مواد پر جائیں

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا علم وعمل بہ طور اسوہ

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

(حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے آثار)

(1)

[اس فصل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کے چند منتخب آثار کی شرح ووضاحت کی گئی ہے، جن کا بنیادی نکتہ دین میں صحابۂ کرام کا مقتدا ہونا اور علم وعمل میں ان کے اسوہ کا امت کے لیے رہنما ہونا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار سابقین اولین اور فقہاے صحابہ میں ہوتا ہے۔ سیدنا عمر سے ان کے علم وفقہ کی تعریف یوں منقول ہے کہ ’کنیف ملئ علمًا‘ (الطبقات الکبریٰ ابن سعد، رقم 2311) یعنی ایک چھوٹا سا تھیلا ہے، جو علم سے بھرا ہوا ہے۔ سیدنا عمر کے عہد خلافت میں مسلمانوں کی تعلیم اور دینی رہنمائی کے لیے انھیں کوفہ بھیج دیا گیا اور سیدنا عثمان کے عہد خلافت کے ابتدائی سالوں تک وہیں مقیم رہے۔ پھر انھیں مدینہ واپس بلا لیا گیا جہاں 32 ہجری میں انھوں نے وفات پائی۔ کوفہ ایسے مختلف سیاسی ومذہبی رجحانات کا مرکز تھا جن میں صحابۂ کرام کے اجتماعی دینی فہم اور طرز عمل سے انحراف کے آثار نمایاں تھے۔ اس تناظر میں صحابہ کی اتباع اور اقتدا کی اہمیت کو اجاگر کرنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعلیم وتلقین کا ایک مستقل موضوع تھا۔ زیر نظر آثار سے اسی موضوع کے کچھ اہم پہلو واضح ہوتے ہیں۔]

(1)

عن زر بن حبيش، عن عبد اللّٰه بن مسعود، قال: إِنَّ اللّٰهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیه وسلم خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ، فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ، يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ، فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ.

(مسند احمد، رقم 3468)

’’زر بن حبیش روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی کیفیت دیکھی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو بندوں کے دلوں میں سب سے بہتر پایا، چنانچہ آپ کو اپنے لیے چن لیا اور اپنا رسول بنا کر مبعوث فرما دیا۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد بندوں کے دلوں کی حالت دیکھی تو آپ کے اصحاب کے دلوں کو سب بندوں کے دلوں سے بہتر پایا، چنانچہ ان کو اپنے نبی کے مددگار ساتھی بنا دیا جو آپ کے دین کے لیے جہاد وقتال کرتے ہیں۔ پس اہل ایمان، (یعنی صحابۂ کرام) جس چیز کو اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور اہل ایمان جس چیز کو برا جانیں، وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہے۔“

شرح ووضاحت

1۔ بنیادی مضمون کے اعتبار سے یہ اثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل ہے کہ ’إن اللّٰه تبارك وتعالى اختارني واختار بي أصحابًا‘، ’’اللہ تعالیٰ نے میرا انتخاب بھی فرمایا ہے اور میرے ساتھ میرے اصحاب کو بھی چنا ہے۔ ‘‘ (المستدرک علی الصحیحین، رقم 6732)۔اثر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انبیا اور ان کے انصار ووزرا کا انتخاب ان کے قلوب کی کیفیت، یعنی تقویٰ، حق پسند ی اور دیانت داری کے لحاظ سے ہوتا ہے۔

2۔ آخری جملے سے واضح ہے کہ اس کا پس منظر صحابۂ کرام کے بعض اجتماعی فیصلوں کے حوالے سے کچھ گروہوں کے ہاں پائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کرنا تھا۔ مراد یہ ہے کہ جس گروہ کا انتخاب اللہ نے ان کے دلوں کی کیفیت کی بنیاد پر اپنے نبی کی نصرت کے لیے کیا ہے، ان کی دینی بصیرت بھی اللہ کے ہاں قابل اعتماد ہے اور ان کے کیے ہوئے فیصلے اللہ تعالیٰ کے منشا سے متصادم نہیں ہو سکتے۔ اگر اس گروہ نے اجتماعی طور پر کوئی فیصلہ کیا ہے تو اس کی اصابت پر شک و شبہ ظاہر کرنا یا اس کو طعن واعتراض کا ہدف بنانا دینی لحاظ سے درست نہیں۔ اثر کے راوی، ابوبکر بن عیاش کا جو تبصرہ اوپر نقل کیا گیا، اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔

3۔ اثر کے سیاق سے یہ بھی واضح ہے کہ یہاں خاص طور پر جماعت صحابہ کے فیصلے مراد ہیں۔ علماے فقہ نے اس اثر کے آخری جملے ’ مَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ‘ سے فقہی امور میں عرف کے معتبر ہونے پر استدلال کیا ہے (القدوری، التجرید 6/ 3035۔ بدر الدین العینی، البنایہ شرح الہدایہ10/276)۔ عرف کا اعتبار ایک فقہی اصول کے طور پر اپنی جگہ درست ہے، لیکن ابن مسعود کا مقصد یہاں کسی فقہی اصول کو واضح کرنا نہیں۔ اسی طرح اس اثر کو عام مسلمانوں کی طرف سے اختیار کی گئی بہت سی بدعات کے مشروع اور جائز ہونے کی تائید میں بھی پیش کیا جاتا ہے اور اس سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ دینی نوعیت کی جو بھی چیز عام مسلمانوں میں قبولیت اور رواج حاصل کر لے، شارع کی طرف سے اس کو اصولی سند حاصل ہے۔ یہ استنباط بھی بدیہی طور پر مقصود کلام کے خلاف ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ اثر مسند احمد کے علاوہ درج ذیل مآخذ میں بھی نقل ہوا ہے:

طبرانی، المعجم الکبیر، رقم 8497۔ المعجم الاوسط، رقم 3686۔ الآجری، الشریعۃ، رقم 1146۔ احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، رقم 517- معجم ابن الاعرابی، رقم 843۔

اسے ابن مسعود کے دو شاگردوں زر بن حبیش اور ابو وائل شقیق بن سلمہ نے نقل کیا ہے اور دونوں کے طریق میں الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔

ابو وائل کی روایت میں ’وَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ‘ کی جگہ ’وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ‘ کے الفاظ ہیں۔ اسی طرح ’فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ‘ کی جگہ ’فَاخْتَارَ لَهُ أَصْحَابَهُ فَجَعَلَهُمْ أَنْصَارَ دِينِهِ وَوُزَرَاءَ نَبِيِّهِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ایک طریق میں آخری جملے میں ’وَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ ‘کی جگہ ’وَمَا رَأَوْهُ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ قَبِيحٌ‘ کے الفاظ ہیں (بیہقی، المدخل الی السنن الکبریٰ، رقم 25)۔

فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل کی روایت کے آخر میں اس جملے کا اضافہ ہے کہ ’وقد رأى أصحاب النبي صلى اللّٰه عليه وسلم جميعًا أن يستخلفوا أبا بكر‘ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائیں)۔ تاہم دیگر طرق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کا حصہ نہیں، بلکہ حدیث کے ایک راوی، ابوبکر بن عیاش کا تبصرہ ہے، چنانچہ ابن الاعرابی کی نقل کردہ روایت میں تصریح ہے کہ’قال أبو بكر بن عياش: وأنا أقول: قد رأوا أن يولوا أبا بكر بعد رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘(معجم ابن الاعرابی، رقم 843) ، یعنی ابوبکر بن عیاش نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کی ذمہ داری سیدنا ابوبکر کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔

(2)

عن قتادة قال: قال ابن مسعود رضي اللّٰه عنه: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا وَأَقْوَمَهَا هَدْيًا وَأَحْسَنَهَا حَالًا، قَوْمًا اخْتَارَهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ وَاتَّبِعُوهُمْ فِي آثَارِهِمْ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيم. (الجامع فی بيان العلم و فضلہ، ابن عبد البر، رقم 1117)

’’قتادہ روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کی اقتدا کرنا چاہتا ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی اقتدا کرے۔ ان کے دل اس امت میں سب سے بڑھ کر نیکی سے معمور تھے، ان کا علم سب سے گہرا تھا، ان میں تکلف سب سے کم تھا، ان کی سیرت سب سے راست اور ان کی حالت سب سے اچھی تھی۔ یہ وہ جماعت تھی جسے اللہ نے اپنے نبی کی رفاقت کے لیے چنا۔ سو تم ان کی فضیلت کو پہچانو اور ان کے نقش قدم پر چلو، کیونکہ وہ راہ راست پر تھے۔“

لغوی تشریح

فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ: ’فلیتأس‘ کا اشتقاق ’أسوۃ‘ سے ہوا ہے، جس کا مطلب نمونہ ہوتا ہے جس کی پیروی کی جائے۔ ’ تأسی بفلان‘، یعنی کسی شخص کا طریقہ اختیار کیا اور اس کے نمونے پر عمل کیا۔

فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ:’فلیستن‘، ’سنة‘ سے مشتق ہے، یعنی کسی کا طریقہ اختیار کرنا، کسی کی پیروی کرنا۔

أَبَرَّهَا قُلُوبًا: أَبَرّ، بَرٌّ سے اسم تفضیل ہے، یعنی نیک۔ ’أبرها قلوبًا‘، یعنی جن کے دل سب سے بڑھ کر نیکی سے معمور تھے۔

شرح ووضاحت

1۔ اثر کے سیاق سے واضح ہے کہ ابن مسعود سننے والوں کو اکابر صحابہ کو دین میں مقتدا ماننے کی تلقین کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے صحابہ کے خیر امت کے متعدد پہلو واضح کیے ہیں:

پہلا یہ کہ ان کے دل نیکی، تقویٰ اور خدا خوفی سے معمور تھے۔

دوسرا یہ کہ ان کا علم بہت گہرا تھا اور وہ دین کی روح ومزاج اور اس کے مقاصد کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔

تیسرا یہ کہ ان کے ہاں علم اور عمل، دونوں اپنی فطری شکل میں تھے اور ان میں تکلف اور مصنوعی پن نہیں پایا جاتا تھا۔

چوتھا یہ کہ وہ اپنی سیرت اور کردار کے اعتبار سے استقامت اور اعتدال وتوازن کا نمونہ تھے۔

پانچواں یہ کہ اپنے دینی احوال کے لحاظ سے وہ بہترین لوگ تھے۔

ان اوصاف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان حضرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت کے لیے منتخب فرمایا اور یہی اوصاف انھیں اس کا بھی حق دار بناتے ہیں کہ بعد میں آنے والے انھی کے طریقے پر چلنے اور انھی جیسے انداز واطوار اپنانے کو ذریعۂ ہدایت تصور کریں۔

2۔ صاحب مشکوٰۃ کے نقل کردہ طریق میں اثر کا ابتدائی جملہ یوں روایت کیا گیا ہے: ’مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ‘۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ راوی نے ابن مسعود کے ایک دوسرے اثر سے زیر نظر اثر میں شامل کر لیے ہیں، جس میں ابن مسعود نے اتباع اور پیروی کے لیے وفات یافتہ حضرات کا انتخاب کرنے کا ایک دوسرا پہلو واضح کیا ہے۔ عبدہ بن ابی لبابہ نقل کرتے ہیں کہ ابن مسعود نے کہا:

أَلا لا يُقَلِّدَنَّ رَجُلٌ رَجُلاً دِينَهُ، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، فَإِنْ كَانَ مُقَلِّدًا لا مَحَالَةَ فَلْيُقَلِّدِ الْمَيِّتَ، وَيَتْرُكَ الْحَيَّ، فَإِنَّ الْحَيَّ لا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ.

(بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم 18724)

’’آگاہ رہو، کوئی شخص اپنے دین کو کسی شخص کے ساتھ وابستہ نہ کر دے کہ اگر وہ ایمان لائے تو یہ بھی ایمان لائے اور وہ کفر اختیار کرے تو یہ بھی کفر کو اختیار کر لے۔ اگر کسی کو ضرور ہی کسی کے ساتھ وابستگی اختیار کرنی ہے تو وہ زندہ لوگوں کو چھوڑ کر کسی فوت ہو جانے والے کے ساتھ اختیار کرے، کیونکہ زندہ شخص فتنے میں مبتلا ہو جانے سے مامون نہیں ہے۔“

یہ ایک الگ بات ہے اور اس کا مقصد دین کے معاملے میں کسی خاص شخصیت کے ساتھ اندھا اعتماد وابستہ کرنے سے خبردار کرنا ہے، جب کہ زیرمطالعہ اثر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیش نظر صحابہ کی اتباع اور اقتدا کی تلقین ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

قتادہ کی سند سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ اثر ابن عبد البر کے علاوہ خطیب بغدادی نے (تلخیص المتشابہ فی الرسم، رقم 668) اور رزین کے حوالے سے صاحب مشکوٰۃ المصابیح (رقم 193) نے بھی نقل کیا ہے۔ ان تینوں طرق میں متن کے اہم اختلافات حسب ذیل ہیں:

خطیب کی روایت میں ’ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ‘ کی جگہ ’مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ مشکوٰۃ کے نقل کردہ طریق میں یہ جملہ یوں ہے: ’مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ.‘ یعنی ’’جس کو کسی کی پیروی کرنی ہے تو وہ ان کی پیروی کرے جو فوت ہو چکے ہیں، کیونکہ زندہ شخص فتنے سے مامون نہیں ہوتا۔“

خطیب اور مشکوٰۃ کے طرق میں ’اخْتَارَهُمُ اللّٰهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘ کے بعد ’وَإِقَامَةِ دِينِهِ‘ کے الفاظ کا اضافہ ہے۔

خطیب کی روایت میں ’وَاتَّبِعُوهُمْ فِي أَثَرِهِمْ‘ کے بعد ’ وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلاقِهِمْ وَدِينِهِمْ‘ کے اور مشکاۃ کی روایت میں ’من أخلاقھم وسیرھم‘کے الفاظ زائد نقل ہوئے ہیں (تلخیص المتشابہ فی الرسم، رقم 668)، یعنی ’’جہاں تک تمھاری استطاعت ہو، ان کے اخلاق اور دینی طرز عمل پر کاربند رہو۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حسن بصری کی نسبت سے بھی روایات میں نقل کیا گیا ہے۔ ابن عمر کا اثر ابو نعیم نے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔ مثلاً‌ اس میں ’وَإِقَامَةِ دِينِهِ‘ کی جگہ ’وَنَقْلِ دِينِهِ‘ کے اور ’وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلاقِهِمْ وَدِينِهِمْ ‘ کی جگہ ’فَتَشَبَّهُوا بِأَخْلاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ ‘ کے الفاظ آئے ہیں (ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء، رقم 1097)۔ حسن بصری کے قول کے طور پر اسے آجری اور ابن عبد البر نے نقل کیا ہے اور اس میں آخری جملے کے الفاظ یوں ہیں: ’فَتَشَبَّهُوا بِأَخْلَاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ فَإِنَّهُمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ عَلَى الْهَدْيِ الْمُسْتَقِيمِ‘، ’’ان جیسے اخلاق اور ان جیسے طریقے اختیار کرو، کیونکہ رب کعبہ کی قسم، وہ راہ راست پر ہیں۔“(الآجری، الشریعہ، رقم 1984۔ الجامع فی بیان العلم وفضلہ، رقم 1117)

[باقی]