[ایک تحقیقی مطالعہ]
(4)
4۔حدیث ِام سلمہ رضی اللہ عنہا
صلاۃ التسبیح کے بارے میں ایک حدیث سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، جو حدیث و آثار کے مندرجہ ذیل صرف دو مصادر میں نقل ہوئی ہے :
1۔پانچویں صدی ہجری میں ابو بکر خطیب بغدادی (المتوفى: 463ھ) کی ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم26میں وارد ہوئی ہے۔
2۔ نویں صدی ہجری میں حافظ ابن حجر عسقلانی (المتوفى: 852ھ) کی ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، رقم 19 میں نقل ہوئی ہے۔
اِن دو کے سوا حدیث وآثار کے تمام مصادر اِس باب میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے بالکل خالی ہیں۔
مطالعۂ متن
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منسوب یہ روایت خطیب بغدادی کی ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم26میں اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
عن أم سلمة، قالت: كان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في يومي وليلتي، حتى إذا كان في الهاجرة جاءه إنسان فدق الباب. فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’من هذا؟‘‘ فقالوا: العباس بن عبد المطلب. قال: ’’اللّٰہ أكبر! لأمرٍ ما جاء؛ فأدخلوه‘‘. فلما دخل، قال: يا عباس، يا عم النبي، ما جاء بك في الهاجرة؟‘‘ فقال: يا رسول اللّٰہ، بأبي أنت وأمي! ذكرت ما كان مني في الجاهلية، فعرفت أنه لن يغني عني بعد اللّٰہ غيرك. فقال: ’’الحمد للّٰه الذي ألقى ذلك في قلبك!. يا عباس! يا عم النبي! أما إنه لا أقول لك بعد الفجر حتى تطلع الشمس، ولا بعد العصر حتى تغرب الشمس، صل أربع ركعات، اقرأ فيهن بأربع سور من طوال المفصل، فإذا قرأت الحمد وسورة، فقل: سبحان اللّٰہ، والحمد للّٰه، ولا إله إلا اللّٰہ، واللّٰہ أكبر، هذه واحدة، قلها خمس عشرة مرة. فإذا ركعت، فقلها عشرًا، فإذا رفعت رأسك من الركوع، فقلها عشرًا، فإذا سجدت، فقلها عشرًا، فإذا رفعت رأسك من السجود، فقلها عشرًا، فإذا سجدت الثانية، فقلها عشرًا، فإذا رفعت رأسك قبل أن تقوم، فقلها عشرًا. والذي نفس محمد بيده، لو كانت ذنوبك عدد نجوم السماء، وعدد قطر المطر، وعدد أيام الدنيا، وعدد الحصى، وعدد الشجر والمدر والثرى، لغفرها اللّٰہ لك‘‘. قال: يا رسول اللّٰہ، بأمي أنت وأمي! ومن يطيق ذلك؟ قال: ’’قلها في كل يوم مرة‘‘. قال: ’’ومن يطيق ذلك؟‘‘ قال: فقلها في كل جمعة مرة‘‘. قال: ومن يطيق ذلك؟ قال: ’’فقلها في كل شهر مرة‘‘. قال: ومن يطيق ذلك؟ قال: ’’فقلها في كل سنةٍ مرة‘‘. قال: ومن يطيق ذلك؟ قال: ’’فقلها في عمرك كله مرة‘‘.
’’ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے ہاں تھی۔آپ دوپہر کے وقت تشریف فرما تھے کہ کسی شخص نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ نے پوچھا: کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: عباس بن عبد المطلب۔ آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، کسی کام سے آئے ہوں گے، اُنھیں اندر لے آؤ۔ جب وہ اندر آئے تو آپ نے فرمایا: اے عباس، اے نبی کے چچا، دوپہر کے اِس وقت کیسے آنا ہوا؟ اُنھوں نے کہا: یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے زمانۂ جاہلیت کے اپنے کچھ اعمال یاد آئے تو خیال آیا کہ اللہ کے بعد آپ کے سوا میرے کوئی کام نہیں آسکتا۔یہ سن کر آپ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، جس نے آپ کے دل میں یہ بات ڈالی۔ اے عباس، اے نبی کے چچا، سنیے: سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے کے اوقات کے سوا کسی بھی وقت آپ چار رکعت نماز پڑھیں، جن میں چھوٹی آیات والی چارطویل سورتیں پڑھیں۔ جب آپ سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ لیں تو پندرہ مرتبہ یہ کلمات کہیں: ’سُبْحَانَ اللّٰہ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰہ، وَاللّٰہ أَكْبَرُ‘۔پھر آپ رکوع کریں تو دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ پھر سجدے میں جائیں تو یہی کلمات دس مرتبہ پڑھیں، پھر سجدے سے اُٹھ کر بیٹھیں تو اِس موقع پر بھی دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں، پھر دوبارہ سجدہ کریں تو یہی کلمات دس مرتبہ پڑھیں، پھر سجدے سے اُٹھیں تو کھڑے ہونے سے پہلےبیٹھ کر دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے،(اِس کے بعد)آپ کے گناہ آسمان کے تاروں کے برابر ہوں، بارش کے پانی کے قطروں کے برابر ہوں، ایامِ دنیا کی تعداد کے برابر ہوں، زمین کے کنکروں کے برابر ہوں، درختوں، مٹی کی ڈھیلوں اور تر مٹی کے ذرات کے برابر بھی ہوں تو اللہ آپ کے لیے اُن کو ضرور بخش دے گا۔ اِس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ایسی نماز پڑھنے کی طاقت کس میں ہے؟ آپ نے فرمایا: روزانہ ایک مرتبہ پڑھیے۔ اُنھوں نے کہا: لیکن اتنی استطاعت کس کے پاس ہے؟ آپ نے فرمایا: پھرہر جمعہ کے دن ایک مرتبہ پڑھ لیجیے۔ اُنھوں نے کہا: یہ بھی کون کرسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو پھر ہر مہینے میں ایک مرتبہ پڑھ لیجیے۔ اُنھوں نے پھر کہا: لیکن یہ بھی کس کے بس کی بات ہے؟ آپ نے فرمایا : اچھا تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیجیے۔ اُنھوں نے کہا: اِس کی طاقت بھی کس میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر عمر بھر میں ایک مرتبہ پڑھ لیجیے گا۔ ‘‘
تحقیق سند اور روایت کا حکم
حدیث ام سلمہ کےاوپر ذکر کردہ دونوں طرق میں ایک بڑی علت یہ ہے کہ اِن کی اسانید میں عمرو بن جُمَیع کوفی نامی ایک راوی ہے، جس کو امام بخاری نے ’منکَر الحدیث‘، امام دار قطنی اور ائمۂ رجال کی ایک جماعت نے ’متروک الحدیث‘ کہا ہے۔ امام یحییٰ بن معین نے اِس کو ’کذاب‘، یعنی بالکل جھوٹا راوی قرار دیا ہے۔ امام ابن عدی نے کہا ہے کہ اِس کو حدیثیں گھڑنے پر متہم کیا جاتا تھا۔امام ابن حبان کہتے ہیں: ’’یہ شخص اُن راویوں میں سے تھا جو قابل اعتماد راویوں کا نام لے کر من گھڑت روایتیں بیان کیا کرتے اور مشہور علماے حدیث کی نسبت سے ’منکر‘ روایتیں نقل کیا کرتے تھے۔اِس شخص کی حدیث کو لکھنا اور اُس کا ذکر بھی ناجائز ہے، الّا یہ کہ اہل علم تحقیق و مطالعے کے دوران میں تنبہ کے لیے ایسے شخص کی روایت کو بھی زیرِ نظر رکھیں‘‘۔اِس راوی کی روایتیں من گھڑت ہوا کرتی تھیں، اِس بات کی صراحت امام ابو سعید نقاش اور امام حاکم نے بھی کی ہے۔1
چنانچہ سند کی اِس تحقیق سے ثابت ہوا کہ علمِ روایت کی روشنی میں صلاۃ التسبیح کے باب میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منسوب روایت بھی ایک ’موضوع‘، یعنی من گھڑت حدیث ہے، جس سے استدلال کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔
5۔ حديثِ عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
صلاۃ التسبیح کے بارے میں ایک روایت عباس بن عبد المطلب سے براہِ راست بھی مروی ہے، جو حدیث و آثار کے مندرجہ ذیل پانچ مصادر میں نقل ہوئی ہے :
1۔پہلی مرتبہ یہ حدیث پانچویں صدی ہجری میں ابو الحسن عبد الرحمٰن بن ياسر الجوبری (المتوفى: 425ھ) نے ’’احادیث ابی الحسن الجوبری‘‘، رقم1 میں نقل کی ہے۔ اِس سے پہلے کے حدیث و آثار کے تمام مصادر حدیثِ عباس کے ذکرسے بالکل خالی ہیں۔
2۔ابو الحسن الجوبری کے علاوہ اُسی صدی میں اِس روایت کے دو طریق خطیب بغدادی (المتوفى: 463ھ) نے ذكر ’’صلاة التسبیح‘‘، رقم 4 اور 5 میں درج کیے ہیں۔
3۔خطیب بغدادی کے کم و بیش سو سال بعد چھٹی صدی ہجری میں حدیثِ عباس نے ابن عساکر (المتوفى: 571ھ) کی ’’تاريخ ِدمشق‘‘، رقم6184 میں جگہ پائی۔
4۔پھر ساتویں صدی ہجری میں ابو القاسم الرافعی القزوينی (المتوفى: 623ھ) نے ’’التدوين فی اخبار قزوين‘‘(3/249) میں اِس کا ایک طریق نقل کیا ہے۔
5۔رافعی کے دو سو سال بعد نویں صدی ہجری میں ابن حجر العسقلانی (المتوفى: 852ھ) نے ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، رقم 15 میں حدیثِ عباس کا ایک طریق درج کیا ہے۔
تعارفِ متن اور اِس کے اضطرابات
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ بالا روایتوں کےمتون میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو صلاۃ التسبیح کی اِس منفرد نماز کی ترغیب دی۔ اِن میں اِس نماز کا طریقہ اور اِس کی فضیلت، الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ وہی بیان ہوئی ہے، جو اِس سے پہلے دوسرے صحابہ سے منسوب روایتوں میں قارئین پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ تاہم حدیثِ عباس کی اِن روایتوں کے متون میں بعض پہلوؤں سے اختلاف واضطراب بھی پایا جاتا ہے، جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
صلاۃ التسبیح کے باب کی عام روایتوں کے برخلاف خطیب بغدادی کی ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم 4 میں بعض منفرد الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس موقع پر فرمایا: ’فإن استطعت أن تفعل ذلك في كل يوم، وإلا ففي كل جمعة، وإلا ففي كل شهر، وإلا ففي كل شهرين، وإلا ففي كل ستة أشهر، وإلا ففي كل سنة‘، ’’اگر آپ پڑھ سکیں تو روزانہ اِس نماز کا اہتمام کیجیے۔ یہ ممکن نہ ہو تو ہر جمعے کو، (یعنی ہفتے میں ایک مرتبہ) پڑھیں۔ ایسا کرنا بھی مشکل ہو تو ہرمہینے میں ایک مرتبہ پڑھیں۔ ہر ماہ بھی ممکن نہ ہو تو دو مہینوں میں ایک مرتبہ پڑھیں اور یہ بھی نہ کرسکیں تو چھ ماہ میں ایک مرتبہ پڑھیے گا، ورنہ یہ کہ سال میں ایک مرتبہ ہی اِس کا اہتمام کر لیں۔‘‘
’’ذكر صلاة التسبیح‘‘،خطیب بغدادی، رقم 5 میں ذرا اختلاف کے ساتھ یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’أربع ركعات في كل يوم، أو في كل جمعة، أو في كل نصف شهر، أو في كل شهر، أو في نصف سنة، أو في كل سنة‘‘، ’’یہ چار رکعتیں روزانہ پڑھیں، یا جمعے کے دن (یعنی ہفتے میں ایک مرتبہ)، یا ہر مہینے کے نصف پر، یا ہر مہینے میں ایک مرتبہ، یا ہر چھ مہینوں میں ایک مرتبہ اور یا پھرہر سال میں ایک مرتبہ پڑھیں۔‘‘
جب کہ حافظ ابن حجر کی ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، رقم 15 میں یہ الفاظ ہیں کہ: ’فَإِنِ اسْتَطَعْتَ فِي كُلِّ يَوْمٍ، وَإِلَّا فَفِي أَيَّامٍ، وَإِلَّا فَفِي جُمُعَةٍ، وَإِلَّا فَفِي جُمُعَتَيْنِ، وَإِلَّا فَفِي شَهْرٍ، وَإِلَّا فَفِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَإِلَّا فَفِي سَنَةٍ‘، ’’اگر آپ پڑھ سکیں تو روزانہ اِس نماز کا اہتمام کیجیے، ورنہ چند دنوں میں ایک مرتبہ پڑھیں۔ یہ ممکن نہ ہو تو ہر جمعے کو، (یعنی ہفتے میں ایک مرتبہ) پڑھیں۔ ایسا کرنا بھی مشکل ہو تو دو ہفتوں میں ایک مرتبہ پڑھیں۔ یہ بھی نہ ہوسکے تو ہرمہینے میں ایک مرتبہ پڑھیں۔ ہر ماہ بھی ممکن نہ ہو تو چھ ماہ میں ایک مرتبہ پڑھیں، ورنہ یہ کہ سال میں ایک مرتبہ ہی اِس کا اہتمام کر لیں۔‘‘
غرض یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز کب کب پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی، اِس حوالے سے عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب متون کے بیانات نہ صرف یہ کہ اِس باب کی دوسری روایتوں سے مختلف ہیں، بلکہ اِن میں باہم بھی بعض اضطرابات و تضادات بالکل واضح ہیں۔
تحقیقِ اسانید
حديثِ عباس کے مذکورہ بالا طرق کی اسانید کا تحقیقی مطالعہ حسب ذیل ہے:
(ا) احادیث ابی الحسن الجوبری، رقم1 کی سند میں درج ذیل علل و آفات پائے جاتے ہیں:
1۔ اِس میں ایک مجروح راوی موسىٰ بن عبيدہ الربذی ہے، جو ائمۂ محدثین کے نزدیک ’منکر الحدیث‘ اور انتہائی ضعیف راوی ہے۔2
2۔ دوسرا راوی سعيد بن ابی سعيد الانصاری ہے، جو علماے رجال کے نزدیک ایک ’مجہول‘، یعنی نامعلوم راوی ہے۔3
3۔ تیسرا راوی عتیق بن عبد الرحمٰن الاسدی ہے، جس کا حال بھی ائمۂ رجال کے ہاں نامعلوم و غیر مذکور ہے، یعنی یہ بھی ایک مجہول راوی ہے۔
لہٰذا واضح ہے کہ اِس طریق کی سند منقطع اور نہات ضعیف ہے۔
(ب) تاريخ ِدمشق، ابن عساکر، رقم6184 کی سند میں مندرجہ بالا سند کی تینوں خرابیوں کی موجودگی کے علاوہ دو اور مجہول راوی بھی پائے جاتے ہیں، جن میں سے ایک الحسين بن علی المصری اور دوسرا محمد بن حاتم البخاری ہے۔اِن دونوں راویوں کا حال بھی علماے حدیث کے ہاں نامعلوم و غیر مذکور ہے۔ لہٰذا یہ طریق بھی بالکل نا قابلِ التفات ہے۔
(ج) ذكر صلاة التسبیح،خطیب بغدادی، رقم 4 کی سند میں مندرجہ ذیل دو خرابیاں ہیں:
1۔ اِس میں ایک راوی ابو رجاءمحرز بن عبد اللہ الجزری ہے، جو ثقہ ہونے کے باوجود علماے محدثین کے نزدیک ’مدلِّس‘ 4ہے اور اُس نے یہ روایت ’عن‘ کے حرف کے ساتھ بیان کی ہے۔ مدلِّس راوی کے بارے میں محدثین کا یہ ضابطہ معلوم ہے کہ وہ جب تک روایت کے اپنے شیخ سے سننے کی صراحت نہ کرے، اُس کی ’مُعَنعَن‘ روایت غیر مقبول و ضعیف ہوگی۔
2۔ دوسرےابو رجاء نامی راوی اِس روایت کو صدقہ بن عبد اللہ السمين الدمشقی نامی راوی سے نقل کر رہے ہیں اور صدقہ دمشقی ائمۂ محدثین کے نزیک ضعیف، منکر الحدیث اور بالکل ناقابلِ اعتبار راوی ہے۔ امام دار قطنی نے اِس کو ’متروک‘ قرار دیا ہے۔5
لہٰذا متحقق ہوا کہ سندًا یہ طریق بھی بالکل نا قابلِ اعتبار ہے۔
(د) ذكر صلاة التسبیح،خطیب بغدادی، رقم5 کی سند میں حماد بن عمرو نصیبی نامی راوی موجود ہے، جو علماے محدثین کے نزدیک حدیثیں گھڑنے والا ایک جھوٹا اور ’متروک الحدیث‘ راوی ہے۔6 لہٰذا یہ روایت بھی نہایت ضعیف اور نا قابلِ التفات ہے۔
(ه) التدوين فی اخبار قزوين، رافعی(3/249)کے طریق میں درج ذیل متعدد علل پائی جاتی ہیں:
1۔ صاحبِ کتاب عبد الکریم رافعی کی پیدایش 557ھ کی ہے۔7 یہ روایت وہ سلیمان بن يزيد الفامی نامی راوی سے براہ راست بیان کر رہے ہیں، جب کہ سلیمان بن يزيد کی وفات عبد الکریم رافعی کی پیدایش سے 218 سال پہلے 339ھ میں ہوچکی تھی۔8 چنانچہ اِس سند کا ضعفِ انقطاع بالبداہت واضح ہے۔
2۔اِس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن ابی ہودہ نامی ایک راوی بھی ہے، جو ائمۂ رجال کے ہاں مجہول ہے۔ اور نامعلوم راوی کی روایت، ظاہر ہے کہ علمِ حدیث کی رو سے نا قابلِ قبول ہے۔
3۔ اِس سند میں بھی ابو رجاءمحرز بن عبد اللہ الجزری موجودہے، جس کے بارے میں اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ ثقہ ہونے کے باوجود علماے محدثین کے نزدیک مدلِّس ہے اور اُس نے یہ روایت اِس سند میں بھی ’عن‘ کے حرف کے ساتھ بیان کی ہے۔ مدلِّس راوی کے بارے میں محدثین کا یہ ضابطہ معلوم ہے کہ وہ جب تک کسی روایت کو اپنے شیخ سے سننے کی صراحت نہ کرے، اُس کی ’مُعَنعَن‘ روایت ضعیف وغیر مقبول ہوگی۔
4۔ اِس سند میں بھی صدقہ بن عبد اللہ السمين الدمشقی نامی راوی موجود ہے، جو ائمۂ محدثین کے نزیک ضعیف، منکر الحدیث اور بالکل ناقابلِ اعتبار ہے۔ امام دار قطنی نے اِس کو ’متروک‘ قرار دیا ہے۔9
چنانچہ مندرجہ بالا چار علتوں کی بنا پر رافعی کا طریق بھی بالکل نا قابلِ التفات قرار پاتا ہے۔
(و) امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح، ابن حجر، رقم 15 کی سند میں رافعی کے طریق کی آخری دونوں علتوں کی موجودگی کے علاوہ دو ایسے راوی بھی ہیں جو ائمۂ رجال کے ہاں مجہول و نامعلوم ہیں، جن میں سے ایک جعفر بن محمد العطار البغدادی نامی راوی ہے اور دوسرے مجہول راوی کا نام عمر بن خالد الرقی ہے۔لہٰذا فنِ حدیث کی رو سے یہ طریق بھی بالکل قابلِ رد ہے۔
روایت کا حکم
مندرجہ بالا تحقیق ومطالعہ سے صاف واضح ہے کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی نسبت سے مروی قولی حدیث کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے استناد کسی ایک طریق سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اِس روایت کے بعض متون، جن میں اِس نماز کو چند دنوں میں یا ہر مہینے کے نصف پر یا دو ہفتوں میں یا دو مہینوں میں یا چھ مہینوں میں ایک مرتبہ پڑھنے کی تلقین بیان ہوئی ہے، دوسری روایاتِ باب سے اختلاف کی بنا پر ’منکر‘ ہیں۔اِسی طرح اِس روایت کے بعض متون میں پایا جانے والا اضطراب اور باہمی اختلاف بھی اِس کے ضعف اور بے اعتباری پر دلالت کرتا ہے۔یعنی یہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس کو کب کب پڑھنے کی تلقین کی تھی، اِس سوال کے جواب میں راویوں کے بیانات باہم مختلف بھی ہیں اور دوسرے صحابہ سے منسوب روایتوں کی معلومات سے متضاد بھی۔
جہاں تک حدیثِ عباس کی روایتوں کی مختلف اسانید کا تعلق ہے تو اِس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اُصولِ روایت کی روشنی میں اِس کے اکثر طرق نہایت ہی ضعیف اور ناقابل التفات ہیں، جب کہ ’’ذکرصلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم5 کا ایک طریق ’موضوع‘، یعنی من گھڑت ہے۔
لہٰذا متحقق ہوا کہ علمی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ التسبیح کے ثبوت کے لیے حدیثِ عباس کو پیش کرنا بھی قطعاً جائز نہیں ہے۔یہ روایت اپنے متن کے اعتبار سے بھی ’منکر‘ و ’مضطرب‘ ہے اور اسانید کے لحاظ سے بھی ’ضعیف جدًا‘ اور ’موضوع‘ ہے۔
6۔ حديثِ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ
صلاۃ التسبیح کے باب میں ایک روایت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، جو حدیث و آثار کے مندرجہ ذیل صرف دو مصادر میں نقل ہوئی ہے :
1۔یہ حدیث پہلی مرتبہ پانچویں صدی ہجری میں ابوبکر خطیب البغدادی (المتوفى: 463ھ) نے’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم 6 اور 7 میں نقل کی ہے۔
2۔خطیب بغدادی کے کم و بیش چار سو سال بعد نویں صدی ہجری میں حافظ ابن حجر العسقلانی (المتوفى: 852ھ) نے ابو نعیم کی ’’کتاب القُربان‘‘ کے حوالے سے حدیثِ فضل بن عباس کا ایک طریق اپنی کتاب ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، صفحہ 29 پر درج کیا ہے۔
اِن دو کتابوں کے سوا حدیث وآثار کے باقی تمام مصادر اِس باب میں حدیثِ فضل بن عباس کے ذکرسے بالکل خالی ہیں۔
تعارفِ متن
اِس روایت کےمتن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو صلاۃ التسبیح کی اِس منفرد نماز کی ترغیب دی تھی۔ اِس میں آپ کی نسبت سے اِس نماز کا طریقہ اور اِس کی فضیلت الفاظ کے معمولی تفاوت کے ساتھ وہی بیان ہوئی ہے جو اِس سے پہلے دوسرے صحابہ سے منسوب زیادہ تر روایتوں میں بیان ہوچکی ہے۔
تحقیقِ اسانید
(الف) ذكر صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 6 کی سند میں مندرجہ ذیل علتیں پائی جاتی ہیں:
1۔ اِس میں ایک راوی عبد الرحمٰن بن عبد الحميد الطائی ہے، جس کے احوال سے ائمۂ رجال و محققینِ حدیث بالکل واقف نہیں ہیں کہ یہ کون شخص تھا۔ تراجمِ رجال کے مراجع اِس راوی کے تعارف سے بالکل خاموش ہیں، یعنی یہ ایک بالکل مجہول راوی ہے۔
2۔ اِس سند میں یہی راوی عبد الرحمٰن بن عبد الحميد الطائی اِس روایت کو اپنے والد سے نقل کر رہا ہے، دراں حالیکہ علمِ رجال کے علما کے ہاں اِس کے والد کا حال بھی بالکل اِسی کی طرح کا ہے، یعنی وہ بھی ایک نامعلوم شخصیت ہے۔ اُس کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کون ہے۔ حافظ ابن حجر اِن دونوں راویوں کے بارے میں کہتے ہیں: ’وَالطَّائِيُّ الْمَذْكُورُ لَا أَعْرِفُهُ وَلَا أَبَاهُ‘، ’’میں اِس طائی سے واقف ہوں، نہ اِس کے والد ہی کو جانتا ہوں۔‘‘10
3۔ علاوہ ازیں، اِسی عبد الرحمٰن کے والد اِس سند میں ابو رافع نامی راوی سے یہ روایت نقل کر رہے ہیں۔ یہ ابو رافع کون ہے، علمِ رجال کے مراجع ہمیں اِس حوالے سے بھی کوئی رہنمائی نہیں کرتے۔ مزید برآں، حافظ ابن حجر نے وضاحت کی ہے کہ یہ ابو رافع صحابیِ رسول ابو رافع قبطی رضی اللہ عنہ نہیں ہے، بلکہ میرے خیال میں یہ راوی اسمٰعیل بن رافع ہے، جو ضعیف راویوں میں سے ہے۔11
یہاں یہ واضح رہے کہ حافظ ابن حجر کا متعین کردہ یہ راوی در اصل ابو رافع اسمٰعيل بن رافع الانصاری ہے، جو تبع تابعین میں سے تھا۔ زیرِ نظر مقالے میں پیچھے بیان ہوچکا ہے کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اِسی سے منقول ہے۔ کئی علماے رجال نے اِس کو ضعیف، جب کہ متعدد ائمۂ حدیث نے ’منکر الحدیث‘ یا ’ متروک الحدیث‘ راوی قرار دیا ہے۔12
اِس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سندکے اِس راوی کے بارے میں حافظ ابن حجر کی تعیین اگر درست مان لی جائے تو اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سند متعدد مجہول راویوں کی موجودگی کے علاوہ منقطع، یعنی ٹوٹی ہوئی بھی ہے، اِس لیے کہ تبع تابعین میں سے اسمٰعیل بن رافع نامی ایک ’منکر‘ اور’متروک الحدیث‘ راوی، براہِ راست فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت کیسے بیان کرسکتا ہے، دراں حالیکہ اُن کی وفات ہجرتِ نبوی کے اٹھارھویں سال یا اِس سے بھی پہلے ہوچکی تھی۔13 چنانچہ بالبداہت واضح ہے کہ یہ سند ’منقطع‘، بلکہ ’مُعضَل‘14ہے، یعنی ابو رافع اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے مابین یہ سند دو یا دو سے زیادہ راویوں کی صراحت کی متقاضی ہے، جو اِس میں مذکور نہیں ہیں۔ اسمٰعیل بن رافع کابراہ راست فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
(ب) ذكر صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 7 کی سند میں مندرجہ ذیل دو علل پائے جاتے ہیں:
1۔ ایک راوی اِس میں فضل بن عبد اللہ الھِروی ہے، جو مجہول و نامعلوم ہے۔ ائمۂ محدثین سے اِس کی کوئی توثیق نہ صرف یہ کہ ثابت نہیں ہے، بلکہ علمِ رجال کے مراجع اِس کے تعارف ہی سے بالکل خالی ہیں۔
2۔ اِس سند میں عبد الملك بن ہارون بن عنترہ نامی ایک راوی ہے، جس کو امام بخاری نے ’منکَر الحدیث‘، امام یحییٰ بن سعید قطان نے ’کذاب‘ اور امام سعدی نے ’دجال کذاب ‘ کہا ہے۔ امام ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں خود گھڑا کرتا تھا۔ امام دارقطنی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں جھوٹ بولتا تھا، اِس لیے ’متروک‘ ہے۔15
(ج) حافظ ابن حجر کا اوپر ذکر کردہ آخری طریق،جو اُنھوں نے ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، صفحہ 29 پر ابو نعیم کی ’’کتاب القُربان‘‘ کے حوالے کے ساتھ نقل کیا ہے، اِس کے بارے میں یہ ذہن نشین رہے کہ خود ابن حجر نے، جیسا کہ اوپر بیان بھی ہوچکا ہے، صراحت کی ہے کہ اِس سند میں طائی اور اُس کا والد مجہول ہیں اور ابو رافع بھی ایک ناقابلِ اعتبار راوی ہے۔ اُنھی کی اِس توضیح سے اِس روایت کا ’معضل‘ ہونا پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے۔
روایت کا حکم
مندرجہ بالا تحقیق و مطالعہ سے واضح ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی نسبت سے مروی قولی حدیث کا استناد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ پہلا اور تیسرا طریق مجہول راویوں کی موجودگی اور انقطاعِ سند کی بنا پر بالکل واہی، نہایت ضعیف اور ناقابل التفات ہے، جب کہ دوسرا طریق ایک ’کذاب‘ اور’وضاع‘ راوی کی بنا پر ’موضوع‘، یعنی من گھڑت ہے۔چنانچہ علمِ روایت کی روشنی میں صلاۃ التسبیح کے اثبات کے لیے حدیثِ فضل بن عباس کو پیش کرنا بھی بالکل جائز نہیں ہے۔
علاوہ ازیں، اِس تحقیق کے نتیجے میں صلاۃ التسبیح کے باب میں اسمٰعیل بن رافع انصاری جیسے ناقابلِ اعتبار راوی کی روایت میں موجود یہ ایک اضطراب بھی واضح ہوا کہ یہی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بعض روایتوں میں آپ کے چچا زاد بھائی جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کر رہا ہے، جب کہ بعض روایتوں میں یہ اِس کو آپ کے چچا زاد بھائی فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کر رہا ہے۔ یہ اضطراب و اختلاف بھی اِس روایت کے ناقابلِ اعتبار ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
[باقی]
- ۔ المجروحین، ابن حبان1/499-500، رقم 631؛ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذہبی 3/ 259، رقم 6006؛ لسان المیزان، ابن حجر 6/196، رقم 5788۔
- ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی29/ 104-113، رقم 6989۔
- ۔ تقريب التہذیب، ابن حجر، ص236، رقم 2320۔
- ۔ ’مدلِّس‘ سے مراد محدثین کے نزدیک ایسا راوی ہے، جو اپنی روایت کی سند میں موجود کسی عیب کو چھپاکر ظاہر میں اُس کو ٹھیک اور بے عیب دکھائے۔ دیکھیے: تيسير مصطلح الحديث، ابو حفص محمود بن احمد طحان النعیمی96۔
- ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی13/133-137، رقم 2863۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر 4/416-415، رقم727۔
- ۔ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذہبی1/598، رقم 2262۔ لسان المیزان، ابن حجر 3/ 274، رقم 2741۔
- ۔ الاعلام، الزرکلی 4/55۔
- ۔ سیر اعلام النبلاء، الذہبی، رقم 227۔
- ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی13/133-137، رقم 2863۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر 4/ 416-415، رقم727۔
- ۔ امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح، ابن حجر 29۔
- ۔ امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح، ابن حجر 29۔
- ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی3/85-90، رقم442۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر 1/ 294-296، رقم547۔
- ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی23/231-233، رقم4738۔
- ۔ علم حدیث کی اصطلاح میں ’مُعضَل‘ اُس روایت کو کہا جاتا ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زیادہ راوی پے درپے گرے ہوئے ہوں۔ یہ سند کے ٹوٹنے کی وجہ سے ضعیف ہو جانے والی روایتوں میں سب سے معیوب روایت ہوتی ہے۔ دیکھیے: تيسير مصطلح الحديث، ابو حفص محمود بن احمد طحان النعیمی 92-93۔
- ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابن عدی 8/366، رقم 1452۔ التاريخ الكبير، بخاری 5/ 436، رقم 1423۔ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذھبی 2/666 -667، رقم 5259۔ موسوعۃ اقوال ابی الحسن الدارقطنی فی رجال الحديث وعللہ، مجموعۃ من المولفين 2/426، رقم 2242۔