مواد پر جائیں

صلاۃ التسبیح: فقہ وحدیث کی روشنی میں

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

[ایک تحقیقی مطالعہ]

(10)

خلاصہ ونتائجِ بحث

1۔’صلاۃ التسبیح‘ کو مسلمانوں نے اِس نام سے اِس لیے موسوم کیا ہے کہ اِس نماز میں تسبیحات کا وِرد بہ کثرت و تکرار ہوتا ہے۔

2۔ یہ چار رکعتوں پر مشتمل منفرد طرز پر پڑھی جانے والی ایک نفل نماز ہے۔

3۔ دین میں اِس نماز کی مشروعیت کے بارے میں علما وفقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم اِس کو ایک پسندیدہ نفل نماز قرار دیتے ہیں اور اپنے استدلال کے طور پر وہ اِس باب میں مروی بعض قولی احادیث پیش کرتے ہیں۔یہ موقف عبد اللہ بن مبارک، بعض علماے شافعیہ، مثلاً بغوی، غزالی،محاملی، سبکی، ہيتمی اور حنفیہ میں سے ابن عابدين سے منقول ہے۔

4۔ بہت سے فقہا و محدثین اورمحققین کا موقف یہ ہے کہ ’صلاۃ التسبیح‘ ایک غیر مشروع نماز ہے، اِس لیے کہ اِس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے اور یہ کہ یہ نماز سنت میں معروف نماز کی ادائیگی کی مجموعی ہیئت سے مختلف طریقے پر ادا کی جاتی ہے۔یہ موقف امام احمد، امام ترمذی، امام ابو جعفر العقیلی، قاضی ابو بکر ابن العربی، علامہ ابن الجوزی، فقہاے حنابلہ، بعض فقہاے حنفیہ، امام ابن تیمیہ،ابن عبدالہادی، سراج الدين القزوينی، ابن دِحیہ الکلبی، حافظ ابن حجر العسقلانی، علامہ شوکانی، محمد الامیر المالکی، امام ابن باز اور علامہ ابن عثیمین نے اختیار کیا ہے۔

5۔ علما کے اِس اختلاف کا اصل سبب اِس نماز کے بارے میں منقول احادیث کا ثبوت یا عدم ثبوت ہے۔

6۔ جن اہل ِعلم کی راے میں اِس باب کی روایتیں قابلِ قبول ہیں، وہ اِس نماز کی مشروعیت کے قائل ہیں اور جن کے نزدیک فضائل و نوافل کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث قبول کی جاسکتی ہے، وہ احادیثِ باب کے ضعف کا اعتراف کرتے ہوئے بھی اِس نماز کی ادائیگی کو جائز سمجھتے ہیں۔

7۔ جن محققین کے نزدیک اِس نماز سے متعلق نہ کوئی روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ فضائل کے عنوان سے اِس طرح کوئی نماز دین میں مشروع ہوسکتی ہے، وہ اِس کو ایک غیر ثابت اورغیر مشروع نماز قرار دیتے ہیں۔

8۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر میں یہ نماز کبھی پڑھی ہو؛ حدیث وآثار اور سیرت و تاریخ کے تمام مراجع اِس بات سے یکسر خاموش ہیں۔ یعنی آپ کا اِس پرعمل قطعاً کہیں منقول نہیں ہے؛ نہ کسی مستند روایت میں اور نہ کسی ’ضعیف‘ یا من گھڑت حدیث میں۔

9۔ یہ واقعہ ہے کہ اِس نماز کے بارے میں جو کچھ مروی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب چند قولی روایتیں ہی ہیں۔

10۔ بہ شمول خلفاے راشدین کے، پورے طبقۂ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی صحابی سے ’صلاۃ التسبیح‘پڑھنا ثابت نہیں ہے۔

11۔ طبقۂ تابعین کے عمل میں ابو الجوزاءاوس بن عبد الله ربعی کے سوا، اِس نماز کو پڑھنے کا کہیں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

12۔ اکثرمحدثین نے اپنی مولفاتِ حدیث میں ’صلاۃ التسبیح‘ سے متعلق کوئی ایک روایت بھی نقل نہیں کی ہے،جن میں موطا مالک، الآثار، ابو یوسف، الآثار، محمد بن الحسن شیبانی، مسند طیالسی، مسند شافعی، مسند حمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند اسحاق، مسند احمد، سنن دارمی،صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند بزار، سنن النسائی الصغریٰ، سنن النسائی الکبریٰ، مسند ابی یعلیٰ، شرح معانی الآثار، طحاوی، شرح مشکل الآثار، طحاوی، صحیح ابن حبان اور سنن دارقطنی جیسی مقبول و معتمد کتب بھی شامل ہیں۔

13۔ فقہاے اربعہ میں سے کسی امام نے ’صلاۃ التسبیح‘ کی اِس نماز کو مستحب قرار دیا ہو، مراجعِ فقہ میں اِس بات کا بھی کہیں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

14۔ فقہاے اربعہ میں سے امام احمد نے اِس نماز کے ثبوت کی صراحتًانفی کی ہے۔

15۔ اِس نماز کے ثبوت اور اِس کی مشروعیت کے بارے میں امام ابو حنیفہ اور اُن کے تلامذہ سے کوئی قول یا فعل منقول نہیں ہے۔

16۔ فقہ مالکی اور فقہ حنفی کے مراجع بھی بالعموم ’صلاۃ التسبیح‘ کی شرعیت واستحباب کے ذکر سے خالی ہیں۔

17۔ دوسری صدی ہجری سے تیرھویں صدی ہجری تک کے جمہور فقہاے حنفیہ کی تمام مدوناتِ فقہیہ اور امہاتِ کتب اِس نماز کے ذکر سے بالکل خاموش ہیں۔

18۔ حنفیہ کے ائمۂ متقدمین میں سے جن نمایاں فقہا نے اِس نماز کو بالکل ناقابلِ ذکر سمجھا، اُن کے نام یہ ہیں: امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام طحاوی، ابو بکر جصاص، ابو اللیث سمرقندی، امام قدوری، امام سرخسی، علاء الدین سمرقندی، برہان الدین مرغینانی، ابو البرکات نسفی، فخر الدین زیلعی۔

19۔ چوتھی صدی ہجری میں امام ابو بکر محمد بن فضل بخاری حنفی نے اِس نماز کے غیر مشروع ہونے کی صراحت کی ہے۔

20۔ متاخرین حنفیہ میں سے جس نے بھی صلاۃ التسبیح کا ذکر کیا ہے یا اِس نماز کو مستحب کہا ہے، حدیثِ باب کو دیکھ کر اپنی ذاتی راے کے طور پر کہا ہے، اِس باب میں اُن کے پاس متقدمین ائمۂ حنفیہ کے کسی قول کا کوئی حوالہ موجود ہے، نہ فقہِ حنفی کے امہاتِ متون میں اِس کی تشریع و استحباب کا کوئی شاہد پایا جاتا ہے۔

21۔ فقہِ مالکی کے جدید وقدیم مراجع بھی نہ صرف یہ کہ ’صلاۃ التسبیح‘ کے ذکرسے ساکت ہیں، بلکہ بعض فقہاے مالکیہ نے صراحت کی ہے کہ اِس باب میں مالکی مذہب کے فقہا کی معتمد راے وہی ہے جو قاضی ابو بکر ابن عربی نے اِس کے عدمِ ثبوت اور عدمِ مشروعیت کی صراحت کے ساتھ بیان کی ہے۔

22۔ صلاۃ التسبیح کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب قولی روایتیں متعدد صحابہ سے نقل ہوئی ہیں،لیکن فنِ حدیث کی رو سے کسی بھی صحابی کی روایت کا کوئی ایک طریق بھی ’صحیح‘ یا ’حسن‘ کے درجے میں ثابت نہیں ہے کہ اُس کو قولِ رسول قرار دیا جا سکے۔

23۔ اِس باب کی تمام روایتیں بہ شمول اپنے تمام طرق کے محض ’ضعیف‘ نہیں ہیں، بلکہ ’منکر‘ بالکل واہی، انتہائی کم زور اور بہت سے طرق من گھڑت بھی ثابت ہوئے ہیں۔ چنانچہ جاننا چاہیے کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں علمی طور پر یہ بات قطعًا پیش نہیں کی جاسکتی کہ فضائل کے باب میں چونکہ ضعیف حدیث قابلِ قبول ہوتی ہے،اِس لیے یہ نماز مشروع سمجھی جاسکتی ہے۔

24۔ قواعدِ علم روایت کی رو سے تمام احادیثِ باب تعدد ِطرق وشواہد کے باوصف بالکل غیر مستند اور غیر ثابت ہیں۔

25۔ سند کے علاوہ روایاتِ باب کے متون میں بہت سےاضطرابات بھی ہیں، جن سے اُن کے باہم اختلافات وتضادات بھی متحقق ہوئے ہیں۔

26۔ صلاۃ التسبیح کی روایتوں کے متون میں درایت کے اعتبار سے بھی متعدد پہلوؤں سے شذوذ و غرابت پائی جاتی ہے۔اور اِس سے بھی اُن کا نا قابلِ اعتبار ہونا متحقق ہوتا ہے۔

27۔ زیرِ نظر تحقیق کی بنیاد پر یہ بات پورے علمی وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ قواعدِ علم روایت و درایت کی رو شنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اِس نماز کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔

28۔ قدیم ومعاصر علما، محدثین اور محققین کی ایک بڑی تعداد نے’ صلاۃ التسبیح‘ کی روایتوں کو غیر ثابت اور اِس نماز کو غیر مشروع قرار دے کر وہی موقف اختیار کیا ہے جو راقم الحروف کی زیرِ نظر مفصل تحقیق سے ثابت ہوا ہے۔

اللّٰهم أرنا الحق حقًّا، وارزقنا اتباعه

وأرنا الباطل باطلًا، وارزقنا اجتنابه.

’’اے اللہ، ہمیں حق کو حق ہی کی صورت میں دکھا اور اِس کی پیروی نصیب فرما۔اور باطل کو ہمارے سامنے باطل ہی کی صورت میں واضح فرما اور اِس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘