مواد پر جائیں

صلاۃ التسبیح: فقہ وحدیث کی روشنی میں

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

[ایک تحقیقی مطالعہ]

(2)

صلاۃ التسبیح: مراجعِ فقہِ حنفی میں

کتبِ حدیث کی طرح فقہِ اسلامی کے مراجع میں بھی اِن کے مولفین کا یہ عام طریقہ ہے کہ دین کے متنوع احکام وآداب کو وہ موضوعات کے لحاظ سے اپنی تصانیف میں کتب، ابواب، فصول یا مطالب کی تقسیمات میں رکھ کر اِن کے فقہی احکام ومسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا فعل سے روایت ہونے والی نفل وتطوع نمازوں کے ابواب، فصول یا مطالب بھی فقہا بالعموم ’کتاب الصلاۃ‘ کے تحت باقاعدہ بیان کرتے اور اِن کے فقہی احکام و مسائل کو بھی الگ الگ زیرِ بحث لاتے ہیں۔

چنانچہ راقم سطور نے ’صلاۃ التسبیح‘ سے متعلق تحقیق کرتے ہوئے یہ چاہا کہ اِس حوالے سے سب سے پہلے نہ صرف یہ کہ فقہِ حنفی کے مصادر کی مراجعت کی جائے ، بلکہ اِس کی بارہ صدیوں کی مطبوع تمام کتب ومراجع کو بالاستیعاب دیکھا جائے کہ آیا اِن میں ایک مستقل نفل نماز کی حیثیت سے ’صلاۃ التسبیح‘ کا ذکر وبیان کہیں موجود ہے یا نہیں۔ کیا اِس نماز کے باب میں منقول روایات کو فقہاے حنفیہ بھی بہ طور استدلال پیش کرتے ہیں یا نہیں؟ صدرِ اوّل سے یہ نماز فقہِ حنفی کے کن مراجع میں زیرِ بحث آئی ہے اور کون سی مدوناتِ فقہِ حنفی ہیں جو اِس نماز کے ذکر سے بالکل ساکت ہیں؟

سو جب فقہِ حنفی کے مراجع کو دوسری صدی ہجری کے کبارِ ائمۂ حنفیہ کی کتابوں سے تیرھویں صدی ہجری تک کے فقہی مدونات میں اِس نماز کے شواہد کو بالاستیعاب تلاش کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ دوسری صدی ہجری سے 12 سو سال تک فقہِ حنفی کی امہاتِ کتب سمیت جو مراجع اِس نماز کے نام کے ذکر تک سے بالکل خاموش ہیں، اپنی زمانی ترتیب کے ساتھ وہ یہ ہیں:

1۔ الآثار، أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم الأنصاري (المتوفى:182ھ)

2۔الآثار، محمد بن الحسن الشيباني (المتوفى:189ھ)

3۔الأصل المعروف بالمبسوط، محمد بن الحسن الشيباني (المتوفى:189ھ)

4۔الجامع الصغير، محمد بن الحسن الشيباني (المتوفى:189ھ)

5۔الحجة على أهل المدينة، محمد بن الحسن الشيباني (المتوفى:189ھ)

6۔شرح معاني الآثار، أبو جعفر أحمد بن محمد الأزدي الحجري المصري الطحاوي (المتوفى:321ھ)

7۔شرح مشكل الآثار، أبو جعفر أحمد بن محمد الأزدي الحجري المصري الطحاوي (المتوفى:321ھ)

8۔شرح مختصر الطحاوي، أحمد بن علي أبو بكر الرازي الجصاص الحنفي (المتوفى: 370ھ)

9۔عيون المسائل للسمرقندي الحنفي، أبو الليث نصر بن محمد بن أحمد السمرقندي (المتوفى:373ھ)

10۔التجريد للقدوري، أحمد بن محمد بن أحمد أبو الحسين القدوري (المتوفى:428ھ)

11۔مختصر القدوري، أحمد بن محمد بن أحمد أبو الحسين القدوري (المتوفى:428ھ)

12۔النتف في الفتاوى، أبو الحسن علي بن الحسين بن محمد السُّغْدي الحنفي (المتوفى:461ھ)

13۔النكت، محمد بن أحمد بن أبي سهل شمس الأئمة السرخسي (المتوفى:483ھ)

14۔المبسوط، محمد بن أحمد بن أبي سهل شمس الأئمة السرخسي (المتوفى: 483ھ)

15۔تحفة الفقهاء، محمد بن أحمد أبو بكر علاء الدين السمرقندي (المتوفى: نحو540ھ)

16۔طريقة الخلاف في الفقه بين الأئمة الأسلاف، محمد بن عبد الحميد الأسمندي (المتوفى:552ھ)

17۔شرح النكت، أحمد بن محمد العتابي البخاري زين الدين الحنفي (المتوفى: 586ھ)

18۔فتاوى قاضيخان، فخر الدين حسن بن منصور الأوزجندي الفرغاني الحنفي (المتوفى:592ھ)

19۔بداية المبتدي في فقه الإمام أبي حنيفة، علي بن أبي بكر بن عبد الجليل الفرغاني المرغيناني، برهان الدين (المتوفى:593ھ)

20۔الهداية في شرح بداية المبتدي، علي بن أبي بكر بن عبد الجليل الفرغاني المرغيناني، برهان الدين (المتوفى:593ھ)

21۔تحفة الملوك (في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة النعمان)، زين الدين أبو عبد اللّٰه محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي (المتوفى:666ھ)

22۔الاختيار لتعليل المختار، عبد اللّٰه بن محمود بن مودود الموصلي البلدحي مجد الدين أبو الفضل الحنفي (المتوفى:683ھ)

23۔اللباب في الجمع بين السنة والكتاب، جمال الدين أبو محمد علي بن أبي يحيى زكريا الأنصاري الخزرجي المنبجي (المتوفى:686ھ)

24۔منية المصلي وغنية المبتدي، أبو عبد اللّٰه محمد بن محمد الكاشغري الحنفي (المتوفی: 705ھ)

25۔كنز الدقائق، أبو البركات عبد اللّٰه بن أحمد بن محمود حافظ الدين النسفي (المتوفى:710ھ)

26۔تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشِّلْبِيِّ، عثمان بن علي بن محجن البارعي فخر الدين الزيلعي الحنفي (المتوفى:743ھ)

27۔شرح الوقاية، عبيد اللّٰه بن مسعود بن تاج الشريعة المحبوبي (المتوفى:747ھ)

28۔الغرة المنيفة في تحقيق بعض مسائل الإمام أبي حنيفة، عمر بن إسحق بن أحمد الهندي الغزنوي، سراج الدين، أبو حفص الحنفي (المتوفى:773ھ)

29۔التنبيه على مشكلات الهداية، صدر الدين عليّ بن عليّ ابن أبي العز الحنفي (المتوفى:792ھ)

30۔الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، أبو بكر بن علي بن محمد الحدادي العبادي الزَّبِيدِيّ اليمني الحنفي (المتوفى:800ھ)

31۔المعتصر من المختصر من مشكل الآثار، يوسف بن موسى بن محمد أبو المحاسن جمال الدين المَلَطي الحنفي (المتوفى:803ھ)

32۔منحة السلوك في شرح تحفة الملوك، أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى بدر الدين العينى (المتوفى:855ھ)

33۔فتح القدير (شرح الهداية)، ابن الهمام كمال الدين محمد بن عبد الواحد السيواسي (المتوفى:861ھ)

34۔درر الحكام شرح غرر الأحكام، محمد بن فرامرز بن علي الشهير بملا خسرو (المتوفى:885ھ)

35۔ملتقى الأبحر، إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الحَلَبي الحنفي (المتوفى:956ھ)

36۔فتح باب العناية بشرح النقاية، ملا علي القاري (المتوفى:1014ھ)

37۔نور الإيضاح ونجاة الأرواح في الفقه الحنفي، حسن بن عمار بن علي الشرنبلالي المصري الحنفي (المتوفى:1069ھ)

38۔اللباب في شرح الكتاب، عبد الغني بن طالب بن حمادة الغنيمي الدمشقي الميداني الحنفي (المتوفى:1298ھ)

39۔النافع الكبير لمن يطالع الجامع الصغير، محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى:1304ھ)

40۔السعاية في كشف ما في شرح الوقاية، محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى:1304ھ)

41۔عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية، محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي أبو الحسنات (المتوفى:1304ھ)

حنفی فقہ میں صلاۃ التسبیح کی عدم مشروعیت کا قول

مندرجہ بالا عدمِ ذکر کے علاوہ راقمِ حروف کے تتبع واستقصا کے مطابق حنفی فقہا میں پہلا فقیہ جس کے ہاں صلاۃ التسبیح کی نماز کا ذکر ہوا، وہ چوتھی صدی ہجری کے ایک حنفی فقیہ امام ابو بکر محمد بن فضل بخاری (المتوفی: 381ھ) ہیں اور اُنھوں نے ایک سائل کے سوال کے جواب میں اِس نماز کی نفی کی اوراِسے ایک ماثور ومشروع نماز کے طور پر قبول نہیں کیا۔اِس کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔ امام افتخار الدین طاہر بن احمد بخاری کہتے ہیں:

عن الإمام أبي بكر محمد بن الفضل البخاري رحمه اللّٰه أنه سئل عن الفقيه هل يصلي صلاة التسبيح؟ قال: تلك طاعة العامة، فقيل: فلان الفقيه يصلي صلاة التسبيح قال: هو عندي من العامة.1

’’امام ابو بکر محمد بن فضل بخاری (المتوفی: 381ھ) سے روایت ہے کہ اُن سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی فقیہ بھی صلاۃ التسبیح پڑھتا ہے؟ اُنھوں نے جواب میں کہا: یہ تو عامۃ الناس کی عبادت ہے۔یہ جواب سن کر اُن سے کہا گیا: فلاں فقیہ تو صلاۃ التسبیح پڑھتا ہے۔ اِس پر امام ابو بکرحنفی نے جواب میں کہا: میرے نزدیک وہ ایک عامی ہے، (فقیہ نہیں ہے) ۔ ‘‘

امام افتخار الدین طاہر حنفی (المتوفی542ھ) نے اپنی کتاب ’’خلاصۃ الفتاویٰ‘‘ میں امام ابو بکر بخاری حنفی کی یہ راے کسی تبصرہ واختلاف کے بغیر جس طرح نقل کی ہے، اُس سے واضح ہوتا ہے کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں وہ بھی امام ابوبکر حنفی کے اِس موقف کی تصویب کرتے ہیں۔

اِس باب میں امام ابو بکر بخاری حنفی کا یہی موقف مشہور حنفی فقیہ ابن نجیم (المتوفی:969ھ) نے بھی ’’البحر الرائق شرح کنز الدقائق‘‘ میں نقل کیا ہے۔2

صلاۃ التسبیح کے بارے میں امام ابو بکر حنفی (المتوفی: 381ھ) کی اِس راے سے واضح ہوتا ہے کہ اِس نماز سے متعلق تیسری صدی ہجری میں پہلی مرتبہ رونما ہونے والی اور حدیث کی بعض کتابوں میں درج ہونے والی بعض ضعیف قولی روایتیں3 چوتھی صدی ہجری، یعنی امام ابو بکر کے زمانے میں میں فضیلت وترغیب کی روایت کے طور پر شہرِ بخارا میں عامۃ الناس میں پہنچ چکی تھیں اور وہ واعظین سے سن کر اِس پر عمل بھی کرنے لگے تھے، تاہم اصحابِ علم وفقہ اِس نماز کی حقیقت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے عدم ِثبوت سے واقف تھے۔ اُس زمانے میں کوئی شخص یہ نماز پڑھتا ہو تو اِس سے اہلِ علم اندازہ کر لیتے تھے کہ وہ کوئی عالم وفقیہ نہیں ہے، ایک عامی مسلمان ہے، اِس لیے کہ اُس کو اِس منفرد نفل نماز کی حقیقت اور سند ودرایت کے لحاظ سے اِس کے عدم ِثبوت کا علم نہیں ہے۔ اُن کی راے میں کوئی صاحبِ علم وفقہ دین کے ایک ایسے معمولی مسئلے میں حقیقت سے لا علم نہیں رہ سکتا۔

ورنہ بالبداہت واضح ہے کہ کوئی شخص اگر واقعی فقہ کا عالم ہو اور دین میں صلاة التسبیح ایک نفل نماز کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہو تو اِس نماز کا اہتمام کرنے سے اُس کے عالم وفقیہ ہونے کی نفی کیسے کی جاسکتی ہے۔

علاوہ ازیں، یہ بھی معلوم ہے کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں منقول روایات کے کسی طریق میں یہ بات نہ صراحتًابیان ہوئی ہے اور نہ اشارتًا دکھائی جاسکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس نماز کو پڑھنے کی تلقین در اصل مسلمانوں کے عامۃ الناس کے لیے فرمائی تھی، فقہاے صحابہ ترغیب کے اِس حکم میں شامل نہیں تھے اور یہ کہ اِس نماز کی بیان کردہ فضیلت بھی فقہا کے لیے نہیں ہے۔ روایت کے تمام مروی متون میں اِس طرح کی کسی تفریق کا کوئی اشارہ تک موجود نہیں ہے۔

بعض مراجع میں صلاۃ التسبیح کا ضمنی ذکر

فقہِ حنفی کے بعض مراجع وہ ہیں، جن میں صلاة التسبیح ایک مستقل ماثور نماز کے طور پر نوافل کے ابواب میں تو کہیں زیرِ بحث نہیں ہے، تاہم مکروہاتِ نماز کے مسائل میں ایک فقہی مسئلے کے تحت اِس نماز کا ضمنی اور سرسری ذکر،البتہ اُن کتابوں میں ہوا ہے۔

اِس کی تفصیل یہ ہےکہ قرونِ اولیٰ کے فقہا کے زمانے سے نماز کا ایک مسئلہ اُن کے مابین یہ زیرِ بحث رہا ہے کہ نماز کے دوران میں پڑھی جانے والی قرآنی آیات اور تسبیحات کو نمازی کیا اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے گن سکتا ہے یا اُس کا یہ عمل مکروہ ہوگا؟

اِس باب میں ائمۂ فقہ کا اختلاف ہے، جو فقہ کی کتابوں میں ابتدائی زمانے سے زیر بحث ہے۔ یہ مسئلہ ہمیں دوسری صدی ہجری میں امام محمد بن حسن شیبانی کی کتاب ’’الجامع الصغیر‘‘ (ص100) میں ’’باب ما يكره من العمل فی الصلاة‘‘ کے عنوان کے تحت بھی ملتا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ متقدمین فقہاے حنفیہ نے اِس مسئلے کے ضمن میں بھی کہیں صلاة التسبیح کے نام تک کا ذکر نہیں کیا۔

اِن کے بعض فقہاے متاخرین نے، البتہ اِس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے صلاة التسبیح کا ضمنی طور پر ذکر کیا ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں: ’’نماز میں قراءت اور تسبیح کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کی رعایت کے لیے قرآنی آیتوں اور تسبیحات کو ہاتھوں سے گننا فقہا کے مابین مختلف فیہ ہے۔ امام ابو حنیفہ اِس عمل کو مکروہ قرار دیتے ہیں، جب کہ اُن کے صاحبین کے نزدیک یہ جائز ہے۔ نمازی کو اِس طرح کے عمل کی ضرورت بالخصوص صلاة التسبیح کی مروی نماز میں لاحق ہوتی ہے۔‘‘4

راقم الحروف کے تتبع کے مطابق حنفی فقہ کے وہ مراجع، جن میں اِس نماز کا اِس طرح ضمنی ذکر آیا ہے، درج ذیل صرف سات ہیں:

1۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، علاء الدين أبو بكر بن مسعود الكاساني الحنفي (المتوفى:587ھ)

2۔ المحيط البرهاني في الفقه النعماني، أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد البخاري الحنفي (المتوفى:616ھ)

3۔ العناية شرح الهداية، محمد بن محمد بن محمود، أكمل الدين جمال الدين الرومي البابرتي (المتوفى:786ھ)

4۔ البناية شرح الهداية، أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى بدر الدين العينى (المتوفى:855ھ)

5۔ النهر الفائق شرح كنز الدقائق، سراج الدين عمر بن إبراهيم بن نجيم الحنفي (المتوفى:1005ھ)

6۔ مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، حسن بن عمار الشرنبلالي المصري الحنفي (المتوفى:1069ھ)

7۔ مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، عبد الرحمن بن محمد بن سليمان شيخي زاده داماد أفندي (المتوفى:1078ھ)

اِس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چھٹی صدی ہجری سے گیارھویں صدی ہجری تک کی مندرجہ بالا کتابوں کے مصنفین نے بھی اِس نماز کو نوافل کے ابواب میں ایک مستقل تطوع نماز کے طور پر کہیں ذکر کیا ہے، نہ صلاۃ التسبیح سے متعلق مروی کسی حدیث کو اپنی اِن کتابوں میں نقل کیا ہے اور نہ اِس کے استحباب ومشروعیت پر کبارِ ائمۂ حنفیہ کا کوئی قول نقل کیا ہے۔

علاوہ ازیں، ایک نہایت قابل توجہ بات یہ ہے کہ اِن سات کتابوں میں سے آخر الذکر چار شروح کے مصنفین خود صلاۃ التسبیح کا سرسری ذکر کرتے ہیں، لیکن اِن کے اصل متون میں، جیسا کہ اوپر بھی واضح کیا جاچکا ہے، اِس نماز کے نام تک کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ یعنی ’’الہدایہ‘‘، ’’کنز الدقائق‘‘، ’’نور الایضاح‘‘ اور ’’ملتقی الابحر‘‘ کے مصنفین کے اصل متون اِس نماز کے ذکر سے بالکل خاموش ہیں۔ اِن متاخرین شراح نے، البتہ جو سرسری ذکر بھی کیا ہے، یہ در اصل اِن کی اپنی ذاتی راے ہے ۔

صلاۃ التسبیح کے استحباب کی صراحت کرنے والے متاخرین حنفیہ

مذکورہ بالا فقہا کے علاوہ تین حنفی فقہا ایسے ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں قرآنی آیتوں اور تسبیحات کو نماز میں ہاتھ سے گننے کے مذکورہ بالا مسئلے کے ضمن میں پہلی مرتبہ صلاۃ التسبیح کے باب میں مروی حدیث کا ذکر کرکے بہ صراحت اِس کو ایک مستحب نماز بتایا ہے۔ اِن میں سے ایک ساتویں صدی ہجری کے نجم الدين مختار بن محمود الزاہدی (المتوفی:658 ھ) ہیں جنھوں نے ’’القنیۃ المنیۃ لتتميم الغنیۃ‘‘(ص43) میں، دوسرے دسویں صدی ہجری کے ابن نجیم مصری (المتوفی:970ھ) نے ’’کنز الدقائق‘‘ کی شرح ’’البحر الرائق‘‘ (ص52) میں اور تیسرے تیرھویں صدی ہجری میں طحطاوی (المتوفى:1231ھ) نے ’’مراقی الفلاح شرح نور الايضاح ‘‘ پر اپنے حاشیے (ص360- 361) میں ایسا کیا ہے۔

اِس سے معلوم ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں منقول حدیث فقہِ حنفی کے مراجع میں پہلی مرتبہ ساتویں صدی ہجری میں ’’ القنیۃ المنیۃ لتتميم الغنیۃ‘‘ میں درج ہوئی ہے۔ اِس سے پہلے کسی حنفی فقیہ نے اِس روایت کو اپنی کسی کتاب میں کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔

اِس کے بعد فقہاے حنفیہ میں پہلی مرتبہ جس فقیہ نے نفل نمازوں کے زمرے میں بھی صلاۃ التسبیح کا ذکر کیا ہے، وہ دسویں صدی ہجری کے ابراہیم بن ابراہیم حلبی (المتوفی:955ھ)ہیں جنھوں نے ’’الشرح الكبير لمنيۃ المصلی‘‘ (ص432) میں اِس نماز کو من جملہ مشروع نوافل شمار کر کے اِس کے بارے میں وارد روایت کو بھی بہ طور استدلال پیش کیا ہے۔

گیارھویں صدی ہجری کے علاء الدین حصکفی (المتوفى: 1088ھ) نے بھی ’’الدر المختار شرح تنوير الابصار وجامع البحار‘‘ (ص93) میں اِس نماز کو نوافل میں بیان کیا ہے، تاہم حصکفی نے اِس نماز کا سرسری انداز میں صرف نام ہی ذکر کیا ہے، اِس کی تفصیل اور بہ طور استدلال حدیثِ باب کا ذکر اُنھوں نے بھی اپنی اِس کتاب میں کہیں نہیں کیا۔

پھر تیرھویں صدی ہجری میں حصکفی کی اِسی ’’الدر المختار‘‘ پر حاشیہ لکھنے والے معروف حنفی فقیہ ابن عابدین (المتوفى: 1252ھ) نے ’’رد المحتار على الدر المختار‘‘ (2/27) میں نفل نمازوں کے ضمن میں باقاعدہ ’’مطلب فی صلاة التسبیح‘‘ کا عنوان قائم کر کے صلاۃ التسبیح اور اِس کے استحباب پر کلام کیا ہے اور اِس کی حدیث کو کثرتِ طرق کی بنا پر ’حسن‘ بھی کہا ہے۔ اور پھر اِس باب کی مرفوع روایت اور عبد اللہ بن مبارک سے منقول اِس نماز کے ایک دوسرے طریقے پر بھی گفتگو کی ہے۔

مصادرفقہِ حنفی:خلاصۂ مطالعہ

فقہِ حنفی کے مراجع کے تفصیلی مطالعے سے جو حقائق سامنے آئے ہیں، اُن کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

ا۔ صلاۃ التسبیح کے ثبوت اور اِس کی مشروعیت کے بارے میں امام ابو حنیفہ اور اُن کے تلامذہ سے کوئی قول یا فعل منقول نہیں ہے۔

ب۔ دوسری صدی ہجری سے تیرھویں صدی ہجری تک کے جمہور فقہاے حنفیہ کی تمام مدوناتِ فقہیہ اور امہاتِ کتب اِس نماز کے ذکر سے بالکل خالی ہیں۔

‌ج۔ حنفیہ کے ائمۂ متقدمین میں سے جن نمایاں فقہا نے اِس نماز کو بالکل ناقابلِ ذکر سمجھا، اُن کے نام یہ ہیں: امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام طحاوی، ابو بکر جصاص، ابو اللیث سمرقندی، امام قدوری، امام سرخسی، علاء الدین سمرقندی، برہان الدین مرغینانی، ابو البرکات نسفی، فخر الدین زیلعی۔

‌د۔ چوتھی صدی ہجری میں امام ابو بکر محمد بن فضل بخاری حنفی نے اِس نماز کے عدم ِشرعیت کی صراحت کی ہے۔

‌ه۔ چھٹی صدی ہجری اور اُس کے بعد کے چند متاخرین حنفیہ ہیں، جن میں سے بعض نے اِس نماز کا سرسری ذکر کیا ہے اوربعض نے اِس کے بارے میں منقول روایت کا بھی ذکر کیا ہے۔

‌و۔ متاخرین فقہا میں سے جس نے بھی صلاۃ التسبیح کا ذکر کیا ہے یا اِس نماز کو مستحب کہا ہے، حدیثِ باب کو دیکھ کر اپنی ذاتی راے کے طور پر کہا ہے، اِس باب میں اُن کے پاس متقدمین ائمۂ حنفیہ کے کسی قول کا کوئی حوالہ موجود ہے، نہ فقہِ حنفی کے امہاتِ متون میں اِس کی تشریع و استحباب کا کوئی شاہد پایا جاتا ہے۔

صلاۃ التسبیح: مراجعِ فقہِ مالکی میں

مصادرِ فقہِ مالکی کی مراجعت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بھی بالعموم اِس نماز اور اِس کے استحباب کے ذکر سے بالکل ساکت ہیں، جیسا کہ ’’الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ‘‘ کے مولفین نے بھی صراحت کی ہے۔5 سواے قاضی عیاض مالکی (المتوفی: 544ھ) کے جنھوں نے تطوع نمازوں کی فہرست میں اِس نماز کا نام ذکر کیا ہے،6 جب کہ قاضی ابو بکر ابن عربی مالکی (المتوفى: 543 ھ)نے اُسی زمانے میں صلاۃ التسبیح کے عدم ثبوت اور غیر مشروعیت کی صراحت کی ہے۔7

امام احمد بن محمد قَباب فاسی مالکی(المتوفی: 778ھ) قاضی عیاض کی کتاب ’’الاعلام بحدود قواعد الاسلام‘‘ پر اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ ابو بکر ابن عربی نے کہا ہے: ’’ صلاۃ التسبیح سے متعلق ابو رافع سے مروی حدیث ضعیف ہے؛ کسی صحیح حدیث میں اِس کی کوئی بنیاد موجود ہے، نہ حسن درجے کی کسی روایت میں۔ابن عربی کہتے ہیں کہ لوگوں کو متنبہ کرنے کی غرض سے اِس بات کی صراحت خود امام ترمذی نے بھی کردی ہے تا کہ لوگ اِس روایت سے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں۔ اور یہ کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں عبد اللہ بن مبارک کی راے حجت نہیں ہے۔ ‘‘

علاوہ ازیں، امام قَباب الفاسی نے صراحت کی ہے کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں ہمارے ائمہ نے بھی اِسی راے کومعتمد قرار دیا ہے جو ابن عربی نے اِس کے بارے میں بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’میں مالکی مذہب کے کسی عالم کو نہیں جانتا جس نے صلاۃ التسبیح کے استحباب کو بیان کیا ہو، سواے قاضی عیاض کے جنھوں نے اپنی اِس کتاب میں یہ راے بیان کی ہے۔ اِس طرح کے بعض دوسرے مسائل بھی ہیں، جن میں قاضی عیاض نے اپنے ذاتی اختیار کے طور پر بعض روایتوں پر اپنی راے کی بنیاد رکھی ہے۔تاہم اُن کو اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ اِس طرح کے امور میں پہلے وہ قارئین کو مالکی مذہب پر متنبہ کرتے اور پھر اپنی ذاتی راے کو بیان کرتے، تا کہ اُن کو یہ غلطی فہمی نہ ہو کہ جو کچھ وہ بیان کر رہے ہیں، وہ امام مالک مذہب کا ہے۔‘‘8

ابن عربی کے موقف اورقاضی عیاض کی اِس راے سے متعلق کم وبیش یہی تبصرہ متاخرین مالکیہ میں سے محمد امیر مالکی مصری (المتوفی: 1232ھ) نے بھی کیاہے۔9

چنانچہ اِس تفصیل سے واضح ہے کہ فقہِ مالکی کے جدید وقدیم مراجع بھی نہ صرف یہ کہ صلاۃ التسبیح کے ذکرسے ساکت ہیں، بلکہ بعض فقہا نے صراحت کردی ہے کہ اِس باب میں مالکی مذہب کے فقہا کی معتمد راے وہی ہے جو ابن عربی نے اِس کے عدمِ ثبوت اور عدمِ مشروعیت کی صراحت کے ساتھ بیان کی ہے۔

[باقی]

  1. ۔ خلاصۃ الفتاویٰ، افتخار الدین طاہر بن احمد بخاری حنفی، کتاب الکراھیۃ،248۔
  2. ۔ دیکھیے: بحر الرائق شرح کنز الدقائق، زین الدین ابن نجیم حنفی 8/378۔
  3. ۔دیکھیے: ابو داؤد، رقم1297۔ ترمذی ، رقم482۔ صلاۃ التسبیح کے بارے منقول تمام روایتیں اور اُصول علمِ حدیث کی رو سے اُن کا تحقیقی مطالعہ اِسی مقالے میں آگے بالتفصیل بیان ہوگا۔
  4. ۔ دیکھیے: کاسانی، بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع 1/216۔
  5. ۔ دیکھیے: الموسوعۃ الفقهيۃ، الدرر السنيۃ، كتاب الصلاة، الباب السابع: صلاة التطوع، الفصل الاول: اقسام صلاةالتطوع، المبحث الثالث: السنن المؤقتۃ، المطلب الخامس: صلاة التسبیح (التسابيح)۔
  6. ۔دیکھیے: الاعلام بحدود قواعد الاسلام، عياض بن موسى اليحصبی ، ص3۔
  7. ۔ دیکھیے: عارضۃالاحوذی بشرح صحیح الترمذی، القاضی محمد بن عبد الله ابو بكر بن العربی المالكی 2/266- 267 ۔
  8. ۔دیکھیے: شرح الاعلام بحدود قواعد الاسلام، ابو العباس احمد بن محمد القَباب الفاسی الجذامی 1/ 266- 267۔
  9. ۔ دیکھیے: ضوء الشموع شرح المجموع فی الفقہ المالكی، محمد الامير المالكی 1/ 273۔