مواد پر جائیں

شہر آشوب

جاوید احمد غامدی اردو

اٹھتا ہے یہ ہر لفظ سے جو دل کا دھواں ہے

پھر اِس میں عجب کیا کہ غزل مرثیہ خواں ہے

سینے میں کوئی درد ہے، پنہاں کبھی پیدا

پہلو میں دھڑکتا تھا جو آنکھوں سے رواں ہے

وہ دن ہے کہ ویرانی ِ دل کھانے کو آئے

وہ شب ہے کہ ہر سانس پہ اک بارِ گراں ہے

تہذیب نے کچھ اور بھی سفاک بنا کر

آدم کو بتایا ہے کہ یہ تیرا جہاں ہے

دنیا کی سیاست میں کوئی حق ہے نہ باطل

ہر چیز یہاں معرکۂ سود و زیاں ہے

اٹھتی ہے صدا کوئی تو اربابِ سیاست

اُس کو یہ سمجھتے ہیں کہ غوغاے سگاں ہے

افسوس کہ پژمردہ ہے انصاف کا چہرہ

اور ظلم کو دیکھیں تو وہ پہلے سے جواں ہے

بغداد میں یہ آہن و آتش کا تماشا

روتی ہے زمیں اور فلک اشک فشاں ہے

خورشیدِ جہاں تاب تو ہے اب بھی افق پر

اِس شہر میں لیکن شبِ تیرہ کا سماں ہے

واللہ کہ تم درپئے بربادیِ جاں ہو

یہ شہر مری عظمتِ رفتہ کا نشاں ہے

اڑتا ہوا خاشاک، یہ بکھری ہوئی لاشیں

انساں ہیں، مگر اُن پہ بھی سایوں کا گماں ہے

بارود کی بارش ہے شب و روز یہاں اب

بچوں کو اماں ہے، نہ بزرگوں کو اماں ہے

یہ ماؤں کی آغوش میں آزردہ نگاہیں

سنتا ہو اگر کوئی تو اُن کی بھی زباں ہے

میں عاجز و درماندہ اِسے دیکھ رہا ہوں

دینے کو اگر ہے تو یہی سوزِ نہاں ہے

ابلیس کے ہاتھوں میں ہے دنیا کی حکومت

یہ تیرا جہاں ہے تو خدایا، تو کہاں ہے