مواد پر جائیں

صحیحین میں مروی شہد كی كہانی كا جائزه (2)

تحریر:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / پیش کش:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

روایت عبید بن عُمیر

ابنِ جُرَیج مکی نے (جس کا اصل نام عبد الملک بن عبد العزیز بن جُرَیج ہے، یعنی جُرَیج اس کا دادا تھا) عطاء بن ابی رباح سے اور اس نے عُبید بن عمیر سے روایت کی ہے۔ عُبید نے کہا: میں نے عائشہ (صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (دن میں) زینب بنت جحش (رضی اللہ عنہا) کے یہاں زیادہ دیر ٹھہرتے اور اُن کے یہاں شہد نوش فرماتے تھے۔ پس میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے(آپ کو زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد پینے سے باز رکھنے کے لیے منصوبہ بنایا اور) باہم طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی(زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں سے آنے کے بعد) آپ تشریف لائیں تو اسے کہنا چاہیے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر گوند کی بُو محسوس کر رہی ہوں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے؟

(عُبید بن عُمیر نے کہا کہ) چنا نچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سے ایک کے یہاں گئے۔ (یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یا عائشہ رضی اللہ عنہا) تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی کہا۔ فرمایا: میں نے مغافیر نہیں کھایا، بلکہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد پیا ہے اور آیندہ ہرگز نہ پیوں گا۔ میں نے اس کی قسم کھالی ہے،تم اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ عُبید نے بتایا کہ سورۃ التحریم کی ابتدائی (پانچ) آیتیں اسی کے متعلق نازل ہوئیں۔ ’مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ‘ سے مراد شہد ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں پیا کرتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا و حفصہ رضی اللہ عنہا کی خوش نودی کی خاطر اس کے نہ پینے کی قَسم کھالی تھی۔ اور’وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا‘ میں ”حدیث“ سے مراد آپ کا اُن سے یہ فرمانا ہے کہ میں نے شہد نہ پینے کی قسم کھالی ہے، کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا اور ’اِنْ تَتُوْبَا‘ میں خطاب عائشہ رضی اللہ عنہا و حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔

صحیح بخاری میں یہ حدیث تین جگہ ہے: کتاب الایمان والنذور میں،کتاب التفسیر، سورۃ التحریم میں اور کتاب الطلاق میں۔کتاب الایمان اور کتاب الطلاق(رقم 5267) میں نسبتاً تام ہے، بہ ایں لفظ:

یَقُوْلُ (عُبید بْنُ عُمیر)سَمِعْتُ عَائشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَمْکُثُ عِنْدَ زَیْنَبَ رضی اللّٰہ عنہا اِبْنَۃِ جَحْشٍ رضی اللّٰہ عنہا وَیَشْرَبُ عِنْدَھَا عَسَلًا فَتَوَاصَیْتُ.(کتاب التفسیر میں فَوَاطَءْتُ ہے) أَنَا وَحَفْصَۃُ رضی اللّٰہ عنہا أَنَّ أَیَّتَنَا دَخَلَ عَلَیْھَا النَّبِیُّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّی أَجِدُ مِنْکَ رِیحَ مَغَافِیْرَ، أَکَلْتَ مَغَافِیْرَ؟ فَدَخَلَ عَلٰی إِحْدَاھُمَا فَقَالَتْ لَہٗ ذٰلِکَ فَقَالَ:’’ لَا، بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَیْنَبَ رضی اللہ عنہا بِنْتِ جَحْشٍ رَضِی اللّٰہ عَنہَا وَلَنْ أَعُوْدَ لَہٗ.‘‘ (کتاب التفسیر میں ہے: بَلْ کُنْتُ اَشْرَبُ عَسَلًا عِنْدَ زَیْنَبَ رَضِی اللّٰہ عَنہَا بِنْتَ جَحْشٍ رضی اللّٰہ عنہا فَلَنْ اَعُوْدَ لَہٗ وَقَدْ حَلَفْتُ، لاَ تُخْبِرِیْ بِذٰلِکَ اَحَدًا) فَنَزَلَتْ: ”یٰٓأَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہ لَکَ ( التحريم66: 1)… إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہ… (التحريم66 :4) لِعَائشَۃَ وَحَفْصَۃَ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ إِلٰی بَعْضِ أَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا (التحريم66 :3) لِقَوْلِہٖ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا.( بخاری: کتاب الایمان والنذور وکتاب الطلاق ص793 وکتاب التفسیر ص 729 طبع الہند)

بخار ی نے اس کے بعد متصلاًص793پر عروہ والی رِوایت تخریج فرمائی ہے اور اس طرح دونوں روایتیں پہلو بہ پہلو ثبت کر دی ہیں۔ اسی طرح مسلم(رقم 1474) نے بھی، اس لیے کہ قوتِ سند میں دونوں مساوی ہیں اور ایک روایت کو دوسری روایت پر ترجیح دینا مشکل ہے۔

میں کہتا ہوں کہ شیخین ’تَغَمَّدَ ھُمَا اللّٰہُ بِرَحْمَتِہٖ‘ کا یہ فیصلہ عقل و دِرایت اور اصولِ رِوایت کے خلاف ہے۔ جب دو ثقہ شخص اس انداز سے کسی بات کا ذکر کریں کہ دونوں کا بیان ٹکراؤ ر کھتا ہو اور دونوں کے بیان میں تطبیق کی کوئی صورت نہ ہو تو دونوں کی ذکر کر دہ بات کو نظر انداز کر دینا ضروری ہے کہ نہ اس کی بات صحیح ہے، نہ اس کی۔ اسی قاعدہ کو اہلِ علم نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے: ’اِذَا تَعَارَضَ الْخَبَرَانِ تَسَاقَطَا‘۔ امام بخاری ومسلم، دونوں اس سے واقف تھے کہ روایتِ عروہ اور روایتِ عبید بن عمیر شہد کی اس کہانی کے متعلق باہم صریح ٹکر اؤ اور تعارض رکھتی ہیں۔ روایت عروہ بتاتی ہے کہ شہد پلانے والی حضرت حفصہ بنتِ عمر رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے جل کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا و حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ ملا کر بوے مغافیر کا منصوبہ گانٹھا تھا۔ اور عبید بن عمیر کی روایت میں یہ مذکور ہے کہ شہد پلانے والی حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں، اُن کے خلاف بُوے مغافیر کا منصوبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا و حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، دونوں نے مل کر گانٹھا تھا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں روایتوں کو غلط قرار دے کر نظرانداز کر دیا جائے۔ بنا بریں، بخاری و مسلم پر لازم تھا کہ نہ عروہ کی روایت درجِ صحیح کرتے، نہ عبید کی روایت۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دونوں روایتیں محض غپ شپ ہیں۔اگر تنہا روایتِ عروہ ہی ہوتی تب بھی ہم اس کہانی کو غلط قرار دینے سے نہ ہچکچاتے اور اگر تنہا عبید کی روایت ہی ہوتی، تب بھی ہم اسے غپ شپ ہی بتاتے۔ اور جب کہ یہ دونوں روایتیں موجود ہیں تو دیگر تمام دلائل سے کہ جن کا میں ذکر کر چکا ہوں قطع نظر کر لینے کے باوجود بھی کسی عقل مندکو انھیں غلط قرار دینے میں تامل نہ ہونا چاہیے۔

پھر خاص عُبید بن عمیر کی روایت کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ اس کی روایت متصل و مرسَل کا ملغوبہ ہے۔ اس کے دعوے کے مطابق ’سَمِعْتُ عَائشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَمْکُثُ عِنْدَ زَیْنَبَ رضی اللّٰہ عنہا بِنْتِ جَحْشٍ وَیَشْرَبُ عِنْدَھَا عَسَلًا فَوَاطَئتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ أَنَّ أَیَّتَنَا دَخَلَ عَلَیْھَا النَّبِیُّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّی أَجِدُ مِنْکَ رِیحَ مَغَافِیْرَ، أَکَلْتَ مَغَافِیْرَ؟‘ متصل ہے۔عُبید نے کہا ہے کہ میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، لیکن اس کے بعد ’فَدَخَلَ عَلٰی إِحْدَاھُمَا فَقَالَتْ لَہٗ ذٰلِکَ ‘سے لے کر آخر تک عُبید کا اپنا بیان ہے۔ عُبید نے یہ نہیں کہا کہ یہ بھی میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا تھا، کیونکہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کہی ہوئی بات کے طور پر عُبید اسے ذکر کرتا تو ’فَدَخَلَ عَلٰی اِحْدَانَا‘ ہوتا۔ عربی داں لوگ تو اسے اچھی طرح سمجھتے ہیں، عربی نہ جاننے والوں کو جان لینا چاہیے کہ ’فَدَخَلَ عَلٰی اِحْدَانَا‘ کے معنی ہیں: ’’پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ہم دونوں“ میں سے ایک کے پاس تشریف لائے‘‘۔ اور ’فَدَخَلَ عَلٰی اِحَدَا ھُمَا‘ کے معنی ہیں: ’’پس آپ ”اُن دونوں“ میں سے ایک کے پاس تشریف لائے‘‘۔ پس جب کہ عُبید کی روایت میں ’فَدَخَلَ عَلٰی إِحْدَاھُمَا‘ہے تو یہ قطعاً عُبید کا مقولہ اور اس کی کہی ہوئی بات ہے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی نہیں ہے۔ بہ لفظ دیگر، یوں سمجھیے کہ عُبید کی روایت کا نصف اوّل سَماعی ہے۔ یہ کہ اس نے کہا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہانے باہم طے کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں میں سے جس کے پاس آئیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ بہ قول خود عُبید نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بس اتنا ہی سنا تھا،پھر اپنے قیاس سے قصّہ کی تکمیل کر ڈالی کہ ایسا ہی ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے، وہ بولیں: آپ کے مُنہ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد پیا ہے اور اب میں نے قسم کھالی ہے کہ آیندہ نہ پیوں گا، تم اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ محض اپنے قیاس سے قصہ کی تکمیل کر دینے کے بعد عبید نے عطاء بن ابی رباح کو، اور عطاء نے ابن جُریج کو یہ بتایا کہ سورۂ تحریم کی ابتدائی پانچ آیات کا شانِ نزول یہی قصہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:’ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ‘(التحريم66:1) آپ اپنی بیویوں کی خوش نودی کی خاطر اس چیز کو جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے(یعنی شہد کو) اپنے اُوپر کیوں حرام کر رہے ہیں؟ یعنی شہد تناول نہ کرنے کی قسم کیوں کھالی؟ اس واقعہ پر ڈانٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا و حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا ہے: ’اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قلُوْبُکُمَا‘(التحریم 66 :4) یعنی تم دونوں کو اپنی اس حرکت سے تو بہ کرنی چاہیے۔

لیکن حق یہ ہے کہ عبید بن عمیر کی یہ روایت اوّل سے آخر تک غلط ہی غلط ہے۔ اس کا نصف اوّل جو سماعی ہے، وہ بھی قطعاً غلط ہے اور نصف ثانی جو قیاسی ہے(مدرج ) وہ بھی قطعاً غلط ہے۔ اور اس حقیقت کی دلیل ہے کہ عبید بن عمیر نے نہ سورۂ تحریم کی ان ابتدائی 5 آیتوں کو غور و تامل سے پڑھا تھا، نہ وہ قرآن کریم کے اس طرزِ بیان سے واقف تھا کہ ’وَاِذْ‘ فرما کر قرآن میں ہر جگہ کوئی مستقل واقعہ بیان کیا گیا ہے، جو ما قبل میں ذکر فرمودہ واقعہ سے الگ ہوتا ہے۔ عبید بن عُمیر بن قتادہ لیثی جندعی مکی تابعی تھا اور وعظ گوئی اس کا مشغلہ تھا۔ واعظین عموماً روایات بیان کرنے میں غیر محتاط ہوتے ہیں۔ واعظین زیادہ تر کم علم لوگ ہوا کرتے ہیں اور اُن کے پیشِ نظر بس مخاطبین کو متاثر کرنا اور محفل میں گرمی بپاکر نا رہتا ہے۔ عبید بن عمیر کبھی تحصیلِ علم کی غرض سے مدینۂ منورہ نہیں گیا کہ حضرت اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے استفادۂ علم کی سعادت حاصل ہوتی۔ اُم المومنین رضی اللہ عنہا حج کی غرض سے مکہ مکرمہ تشریف لے جاتی تھیں۔ اُن کے مکہ میں قیام کے زمانہ میں عبید بن عمیر بھی حاضرِ خدمت ہوتا تھا۔ اس وقت عبید نابالغ بچہ تھا۔ تو کیا تصور کیا جا سکتا ہے کہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے کم سن عبید بن عمیر کو جو اُم المومنین کا کوئی عزیز قریب نہ تھا، اپنے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ایسی کہانی سنائی ہو جو کسی کو بھی اُنھوں نے زندگی میں نہیں سنائی تھی؟عقل اس سوال کا جواب قطعی نفی میں دیتی ہے۔ لہٰذا اس روایت کی اِسناد میں عبید بن عمیر کا ’سَمِعْتُ عَائشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا‘ کہنا غلط ہے۔ اللہ ہی جانے کہ یہ غلط بیانی خود عبید نے کی تھی یا عطاء بن ابی رباح نےیا ابن جریج نے۔ ابن جریج کثیر الحدیث محدّث تھا، مگر اس کی سیرت دو برائیوں سے داغ دار تھی: ایک یہ کہ رِوایت میں تدلیس کرنے کا عادی تھا۔تدلیس وہ خدا ناترس راوی کیا کرتے تھے جو کسی حدیث کے ضعیف ہونے سے واقف ہوتے، مگر چاہتے تھے کہ لوگوں میں وہ پھیل جائے اور وجہِ ضعف کا انھیں پتا نہ چلے۔ دوسری بات یہ تھی کہ مُتعہ کرنے کو نہ صرف جائز سمجھتا تھا، بلکہ عملاً اس پر کار بند بھی رہا۔ بقول امام شافعی ابن جریج نے اپنی زندگی میں ستّر(70)عورتوں سے متعہ کیا تھا۔ ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں ہے: ’وَقَالَ الشَّافِعِیُّ اِسْتَمْتَعَ ابْنُ جُرَیْحٍ بِسَبْعِیْنَ امْرَأۃ‘ (6/360)

اور اہلِ علم جانتے ہیں کہ متعہ زنا کی ہی ایک صورت ہے۔ ہاں، اہلِ رِفض و تشیع اسے جائز و کارِ ثواب قرار دیتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ابن جریج در اصل را فضی عقیدہ کا شخص تھا۔ ہاں تقیہ کر کے اپنے رِفض پر پردہ ڈالے ہوئے تھا۔ پس ہو سکتا ہے کہ عطاء بن ابی رباح نے تو اس کی اسناد میں ’یَقُوْلُ (عُبید بْنُ عُمیر)عَنْ عَائشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا‘ کہا ہو اور ابن جریج نے اس غلط اور جھوٹی روایت کو لوگوں میں پھیلانے کی غرض سے ’عَنْ عَائشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا‘ کی جگہ ’سَمِعْتُ عَائشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا‘ کہہ دیا ہو، کیونکہ اس روِایت سے حضرت اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق لوگوں میں بد گمانی پیدا کرنا اُسے مقصود تھا، اس لیے کہ اہل رِفض و تشیع حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سخت بغض و عداوت رکھتے ہیں۔

بہر کیف، عبید بن عمیر کی روایت کا نصف اوّل جو سماعی ہے، یقیناً وہ اس نے حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا۔ اُم المومنین رضی اللہ عنہا اَن ہو ا قصہ کیسے بیان کر سکتی تھیں؟ اللہ ہی جانے کہ عبید بن عمیر نے یہ جھوٹی اور بے ہودہ کہانی کس سے سنی تھی؟ اور کسے باشد تھا وہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے بغض رکھنے والا ہے۔ رہا اس کی روایت کا نصف ثانی جو قیاسی ہے تو وہ بھی شروع سے آخر تک قطعاً غلط ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ شہد کا یہ قصہ پیش آیا تھا، خواہ اس طرح جیسے عروہ کی روایت میں ہے، خواہ اس طرح جیسے عبید بن عمیر کی روایت میں ہے، بہر کیف اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ‘ (التحریم66 :1)کا اس قصہ سے ذرا بھی تعلق نہیں ہے، اس لیے کہ قرآن مجید میں یہ قصہ زیرِ تبصرہ لایا جاتا تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے’لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ‘نہ فرماتا، کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شہد ترك كيا تھا یا جیسا کہ عبید بن عمیر کی روایت میں ہے، اسے آیندہ نہ پینے کی قسم کھا لی تھی تو اس کا باعث بیویوں کی رضا جوئی نہ تھی، بلکہ بوے بد سے کراہت اس کا باعث تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے’لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ‘ فرمانا بے جا ہوتا، حالاں کہ قرآنِ مجید کے کسی لفظ کے متعلق تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بے جا و بے محل ہے۔ پس یہ غلط بات جس بات سے لازم آرہی ہے، وہی غلط ہے، اس لیے ماننا پڑے گا کہ ان آیات کا اس قصہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے شہد کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ‘ نہیں فرمایا تھا۔

اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر نکیر فرمائی ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا یا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کا شہد پینا خود پر حرام کر لیا تھا اور اسے نہ پینے کی قسم کھالی تھی تو ’لِمَ حَرَّمْتَ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ‘ فرمایا جاتا، ’حَرَّمْتَ‘ (صیغۂ ماضی) کی جگہ ’تُحَرِّمُ‘(صیغۂ مضارع) ارشاد نہ ہوتا۔

جس شخص کو قرآن مجید سمجھنے کی کچھ بھی توفیق ملی ہے، وہ جانتا ہے کہ قرآنِ عزیز میں ’وَاِذْ‘ کہہ کر جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، وہ ماقبل میں ذکر کی ہوئی بات سے الگ اور مستقل واقعہ ہوتا ہے۔ سورۂ بقرہ کا چھٹا، ساتواں، آٹھواں رکوع ہی پڑھ لیا جائے تو یہ حقیقت خوب واضح ہو جائے گی۔ اس کا مقتضا یہ ہے کہ سورۂ تحریم میں ’وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا‘ (التحریم66 :3) فرما کر جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اس واقعہ سے الگ ہے جس کی طرف ’یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ‘ میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن عبید بن عمیر نے فہم قرآن سے نا آشنا ہونے کی بنا پر آیت’وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ‘ کو بھی شہد کی اس بے اصل اور جھوٹی کہانی سے جوڑ دیا ہے۔

ان آیات اور پوری سورۂ تحریم کی واضح و مفصل تفسیر میری کتاب ”مفتاح القرآن“ (جلد پنجم) میں پڑھیے۔ یہاں میں یہ بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ ان آیات میں ازواجِ مطہرات سے متعلق دو واقعوں کا ذکر ہے۔

پہلا و اقعہ

پہلا واقعہ یہ ہے کہ بیویوں کی خوش نودی کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو ایسی چیز سے محروم کر لینا اور دست کش ہو جانا چاہتے تھے جسے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال قرار دیا تھا۔ اس سے مراد ہے: حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے جسمانی تعلق۔ حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز تھیں۔ ان کے بطن سے صاحب زادے ابراہیم پیدا ہوئے تو وہ ازواجِ مطہرات کے لیے باعثِ رشک بن گئیں۔ اُن کی طرف سے مطالبہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماریہ رضی اللہ عنہا سے صحبت و مباشرت کا تعلق نہ رکھیں۔ اس مطالبہ کی بنیاد یہ تھی کہ آقا پر شرعاً اپنی کنیز سے ہم بستر ہونا لازم نہیں۔ اور شوہر پر منکوحہ بیوی کا یہ حق لازم ہے۔ اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں تو اُن میں سے کسی کے لیے شرعاً جائز نہیں کہ شوہر سے یہ مطالبہ کرے کہ دوسری بیوی سے، یعنی سوت سے مباشرت کا تعلق نہ رکھو۔ یہ مطالبہ چونکہ حق تلفی کا مطالبہ ہے، اس لیے نا جائز ہے، لیکن اگر کسی شخص کے پاس بیوی بھی ہو اور کنیز بھی ہو اور بیوی شوہر سے مطالبہ کرے کہ تم اپنی کنیز سے جسمانی تعلق نہ رکھو تو بیوی کا یہ مطالبہ شرعاً نا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ مطالبہ حق تلفی کا مطالبہ نہیں ہے۔ لیکن بیوی کا یہ مطالبہ ماننے،نہ ماننے کا شوہر کو اختیار ہے۔ چاہے مانے، چاہے نہ مانے۔ پس اُمہات المومنین کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے کنارہ کش رہا کریں، شرعاً نا جائز نہ تھا اور اس مطالبہ کو ماننا، نہ ماننا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ بیویوں کی یہ بات مان لینے میں کیا مضائقہ ہے؟ مگر اللہ تعالیٰ کو آپ کا یہ خیال پسند نہ آیا، کیونکہ بیویوں کو آپ کی رضا کا طالب ہونا چاہیے، نہ کہ اُلٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی رضا کے طالب ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کر کے فرمایا:

’یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ‘(التحريم66: 1)’ اے نبی،تو کیوں محروم کرے (خود کو) اس سے، جسے اللہ نے تیرے لیے جائز قرار دیا ہے۔‘‘، ’تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ“، ’’تو اپنی بیویوں کی خوش نودی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی بیویوں کو آپ کی خوش نودی حاصل کرنے کا فکر و اہتمام رکھنا چاہیے، نہ کہ آپ کو اُن کی خوش نودی کا اتنا فکر واہتمام ہو کہ ایک جائز چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دست بردار ہو جائیں۔ ’وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘(التحريم 66: 1)’’ اور اللہ بڑا معاف کر دینے والا، رحمت والا ہے۔‘‘، یعنی آپ کی بیویوں نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے بجا فرمایش مسلط کرنا چاہی ہے۔ اگر چہ ان کا طرز ِعمل نازیبا ہے، لیکن آپ ان کے قصور سے در گذر فرمائیں۔ اللہ غفورو رحیم ہے تو اس کے نبی کی بھی یہی شان ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ ازواجِ مطہرات کے مطالبہ پر حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے تعلق ترک کر دینے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیال ہی فرما رہے تھے، ترک ِتعلق کیا نہیں تھا، کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات کا مطالبہ مان لیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے’لِمَ حَرَّمْتَ‘فرماتا۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ’لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ‘ فرمانا مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کر سکتا تھا کہ ہم جو کسی مباح کام کو کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھا لیتے ہیں تو چونکہ یہ بھی ’تَحْرِیمُ مَآ أَحَلَّ اللّٰہُ ‘ہے، لہٰذا ہمیں کسی مباح کام کو کرنے یانہ کرنے کی قسم نہیں کھانی چاہیے۔ اس اُبھرسکنے والے خیال کا ازالہ کرنے کے لیے مسلمانوں سے خطاب کر کے فرمایا:

’قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَا نِکُمْ ‘(التحريم66 :2) ’’ا للہ نے تمھارے لیے مقرر کر دیا ہے تمھاری قَسموں کی حرمت ختم کرنے کا طریقہ‘‘۔ یعنی قسم کھا کر جس مباح کام کو تم اپنے اوپر حرام کر لیتے ہو تو اگر حسبِ سابق اس کام کو اپنے لیے جائز کر لینا منظور ہو تو اس کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے طے فرما دیا ہے،جس کا ذکر سورۂ مائدہ میں ہو چکا ہے،یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انھیں لباس دے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں میں سے کسی کی بھی استطاعت نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا۔ یہ قسم کا کفارہ ہے اور اس کی ادائیگی قسم توڑنے سے واجب ہوتی ہے۔ قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دیا تو قسم توڑنے کا گناہ ذِمہ نہ لگے گا۔ اس تصریح سے واضح ہوگیا کہ کوئی مباح کام کرنے یانہ کرنے کی قسم کھا لینا جائز ہے۔

وَاللّٰہُ مَوْلٰکُمْ وَھُوَ الْعَليْمُ الْحَکِیْمُ.

(التحریم 66: 2)

’’ اور اللہ تمھارا آقا ہے اور وہ عِلم والا، حکمت والا ہے۔‘‘

دوسرا واقعہ

دوسرا واقعہ اِنھی ایام میں یہ پیش آگیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کوئی بات بہ طورِ راز کہی تھی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ خیال کر کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بہت چاہتے ہیں، اس لیے ان کو یہ بات بتا دینے میں کوئی حرج نہ ہوگا، وہ بات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتادی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطلع کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بیوی سے راز کی بات کہی تھی، اس نے وہ بات فلاں بیوی کو بتادی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکایتی انداز میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم نے وہ بات کسی کو بتادی،راز کو راز نہ رکھا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہابجاے اس کے کہ اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار فرماتیں، بولیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا؟ انھیں خیال ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہوگا کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ بتایا ہے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور کسی سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر نہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی خبراس نے دی ہے جو سب کچھ جانتا اور ہر کھُلی چھُپی چیز سے باخبر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی اس غلطی کو چنداں اہمیت نہ دی اور اس پر ندامت کا اظہار نہ کیا۔ سیدہ عائشہ و سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما میں با ہم بڑی گہری محبت تھی۔ حضرت ماریہ رضی اللہ عنہاسے قطع تعلق پر اصرار کرنے میں دونوں ہم نوا اور پیش پیش تھیں۔ اس پر یہ واقعہ مستزاد ہوا۔ فرطِ ملال کے باعث حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے ایک ماہ الگ رہنے کی قسم کھالی۔ چنانچہ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے: ’اَنَّ النَّبِیَّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَّا یَدْخُلَ عَلٰی بَعْضِ اَھْلِہٖ شَھْرًا‘ (صحیح بخاری، طبع ہند، کتاب النکاح)۔

’بَعْض اَھْلِہٖ‘ سے مراد حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں۔ شوہر کا اپنی بیوی سے الگ رہنے کی قسم کھا لینا اصطلاح میں اِیلا کہلاتا ہے۔ اِیلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بیویوں سے نہیں، بلکہ صرف دو سے کیا تھا، لیکن عملاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک سب سے کنارہ کش اور بالا خانہ پر مقیم رہے تھے۔ اسی لیے متعدد حدیثوں میں اس کا اِطلاق کے ساتھ ذکر ہو گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے اِیلا فرمایا تھا۔ کم علم مفسرین اور سیرت نگاروں نے غلط لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ازواج سے اِیلا فرمایا تھا۔ ہاں تو اس دوسرے واقعہ کے متعلق، یعنی اِفشاے راز کے واقعہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا ‘(التحريم 66: 3) ’’اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تھی۔‘‘، یعنی فرما دیا تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ ’فَلَمَّا نَبَّاَتۡ بِہٖ وَ اَظۡہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیۡہِ عَرَّفَ بَعۡضَہٗ وَ اَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ ‘(التحريم66 : 3) ’’پس جب اُس نے اِس بات کی (دوسری بیوی کو)خبر دے دی اور اللہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر کر دیا تو نبی نے اس سے کچھ بات کا تذکرہ کیا کچھ کا نہیں کیا‘‘، یعنی بس اجمالی طور پر فرمایا کہ دیکھو تم نے وہ بات کسی کو بتا دینے کی غلطی کی ہے۔ ’فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَکَ ہٰذَا‘( التحريم: 3) ’’پس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے اِس کا ذکر کیا تو بولی: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟‘‘ ’قَالَ نَبَّاَنِیَ الۡعَلِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ‘(التحريم66: 3) ’’فرمایا: مجھے دانا و با خبر(ذاتِ حق) نے بتائی ہے۔ وہ راز کی بات کیا تھی؟ اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘ اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ عمر بھرکسی سے اس کا ذکر نہیں کیا، نہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمر بھر اسے زبان پر لائیں۔ نہ کسی صحابی نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے دریافت کرنے کی ضرورت سمجھی، اس لیے ہمیں بھی اس کی کھوج میں نہ پڑنا چاہیے۔ کوئی اس کا کھوج لگا بھی نہیں سکتا،کیونکہ نہ قرآنِ کریم میں اس کا ذکر ہے، نہ کسی صحیح حدیث میں، نہ کسی صحابی نے اس کے متعلق لب کشائی کی ہے۔

اکنوں کِرا دماغ کہ پُرسَد زِ باغباں

بلبل چہ گُفت و گل چہ شَنید و صباچہ کرد

کتبِ تفسیر میں اناپ شناپ کچھ اقوال ضرور مذکور ہیں، جو قطعاً نا قابلِ اعتبار ونا سزاے التفات ہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بس حضرت عمر رضی اللہ عنہا کا یہ قول مذکور ہے: ’وَکَانَ قَدْ اَقْسَمَ اَنْ لاَّیَدْخُلَ عَلَیْھِنَّ شَھْرًا، فَاعْتَزَلَ النَّبِیُّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ حِیْنَ اَفْشَتْہُ حَفْصَۃُ لِعَائشَۃَ تَسْعًا وعِشْرِیْنَ لَیْلَۃ‘(بخاری، رقم2468، رقم 5191۔ مسلم، رقم 1479)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات سے ایک ماہ تک الگ رہنے کی قسم کھا لی تھی اس بات کی وجہ سے جس کا حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر دیا تھا۔ ہماری ان دونوں محترم ماؤں سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا وَ اِنۡ تَظٰہَرَا عَلَیۡہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوۡلٰىہُ وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَعۡدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ‘(التحریم 66: 4)،’’اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کر لو(تو بہتر ہوگا کیونکہ) تمھارے دل جھک گئے ہیں اس رویہ کی طرف جو تمھارے شایانِ شان نہیں ہےاور اگر تم دونوں اس کے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف اِیکا کروگی تو(اللہ کے نبی کا کچھ نہ بگاڑ سکو گی کیونکہ) بے شک اللہ خود اس کا حمایتی ہے اور جبریل اور نیک اہلِ ایمان۔ اور اس کے بعد یہ سن لو کہ فرشتے پشت پناہ ہیں۔ ‘‘

یعنی تمھارے لیے دو راستے ہیں: ایک صحیح، ایک غلط۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ اللہ سے توبہ کرو۔ رشک وغیرت کے جوش نے تمھارے دلوں کو غلط رُخ دے دیا ہے، اسے محسوس کر کے اپنی اصلاح کر لو۔ اور غلط راستہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل آزاری کرنے میں اِیکا کر لو اور اس کوشش میں لگی رہو کہ آپ وہ کریں جو تم چاہو۔ اس رویہ کا نتیجہ تمھارے حق میں برا نکلے گا۔ اس غلط راہ پر چل کر تم اللہ کی عنایت سے، فرشتوں کی دُعا سے اور مومنین کی محبت سے محروم ہو جاؤ گی، حتیٰ کہ اپنے گرامی مرتبہ باپوں کی نگاہوں سے بھی گر جاؤ گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کے شرف سے محروم کر دی جاؤ گی اور اس خام خیالی میں نہ رہنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو تم جیسی اور بیویاں نہ مل سکیں گی۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں طلاق دے دیں گے تو اللہ اپنے رسول کو تم سے بہتر خوش خِصال بیویاں مرحمت فرما دے گا۔

یہ دونوں واقعے بجاے خود چنداں اہم اور غیر معمولی نہ تھے، لیکن ازواجِ مطہرات معمولی خواتین نہ تھیں۔ عام مومن عورتوں کی سطح سے بہت اونچی شان کی حامل تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس عظیم المرتبہ ہستی کی زوجیت کا شرف عطا فر مایا تھا جو ”بعد اَز خدا بزرگ تُوئی قصّہ مختصر“کی مصداق ہے، اس لیے ان معمولی سی دوباتوں پر اللہ تعالیٰ نے اُن کی ایسی سخت گرفت فرمائی کہ قیامت تک پڑھے جانے والے قرآن میں اُن کا ذکر کر دیا تا کہ خود وہ بھی عمر بھر ان آیتوں کو وقتاً فوقتاً پڑھتی اور شرمندہ ہوتی رہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی تھی۔ کاش! ہم سے یہ غلطی سرزد نہ ہوئی ہوتی۔ اور وہ راز کی بات کہہ دینے والی اُم المومنین رضی اللہ عنہا افسوس کیا کریں کہ کاش! میں اس غلطی کا ارتکاب نہ کرتی اور اُمہات المومنین کے بیٹے اور بیٹیاں، یعنی تمام مومن مرد اور تمام مومن عورتیں ان آیتوں کو پڑھ کر اپنی بزرگ مرتبہ ماؤں کی روشن و پاکیزہ سیرت کے چہرے پر یہ دو تِل دیکھ لیا کریں۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی رَسُوْلِکَ مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اَزْوَاجِہٖ کَمَا تُحِبُّ وتَرْضٰی عَدَدَ مَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی.