مواد پر جائیں

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا علم وعمل بہ طور اسوہ

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

[ اکابر تابعین واتباع تابعین کے آثار ]

(4)

(9)

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْأَوْزَاعِيَّ فَقَالَ: اصْبِرْ نَفْسَكَ عَلَى السُّنَّةِ، وَقِفْ حَيْثُ وَقَفَ الْقَوْمُ، وَقُلْ بِمَا قَالُوا، وَكُفَّ عَمَّا كَفُّوا عَنْهُ، وَاسْلُكْ سَبِيلَ سَلَفِكَ الصَّالِحِ، فَإِنَّهُ يَسَعُكَ مَا وَسِعَهُمْ … وَلَوْ كَانَ هَذَا خَيْرًا مَا خُصِصْتُمْ بِهِ دُونَ أَسْلَافِكُمْ، فَإِنَّهُ لَمْ يُدَّخَرْ عَنْهُمْ خَيْرٌ خُبِّئَ لَكُمْ دُونَهُمْ لِفَضْلٍ عِنْدَكُمْ، وَهُمْ أَصْحَابُ نَبِيِّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ اخْتَارَهُمْ وَبَعْثَهُ فِيهِمْ، وَوَصَفَهُمْ بِمَا وَصَفَهُمْ بِهِ، فَقَالَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا. (اللالکائی، شرح اصول اعتقاد اہل السنہ، رقم 279)

’’ابو اسحاق کا بیان ہے کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اپنے آپ کو سنت پر ثابت قدم رکھو، اور جہاں صحابہ رک گئے، تم بھی وہیں رک جاؤ اور جو انھوں نے کہا، وہی کہو، اور جس چیز سے انھوں نے گریز کیا، اس سے گریز کرو اور اپنے نیک اسلاف کے راستے پر چلو، کیونکہ جو ان کے لیے کافی تھا، وہ تمھیں بھی کافی ہے… اور (جو سوال تم نے پوچھا ہے) اگر یہ کوئی خیر کی بات ہوتی تو تمھارے اسلاف کو چھوڑ کر خاص طور پر تمھیں نہ سجھائی جاتی۔ ان سے خیر کی کوئی بات چھپا کر نہیں رکھی گئی جو انھیں نہ بتائی گئی ہو اور تمھاری فضیلت کی وجہ سے تمھیں بتا دی گئی ہو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے جنھیں اللہ نے منتخب کیا اور ان میں اپنے نبی کو بھیجا اور ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ تم انھیں دیکھو گے کہ وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں رکوع اور سجدے کی حالت میں رہتے ہیں۔“

لغوی تشریح

خُبِّئَ لَكُمْ: ’خَبْء‘ سے مشتق ہے، جس کا مطلب چھپی ہوئی چیز ہوتا ہے۔ ’خُبِّئَ لَكُمْ ‘، یعنی تمھارے لیے چھپا کر رکھی گئی ہے۔

صاحب اثر کا تعارف

ابو عمرو عبد الرحمٰن بن عمرو الاوزاعی، اتباع تابعین میں بلند مرتبہ عالم شمار ہوتے ہیں۔ 88ھ میں دمشق کے ایک محلے اوزاع میں ولادت ہوئی اور اس نسبت سے اوزاعی کہلائے۔ عطاء بن ابی رباح، محمد الباقر، مکحول، قتادہ اور زہری جیسے اکابر تابعین سے روایت حدیث کی۔ فقیہ اہل الشام کے لقب سے جانے جاتے تھے اور ایک مستقل فقہی مذہب کے بانی تھے، جو ابتدائی صدیوں میں اہل شام اور اہل اندلس کے ہاں معمول بہ رہا، پھر مرور زمانہ سے اپنی حیثیت باقی نہ رکھ سکا۔ 175ھ میں وفات پائی۔1

شرح ووضاحت

یہ اثر ایک مفصل روایت کا ٹکڑا ہے۔ امام اوزاعی سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ اگر کسی شخص سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا تم سچ مچ مومن ہو تو اسے جواب میں کیا کہنا چاہیے؟ اوزاعی نے اس کے جواب میں کہا کہ:

إِنَّ الْمَسْأَلَةَ عَمَّا سُئِلَ مِنْ ذَلِكَ بِدْعَةٌ، وَالشَّهَادَةُ عَلَيْهِ تعَمّقُ، ولَمْ نُكَلَّفْهُ فِي دِينِنَا، ولَمْ يَشْرَعْهُ نَبِيُّنَا عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَأَزْكَى السَّلامُ.

(حلیۃ الاولیاء، رقم 12495)

’’اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے، اور اس کے متعلق گواہی دینا (یا قسم کھانا) خواہ مخواہ تکلف میں پڑنا ہے۔ ہم سے ہمارے دین میں اس کا تقاضا نہیں کیا گیا اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مشروع قرار دیا ہے۔“

سوال کا پس منظر یہ تھا کہ چونکہ کسی انسان کو اپنے انجام کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں، اس لیے انجام سے بے خبر ہوتے ہوئے کیا کسی کے لیے حال میں ’أنا مومن‘ (میں صاحب ایمان ہوں) کہہ کر اپنے ایمان کی گواہی دینا درست ہے یا نہیں؟ بعض کلامی گروہوں کا یہ کہنا تھا کہ ’ان شاء اللّٰہ‘ (یعنی اگر اللہ نے چاہا) کی قید شامل کیے بغیر کسی کو اپنے ایمان کی گواہی نہیں دینی چاہیے۔ اس کے برخلاف، بعض گروہ ’إن شاء اللّٰہ‘ کہنے کو بہ حالت موجودہ اپنے ایمان میں شک پر محمول کرتے ہوئے اسے ناجائز قرار دیتے تھے۔

امام اوزاعی نے زیر بحث اثر میں جماعت صحابہ کی دینی حیثیت کا حوالہ دے کر واضح کیا ہے کہ اس طرح کے غیر ضروری سوالات اٹھانا اور ان کے جواب متعین کرنا ہی درست نہیں، کیونکہ دین میں نجات کے لیے جن سوالوں کا جواب انسان کو معلوم ہونا ضروری ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول نے صحابۂ کرام کو بتا دی ہیں۔ اگر کوئی چیز ان کو نہیں بتائی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر ان کے بعد لوگ ایسے سوالات اختراع کر رہے ہیں جن کا صحابہ کے ہاں کوئی ذکر نہیں ملتا اور ان کا جواب معلوم ہونے کو ضروری قرار دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صحابہ سے افضل ہونے کے مدعی ہیں جن پر دین کی کوئی ایسی حقیقت واضح ہو گئی ہے جو صحابہ پر مخفی رہ گئی تھی۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابو اسحاق الفزاری کے واسطے سے الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ اثر درج ذیل مآخذ میں بھی نقل ہوا ہے:

الآجری، الشریعۃ، رقم 305۔ ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء، رقم 12495۔ الہروی، ذم الکلام واہلہ 118۔

(10)

عن الهقل بن زياد، عن الأوزاعي قال: وَمَا رَأْي امريء فِي أَمْرٍ بَلَغَهُ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِلَّا اتِّبَاعُهُ، وَلَوْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَقَالَ فِيهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ كَانُوا أَوْلَى فِيهِ بِالْحَقِّ مِنَّا، لِأَنَّ اللّٰهَ تَعَالَى أَثْنَى عَلَى مَنْ بَعْدَهُمْ بْاتِّبَاعِهِمْ إِيَّاهُمْ، فَقَالَ: ’وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَان‘ وَقُلْتُمْ أَنْتُمْ: لَا بَلْ نَعْرِضُهَا عَلَى رَأْيِنَا فِي الْكِتَابِ، فَمَا وَافَقَهُ مِنْهَا صَدَّقْنَاهُ وَمَا خَالَفَهُ تَرَكْنَاهُ، وَتِلْكَ غَايَةُ كُلِّ مُحْدِثٍ فِي الْإِسْلَامِ: رَدُّ مَا خَالَفَ رَأْيَهُ مِنَ السُّنَّةِ. (الہروی، ذم الكلام واہلہ3/11)

’’ہقل بن زیاد کی روایت ہے کہ اوزاعی نے کہا: جس معاملے میں کسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی بات پہنچے، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس کی پیروی کرے۔ اگر کسی مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات منقول نہ ہو اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ نے اس پر کوئی راے دی ہو تو وہ ہم سے بڑھ کر صحیح بات کہنے کے حق دار ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد آنے والوں کی ، ان کی پیروی کرنے پر تعریف فرمائی ہے اور کہا ہے: ’’اور وہ جو ان کی پیروی کرتے ہیں اچھے طریقے سے۔“ (اس کے برخلاف)، تم لوگ کہتے ہو: نہیں، بلکہ ہم ان کی راے کو کتاب اللہ کے متعلق اپنی راے پر پیش کریں گے۔ جو اس کے مطابق ہوگا، اسے مانیں گے اور جو اس کے خلاف ہوگا، اسے چھوڑ دیں گے۔ اور اسلام میں ہر نئی بات نکالنے والے کا مقصود یہی ہے کہ اس کی راے کے خلاف جو بات سنت سے ثابت ہو، اسے رد کر دے۔“

شرح ووضاحت

1۔ قرآن مجید میں ’وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَان ‘ کی تعبیر اپنے سیاق وسباق کے لحاظ سے صحابہ کی جماعت میں شامل ان افراد کے لیے آئی ہے، جنھوں نے مہاجرین اور انصار کے بعد اسلام قبول کیا اور ان کے نقش قدم پر چلے۔2 تاہم، مختلف آثار میں ’تابعین بالاحسان‘ کی تعبیر کا اطلاق صحابہ کے بعد آنے والے اہل ایمان پر بھی کیا گیا ہے، جو اس کا توسیعی مفہوم ہے۔ اوزاعی کا یہ اثر اسی کی ایک مثال ہے۔

2۔ اس اثر میں اوزاعی نے ایک لطیف استنباط کرتے ہوئے صحابہ کے علم وعمل کی دینی اہمیت کو اور ان کے اسوہ پر اپنی راے کو مقدم رکھنے کی قباحت کو واضح کیا ہے۔ قرآن مجید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے سابقون اولون، یعنی مہاجرین وانصار کے بعد ان صحابہ کا ذکر کیا ہے جنھوں نے ان کے بعد اچھے انداز میں ان کی پیروی اختیار کی اور اہل ایمان کی جماعت میں شامل ہوئے۔ اوزاعی یہاں ’اتباع‘ کی تعبیر سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ بعد میں آنے والوں سے مطلوب رویہ یہ ہے کہ وہ صحابہ کی پیروی کریں، نہ کہ ان سے الگ راستہ اختیار کریں۔ اوزاعی نے صحابہ کے اسوہ کو ’السُّنَّة‘ سے تعبیر کیا ہے ، کیونکہ صحابہ کی جماعت دینی علم وعمل میں جس نمونے پر قائم تھی، اس پر انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کاربند کیا تھا۔ اس کو نظر انداز کر کے مشتبہ دینی استدلالات کی مدد سے نئی نئی آرا قائم کرنا اور صحابہ کی رہنمائی کو قبول کرنے کے بجاے ان کے علم وعمل کو اپنی آرا پر پرکھنا اوزاعی کی نظر میں وہ بنیادی رویہ ہے جس سے تمام اعتقادی وعملی بدعات پیدا ہوتی ہیں۔

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر نقض الدارمی علی المریسی3 میں بھی منقول ہے۔

(11)

نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: قَالَ لِي الْأَوْزَاعِيُّ: يَا بَقِيَّةُ، الْعِلْمُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَمَا لَمْ يَجِئْ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَلَيْسَ بِعِلْمٍ. (ابن عبد البر، الجامع فی بیان العلم وفضلہ، رقم 894، 895)

’’بقیہ بن ولید کہتے ہیں کہ اوزاعی نے مجھ سے کہا: اے بقیہ، (دین کا) علم وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرف سے آئے۔ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرف سے نہ ہو، وہ علم نہیں ہے۔ “

شرح ووضاحت

اس اثر کا مدعا بھی وہی ہے جو گذشتہ اثر میں واضح کیا گیا ۔ مراد یہ ہے کہ دین میں کن چیزوں کا علم اہمیت رکھتا ہے اور کن کا نہیں، اس کا معیار یہ ہے کہ صحابۂ کرام کی نظر میں اس چیز کی کتنی اہمیت ہے۔ اگر کسی چیز کو صحابہ نے اہمیت دی ہے تو وہ دین کے مطلوب علم کاحصہ ہے اور اگر نہیں دی تو وہ علم، یعنی دین کا حصہ نہیں ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

اوزاعی کا یہ اثر ابن عساکر نے ’’تاریخ دمشق‘‘4میں سند کے ساتھ، جب کہ ذہبی نے ’’تاریخ الاسلام‘‘5 میں اور ابن کثیر نے ’’ البدايۃ والنہايۃ‘‘6میں سند کے بغیر نقل کیا ہے۔

(12)

حَدَّثَنِي الْوَليِدُ بْنُ مَسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ : أَدْرَكَتْ خِلَافَةَ مُعَاوِيَةَ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ مِنْهُمْ: سَعْدٌ، وَأُسَامَةُ، وَجَابِرٌ، وَابْنُ عُمَرَ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتَ، وَمَسْلَمَةُ بْنُ مَخْلَدٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَرَافِعُ بْنُ خُدَيْجٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَرِجَالٌ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّيْتُ بِأَضْعَافٍ مُضَاعَفَةٍ، كَانُوا مَصَابِيحَ الْهُدَى وَأَوْعِيَةَ الْعِلْمِ، حَضَرُوا مِنَ الْكِتَابِ تَنْزِيلَهُ، وَأَخَذُوا عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ تَأْوِيلَهُ، وَمِنَ التَّابِعِينَ لَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْهُمْ : الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعْبدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعْبدُ اللّٰهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ فِي أَشْبَاهٍ لَهُمْ، لَمْ يَنْزَعُوا يَدًا عَنْ مُجَامَعَةٍ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (تاریخ ابی زرعہ الدمشقی، رقم 102، 571)

’’ولید بن مسلم، اوزاعی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: سیدنا معاویہ کی خلافت کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک بڑی تعداد نے پایا۔ ان میں سعد (بن ابی وقاص)، اسامہ (بن زید)، جابر، ابن عمر، زید بن ثابت، مسلمہ بن مخلد، ابو سعید، رافع بن خدیج، ابو امامہ، انس بن مالک اور جن کے نام میں نے ذکر کیے ہیں، ان کے علاوہ تعداد میں ان سے کئی گنا زیادہ صحابہ شامل ہیں۔ یہ لوگ ہدایت کے چراغ اور علم کے حامل ومحافظ تھے۔ انھوں نے کتاب اللہ کو اپنے سامنے اترتے ہوئے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مراد سمجھی۔ (صحابہ کے بعد) ان کے تابعین بالاحسان میں سے مسور بن مخرمہ، عبد الرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث، سعید بن المسیب، عروہ بن زبیر اور عبد اللہ بن محیریز نے اور ان جیسے دیگر حضرات نے بھی (سیدنا معاویہ کا دور خلافت پایا)۔ ان سب نے امت محمدی میں اتفاق و اتحاد کے معاملے سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا۔ ‘‘

شرح ووضاحت

1۔ امام اوزاعی کا مقصود ان گروہوں کے تقابل میں جو سیدنا معاویہ کی خلافت سے متعلق منفی نقطۂ نظر رکھتے تھے، اکابر صحابہ وتابعین کے موقف کی صحت کو واضح کرنا ہے۔ سیدنا معاویہ نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے معاملے میں سیدنا علی سے اختلاف کیا اور ان کی بیعت کرنے سے توقف ظاہر کیا تھا۔ اس پر صحابہ، سیدنا علی اور سیدنا معاویہ کی قیادت میں دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، جس کے نتیجے میں جنگ صفین رونما ہوئی اور مسلمانوں کی دو متوازی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ سیدنا علی کی شہادت کے بعد کوفہ میں ان کے بڑے فرزند سیدنا حسن کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر بھی دونوں گروہوں کے مابین دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات دکھائی دینے لگے تو سیدنا معاویہ کی طرف سے مصالحت کی پیش کش پر سیدنا حسن نے ان کے حق میں خلافت سے دست برداری قبول کر لی۔7 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک پیشین گوئی میں سیدنا حسن کے اس مصالحانہ کردار کا ذکر فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا:

إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. (بخاری، رقم 279)

’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور توقع ہے کہ اللہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان مصالحت کرا دے گا۔“

تقریباً‌ چھ سال کی باہمی خوں ریزی کے بعد دوبارہ وحدت اور اجتماعیت کا قائم ہو جانا اہل اسلام کے لیے عموماً‌ خوشی اور اطمینان کا موجب بنا اور اس سال کو ’عام الجماعۃ‘ قرار دیا گیا اور اس وقت موجود تمام اکابر صحابہ نے سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی۔ اوزاعی نے اس ضمن میں دس کے قریب صحابہ اور تابعین میں سے مسور بن مخرمہ، عبد اللہ بن محیریز، عروہ بن زبیر، عبد الرحمٰن بن الاسود اور سعید بن المسیب کے نام ذکر کیے ہیں ۔ ان کے علاوہ سیدہ عائشہ، ابوہریرہ، عبد اللہ بن عباس، ابو الدرداء اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم بھی بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔ یہاں تک کہ سعد بن ابی وقاص، عبد اللہ بن عمر اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ نے بھی، جنھوں نے اس کشمکش میں کسی فریق کا بھی ساتھ نہیں دیا تھا اور بالکل کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، مسلمانوں کی اجتماعیت بحال ہونے پر سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی۔8 تاہم خوارج اور شیعان علی، جنھوں نے ابتداءً‌ سیدنا علی کے مقابلے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی تھی، سیدنا حسن اور سیدنا معاویہ کی مصالحت کے بعد بھی ان کی خلافت کو جائز ماننے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ اوزاعی نے زیر بحث اثر میں اسی نقطۂ نظر کے حضرات کے سامنے یہ بات واضح کی ہے کہ اکابر صحابہ و تابعین نے جو ان کے عہد خلافت میں موجود تھے، اس مصالحت کی تائید کی تھی۔

2۔ اکابر صحابہ کے طرز عمل کے درست اور قابل اعتماد ہونے کے لیے او زاعی نے ان کے دینی مقام اور امتیاز کا حوالہ دیا ہے، یعنی انھوں نے کتاب اللہ کو اپنے سامنے اترتے ہوئے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتاب اللہ کے معانی ومطالب کی تعلیم حاصل کی۔ یہ حضرات علم دین کے حامل اور اس کے محافظ تھے اور ان کی حیثیت ہدایت کے چراغ کی ہے ۔ یہ اسی نوعیت کا استدلال ہے جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک اثر میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:

إِنَّ اللّٰهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ، يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ، فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ سَيِّئٌ.

(مسند احمد، رقم 3468)

’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی کیفیت دیکھی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے دلوں کو سب کے دلوں سے بہتر پایا، چنانچہ ان کو اپنے نبی کے مددگار ساتھی بنا دیا جو آپ کے دین کے لیے جہاد و قتال کرتے ہیں۔ پس اہل ایمان، (یعنی صحابۂ کرام) جس چیز کو اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور اہل ایمان جس چیز کو برا جانیں، وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہے۔“

اوزاعی نے مزید واضح کیا ہے کہ مصالحت کا یہ عمل بہ ذات خود بھی مطلوب اور مستحسن تھا، کیونکہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کا سیاسی افتراق دوبارہ اجتماعیت میں بدل گیا تھا اور اسی لیے اکابر صحابہ وتابعین نے اس سے الگ تھلگ رہنے کے بجاے اس کی مکمل تائید کی تھی۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابوزرعہ کی سند سے اس اثر کو الجورقانی نے ’’الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر‘‘9 میں اور ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘10 میں بھی نقل کیا ہے۔

(13)

عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ : لَوْ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَمْ يَمْسَحُوا إِلا عَلَى ظُفُرٍ مَا غَسَلْتُهُ الْتِمَاسَ الْفَضْلِ، وَحَسْبُنَا مِنْ إِزْرَاءٍ عَلَى قَوْمٍ أَنْ نَسْأَلَ عَنْ فِقْهِهِمْ وَنُخَالِفَ أَمْرَهُمْ.(ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، رقم 7990)

’’ابو حمزہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ایک ناخن کے برابر جگہ پر بھی صرف مسح کیا ہو تو میں زیادہ اجر حاصل کرنے کے لیے اس کو نہیں دھوؤں گا۔ ہماری جانب سے کسی گروہ کی تحقیر اور بے وقعتی کے لیے یہی کافی ہے کہ ہم ان کے علم وفقہ کی جستجو تو کریں، لیکن ان کے عمل کی مخالفت کریں۔“

لغوی تشریح

’إزراء‘، یعنی بے وقعت اور حقیر سمجھنا۔

صاحب اثر کا تعارف

ابراہیم بن یزید النخعی، جلیل القدر تابعی تھے۔ قبیلہ نخع سے تعلق رکھنے والے جلیل القدر تابعی علقمہ بن قیس کے بھتیجے اور اسود بن یزید اور عبد الرحمٰن بن یزید کے بھانجے تھے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نام ور تلامذہ، مسروق، اسود اور علقمہ سے کسب فیض کیا۔ بچپن میں بعض مواقع پر علقمہ اور اسود کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ کے پاس بھی حاضر ہوئے۔ متعدد صحابہ کا زمانہ پایا، لیکن کسی صحابی سے براہ راست احادیث روایت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ سنہ 39ھ یا 47ھ میں ولادت اور 96ھ میں وفات پائی۔11

شرح ووضاحت

مراد یہ ہے کہ کسی دینی عمل کی ادائیگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے آگے بڑھنا اور اس کو موجب اجر سمجھنا درست نہیں ہے۔ اگر صحابہ نے ناخن کے برابر جگہ پر بھی صرف مسح کرنے کو کافی سمجھا ہو تو زیادہ اجر کی نیت سے اس کو دھونا قابل تحسین نہیں ہے۔ ابراہیم نخعی نے اس کو صحابہ کی تحقیر کے ہم معنی قرار دیا کہ صحابہ کے علم وتفقہ کی تو جستجو کی جائے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، لیکن عمل میں ان کے خلاف طریقہ اختیار کیا جائے۔

اہل تشیع کے بعض علما نے ابراہیم نخعی کے اس اثر کو وضو میں پاؤں پر مسح کرنے کی تائید میں پیش کیا ہے۔ یہ مسئلہ تابعین کے مابین مختلف فیہ رہا ہے اور بعض تابعین آیت وضو کے ظاہری اسلوب سے یہ اخذ کرتے تھے کہ سر کی طرح وضو میں پاؤں پر بھی مسح کرنا ہی مطلوب ہے۔12 تاہم، ابراہیم نخعی کی راے یہ نہیں تھی۔ ان کی یہ راے منقول ہے کہ ’عاد الأمر إلى الغسل‘،13 یعنی آیت میں ’وَاَرْجُلَکُمْ ‘کا تعلق ’فَاغْسِلُوْا‘ سے ہے اور ان کا دھونا مطلوب ہے۔ اس کی روشنی میں زیر بحث اثر میں بہ ظاہر تمثیل کے اسلوب میں صحابہ کی اتباع کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ پاؤں کو دھونے یا اس پر مسح کرنے کے مسئلے سے اس کا تعلق نہیں ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابراہیم نخعی کا یہ اثر بہ ظاہر ابن سعد کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ میں نقل نہیں ہوا۔

(14)

ثنا عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يَذْكُرُ عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَسُئِلَ مَرَّةً عَنْ فُتْيَا فَأَحْسَنَ الْإِجَابَةَ فِيهَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَاللّٰهِ يَا أَبَا بَكْرٍ لَأَحْسَنْتَ الْفُتْيَا فِيهَا أَوِ الْقَوْلَ فِيهَا، قَالَ: وَعَرَّضَ كَأَنَّهُ يَقُولُ: مَا كَانَتِ الصَّحَابَةُ لِتُحْسِنَ أَكْثَرَ مِنْ هَذَا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْ أَرَدْنَا فِقْهَهُمْ لَمَّا أَدْرَكَتْهُ عُقُولُنَا. (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم 2/ 263)

’’محمد بن سیرین سے ایک دفعہ ایک مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا بہت عمدہ جواب دیا۔ ایک شخص نے کہا: اے ابوبکر، آپ نے اس کا بہت ہی عمدہ جواب دیا ہے۔ پھر اس نے کچھ ایسی بات کہی، جس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ صحابہ بھی اس سے اچھا جواب نہ دے سکتے۔ اس پر محمد بن سیرین نے کہا کہ اگر ہم صحابہ کی فقہ تک پہنچنے کا ارادہ کریں تو ہماری عقلیں اس کو نہیں پا سکیں گی۔“

صاحب اثر کا تعارف

ابوبکر محمد بن سیرین، اکابر تابعین میں سے ہیں۔ 32ھ میں بصرہ میں ولادت ہوئی۔ ان کے والد سیرین، سیدنا انس کے غلام تھے اور بدل کتابت ادا کر کے ان سے آزادی حاصل کی تھی۔ سیرین کا نکاح سیدنا ابوبکر کی باندی صفیہ سے ہوا تھا، جن سے محمدبن سیرین کی ولادت ہوئی۔ ابن سیرین کو تیس کے قریب صحابہ کو دیکھنے اور ابو ہریرہ، انس بن مالک، عبد اللہ بن عمر، عمران بن حصین، عبد اللہ بن عباس اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہم جیسے اصحاب سے روایت حدیث کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے بھائی انس بن سیرین اور ہمشیرہ حفصہ بنت سیرین بھی دور تابعین میں حدیث کے معروف رواۃ میں سے ہیں۔ محمد بن سیرین، فقہ وحدیث کے علاوہ خوابوں کی تعبیر میں بھی خداداد مہارت کے حامل تھے۔ 110ھ میں بصرہ میں ہی وفات پائی۔14

شرح ووضاحت

ابن سیرین نے سائل کی طرف سے تحسین کے اس انداز کو ناپسند کیا کہ بعد کے لوگوں کے علم کا تقابل صحابہ کے ساتھ کیا جائے۔ مراد یہ ہے کہ یہ تقابل ادب کے پہلو سے بھی غیر مستحسن ہے اور اس پہلو سے بھی کہ بعد والوں کو دین میں جو فہم اور بصیرت حاصل ہوئی ہے، وہ صحابہ کے علم و فضل سے استفادہ کی بدولت ہی حاصل ہوئی ہے اور اس کے باوجود بعد والوں کے لیے بہ حیثیت مجموعی صحابہ کے علم وتفقہ کے مقام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

محمد بن سیرین کا یہ اثر بہ ظاہر ’’ حلیۃ الاولیاء‘‘ کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ میں نقل نہیں ہوا۔

(15)

عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَامِرٍ: اتَّفَقَ شُرَيْحٌ وَابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ عَامِرٌ: بَلْ تَبِعَ شُرَيْحٌ ابْنَ مَسْعُودٍ وَإِنَّمَا يَتَّفِقُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ لَهُمْ تَبَعٌ. (الہروی، ذم الكلام واہلہ، رقم 794)

’’عبد العزیز بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عامر شعبی کے سامنے یوں کہا کہ (اس معاملے میں) شریح اور عبد اللہ بن مسعود متفق ہیں۔ شعبی نے کہا کہ نہیں، بلکہ یوں کہو کہ شریح نے عبد اللہ بن مسعود کی پیروی کی ہے۔ آپس میں اتفاق (یا اختلاف) کرنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا منصب ہے۔ باقی لوگوں کا درجہ ان کے بعد ہے۔“

صاحب اثر کا تعارف

عامر بن شراحیل الشعبی، تابعین کے دور میں کوفہ کے ممتاز ترین فقہا میں شمار ہوتے ہیں۔ 28ھ کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ 50 کے قریب صحابہ سے روایت حدیث کا شرف حاصل کیا، جن میں سیدنا علی، سعید بن زید، سعد بن ابی وقاص، ابو موسیٰ اشعری، ابو ہریرہ، ابن عمر، سیدہ عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ بھی شامل ہیں۔ شعبی کے اپنے بیان کے مطابق انھیں 500 کے قریب صحابہ کو دیکھنے کا موقع ملا۔ محمد بن سیرین سے ان کے علم وفضل کی گواہی یوں منقول ہے کہ شعبی سے علمی معاملات میں راے اور فتویٰ طلب کیا جا تا تھا، حالاں کہ صحابہ موجود تھے۔ 104ھ میں وفات پائی۔15

شرح ووضاحت

قاضی شریح، جلیل القدر تابعی تھے اور ان کے علم وتفقہ کو دیکھ کر سیدنا عمر نے انھیں کوفہ کا قاضی مقرر کیا تھا۔ تاہم ان کے علم وفضل کے باوجود شعبی نے اس کو خلاف ادب تصور کیا کہ ان کا ذکر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ برابری کے اسلوب میں کیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ باہم اتفاق یا اختلاف کرنا، یہ صحابہ ہی کے لیے روا ہے۔ بعد کے لوگ صحابہ کی پیروی میں ہی کسی راے سے اختلاف یا اتفاق کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

تخریج اور اختلاف طرق

شعبی کا یہ اثر بہ ظاہر الہروی کی ’’ذم الكلام واہلہ‘‘ کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ میں نقل نہیں ہوا۔

[باقی]

  1. ۔ سیر اعلام النبلاء 7/ 120- 108۔
  2. ۔التوبہ 9: 100۔
  3. ۔ 253۔
  4. ۔ 35/ 201 ۔
  5. ۔ 4/124۔
  6. ۔ 10/117۔
  7. ۔ بخاری، رقم 2794۔
  8. ۔ ابن حجر، فتح الباری 13/68۔
  9. ۔ 1/ 385۔
  10. ۔ 11/ 434۔
  11. ۔ذہبی، سیر اعلام النبلاء 4 / 529-521۔
  12. ۔ المصنف لابن ابی شیبہ، رقم 178، 184۔
  13. ۔ المصنف لابن ابی شیبہ، رقم 195۔
  14. ۔ سیر اعلام النبلاء 4 / 606۔
  15. ۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد14 / 143۔ ذہبی، سیر اعلام النبلاء 4 / 405-395۔