اس مضمون میں مصنفہ نے قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے واقعات کو اپنے غور و فکر کا محور بنایا ہے۔ پھر ان قصص میں صبرِ جمیل کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ مصنفہ نے اس فہم کا ہمارے روزمرہ مسائل پر بہت خوب صورتی سے اطلاق کیا ہے۔
تاریخ جتنا اہم موضوع ہے، لوگ اتنے ہی اس سے بیزار دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے جیسے میری عمر بڑھتی جا رہی ہے، مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہوتا جا رہا ہے کہ مسلمان، بحیثیت قوم، اپنی کسی روش اور اپنی تاریخ سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔
آج دنیا میں جو ہنگامہ برپا ہے، وہ اپنے موضوع کے لحاظ سے کچھ نیا نہیں۔ کچھ کردار نئے ہیں، کچھ چہرے بدل گئے ہیں، مگر موضوع بھی وہی ہے اور جستجو بھی وہی۔ میں زیادہ پیچھے نہیں جاتی، اپنی نوجوانی ہی کے زمانے کو یاد کر لیتی ہوں۔ 9/11 میری یادداشت میں آج بھی پوری شدت کے ساتھ محفوظ ہے۔ کراچی میں بیٹھ کر میں نے ٹی وی پر وہ تمام نشریات دیکھی تھیں، اور پھر اس کے بعد آنے والے ہر دن میں جذباتی تقریریں، تحریریں، اخبارات کی چیخ و پکار، معصوم جانوں کا ضیاع، یہ سب کچھ میری یادداشت میں آج بھی پوری طرح نقش ہے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ نہ اُس وقت ایک عام مسلمان نے ہمت، استقامت، عقل، حوصلے اور صبرِ جمیل سے کام لیا، اور نہ ہی آج وہ ان اوصاف کو اپنانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی بے بسی کا رونا تو روتا ہے، لیکن ساتھ ہی جذباتیت، احساسِ کمتری، جلد بازی اور جہالت ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے بیٹھا ہے۔
اس وقت، نوجوانی کے زمانے میں، میں نے خود قرآن کو ترجمے کے ساتھ ایک بار بھی پوری طرح نہیں پڑھا تھا، لیکن اب پڑھ چکی ہوں۔ اسی لیے آج جب لوگ اپنی جذباتیت کے حق میں قرآن سے استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میں انہیں یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ قرآن کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر نہ خود سمجھیں، اور نہ ہی لوگوں کے
سامنے اسے اس انداز میں پیش کریں۔ جس قرآن کی چند آیات کو آپ اپنے استدلال کی بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں، اُس کے مقابلے میں پورا قرآن اپنے تمام انبیاء و رُسل کی سرگزشت سے بھرا پڑا ہے، جہاں ہر جگہ صبر، ہمت اور استقامت ہی، یعنی صبرِ جمیل جلوہ گر نظر آتا ہے۔
پھر وہ سرگزشت چاہے موسیٰ علیہ السلام کی ہو، لوط علیہ السلام کی، نوح علیہ السلام کی، صالح علیہ السلام کی، شعیب علیہ السلام کی، عیسیٰ علیہ السلام کی، یعقوب علیہ السلام کی یا یوسف علیہ السلام کی، کیا کوئی ہے جو ان واقعات پر غور و فکر کرے؟ کیا کوئی ہے جو تاریخ کے ان اسباق میں اپنے لیے رہنمائی تلاش کرے؟
لفظ صبرِ جمیل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بغیر ہمت، حوصلے اور کوشش کے محض اپنی جگہ بیٹھا رہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے عزم، ہمت اور حوصلے کو ہمیشہ سربلند رکھے، اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے جو کچھ بہتر طریقے سے کر سکتا ہو، اسے بغیر مایوس ہوئے مسلسل کرتا رہے۔
کیا یعقوب علیہ السلام کے شایانِ شان یہ تھا کہ وہ اُسی اولاد کے ساتھ رہتے رہیں جس کے بارے میں انہیں غالب گمان تھا کہ اُس نے یوسف علیہ السلام کو کہیں پھینک دیا ہے؟ وہ انہیں چھوڑ کر کیوں نہ چلے گئے؟ ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ کیوں رہے؟ پھر انہی سے بنیامین کے بارے میں عہد کیوں لیا کہ وہ اُس کا خیال رکھیں گے؟
یہ وہی اولاد تھی جو بڑھاپے میں اپنے والد کو طعنہ دے رہی تھی کہ آپ تو یوسف کے غم میں خود کو ہلاک ہی کر ڈالیں گے، لیکن اپنے جرم کا اعتراف اُن کے سامنے نہیں کر رہی تھی۔ پھر یہی لوگ یوسف علیہ السلام کے سامنے الزام بھی لگاتے ہیں کہ اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو یہ کچھ بعید نہیں، کیونکہ اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ بات نقل کی، بلکہ ساتھ ہی قرآن میں یوسف علیہ السلام کے دل کی کیفیت بھی بیان کر دی کہ اس طعنے سے اُنہیں جو اذیت پہنچی، اُسے انہوں نے اپنے دل ہی میں رکھا اور ظاہر نہ کیا۔ یہ ایک نہایت باریک نکتہ ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یوسف علیہ السلام سچے بھی تھے، نبی بھی تھے، حق پر بھی تھے، اور اُس وقت صاحبِ اقتدار بھی تھے۔ وہ چاہتے تو منہ توڑ جواب دے سکتے تھے، اپنے اوپر ڈھائے گئے ہر ظلم کا بدلہ لینے کی پوری قدرت رکھتے تھے۔ اور بظاہر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں ایسا کرنے کا حق حاصل نہ تھا؟ پھر آخر کون سی چیز تھی جس نے انہیں صبر، ہمت، عقل اور استقامت کے ساتھ معاملہ کرنے پر آمادہ رکھا؟
میں سمجھتی ہوں کہ اس کا جواب ’صبرِ جمیل‘ ہی میں پوشیدہ ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی طرف دیکھیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اُن سے ہم کلام ہے، مگر موسیٰ علیہ السلام یہ نہیں کہتے کہ بس اللہ میرے ساتھ ہے، لہٰذا مجھے فرعون کے ظلم اور اس کی قوت سے کیا ڈر۔ بلکہ وہ اپنے ذہن میں اُٹھنے والے ہر خدشے کو اللہ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ اُن کے دل و دماغ کی ہر سوچ سے واقف ہے؟ یقیناً جانتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ اے موسیٰ! میں نے تو اس وقت بھی تم پر احسان کیا تھا جب تم ایک نومولود بچے تھے، اور تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈالی تھی کہ تمہیں دریا میں ڈال دے، اور میں نے تم پر اپنی محبت کا ایسا پرتو ڈالا تھا کہ جو تمہارا دشمن تھا اور میرا بھی دشمن، وہی تمہیں پالنے پر مجبور ہو گیا۔ تو کیا اللہ اس بات پر قادر نہ تھا کہ آج بھی موسیٰ علیہ السلام پر اپنی محبت کا وہی پرتو ڈال دیتا، اُن کے گرد ایک اَن دیکھا حصار قائم کر دیتا، اور کہہ دیتا کہ اے موسیٰ! فکر نہ کرو، فرعون تمہیں چھو بھی نہیں سکے گا؟ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی محنت، اپنی کوشش، اپنے صبر، اپنی ہمت اور اپنی استقامت سے راستہ بنانا تھا۔
ایسا کیوں نہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو جوش دلاتے، انہیں کہتے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے، تم بس فرعون سے ٹکرا جاؤ، جو پتھر ہاتھ آئے اُٹھا کر مار دو، اور اللہ تمہاری مدد کرے گا؟ موسیٰ علیہ السلام کی پوری سرگزشت میں ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے: اپنی تربیت کرو، اپنے آپ پر محنت کرو، اپنے گھر اور اپنے خاندان کی اصلاح کرو، اور جب خود کو کندن بنا لوگے تو اللہ کی مدد کو اپنے قریب پاؤ گے۔
جس مسلمان قوم سے میں مخاطب ہوں، اُسے میں پاکستان میں بھی دیکھتی ہوں اور یہاں امریکہ میں بھی، کہ وہ مسجد میں اپنے جوتے تک قرینے سے اُتار کر نہیں رکھ سکتی۔ افطار کے کھانے کے لیے قطار بنتی ہے تو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی بے چینی نمایاں نظر آتی ہے، جب تک کہ چند رضاکار سر پر کھڑے نہ ہوں۔ حالانکہ ان میں سے کوئی چار دن کا بھوکا نہیں ہوتا، نہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ آخر میں جانے والے کو کھانا کم ملے گا یا نہیں ملے گا؛ مگر آدمی بعض اوقات اپنی عادت کا اسیر ہوتا ہے۔
یہ جذباتی نعرے لگانے والے، واٹس ایپ پر پیغامات پھیلانے والے، اور خود کو مظلوم ثابت کرنے والے، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے گھر کے باہر کچرا پھینکتے، گاڑی چلاتے ہوئے بلاوجہ لوگوں سے بدزبانی کرتے اور فراوانی سے جھوٹ بولتے ہیں۔ کیا ان کاموں کے لیے بھی انہیں یہود و نصاریٰ نے مجبور کیا ہے؟ رشوت لیے بغیر جن کا گزارا نہیں، کیا اس کا الزام بھی یہود و نصاریٰ پر ہے؟
یا پھر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ کر سکتے ہیں، لیکن چونکہ آپ اللہ کے لاڈلے ہیں، اس لیے اللہ کی سنت کے مطابق آپ پر کوئی حکم لاگو نہیں ہو گا؟ پھر ایسے سمجھنے والے اور بھی ہیں، جن کا یہی دعویٰ ہے کہ وہ بھی اللہ کے لاڈلے ہیں، اور وہ جو کچھ بھی کر لیں، اُن پر بھی اللہ کی سنت کے مطابق کوئی گرفت نہیں ہو گی۔
پس نتیجہ یہی ہے کہ اس معاملے کا فیصلہ ہو کر رہے گا، اور اللہ کے قانون کے مطابق ہی ہو گا۔ نہ آپ اس قانون کی گرفت سے باہر ہیں، نہ کوئی اور اللہ کی پکڑ سے باہر ہے۔
میری تمام باتوں کا حاصل یہ ہے کہ خدارا اپنے چلن میں تبدیلی پیدا کیجیے، اپنی تربیت کیجیے، اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیے کہ جن رسولوں اور نبیوں کے آپ نام لیوا ہیں، اور جس قرآن کو اپنی کتاب مانتے اور جانتے ہیں، اُسے سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ کسی بہکاوے میں نہ آئیے۔
اللہ کا قانون ہر قوم کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دینے کا وعدہ کر چکا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے۔ اللہ قرآن میں بیان کرتا ہے کہ بہت سی قومیں اپنے ہی کرتوتوں کی بنا پر ہلاک ہوئیں۔ البتہ، یونس علیہ السلام کی قوم وہ تھی جس نے عذاب آنے سے پہلے ہی اپنے چلن کو بدل لیا، توبہ کر لی، تو اللہ نے انہیں اپنی سرزمین میں رہنے اور بسنے کا موقع عطا فرمایا۔ ہر قوم کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔
تو کیا آپ آج قرآن کے اس پیغام کو سن کر خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ اس فکر میں نہ پڑیے کہ اس میں تو بہت وقت لگے گا، یہ تو برسوں کا کام ہے، بھلا اس سے کیا ہو گا۔ یہ تمام حیلے اور بہانے شیطان دل میں ڈالتا ہے، ان سے بچیے۔ اللہ کی سنت تبدیل نہیں ہوتی۔ آپ کو خود کو تبدیل کرنا ہے، اپنی تربیت کرنی ہے، اپنی سوچ، اپنی سمجھ، اپنے جذبات اور اپنے احساسات کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔