عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ. ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالُوا : بَلَى. قَالَ : عُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ لَأَخْبَرْتُكُمْ بِالثَّالِثِ. (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم175)
’’ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمھیں اس شخص کے متعلق نہ بتاؤں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کا بہترین فرد ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور بتائیے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ پھر پوچھا کہ کیا میں تمھیں اس شخص کے متعلق نہ بتاؤں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت کا بہترین فرد ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور بتائیے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ۔ اور اگر میں چاہوں تو (ان دونوں کے بعد) تیسرے بہترین فرد کے متعلق بھی بتا سکتا ہوں۔“
شرح ووضاحت
سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کا، امت کی بہترین اور سب سے افضل شخصیات ہونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی صحابہ کے مابین ایک معلوم ومعروف امر تھا، جس کا ذکر متعدد روایات میں ملتا ہے۔ مثلاً عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نخير بين الناس في زمن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فنخير أبا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضي الله عنهم.
(بخاری، رقم 3488)
’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کےاصحاب کے مابین فرق مراتب بیان کرتے تو سب سے افضل ابوبکر کو، پھر عمر بن الخطاب کو اور پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو شمار کرتے تھے۔“
طبرانی کی روایت میں یہ اضافہ ہے :
ويسمع ذلك النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا ينكره.
(المعجم الکبیر، رقم 13132)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سنتے اور اس پر انکار نہیں فرماتے تھے۔“
اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نعد وأصحاب رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم متوافرون: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر.
(فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 47)
’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کثرت سے موجود تھے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر اور عمر کو اس امت کے بہترین افراد شمار کیا کرتے تھے۔“
سیدنا علی سے بھی متعدد مواقع پر اس کا اظہار مروی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے زیر بحث اثر میں انھی میں سے ایک موقع کا ذکر ہوا ہے۔
تخریج اور اختلاف طرق
سیدنا علی کا یہ قول صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے ان سے روایت کیا ہے۔ صحابہ میں اس کے راویوں کی تفصیل حسب ذیل ہے :
1۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ اثر بہ ظاہر طبرانی کی ’’المعجم الکبیر‘‘ کے علاوہ کسی دوسرے مصدر میں منقول نہیں۔ ابو نعیم نے ’’ الامامۃ والرد علی الرافضۃ‘‘ (رقم 59) میں اسے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، تاہم قرین قیاس یہی ہے کہ یہ راوی کا وہم ہے۔
2۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر جنازے کے آگے یا پیچھے چلنے کے مسئلے پر ان کا سیدنا علی کے ساتھ مکالمہ ہوا ۔ ابو سعید نے اس کے متعلق سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے عمل کا حوالہ دیا تو سیدنا علی نے کہا:
إن خير هذه الأمة أبو بكر بن أبي قحافة وعمر بن الخطاب، ثم اللّٰه أعلم بالخير أين هو.
(مصنف عبدالرزاق، رقم 6065)
’’بے شک، اس امت کے بہترین افراد ابوبکر بن ابی قحافہ اور عمر بن الخطاب ہیں۔ پھر ان کے بعد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سب سے بہتر ہے۔“
3۔ ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ السوائی کے طریق سے یہ اثر درج ذیل مصادر میں مروی ہے:
مسند احمد، رقم 820، 821، 822۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31311۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم7523۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 36، 37۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/196۔
ایک طریق میں ابو جحیفہ نے اس اثر کی شان ورود یوں بیان کی ہے:
لما كان يوم الجمل تشاجر الناس في أبي بكر وعمر، فقال علي: الصلاة جامعة فقال: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر والثاني عمر.
(تاریخ دمشق 44/202)
’’جنگ جمل کے موقع پر لوگ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بحث و مباحثہ کرنے لگے۔ سیدنا علی نے نماز باجماعت کا اعلان کیا اور (نماز کے بعد اپنے خطبے میں) فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین افراد ابوبکر اور عمر ہیں۔“
مسند احمد کے ایک طریق میں اثر کے الفاظ یہ نقل ہوئے ہیں:
خطبنا علي فقال: من خير هذه الأمة بعد نبيها؟ فقلت: أنت يا أمير المؤمنين، قال: لا، خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر، وما نُبْعِدُ أن السكينة تنطق على لسان عمر. (مسند احمد، رقم 821)
’’سیدنا علی نے ہمیں خطبہ دیا اور پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین افراد کون ہیں؟ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین، آپ ہیں۔ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کی بہترین شخصیات ابوبکر اور پھر عمر ہیں اور ہم اس کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ عمر کی زبان پر سکینہ، (یعنی اللہ کی اتاری ہوئی خاص رہنمائی) جاری ہوتی ہے۔ “
ایک طریق میں ابوجحیفہ اثر کے آخر میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ :
فرجعت الموالي كلهم يقولون عنى عثمان ورجعت العرب وهم يقولون عنى نفسه.
(تاریخ دمشق 44/203)
’’یہ سن کر اہل عجم یہ کہتے ہوئے وہاں سے واپس ہوئے کہ (تیسرے شخص سے) سیدنا علی کی مراد عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، جب کہ اہل عرب یہ کہتے ہوئے لوٹے کہ سیدنا علی کا اشارہ خود اپنی طرف تھا۔“
جب کہ ایک اور طریق میں کہتے ہیں:
ثم نزل علی من المنبر وهو يقول: عثمان عثمان. (حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم، رقم 12926۔ تاريخ دمشق، ابن عساكر 39/156۔ تاريخ بغداد، خطیب 7/72۔ معجم اسامی شیوخ ابی بکر الاسماعیلی، رقم 86۔ ستۃ مجالس، ابو یعلیٰ الفراء، رقم 41)
’’پھر سیدنا علی یہ کہتے ہوئے منبر سے اتر آئے کہ (وہ تیسرا شخص) عثمان ہے، عثمان ہے۔“
ایک اور طریق میں ابو جحیفہ نے یہ اثر سیدنا علی کے ساتھ اپنے ایک مکالمے کی صورت میں نقل کیا ہے:
عن أبي جحيفة، قال: كنت أرى أن عليا أفضل الناس بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم – فذكر الحديث – قلت: لا واللّٰه يا أمير المؤمنين، إني لم أكن أرى أن أحدا من المسلمين بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أفضل منك. قال: أفلا أحدثك بأفضل الناس كان بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم؟ قال: قلت: بلى، فقال: أبو بكر، فقال: أفلا أخبرك بخير الناس كان بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وأبي بكر؟ قلت: بلى. قال: عمر.
(مسند احمد، رقم 1031)
’’ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی رضی اللہ عنہ، سب لوگوں میں افضل ہیں۔ پھر انھوں نے سیدنا علی کے ساتھ اپنا مکالمہ بیان کیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین، بخدا میں نہیں سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں میں سے کوئی آپ سے افضل ہو سکتا ہے۔ سیدنا علی نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ کے بعد سب سے افضل ہستی کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا کہ ضرور بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر کہا کہ : کیا میں تمھیں اس شخص کے متعلق نہ بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل ہے؟ میں نے کہا کہ ضرور بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ “
4–8۔ مذکورہ صحابہ کے علاوہ اس اثر کو ابن عساکر نے ابو ہریرہ، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کے طرق سے بھی نقل کیا ہے (تاریخ دمشق 30/351، 44/213 )، جب کہ بعض مصادر میں یہ ابو الطفیل عامر بن واثلہ (المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 5705) اور عمرو بن حریث (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 176۔ تاریخ دمشق 44/213) سے بھی مروی ہے۔
تابعین میں سے اس اثر کو روایت کرنے والوں میں سب سے نمایاں ، سیدنا علی کے فرزند محمد ابن الحنفیہ ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں:
قلت لأبي: أي الناس خير بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، وخشيت أن يقول: عثمان، قلت: ثم أنت؟ قال: ما أنا إلا رجل من المسلمين. (بخاری، رقم 3501)
’’میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین ہستی کون ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ ابوبکر۔ میں نے پوچھا کہ ان کے بعد کون ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ عمر۔ مجھے خدشہ ہوا کہ (تیسرے نمبر پر) وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ کا نام نہ لے لیں، تو میں نے کہا کہ اس کے بعد آپ ہیں؟ انھوں نے کہا کہ میں تو بس مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں۔“
محمد ابن الحنفیہ کا یہ مکالمہ درج ذیل مصادر میں بھی روایت ہوا ہے:
سنن ابی داؤد، رقم 4076۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31306۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 7765۔ حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم، رقم 6616، 6617۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 136۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، لالکائی، رقم 2518۔ السنۃ، ابن ابی عاصم، رقم 1207۔ تاریخ بغداد، خطیب 13/ 462۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/ 347۔
تابعین میں دوسرا نمایاں نام عبد خیر کا ہے جو سیدنا علی کے خاص اصحاب میں سے تھے۔ ان سے یہ اثر متعدد طرق سے امام احمد نے ’’مسند‘‘ اور ’’فضائل الصحابۃ‘‘ میں روایت کیا ہے (مسند احمد، رقم 892، 893۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 38)۔ عبد خیر سے اس اثر کے راوی حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عبد خیر سے پوچھا کہ کیا آپ نے خود یہ بات سیدنا علی سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: ’نعم، ورب الكعبة، وإلا فصمتا‘، ’’رب کعبہ کی قسم، ہاں! اگر نہ سنی ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں‘‘(مسند ابی یعلیٰ، رقم 517۔ مسند احمد، رقم 893)۔
بعض طرق میں عبد خیر نے اس اثر کا موقع ورود یہ بیان کیا ہے کہ جنگ جمل سے فارغ ہونے کے بعد نہروان کے مقام پر خوارج کے خلاف جنگ کے موقع پر سیدنا علی نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا (تاریخ دمشق 30/367) ۔
ایک طریق میں سیدنا عمر کے ذکر کے بعد یہ جملہ ہے: ’ثم يجعل اللّٰه الخير حيث أحب‘، ’’پھر اللہ جس کو چاہتا ہے، خیر عطا کر دیتا ہے‘‘(مسند احمد، رقم 906، 1008)۔
بعض طرق میں آخری جملے کے الفاظ یوں ہیں: ’وانا قد أحدثنا بعدهم أحداثًا يقضي اللّٰه تعالى فيها ما شاء‘، ’’ان کے بعد ہم ایسی چیزوں میں مبتلا ہو گئے ہیں جن کے متعلق اللہ جو فیصلہ کرنا چاہے گا، کرے گا‘‘(مسند احمد، رقم 910، 1009)۔
ابن ابی شیبہ کے نقل کردہ ایک طریق میں اثر کے الفاظ یوں مروی ہیں :
سمعت عليًا يقول : قبض رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على خير ما قبض عليه نبي من الأنبياء، قال: ثم استخلف أبو بكر فعمل بعمل رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وبسنته، ثم قبض أبو بكر على خير ما قبض عليه أحد، وكان خير هذه الأمة بعد نبيها، ثم استخلف عمر فعمل بعملهما وسننهما، ثم قبض على خير ما قبض عليه أحد، وكان خير هذه الأمة بعد نبيها وبعد أبي بكر.
(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 36379)
’’میں نے سیدنا علی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس بہترین حالت میں ہوئی جس میں اللہ کے کسی نبی کی ہو سکتی ہے۔ پھر ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور سنت کے مطابق عمل کیا۔ پھر ابوبکر کی وفات بھی بہترین حالت میں ہوئی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین فرد تھے۔ پھر عمر کو خلیفہ بنایا گیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کے طریقوں اور سنت کے مطابق عمل کیا۔ پھر عمر کی وفات بھی بہترین حالت میں ہوئی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کے بعد اس امت کے بہترین فرد تھے۔“
ابن عساکر نے تابعین کی ایک بڑی جماعت سے اس اثر کی روایات جمع کی ہیں۔ ان میں زر بن حبیش، نزال بن سبرہ، عمرو بن معدی کرب، حارث بن عبداللہ، ابو الجعد الاشجعی، عمرو بن شرحبیل، مسعدۃ البجلی، ابو ہلال العتکی، عبد اللہ بن سلمہ، عبد الرحمٰن بن الاصبہانی، شریک، ابو مخلد، ابو حازم ، زید بن وہب ، ابراہیم نخعی، طلحہ بن مصرف ، ابو اسحاق اور علی بن شعبہ شامل ہیں (تاریخ دمشق 30/348 – 377۔ 44/196 – 217) ۔
ابو ہلال العتکی کے طریق میں بیان ہوا ہے:
كنت جالسًا إلى جنب منبر علي بن أبي طالب وهو يخطب الناس، فسمعته يقول: خير هذه الأمة بعد نبيها أبوبكر ثم عمر، فبدرته وقلت: ثم أنت يا أمير المؤمنين الثالث؟ فقال: لا، ولا الرابع.
(تاریخ دمشق 44/216)
’’میں علی بن ابی طالب کے منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین لوگ ابوبکر اور عمر تھے۔ میں نے جلدی سے پوچھا کہ اے امیر المومنین، اس کے بعد تیسرے آدمی آپ ہیں؟ انھوں نے کہا کہ نہیں، نہ تیسرا اور نہ چوتھا۔“
شریک کے طریق میں اسماعیل بن زیاد کہتے ہیں :
سمعت شريكا يقول لقوم من الشيعة: إنا ما علمنا بعلي حتى صعد المنبر فقال: إن خير هذه الأمة بعد نبيها أبوبكر وعمر، واللّٰه ما سألناه عن ذلك، يا جاهل أفترانا كنا نقوم فنقول: كذبت؟
(تاریخ دمشق 44/217)
’’میں نے شریک کو سنا، وہ سیدنا علی کے حامیوں کی ایک جماعت سے کہہ رہے تھے : ہم نے اچانک دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین لوگ ابوبکر اور عمر تھے۔ بخدا، ہم نے اس کے متعلق علی سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ (پھر شریک نے ایک آدمی کو مخاطب کر کے کہا): اے جاہل، تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم سیدنا علی کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں؟“
ابو مخلد کے طریق میں ہے:
قال علي بن أبي طالب: ما مات رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتى عرفنا أفضلنا بعد رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم أبو بكر، وما مات أبو بكر حتى عرفنا أن أفضلنا بعد أبي بكر عمر، وما مات عمر حتى عرفنا أن أفضلنا بعد أبي بكر وعمر رجل لم يسمه.
(تاریخ دمشق 30/375)
’’علی بن ابی طالب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی تھی کہ ہم نے جان لیا کہ ہم میں سے آپ کے بعد سب سے افضل، ابوبکر ہیں۔ اور ابوبکر کی وفات نہیں ہوئی تھی کہ ہم نے جان لیا کہ ابوبکر کے بعد ہم میں سب سے افضل، عمر ہیں۔ اور عمر کی وفات نہیں ہوئی تھی کہ ہم نے جان لیا کہ عمر کے بعد ایک آدمی ہم میں سب سے افضل ہے۔ سیدنا علی نے اس کا نام نہیں لیا۔“
مذکورہ رواۃ کے علاوہ درج ذیل راویوں سے بھی سیدنا علی کا یہ اثر مروی ہے:
عبد اللہ بن سلمہ (ابن ماجہ، رقم 105۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31323۔ السنۃ، ابو بکر بن الخلال، رقم 359۔ حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم 7/200۔ الامامۃ والرد علی الرافضۃ، ابو نعیم، رقم 58)۔
عبد اللہ بن زریر الغافقی (السنۃ، ابن ابی عاصم، رقم 1214)۔
یحییٰ بن شداد (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ ، لالکائی، رقم 2453)۔