مواد پر جائیں

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا علم وعمل بہ طور اسوہ

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

(حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے آثار)

(2)

(3)

عن أبي عبد الرحمن السلمي، قال: كَانَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ السُّلَمِيُّ وَمُعَضَّدٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِمَا اتَّخَذُوا مَسْجِدًا يُسَبِّحُونَ فِيهِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ كَذَا، وَيُهَلِّلُونَ كَذَا وَيَحْمَدُونَ كَذَا، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لِلَّذِي أَخْبَرَهُ : إِذَا جَلَسُوا فَآذِنِّي، فَلَمَّا جَلَسُوا آذَنَهُ، فَجَاءَ عَبْدُ اللّٰهِ عَلَيْهِ بُرْنُسٌ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَكَشَفَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، وَاللّٰهِ لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ ظَلْمَاءَ، أَوْ قَدْ فَضَلْتُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا، فَقَالَ مُعَضَّدٌ، وَكَانَ رَجُلًا مُفَوَّهًا: وَاللّٰهِ مَا جِئْنَا بِبِدْعَةٍ ظَلْمَاءَ وَلَا فَضَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ: لَئِنِ اتَّبَعْتُمُ الْقَوْمَ لَقَدْ سَبَقُوكُمْ سَبْقًا مُبِينًا، وَلَئِنْ جُرْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ] فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَتَفَرَّقُوا[.

(طبرانی، المعجم الکبیر، رقم 8509، 8511)

’’ابو عبد الرحمٰن السلمی کہتے ہیں کہ عمرو بن عتبہ بن فرقد السلمی اور معضد اپنے کچھ ساتھیوں کے ہم راہ تھے۔ انھوں نے ایک مسجد بنائی ہوئی تھی، جس میں وہ مغرب اور عشا کے درمیان باجماعت پہلے خاص تعداد میں تسبیح کے کلمات پڑھتے تھے، پھر خاص تعداد میں کلمۂ توحید اور خاص تعداد میں حمد کے کلمات کا ورد کرتے تھے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو انھوں نے بتانے والے سے کہا کہ جب یہ لوگ اس مجلس میں بیٹھ جائیں تو مجھے خبر کرنا۔ جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو اس شخص نے آ کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک چادر اوڑھ کر آئے اور ان کے درمیان جا کر اپنے سر سے چادر ہٹا دی۔ پھر کہا کہ میں ام عبد کا بیٹا ہوں۔ بخدا، یا تو تم نے ایک بہت تاریک بدعت نکال لی ہے اور یا پھر تم علم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہو۔ معضد گفتگو میں ایک جری شخص تھا۔ اس نے کہا کہ بخدا، ہم نے نہ تو کوئی تاریک بدعت نکالی ہے اور نہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم صحابہ کی جماعت کی پیروی کرو تو (یہی بہتر ہے، کیونکہ) وہ تم پر (اس دین کو اختیار کرنے میں) واضح سبقت لے چکے ہیں اور اگر تم دائیں بائیں منحرف ہونا چاہو تو بہت دور کی گم راہی میں جا پڑو گے۔ اس پر عمرو بن عتبہ نے کہا کہ اے ابن مسعود، میں اللہ سے استغفار اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ وہ بکھر جائیں۔“

لغوی تشریح

رَجُلًا مُفَوَّهًا: ’مفوه، فوہ‘ سے مشتق ہے، جس کا مطلب منہ ہے۔ ’مُفَوَّه‘ کا مطلب ہوا: زبان آور اور گفتگو میں جری۔

كَشَفَ الْبُرْنُسَ: ’برنس‘ ایسے لمبے چوغے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ سر پر اوڑھنے کے لیے ٹوپی بھی جڑی ہوئی ہو۔

جُرْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا: ’جرتم‘’جور‘ سے ہے، یعنی سیدھے راستے سے ہٹ جانا۔ ’جائر‘، ’مستقیم‘ کی ضد ہے۔

ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ : ’ بَلِيَ الثَّوبُ‘، یعنی کپڑا بوسیدہ اور پرانا ہو گیا۔

شرح ووضاحت

1۔ اجتماعی ذکر کا اہتمام کرنے والوں کو اس طریقے میں بہ ظاہر کوئی خرابی دکھائی نہیں دے رہی تھی، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے گم راہی کا دروازہ کھولنے کے مترادف قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور ذکر ایک دینی عمل ہے اور اس کی نوعیت عبادت کی ہے۔ شریعت میں اس کے اہتمام کی تلقین انفرادی سطح پر کی گئی ہے اور اس طرح باجماعت تسبیحات پڑھنے کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نہیں سکھایا۔ اس طریقے سے ہٹ کر اجتماعی طور پر تسبیحات کا داعیہ بہ ظاہر اگرچہ اچھا تھا، لیکن اس کا نتیجہ اجتماعی عبادت کے ایک نئے طریقے کی ترویج کی صورت میں نکلتا اور آگے چل کر ایک بدعت کی صور ت اختیار کر لیتا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی خرابی کے پیش نظر ان لوگوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی اور اس طریقے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی۔

مصنف عبد الرزاق کی روایت میں ’علی ما تعددون امر اللّٰہ؟‘ (تم اللہ کی تسبیح وتحمید کو شمار کیوں کر رہے ہو؟) کے جملے سے، نیز دارمی کی روایت میں ’فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ‘ (تم اپنے گناہ شمار کرو۔ میں تمھیں ضمانت دیتا ہوں کہ تمھاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی) سے واضح ہوتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس طرح اہتمام کے ساتھ تسبیحات کے گننے کو بھی مزاج شرع کے خلاف سمجھا، حالاں کہ مخصوص تعداد میں تسبیحات پڑھنا احادیث سے ثابت ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا زاویۂ نظر یہ دکھائی دیتا ہے کہ انفرادی سطح پر تسبیحات کی خاص تعداد مقرر کرنا عملی سہولت کے پہلو سے ہے اور وہ خاص تعداد اصلاً‌ مطلوب نہیں، لیکن اس طرح اجتماعی ہیئت میں ذکر اور تسبیح کے کلمات کو شمار کرنا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ یہ خاص تعداد شریعت کا اصل مطلوب ہے۔ اسی پہلو سے انھوں نے یہ تبصرہ فرمایا کہ تمھیں تسبیحات کو گننے کی ضرورت نہیں، کیونکہ نیکیاں ضائع نہیں جاتیں۔ اس کے بجاے تمھیں اپنے گناہوں کو شمار کر کے ان پر استغفار کرنا چاہیے۔

2۔ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر ان کی غلطی واضح کرنے کے لیے اصولی یا شرعی استدلال کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ان کے سامنے ایک زیادہ واضح اور عام فہم دلیل پیش کی، یعنی یہ کہ کسی عمل کو نیکی سمجھ کر اختیار کر لینا، جب کہ دین وشریعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمایندگی کرنے والی جماعت نے اسے اختیار نہ کیا ہو، بہ ذات خود علم و فہم کی کجی کی ایک نشانی ہے اور گویا اس طرز فکر کے ہم معنی ہے کہ ایسا کرنے والے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت، یعنی صحابہ کی جماعت سے زیادہ دین کا علم یا دینی جذبہ رکھتے ہیں۔

3۔ فقہا کے ہاں عبادات میں بدعت کی بحث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر کا حوالہ اہتمام کے ساتھ دیا جاتا ہے اور اس سے یہ اصول اخذ کیا جاتا ہے کہ کسی مشروع عمل میں مخصوص اوصاف اور ہیئات کا اس طرح اضافہ کرنا کہ وہ اس کا مستقل حصہ بن جائیں اور ان کے مجموعے سے ایک نئی ہیئت وجود میں آ جائے، اس عمل کو بدعت کے دائرے میں داخل کر دیتا ہے۔ چنانچہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس طریقے کے جواز کے لیے فضیلت ذکر کے عمومی دلائل کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ اس خاص طریقے کا شریعت میں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس پر انکار فرمایا (احکام الاحکام 1 /173)۔

امام شاطبی رحمہ اللہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اسی اثر کا حوالہ دیتے ہوئے اس نوعیت کے دینی اجتماعات کی غیر مشروعیت کو یوں واضح کیا ہے:

وأما بالعادة فكالجهر والاجتماع في الذكر المشهور بين متصوفة الزمان، فإن بينه وبين الذكر المشروع بونًا بعيدًا، إذ هما كالمتضادين عادة.

(الاعتصام 1 /506)

’’کسی عمل میں زائد اوصاف کو عادت اور معمول بنا لینے سے اس عمل کا حصہ بنا دیا جائے، اس کی مثال اجتماعی اور جہری ذکر کا وہ طریقہ ہے جو ہمارے دور کے متصوفین میں عام ہے۔ اس کے اور ذکر الہٰی کے مشروع طریقے میں زمین آسمان کا فرق ہے، کیونکہ عادتاً‌ یہ دو باہم متضاد طریقے ہیں۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ابو عبد الرحمٰن السلمی کے مذکورہ طریق کے علاوہ متعدد اسانید سے تفصیلاً‌ و اختصاراً‌ درج ذیل مصادر میں بھی نقل کیا گیا ہے :

المصنف لعبد الرزاق، رقم 5249۔ ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء، رقم 6268۔ الزہد لاحمد بن حنبل، رقم 2116۔ البدع لابن وضاح، رقم 9۔ سنن الدارمی، رقم 206۔

مختلف طرق میں واقعے کی تفصیلات میں کچھ فرق ہے۔ عبد اللہ بن اغر کی روایت کے مطابق مسجد میں اجتماعی تسبیح کروانے والے شخص کا نام عمرو بن عتبہ کے بجاے عمرو بن زرارہ تھا۔ اس طریق میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا جملہ یوں نقل ہوا ہے: ’أنتم أهدى أم أصحاب محمد صلى اللّٰه عليه وسلم؟ إنكم متمسكون بطرف ضلالة‘، ’’کیا تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ؟ تم یقیناً‌ گم راہی کی ایک صورت کو اختیار کیے ہوئے ہو“ (طبرانی، المعجم الکبیر، رقم 8638)۔

عبد الرزاق کے ایک طریق میں ’لقد ضللتم ضلالاً بعیدًا‘ کے بعد اس جملے کا اضافہ ہے: ’علی ما تعددون امر اللّٰہ؟‘، ’’تم اللہ کی تسبیح وتحمید کو شمار کیوں کر رہے ہو؟“(رقم5250)۔

ابن وضاح کے طریق میں ’ما جئنا ببدعة ظلماء‘ کے بعد یہ اضافہ ہے: ’ولکنا قوم نذکر ربنا‘،’’بلکہ ہم تو اپنے رب کو یاد کر رہے ہیں“ (رقم9)۔

ابو نعیم اور احمد بن حنبل کے طریق میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جملے میں ’ فواللّٰہ لئن فعلتم‘ سے پہلے ’علیکم بالطریق فالزموہ‘ (حلیۃ الاولیاء، رقم 6268۔ الزہد لاحمد بن حنبل، رقم 2116) کے اور ’’المطالب العالیہ‘‘ کی روایت میں ’اتبعوا ولا تبتدعوا‘ (رقم 3041) کے الفاظ مروی ہیں۔ یعنی ’’تم صحابہ کے طریقے کے پابند اور اس پر کاربند رہو“ اور ’’پیروی کرو اور نئے نئے طریقے نہ نکالو۔“

ابن وضاح کے ایک طریق میں ’فلم یزل یحصبھم بالحصا حتی أخرجھم من المسجد‘ (رقم 16) کے الفاظ ہیں، یعنی ’’ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کو کنکر مارتے رہے، یہاں تک کہ انھیں مسجد سے نکال دیا۔“ یہ بیان تمام طرق کے برخلاف ہونے کی وجہ سے درست معلوم نہیں ہوتا۔

دارمی کی روایت میں یہ واقعہ عمرو بن سلمہ نے قدرے مختلف انداز میں نقل کیا ہے۔ اس کے مطابق ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یہ اطلاع لے کر آنے والے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں پہنچے تو انھوں نے ان لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا:

فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ، وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ! هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ.

(سنن الدارمی، رقم 206)

’’تم اپنے گناہ شمار کرو۔ میں تمھیں ضمانت دیتا ہوں کہ تمھاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی۔ تمھاری خرابی ہو اے امت محمد! تم کتنی جلدی ہلاکت میں پڑ رہے ہو! جب کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کثرت سے موجود ہیںِ اور ابھی آپ کا کفن بھی بوسیدہ نہیں ہوا اور آپ کے چھوڑے ہوئے برتن نہیں ٹوٹے۔ بخدا، یا تو تم ایسے دین پر ہو جو محمد کے دین سے زیادہ راستی پر مبنی ہے اور یا پھر تم کسی گم راہی کا دروازہ کھول رہے ہو۔“

(4)

عن سعيد بن وهب، قال: سمعت ابن مسعود يقول: لَا يَزَالُ النَّاسُ صَالِحِينَ مُتَمَاسِكِينَ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ مِنْ أَصَاغِرِهِمْ هَلَكُوا. (الجامع لمعمر بن راشد، رقم 1096)

’’سعید بن وہب کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ اس وقت تک صلاح پر قائم اور (دین میں) رخنہ پڑنے سے محفوظ رہیں گے جب تک انھیں علم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے اور اپنے بڑوں کی جانب سے ملتا رہے گا۔ پھر جب انھیں ان کے چھوٹوں کی طرف سے علم ملنے لگے گا تو وہ ہلاکت میں مبتلا ہو جائیں گے۔“

لغوی تشریح

مُتَمَاسِكِينَ: ’تماسک‘ کا لفظی مطلب ہے: آپس میں جڑا ہوا ہونا۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کا دین صحیح سالم اور مجتمع رہے گا اور اس میں خرابی اور رخنہ واقع نہیں ہوگا۔

شرح ووضاحت

اس اثر کا مدعا بھی دینی علم وعمل میں صحابہ کے مقتدا اور پیشوا ہونے کو واضح کرنا اور ان پرخطر رجحانات اور تعبیرات کے بارے میں لوگوں کو خبردار کرنا تھا، جو صحابہ جیسے معتمد اہل علم کے مقابلے میں اگلی نسل کے کچھ نوخیز گروہوں میں دکھائی دے رہے تھے۔ عہد صحابہ میں اس کی بہت نمایاں مثال خوارج کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ گروہ جذباتی اور دینی علم میں پختگی نہ رکھنے والے نوجوانوں پر مشتمل تھا، جس نے اکابر صحابہ کے علم وعمل پر اعتماد کرنے کے بجاے اساسی اور نازک مسائل میں اپنے فہم سے دینی احکام کی ایسی تشریحات کیں جو مسلمانوں کی تکفیر اور ان کے قتل وغارت کو جائز ٹھہرانے پر منتج ہوئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں بھی ان کی نشانی یہی بتائی گئی تھی کہ یہ ’احداث الاسنان سفھاء الاحلام‘، یعنی نوخیز اور کم عقل لوگ ہوں گے (صحیح البخاری، رقم 6564)۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مراد یہ نہیں ہے کہ ہر ہر مسئلے میں تصریحاً‌ صحابہ سے کوئی بات منقول ہونی چاہیے یا یہ کہ ان کے بعد اہل علم اپنے فہم اور اجتہاد سے کوئی ایسی بات نہیں کہہ سکتے جو صحابہ سے ثابت نہ ہو۔ مراد صحابہ کے دینی مزاج کی پیروی اور فہم دین میں ان کے منہج کی اتباع کی تلقین کرنا ہے۔ ابن عبد البر نے اس کی تشریح میں اہل علم سے نقل کیا ہے :

أن العلم إذا لم يكن عن الصحابة كما جاء في حديث ابن مسعود ولا كان له أصل في القرآن والسنة والإجماع فهو علم يهلك به صاحبه، ولا يكون حامله إمامًا ولا أمينًا ولا مرضيًا.(الجامع فی بیان العلم وفضلہ، رقم 708)

’’ علم جب صحابہ کی طرف سے نہ آئے اور اس کی قرآن اور سنت اور اجماع میں کوئی اصل موجود نہ ہو تو ایسا علم آدمی کو ہلاکت میں مبتلا کرے گا اور اس کا حامل (دین میں) پیشوا یا قابل اعتماد یا پسندیدہ شخص نہیں ہو سکتا۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ اثر سعید بن وہب کے طریق سے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ درج ذیل مصادر میں بھی نقل کیا گیا ہے:

المعجم الکبیر للطبرانی، رقم 8590۔ المعجم الاوسط للطبرانی، رقم 7733۔ الجامع فی بیان العلم وفضلہ، رقم 708۔ الزہد والرقائق لابن المبارک، رقم 802۔ معجم ابن الاعرابی، رقم 904۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ لللالکائی، رقم 89۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، رقم 11450۔

روایت کے بعض طرق میں ’ من قبل أکابرھم وذوی أسلافھم‘ (المعجم الکبیر، رقم 8469) کے، بعض میں ’کبرائھم‘ (معجم ابن الاعرابی، رقم 904) اور بعض میں ’من علمائھم وکبرائھم وذوی اسنانھم‘ (حلیۃ الاولیاء، رقم 11450) کے الفاظ ہیں۔

اسی طرح دوسرے جملے میں بعض طرق میں ’عن أصاغرھم وشرارھم‘ کے (الجامع فی بیان العلم، رقم 705) اور بعض میں ’من صغارھم وسفلتھم‘ کے (معجم ابن الاعرابی، رقم 904) الفاظ ہیں۔

بعض روایات میں یہ اثر عبد اللہ بن عکیم کی روایت سے سیدنا عمر سے بھی منقول ہے (الجامع فی بیان العلم وفضلہ، رقم 703۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ لللالکائی، رقم 88)۔

(5)

عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: قال عبد اللّٰه بن مسعود: أَنْتُمْ أَكْثَرُ صَلَاةً، وَأَكْثَرُ صِيَامًا، وَأَكْثَرُ جِهَادًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ. قَالُوا: فِيمَ ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: كَانُوا أَزْهَدَ مِنْكُمْ فِي الدُّنْيَا، وَأَرْغَبَ مِنْكُمْ فِي الْآخِرَةِ. (بیہقی، شعب الایمان، رقم 10152)

’’عبد الرحمٰن بن یزید نقل کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہو، زیادہ روزے رکھتے ہو اور زیادہ جہاد کرتے ہو، لیکن وہ پھر بھی تم سے بہتر تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمٰن، اس کی کیا وجہ ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دنیا میں تم سے کم رغبت رکھتے اور آخرت کا تم سے زیادہ شوق رکھتے تھے۔“

شرح ووضاحت

یہ اثر اپنے مضمون کے لحاظ سے قرآن مجید کی اس آیت پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں کے متعلق فرمایا ہے کہ ’ لَن یَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن یَنَالُهُ التَّقوىٰ مِنكُم‘ (الحج 22: 37)، یعنی ’’اللہ تک ان جانوروں کے گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچیں گے، بلکہ اس تک تمھارا تقویٰ پہنچے گا۔ “ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی عمل کی قدر و قیمت تقویٰ اور رضاے الہٰی کے جذبے کے اعتبار سے طے ہوتی ہے، جو انسان کے دل میں ہو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں بھی، جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، اس پہلو سے صحابہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ.

(صحیح مسلم، رقم 4617)

’’میرے صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا انفاق کرے تو وہ میرے کسی صحابی کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور معیت میں اپنے دلوں میں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طلب کی جو کیفیت پیدا کر لی تھی، اس کی وجہ سے قدر وقیمت کے اعتبار سے ان کے اعمال کا تقابل بعد کے لوگوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا، چاہے ظاہری کثرت کے لحاظ سے وہ صحابہ سے بڑھے ہوئے ہوں۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ اثر عبد الرحمن بن یزید کے طریق سے الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ درج ذیل مصادر میں بھی نقل کیا گیا ہے:

المستدرک علی الصحیحین، رقم 7993۔ الزہد لابن ابی الدنیا، رقم 158۔ الزہد والرقائق لابن المبارک، رقم 495۔ المعجم الکبیر للطبرانی، رقم 8638۔ المصنف لابن ابی شیبہ، رقم 33882۔ حلیۃ الاولیاء، رقم 433۔

[باقی]