رب کی تخلیق ہے یہ حسیں کائنات
جس میں جاری ہے انساں کا سفرِ حیات
ایک دن جس کو ہونا ہے آخر تمام
اس مسافت کا ہونا ہے اک اختتام
آ کے رہنی ہے اک دن سبھی پر قضا
روبرو رب کے ہونا ہے روز جزا
جب زمیں پر تھے آدم اتارے گئے
اس سفر میں وہ ہر گز اکیلے نہ تھے
ساتھ ہستی تھی اک مونس و مہرباں
اس زمیں کو بنانے کو اک آشیاں
خلد میں بھی رہی تھیں وہی ہم سفر
سنگ جن کے ہوئی زندگانی بسر
ساتھ جن کے تھا جیون کا ہر مرحلہ
کون تھی وہ وفادار اور صالحہ
آدمیت کو بخشا ہے جس نے وجود
اس کی عظمت کی کیا ہوں حدود و قیود
اصل خاتون اول وہی تھیں یہاں
گود میں جن کی قائم ہوا یہ جہاں
تب سے لے کر یہاں عہدِ حاضر تلک
اس میں شبہ ہے کوئی، نہ ہی کوئی شک
مرد کی وہ برابر مددگار ہے
اس جہاں کی مساوی وہ معمار ہے
اس پہ اترے وہ رب کے جو احکام ہیں
واشگاف اس کو قرآں کے پیغام ہیں
پھر کیوں حکم خدا سے اضافی کرے؟
ہر جہالت کی خود کیوں تلافی کرے؟
ذہن میں اس کے کیا کیا سوالات ہیں
اس کی کیا فکر ہے کیا خیالات ہیں ؟
اس کا کیا خواب ہے اور کیا آرزو
کس طرح سے کرے دین کی جستجو؟
اس کی فطرت ہے کیا، کیا ہے اس کا مزاج
اس کا حق کیا اسے دے سکا یہ سماج ؟
دین و دنیا کی کیا اس کی تفہیم ہے
پرورش کیا ہے کیا اس کی تعلیم ہے ؟
اک مکمل بہ ایں وہ بھی انسان ہے
اس کو حاصل ہوئی کیا یہ پہچان ہے
ان سوالات کے لے کے سارے جواب
کر کے تعبیر اب اس کی آنکھوں کا خواب
غامدی سینٹر کا بھلا ہو خدا
کارنامہ کیا ہے یہ اس نے جدا
جیسے پت جھڑ میں ہو اک کلی کھل گئی
جیسے منزل کو ہو راہ سی مل گئی
جیسے ظلمت میں شب کی وہ پہلی کرن
حبس میں جیسے بادصبا کا چلن
عورتوں کے لیے آڈیو میگزین
جس سے ان کو ملے فہمِ دنیا و دین
ان کی ہر سوچ کا جس میں اظہار ہو
جس کا ہر جزو ہی ایک شاہکار ہو
کیا ادب کیا سخن نغمگی شاعری
علم و تحقیق کی پھیلتی روشنی
اپنی منزل کو راہِ جدا کی تلاش
اپنے باطن میں کھو کر خدا کی تلاش
دینِ برحق کی آسان تفہیم بھی
تربیت بھی یہاں ان کی تعلیم بھی
میگزین اور یوٹیوب یہاں
اردو ہندی خواتین کا اک جہاں
اس میں پائیں گی وہ ساری صالح صفات
عورتوں کے لیے ہے طریقِ حیات
نیک کاروں کو جو نام دے رب کی کی ذات
ہے اسی نام سے میگزیں”صالحات”