مواد پر جائیں

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا علم وعمل بہ طور اسوہ

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

(اکابر تابعین کے آثار)

(3)

(6)

عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ: مَا هَذَا الْمَسْجِدُ؟ قَالُوا: هَذِهِ الشَّجَرَةُ حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ . (بخاری، رقم 4163)

’’طارق بن عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ میں حج کے لیے گیا تو راستے میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو ایک جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ نماز ادا کرنے کی کون سی جگہ ہے؟ انھوں نے کہا کہ یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت رضوان لی تھی۔ (طارق کہتے ہیں): میں سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے میرے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) نے بتایا کہ وہ ان صحابہ میں شامل تھے جنھوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ میرے والد نے کہا کہ جب ہم اگلے سال (عمرہ قضا کرنے کے لیے) گئے تو اس درخت کو بھول چکے تھے اور اس کو تلاش نہیں کر سکے۔ (یہ روایت بیان کر کے) سعید بن المسیب نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ کو تو وہ درخت معلوم نہیں ہو سکا اور تم لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے تو پھر تو تم ان سے زیادہ علم رکھنے والے ہوئے۔“

صاحب اثر کا تعارف

سعید بن المسیب رحمہ اللہ کا شمار فقہاے سبعہ، یعنی دور تابعین میں حجاز کے سات بڑے فقہا میں ہوتا ہے۔ انھیں سید التابعین کا لقب بھی دیا جاتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوسرے یا چوتھے سال میں مدینہ میں ولادت ہوئی اور 93ھ یا 94ھ میں یہیں وفات پائی۔ معروف صحابی، مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے اور اسی تعلق سے انھیں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات کا سب سے بڑا عالم مانا جاتا تھا۔ انھیں اکابر صحابہ میں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا اور سیدنا عثمان، علی، زید بن ثابت، ابو موسیٰ اشعری، سعد بن ابی وقاص، سیدہ عائشہ، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن عباس، محمد بن سلمہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے روایات سننے کا شرف حاصل ہوا۔ (ذہبی، سیر اعلام النبلاء5/ 125-124)

شرح ووضاحت

1۔ سنہ 6 ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ہم راہ عمرے کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو مشرکین کی مزاحمت کی وجہ سے آپ کو حدیبیہ کے مقام پر رکنا پڑا۔ اسی موقع پر آپ نے ایک درخت کے نیچے پوری جماعت سے، جن کی تعداد چودہ سو بیان کی جاتی ہے، اس بات پر بیعت لی کہ اگر قتال کی نوبت آئی تو وہ ثابت قدم رہیں گے۔ اس بیعت کا ذکر قرآن مجید میں سورۃ الفتح (آیت 18) میں کیا گیا اور اصحاب بیعت کو اللہ کی طرف سے رضا کا پروانہ دیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے اسے ’بیعۃ الرضوان‘ اور اس کے شرکا کو ’ اصحاب الشجرۃ‘ کہا جاتا ہے۔

شجرۂ بیعت کی تاریخی اہمیت کی وجہ سے آیندہ سال صحابہ نے اس درخت کو تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم مسیب رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ دیگر آثار سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ صحابہ کو یا تو متعین طور پر یہ درخت معلوم نہیں تھا اور اگر معلوم تھا تو بھی انھوں نے لوگوں کے لیے اس کی نشان دہی سے گریز کیا۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ آخری عمر میں جب ان کی بینائی چلی گئی تھی، انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ’ولو كُنتُ أُبصِرُ اليومَ لأَرَيتُكم مَكانَ الشَّجَرةِ‘ (بخاری، رقم 4154)، یعنی اگر آج میری بینائی ہوتی تو میں تمھیں وہ درخت دکھا سکتا تھا۔ ظاہر ہے، اگر وہ اس کی کوئی خاص اہمیت سمجھتے تو بینائی جانے سے پہلے درخت کی نشان دہی کر سکتے تھے۔

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اگلے سال ہم نے اس درخت کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو ہم میں سے دو آدمی بھی کسی ایک درخت پر متفق نہیں ہو سکے اور یہ اللہ کی طرف سے ایک رحمت تھی: ’رَجَعْنَا مِنَ العَامِ المُقْبِلِ، فَما اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ علَى الشَّجَرَةِ الَّتي بَايَعْنَا تَحْتَهَا، كَانَتْ رَحْمَةً مِنَ اللّٰهِ‘ (بخاری، رقم 2985)۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے درخت کی تعیین نہ ہو پانے کو اللہ کی رحمت قرار دینا اس پہلو سے تھا کہ اگر وہ درخت معلوم ہو جاتا تو لوگوں کی توجہ اور اہتمام کا مرکز بن جاتا اور اس کے پاس جانا رفتہ رفتہ ایک دینی رسم کی حیثیت اختیار کر لیتا، جب کہ شارع کی طرف اس کی یہ حیثیت مقرر نہیں کی گئی۔

بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا کہ لوگ اس درخت کے پاس جانے کا اہتمام کرنے لگے ہیں تو انھوں نے حکم دیا کہ اس کو کاٹ دیا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 7433) علامہ البانی نے اس کی سند میں انقطاع کی نشان دہی کے علاوہ یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب یہ درخت متعین طور پر معلوم ہی نہیں تھا تو سیدنا عمر اس کو کٹوا کیسے سکتے تھے۔ (تحذیر المساجد 126) تاہم غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ درخت کو کٹوانے کے لیے یہ ضروری نہیں تھا کہ یہ وہی درخت ہو جس کے نیچے بیعت لی گئی تھی۔ یہ قرین قیاس ہے کہ جب لوگوں نے ظن وتخمین سے کسی درخت کو متعین کر کے اس کے پاس جانے کا اہتمام شروع کر دیا تو سیدنا عمر نے سد ذریعہ کے طور پر اس کو بھی کٹوا دیا ہوگا۔

2۔ اس تناظر میں جب بعد کے دور میں کسی وقت لوگوں نے اپنے طور پر اس درخت کی تعیین کی کوشش کی تو سعید بن المسیب نے اپنے والد کے مذکورہ قول کا حوالہ دیا اور لوگوں پر واضح کیا کہ اگر اس خاص درخت کی نشان دہی اور تعیین کو محفوظ رکھنا دینی لحاظ سے کوئی ایسا اہم معاملہ ہوتا تو اس کا علم سب سے بڑھ کر صحابہ کو ہونا چاہیے تھا۔ جب اگلے سال جستجو کے باوجود وہ اس درخت کو متعین نہیں کر سکے اور انھوں نے اس کا خاص اہتمام بھی نہیں کیا تو بعد والوں کے لیے اس کو یقینی طور پر متعین کرنے کا امکان اس سے کہیں کم ہے اور اس کو اتنی اہمیت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ آخری جملے میں سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ نے جہاں لوگوں کی تعیین کے، قیاس وتخمین پر مبنی ہونے پر تبصرہ کیا ہے، وہاں اس میں اس نوعیت کی ایک تعریض بھی مضمر ہے، جیسی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد میں اجتماعی ذکر کے لیے جمع ہونے والوں پر کی تھی۔ ابن مسعود نے ان سے کہا کہ:

وَاللّٰهِ لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ ظَلْمَاءَ، أَوْ قَدْ فَضَلْتُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا. (طبرانی، المعجم الکبیر، رقم 8509، 8511)

’’ بخدا یا تو تم نے ایک بہت تاریک بدعت نکال لی ہے اور یا پھر تم علم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہو۔ “

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر الفاظ کے کسی خاص فرق کے بغیر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

صحيح مسلم، رقم 1859۔ المعجم الکبیر للطبرانی، رقم 17603۔ الطبقات الکبیر لابن سعد، رقم 1545۔

(7)

عن مبارك بن فضالة، عن الحسن قال: إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم كَانُوا أَكْيَاسًا: عَمِلُوا صَالِحًا، وَأَكَلُوا طَيِّبًا، وَقَدَّمُوا فَضْلًا، لَمْ يُنَافِسُوا أَهْلَ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ، وَلَمْ يُنَافِسُوهُمْ فِي عِزِّهَا، وَلَمْ يَجْزَعُوا لِذُلِّهَا، أَخَذُوا صَفْوَهَا، وَتَرَكُوا كَدَرَهَا، وَاللَّهِ مَا تَعَاظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ حَسَنَةٌ عَمِلُوهَا، وَلَا تَصْغُرُ فِي أَنْفُسِهِمْ سَيِّئَةٌ ]أَمَرَهُمْ الشَّيْطَانُ بِهَا[. (ابن ابی الدنیا، الزہد، رقم 233)

’’مبارک بن فضالہ روایت کرتے ہیں کہ حسن بصری نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بہت سمجھ دار اور دانا لوگ تھے۔ انھوں نے اچھے عمل کیے، پاکیزہ رزق کھایا، ضرورت سے زائد مال (صدقہ کر کے) آگے بھیج دیا، دنیا والوں کے ساتھ نہ دنیا کے حصول میں مقابلہ کیا، نہ دنیا کی عزت پانے کے لیے مسابقت کی اور نہ دنیا کی ذلت پر بے صبری کا شکار ہوئے۔ دنیا میں جو کچھ صاف تھا، وہ لے لیا اور جو گدلا تھا، اسے چھوڑ دیا۔ بخدا، ان کے دل میں اپنی کی ہوئی نیکی کی بڑائی کا احساس نہیں تھا اور شیطان نے انھیں جو برائی کرنے پر آمادہ کیا، وہ اپنے دل میں اسے معمولی نہیں جانتے تھے۔“

لغوی تشریح

أَكْيَاسٌ: ’كَيّسٌ‘کی جمع ہے، یعنی دانا اور سمجھ دار۔

قَدَّمُوا فَضْلًا: ’قَدَّمَ‘ کا لفظی مطلب ہے، کوئی چیز آگے بھیجنا یا کسی معاملے کے لیے پیشگی بندوبست کرنا۔ ’فَضْل‘، یعنی ضرورت سے زائد اسباب۔

وَلَمْ يَجْزَعُوا لِذُلِّهَا: ’جزع‘ کا مطلب ہے، بے صبری اور گھبراہٹ میں مبتلا ہونا اور شکوہ و شکایت میں لگ جانا۔ مراد یہ کہ انھیں دنیا میں آزمایش کے تحت اگر ذلت یا استخفاف سے دوچار ہونا پڑا تو اس پر بے صبری کا شکار ہو کر شکوہ وشکایت نہیں کی۔

صاحب اثر کا تعارف

ابو سعید حسن بن یسار بصری رحمہ اللہ جلیل القدر تابعی ہیں اور تفسیر وحدیث کے بلند پایہ عالم ہونے کے علاوہ وعظ وتلقین اور اپنے خطبات کی فصاحت وبلاغت کے حوالے سے بھی خاص شہرت رکھتے ہیں۔ سیدنا عمر کے عہد خلافت میں 21 ہجری میں مدینہ میں ولادت ہوئی۔ ان کی والدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت گزار تھیں اور اس تعلق سے حسن نے بھی بچپن میں سیدہ کے گھر میں بھی کچھ وقت گزارا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بصرہ منتقل ہو گئے اور اسی نسبت سے حسن بصری کے نام سے معروف ہوئے۔ مدینہ میں انھیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے روایت حدیث کا موقع ملا، جس میں عمران بن حصین، مغیرہ بن شعبہ، نعمان بن بشیر، جابر بن عبد اللہ، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ 110ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔ (ذہبی، سیر اعلام النبلاء،4/ 565-564)

شرح ووضاحت

یہ اثر حسن بصری کے مواعظ میں سے کسی وعظ کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس میں وہ لوگوں کو صحابہ کی سیرت وکردار کا حوالہ دے کر دنیا اور سامان دنیا سے متعلق مطلوب رویے کی تعلیم دینا چاہ رہے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ صحابہ نے آخرت کو مطمح نظر بنایا اور دنیا کی محبت اور حصول دنیا کی مسابقت میں شریک نہیں ہوئے۔ اسی طرح خوف خدا اور جواب دہی کے احساس سے اپنی نیکیوں کے متعلق کسی زعم میں اور اپنے گناہوں کے حوالے سے کسی بے پروائی میں مبتلا نہیں ہوئے۔

اثر کے دوسرے جملے میں ’أَكَلُوا طَيِّبًا وَقَدَّمُوا فَضْلًا‘ کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ دنیا کی طمع میں مبتلا نہیں ہوئے اورجو کچھ مال و اسباب ان کو ملا، اس سے بقدر ضرورت فائدہ اٹھا کر بیش تر حصہ صدقہ و انفاق کی نذر کر دیا۔ صدقہ و انفاق اور دیگر اعمال خیر کے لیے آگے بھیجنے کی تعبیر قرآن و حدیث کی معروف تعبیر ہے: ’وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّن خَیر تَجِدُوهُ عِندَ اللّٰهِ‘، ’’اور تم جو بھی نیکی اپنے لیے آگے بھیجو گے، اس کا اجر اللہ کے ہاں پا لو گے۔“(البقرۃ 2: 110)

ابن المبارک رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق، حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک موقع پر دنیوی مال و اسباب سے متعلق صحابہ کے اس طرز عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ایک واقعے کا حوالہ دے کر بیان کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر صحابہ کو ساتھ لے کر بقیع الغرقد تشریف لے گئے، جہاں مدینے کا قبرستان تھا۔ آپ نے صحابہ سے کہا کہ میرے جو ساتھی وفات پا چکے ہیں، وہ تم سے بہتر ہیں، کیونکہ وہ اپنی قربانیوں کا صلہ وصول کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے، جب کہ تم نے کچھ صلہ دنیا میں بھی وصول کر لیا ہے۔ اس واقعے کو بیان کر کے حسن بصری نے کہا:

فَلَمَّا سَمِعَهَا الْقَوْمُ وَاللّٰهِ عَقَلُوهَا، وَانْتَفَعُوا بِهَا، قَالُوا: وَإِنَّا لَمُحَاسبُونَ بِمَا أَصَبْنَا مَنَ الدُّنْيَا، وَإِنَّهُ لَيُنْقَصُ بِهِ مِنْ أُجُورِنَا، فَأَكَلُوا وَاللّٰهِ طَيِّبًا وَأَنْفَقُوا قَصْدًا، وَقَدَّمُوا فَضْلًا.

(الزہد والرقائق لابن المبارک، رقم 498)

’’صحابہ نے جب یہ بات سنی تو بخدا اس کو سمجھ لیا اور اس سے نفع پایا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا سے ہمیں جو کچھ ملا ہے، اس پر ہمارا محاسبہ ہوگا اور اس کی وجہ سے ہمارے اجر میں کمی ہو جاتی ہے۔ (حسن بصری نے کہا کہ) بخدا، انھوں نے پاکیزہ رزق کھایا، اعتدال سے خرچ کیا اور زائد اموال (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیے۔“

مراد یہ کہ صحابہ نے اپنی ضرورتوں کو کم سے کم رکھتے ہوئے صدقہ وانفاق کر کے آخرت کے لیے نیکیاں جمع کرنے کو ترجیح دی۔

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن ابی الدنیا نے ذم الدنیا میں بھی نقل کیا ہے۔ (شعب الایمان، رقم 10149۔ ذم الدنیا لابن ابی الدنیا، رقم 174)۔ اثر کے آخری جملے میں ’أمرهم الشيطان بها‘ کا ٹکڑا ابن ابی الدنیا کے طریق میں موجود نہیں، یہ بیہقی سے لیا گیا ہے۔

(8)

عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: إِنِّي أَدْرَكْتُ صَدْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ ثُمَّ طَالَ بِي عُمْرٌ حَتَّى أَدْرَكْتُكُمْ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَهُمْ كَانُوا أَبْصَرَ فِي دِينَهِمِ بِقُلُوبِهِمْ مِنْكُمْ فِي دُنْيَاكُمْ بِأَبْصَارِكُمْ، وَلَهُمْ كَانُوا فِيمَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَهُمْ أَزْهَدَ مِنْكُمْ فِيمَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ، وَلَهُمْ كَانُوا مِنْ حَسَنَاتِهِمْ أَلَّا تُقْبَلَ مِنْهُمْ أَشَدَّ شَفَقَةً مِنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ أَنْ تُؤْخَذُوا بِهَا.(الاشراف فی منازل الاشراف لابن ابی الدنيا 331)

’’خلف بن حوشب کی روایت ہے کہ حسن بصری کہتے تھے: میں نے اس امت کے پہلے طبقے، (یعنی صحابہ) کا زمانہ پایا ہے۔ پھر میری عمر اتنی لمبی ہو گئی کہ میں نے تمھارے دور کو بھی پا لیا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، تم اپنی دنیا پر اپنی آنکھوں سے جتنی نظر رکھتے ہو، صحابہ اپنے دین کے معاملے میں اپنے دلوں میں اس سے زیادہ چوکنا رہتے تھے۔ اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں ان کی رغبت اس سے بھی کم تھی، جتنی رغبت تمھیں اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں محسوس ہوتی ہے۔ اور تم جتنا خوف اپنے گناہوں کے محاسبے کا رکھتے ہو، صحابہ کو اس سے زیادہ خوف اس بات کا ہوتا تھا کہ ان کی نیکیاں قبول نہ کی جائیں۔“

شرح ووضاحت

1۔ اس اثر میں حسن بصری نے بہت موثر انداز میں تقویٰ اور خوف خدا کے باب میں صحابہ کی کیفیت کا موازنہ بعد کے لوگوں کی کیفیت کے ساتھ کرتے ہوئے تین پہلوؤں سے فرق کو واضح کیا ہے:

پہلا یہ کہ صحابہ کی نظر میں حفاظت اور نگرانی کی چیز دین تھی، دنیا نہیں تھی۔ بعد کے لوگ جتنی دیکھ بھال اور نگرانی اپنے دنیوی نفع ونقصان کی کرتے ہیں، صحابہ اس سے کہیں زیادہ اپنے دین کے متعلق فکرمند رہتے تھے کہ کہیں اس میں کوئی رخنہ واقع نہ ہو جائے۔

دوسرا یہ کہ دنیا میں ان کی بے رغبتی اور زہد کی کیفیت یہ تھی کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں بھی ان کے لیے اتنی کشش نہیں تھی، جتنی کشش اور رغبت بعد کے لوگوں کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں محسوس ہوتی ہے۔

تیسرا یہ کہ اللہ کے ہاں جواب دہی اور مواخذہ کے پہلو سے صحابہ کی فکرمندی یہ نہیں ہوتی تھی کہ ان کے گناہوں کا حساب لیا جائے گا، بلکہ یہ ہوتی تھی کہ ہم نے جو نیکیاں کی ہیں، وہ بھی اللہ کی بارگاہ میں قابل قبول ہوں گی یا نہیں۔ مطلب یہ کہ اگر اپنی نیکیوں کے متعلق ان کا احساس یہ تھا تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گناہوں کے مواخذے کے متعلق ان کے دلوں میں خوف خدا کی کیفیت کیا ہوگی۔

2۔ دینی کیفیات کے لحاظ سے صحابہ اور بعد کے طبقات کا یہ فرق حسن بصری نے اپنے مشاہدے کی روشنی میں محسوس کیا اور بڑی خوبی سے اس اثر میں بیان کر دیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ طرز فکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا۔ آپ کی تعلیم کردہ ایک دعا میں دنیا کے تعلق سے مذکورہ ذہنی رویے کی تعلیم یوں دی گئی ہے:

اللَّهُمَّ …لَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا.

(ترمذی، رقم 3578)

’’اے اللہ، ہمارے حصے کی مصیبت ہمارے دین سے متعلق نہ بنانا اور دنیا کو ہمارے عزم وقصد کا مرکز اور ہمارے علم کا منتہا نہ بنانا۔“

یعنی کوئی ناگزیر آزمایش مقدر میں ہو تو وہ دنیا سے ہی متعلق ہو، اس سے ہمارا دین متاثر نہ ہو اور اسی طرح ہمارے عزائم اور ارادوں کا منتہاے مقصود دین ہی رہے، دنیا نہ بن جائے۔

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر مکمل صورت میں ابن ابی الدنیا کی الاشراف فی منازل الاشراف کے علاوہ بہ ظاہر کسی دوسرے ماخذ میں منقول نہیں۔ البتہ اس کا تیسرا جملہ الورع لابن ابی الدنیا (رقم 45) میں، جب کہ دوسرا اور تیسرا جملہ الزہد لاحمد بن حنبل (رقم 1476) میں بھی منقول ہے۔

[باقی]