔ مجھے توقع ہے کہ آپ زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ ان منافقوں کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کا انتقال ہو گیا ہے۔“

آپ کی وفات کو سیدنا موسیٰ کی غیر حاضری کے ساتھ تشبیہ دینے کا یہ مضمون سیدنا ابوہریرہ (تفسیر ابن المنذر، رقم 986۔ انساب الاشراف، بلاذری 1/566۔ تاریخ الطبری 3/200) اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات میں بھی بیان ہوا ہے (انساب الاشراف، بلاذری 1/567۔ مسند الدارمى، رقم 84۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 9754)۔

سالم بن عبید کی روایت میں ہے :

فلما توفي النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال عمر: لا يتكلم أحد بموته إلا ضربته بسيفي هذا، فسكتوا وكانوا قومًا اميين، لم يكن فيهم نبي قبله.

(السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 7081)

’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر کہنے لگے کہ جو بھی آپ کےوفات پانے کی بات کرے گا، میں اپنی اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دوں گا۔ اس پر لوگ خاموش ہو گئے، کیونکہ وہ ایک امی قوم تھے اور اس سے پہلے ان میں کوئی نبی نہیں ہوا تھا۔ “

سالم بن عبید کی روایت معجم الصحابہ، بغوی 3/148 اور اسد الغابہ، ابن الاثیر 3/277 میں بھی منقول ہے۔

[باقی]