مواد پر جائیں

صلاۃ التسبیح: فقہ وحدیث کی روشنی میں

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

[ایک تحقیقی مطالعہ]

(5)

7۔ حديثِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

صلاۃ التسبیح کے باب میں ایک روایت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جو حدیث وآثار کے مندرجہ ذیل صرف تین مصادر میں نقل ہوئی ہے :

1۔ پہلی مرتبہ پانچویں صدی ہجری میں ابو بکر خطیب البغدادی (المتوفى: 463ھ) نے اپنی کتاب’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم 1 اور2 میں اِس حدیث کے دو مختلف طریق نقل کیے ہیں۔

2۔خطیب بغدادی کے کم و بیش چار سو سال بعد نویں صدی ہجری میں ابن ناصر الدین (المتوفى: 842ھ) نے بھی اپنی کتاب ’’الترجیح لحدیث صلاۃ التسبیح‘‘ کے صفحہ 51اور52 پر حدیثِ علی کے دو مختلف طریق نقل کیے ہیں، جن میں سے ایک طریق اُنھوں نے صلاۃ التسبیح پر امام دارقطنی کی کتاب کی نسبت سے نقل کیا ہے اور دوسرا واحدی کی کتاب ’’الدعوات‘‘ کے حوالے کے ساتھ۔

3۔ ابن ناصر الدین کے علاوہ نویں صدی ہجری ہی میں حافظ ابن حجر العسقلانی (المتوفى: 852ھ) نے بھی اپنی کتاب ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘ کے صفحہ 33اور 34 پر حدیثِ علی کے پہلے وہی دونوں طریق نقل کیے ہیں جو ابن ناصر الدین نے بیان کیے ہیں اور پھر صفحہ 36 پر ایک تیسرا طریق بھی بیان کیا ہے۔

اِن تین مصادر کے سوا حدیث و آثار کے باقی تمام مصادرِ اصلیہ صلاۃ التسبیح کے باب میں حدیثِ علی بن ابی طالب کے ذکرسے بالکل خالی ہیں۔

روایت کے متون اور اِن کے اضطرابات

ذیل میں پہلے ہم حدیث علی کے متون کا جائزہ لیں گے، جس سے اِن کے مضامین، اِن میں پائے جانے والے اضطرابات اور باہمی تناقضات بھی واضح ہوتے ہیں:

1۔خطیب بغدادی کی ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم 1 میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے جمعے کے دن چار رکعتیں نماز اِس طرح پڑھی کہ وہ ہر رکعت میں 10 مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھے … ‘‘۔ اتنی بات کے بعد خطیب بغدادی نے لکھا ہے کہ پھر علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ التسبیح کی مکمل حدیث بیان کی۔ اِس کے بعد خطیب بغدادی نے یہ کہا ہے کہ بالخصوص جمعے کے دن صلاۃ التسبیح پڑھنے کا ذکر سیدنا علی کی اِس روایت کے سوا کسی دوسرے صحابی کی روایت میں موجود نہیں ہے۔ یعنی اِس متن میں یہ ایک تفرد اور نکارت ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ہر رکعت میں 10 مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھنے کے الفاظ بھی صرف اور صرف اِسی طریق میں وارد ہوئے ہیں۔ اِس لحاظ سے بھی یہ متن بالکل متفرد اور منکَر ہے۔

2۔خطیب بغدادی کی ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، رقم2 میں علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِن سے ملاقات ہوئی تو آپ نے اِن کی دونوں آنکھوں کے مابین بوسہ لیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ بیٹھے تو آپ نے اُن سے کہا: (اے علی)، کیا میں تمھیں ایک عطیہ اور تحفہ نہ دوں؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ اِس کے بعد اِس روا یت میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ صلاۃ التسبیح کا اُسی طرح ذکر ہے، جس طرح ابو رافع رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق یہ نماز آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بتائی تھی۔پھر زیرِ بحث متن کے مطابق علی رضی اللہ عنہ کوبھی روزانہ یا ہفتہ وار یا مہینا وار یا سالانہ یا عمر بھر میں ایک مرتبہ یہ نماز پڑھنے کی تلقین اُسی طرح کی بیان ہوئی ہے جس طرح سیدہ ام سلمہ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس کو اِس کی تلقین فرمائی تھی۔ حدیثِ علی کےآخر میں اِس نماز کی فضیلت میں حدیثِ عباس کی طرح یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں کہ ’فإذا فعلت ذلك، غفر اللّٰه ذنبك: كبيره وصغيره، خطأه وعمده، قديمه وحديثه‘، ’’سو جب تم یہ نماز پڑھو گے تو اللہ تمھارے نئے، پرانے، قصدًا اور سہوًا سرزد ہونے والے صغیرہ و کبیرہ تمام گناہ بخش دے گا‘‘۔

3۔ابن ناصر الدین کی ’’الترجیح لحدیث صلاۃ التسبیح‘‘ کے صفحہ 52 کے ایک طریق اور ابن حجر کی’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘ کے صفحہ 33 کی روایت کے مطابق علی رضی اللہ عنہ کو اِس نماز کا طریقہ بتاتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام میں 15 مرتبہ تسبیحات پڑھنے کا حکم قراءت سے پہلے کے لیے دیا تھا، نہ کہ قراءت کے بعد کے موقع کے لیے، جب کہ ابن ناصر الدین کی اِسی کتاب کے صفحہ 52 ہی کے ایک طریق کے مطابق مذکورہ بالا پورا واقعہ سیدنا علی نے خود اپنے حوالے سے نہیں، بلکہ اپنے بھائی جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جعفر بن ابی طالب سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے اِس طرح اُن کا بوسہ لیا اور اُنھیں اِس نماز کا تحفہ دیا اور اِس کی یہ غیر معمولی فضیلت اُن سے بیان فرمائی۔ چنانچہ اِس سے حدیثِ علی کے مختلف متون کا یہ صریح اضطراب بھی واضح ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائے جانے کا واقعہ، معلوم نہیں کہ خود سیدنا علی کے ساتھ پیش آیا تھا یا پھر جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔

4۔حافظ ابن حجر نے ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘ کے صفحہ 36 پر ابو نعیم کی کتاب ’’قربان المتقین‘‘ کی نسبت سے علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور طریق کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس کے متن میں صلاۃ التسبیح کے باب کی دوسری تمام روایتوں کی صریح مخالفت پائی جاتی ہے، اِس لیے کہ اُس میں اِس نماز کے جمعے کے دن چاشت کے وقت پڑھنے کی تلقین آئی ہے، خواہ عمر بھر میں ایک ہی مرتبہ پڑھی جائے۔ علاوہ ازیں، اُس میں ہر رکعت کے قیام میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کافرون، سور ۂ اخلاص، سور ۂ فلق، سور ۂ ناس اور آیۃ الکرسی کو دس دس مرتبہ پڑھنے کی تاکید بیان ہوئی ہے اور تشہد میں ’سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَا بِاللّٰهِ‘ کا ورد 40 مرتبہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں زمین و آسمان کے شرور سے حفاظت کی ضمانت بیان ہوئی ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ ابو نعیم نے اِس روایت کی تخریج کرنے کے بعد کہا ہے کہ اِس کے متن میں جھوٹے الفاظ پائے جاتے ہیں اور اِس کے من گھڑت ہونے کے آثار بالکل واضح ہیں۔غرض یہ کہ یہ متن صلاۃ التسبیح کے باب کی دوسری تمام روایتوں کے برعکس اِس نماز کا ایک بالکل مختلف طریقہ بتاتا ہے، چنانچہ یہ متن منکَر بھی ہے اور ابو نعیم نے اِس کی تخریج کر کے خود ہی بتادیا ہے کہ اِس کے من گھڑت ہونے کے شواہد بالکل واضح ہیں۔

تحقیقِ اسانید

حديثِ علی کے مذکورہ بالاتمام طرق کی اسانید کا تحقیقی مطالعہ حسب ذیل ہے:

الف۔ کتاب ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 1کی سند میں مندرجہ ذیل 4 علل پائی جاتی ہیں:

1۔ اِس سند میں ابو حنیفہ، محمد بن حنیفہ الواسطی نامی ایک راوی ہے، جس کی توثیق نہ صرف یہ کہ ائمۂ رجال سے ثابت نہیں ہے، بلکہ امام دارقطنی نے اِس کے بارے میں صراحت کی ہے کہ ’ليس بالقوى‘، ’’یہ راوی قوی نہیں ہے۔‘‘1

2۔ اِسی سند میں ایک راوی الحسن بن جبلہ الشيرازی ہے، جس کے بارے میں ائمۂ رجال و محققینِ حدیث بالکل واقف نہیں ہیں کہ یہ کون شخص تھا۔ علم رجال کے مراجع اِس راوی کے تعارف سے بالکل خاموش ہیں،لہٰذا یہ ایک بالکل مجہول راوی ہے۔ہیثمی (المتوفى: 807 ھ) نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ راوی کون ہے۔2

3۔ اِس میں ایک راوی ايوب بن سليمان الرقی بھی مجہول ہے۔ علمِ رجال کے مراجع اِس حوالے سے بھی ہماری کوئی رہنمائی نہیں کرتے۔یہ بھی ایک نامعلوم راوی ہے۔

4۔ اِس سند میں عبد الاعلى بن عامر الثعلبی الكوفی نامی ایک راوی ہے، جس کو امام احمد، ابو زرعہ، ابن سعد اور فسوی نے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے، جب کہ امام قطان اور ابن مہدی کے نزدیک یہ ایک ’متروک‘ راوی ہے۔3

ب۔ کتاب ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 2 اور ’’الترجیح لحدیث صلاۃ التسبیح‘‘،ابن ناصر الدین کے صفحہ52 کا وہ طریق جو واحدی کی کتاب’’الدعوات‘‘ کی نسبت سے بیان ہوا ہے؛ اِن دونوں طرق کی اسانیدمیں ایک یکساں علت یہ ہے کہ اِن میں محمد بن محمد بن الاشعث نامی ایک راوی موجود ہے، جو ’وضاع‘ تھا۔یہ نہ صرف یہ کہ حدیثیں گھڑتا تھا، بلکہ امام ابن عدی نے اِس کے بارے میں بتایا ہے کہ تشیع کی طرف شدید میلان کی وجہ سے اِس نے تقریبًا ایک ہزار روایتوں پر مشتمل حدیث کا ایک پورا مجموعہ گھڑ لیا تھا، جس کو یہ لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتا تھا۔ اُس کتاب کی بے بنیاد اور منکر روایتوں کی اسانید علی رضی اللہ عنہ سے ہوکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی تھیں۔امام دارقطنی سے اِس شخص کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا: ’آية من آيات اللّٰه، وضع ذاك الكتاب – يعنى العلويات‘، ’’یہ شخص اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔ سیدنا علی کی روایتوں پر مشتمل یہ کتاب اِس نے خود گھڑی تھی‘‘۔4

یہ ’موضوع‘ سند پر مشتمل طریق ہے جس کا ذکر حافظ ابن حجر نے بھی ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘ کے صفحہ 34 پر کیا ہے۔

ج۔ علی رضی اللہ عنہ سے مروی جو طریق ابن ناصر الدین نے ’’الترجیح لحدیث صلاۃ التسبیح‘‘، کے صفحہ52 پر نقل کیا ہے، اُس کی سند میں درجِ ذیل علتیں پائی جاتی ہیں:

1۔ اِس میں اسحاق بن ابراہیم بن نسطاس نامی ایک راوی ہے، جس کے بارے میں امام بخاری نے کہا ہے کہ ’فيه نظر‘۔اہل علم واقف ہیں کہ امام بخاری کی اصطلاح میں یہ الفاظ اُن کی طرف سے کسی بھی راوی پر شدید جرح تصور کیے جاتے ہیں۔ اِسی طرح امام بخاری کا اِس راوی پر ’منكر الحديث ‘ کا حکم لگانا بھی نقل ہوا ہے۔ امام عقیلی اور ابن الجارود نے بھی اِس راوی کو ’منكر الحديث ‘ کہا ہے۔ امام ابن عدی، امام نسائی اور امام دارقطنی نے اِس کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔5

2۔ اِس سند میں ایک راوی عمر بن عبد اللہ المدنى ہے، جس کو امام یحییٰ بن معین، امام نسائی اور حافظ ابن حجر نے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔ ابن حجر نے اِس کو کثیر الارسال بھی بتایا ہے، اور یہ واقعہ ہے کہ اِس طریق میں بھی علی رضی اللہ عنہ سے اِس کی روایت ’مرسل‘ اور ’منقطع‘ ہی ہے۔ امام ابن معین نے کہا ہے کہ اِس نے کسی صحابی سے کوئی روایت نہیں سنی۔ ابن حبان نے کہا ہے کہ یہ راوی قابلِ حجت نہیں ہے۔ امام مالک نے اِس کو متروک قرار دیا ہے۔6

د۔ اِسی ضعیف راوی کی علی رضی اللہ عنہ سے براہِ راست مروی یہی ’مرسل‘ روایت ہے، جس کا ذکر حافظ ابن حجر نے بھی’’ امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘ کے صفحہ 33 پر کیا ہے اور ساتھ ہی ابن حجر نے خود یہ صراحت بھی کردی ہے کہ اِس کی سند میں ’ضعف‘ اور ’انقطاع‘ ہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ سند کا یہ ضعف عمر بن عبد اللہ نامی اِسی راوی کے علماے حدیث کے نزدیک ’ضعیف‘ ہونے کی وجہ سے ہے اور انقطاع اِس کے براہ راست حضرت علی سے روایت بیان کرنے کی وجہ سے ہے، دراں حالیکہ اِس نے کسی صحابی سے بالمشافہ کوئی روایت نہیں سنی، جیسا کہ امام یحییٰ بن معین نے صراحت کی ہے۔

روایت کی حیثیت اور اِس کا حکم

مندرجہ بالا تحقیق و مطالعہ سے متحقق ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نسبت سے مروی قولی حدیث کا استناد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ اصولِ روایت کی رو سے اِس حدیث کے بعض طر ق کی اسانید متعدد علل کی وجہ سے بالکل واہی اور انتہائی کم زور ہیں، جب کہ بعض من گھڑت ثابت ہوئی ہیں۔ سند کے علاوہ حدیثِ علی اپنے متون کے بعض باہمی تناقضات واضطرابات کی وجہ سے بھی ناقابلِ اعتبار ہے۔ اِس کے بعض طرق متن کے اعتبار سے بھی ’منکر‘ ہیں، اِس لیے کہ اُن میں صلاۃ التسبیح کے باب کی دوسری روایتوں سے صریح اختلاف پایا جاتا ہے۔حدیثِ علی کے متون میں بعض پہلوؤں سے جو باہمی اختلافات و تضادات پائے جاتے ہیں، اُن کی تفصیل یہ ہے کہ اِس کےبعض متون سے معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے صلاۃ التسبیح کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد سنا تھا اور پھر اُس قولی حدیث کو بعض لوگوں نے اُن سے آگے بیان کیا۔ اور بعض روایتوں میں حضرت علی ہی سے مروی ہے کہ یہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اُن کو بہ طور تحفہ و عطیہ بتائی اورسکھائی تھی، جب کہ بعض متون کے مطابق خود علی رضی اللہ عنہ ہی بتارہے ہیں کہ یہ نماز تحفہ و عطیہ کے طور پر در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بھائی جعفر رضی اللہ عنہ کو دی تھا۔علاوہ ازیں، حدیثِ علی کے ایک متن میں آیا ہے کہ قیام میں تسبیح وتکبیر کا ورد سورت پڑھنے کے بعد کرنا ہے، جب کہ ایک دوسری روایت میں بیان ہوا ہے کہ یہ ورد قراءت فاتحہ سے بھی پہلے کرنا ہے۔ چنانچہ واضح ہوا کہ حدیثِ علی صلاۃ التسبیح کے اثبات کے لیے نہ متنًا مستند ہے اور نہ سندًا قابلِ استدلال ہوسکتی ہے۔ اُصولِ روایت ودرایت کی روشنی میں اِس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

8۔ حدیثِ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ

صلاۃ التسبیح سے متعلق ایک حدیث عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، جس کے چند طرق حدیث وآثار کے مندرجہ ذیل صرف چار مصادر میں نقل ہوئے ہیں:

1۔ نسخة أبي مسهر، أبو مسهر عبد الأعلى بن مسهر الغساني الدمشقي (المتوفى: 218ھ)، رقم 36۔

2۔ شعب الإيمان، أبو بكر أحمد بن الحسين الخراساني البيهقي (المتوفى: 458ھ)، رقم 604۔

3۔ ذكر صلاة التسبيح، أبو بكر أحمد بن علي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463ھ)، رقم 19، 20، 21، 23۔

4۔ أمالي الأذكار في فضل صلاة التسبيح، ابن حجر العسقلاني (المتوفى: 852ھ)، رقم 11۔

تیسری، پانچویں اور نویں صدی ہجری کے مندرجہ بالا چار مصادر کے سوا حدیث وآثار کے باقی تمام مصادرِ اصلیہ صلاۃ التسبیح کے باب میں حدیثِ عبد اللہ بن عمرو کے ذکرسے بالکل خاموش ہیں۔

روایت کے متون اور اِن کے اضطرابات

ذیل میں پہلے ہم عبد اللہ بن عمرو کی روایت کے متون کا جائزہ لیں گے، جس سے اِن کے مضامین، اِن میں پائے جانے والے اضطرابات اور باہمی تضادات بھی واضح ہوتے ہیں۔

الف۔ نسخۂ ابی مسہر، رقم 36 میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی نسبت سے نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایک تحفہ اور ہدیہ نہ دوں؟ یہ بات آپ نے کس صحابی سے مخاطب ہوکر فرمائی، آغاز میں اِس بات کی کوئی وضاحت اِس متن میں بیان نہیں ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ چار رکعتوں کی نماز ہے،جو اِس کا اہتمام کرے گا، اُس کے نئے، پرانے، صغیرہ، کبیرہ، غلطی سے سرزد ہونے والے اور جان بوجھ کر کیے گئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔اِس طریق میں اِس نماز کےحالتِ قیام میں قراءتِ فاتحہ سے پہلے 15 مرتبہ اور قراءتِ سورہ کے بعد دس مرتبہ تسبیح، تحمید، تہلیل وتکبیر کا ورد کرنے کی ہدایت مذکور ہے۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ صلاۃ التسبیح کے باب کی دوسری تمام روایتوں میں منقول طریقے سے مختلف و متصادم ہے۔پھر اِس متن میں نماز کے باقی تمام مواقع پر یہی وِرد دس دس مرتبہ دہرانے کی تلقین آئی ہے، لیکن قعدے میں اِس ورد کے اہتمام کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے، جب کہ معلوم ہے کہ دوسری تمام روایتوں میں اِس نماز کے قعدوں میں بھی دس دس مرتبہ اِس ذکر وتسبیح کی تاکید مذکور ہے۔ چنانچہ واضح ہوا کہ اِس متن میں اِس موخر الذکر پہلو سے بھی نقص ہے۔ اِس کے بعد دل چسپ بات یہ ہے کہ اِس روایت کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِس نماز کا طریقہ بتائے جانے کے بعد عبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عباس (رضی اللہ عنہ) نے کہا: ایسی (طویل) نماز کون پڑھ سکتا ہے؟ اُن کے اِس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم در اصل اپنے چچا سیدنا عباس سے مخاطب تھے اور اِس نماز کا تحفہ بھی وہ اُنھی کو دے رہے تھے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نےآپ کی یہ گفتگو سنی تو روایت کردی، ورنہ وہ خود اِس نماز کی تعلیم کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطب نہیں تھے۔ سیدنا عباس کے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: یہ نماز ہفتے میں یا مہینے میں یا سال میں ایک مرتبہ پڑھ لی جائے اورنمازی چاہے تو اِس میں سورۂ اخلاص بھی پڑھ سکتا ہے۔

ب۔ ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 21 اور ’’شعب الایمان‘‘، بیہقی، رقم 604 کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے در اصل عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہی کو مخاطب کرکے اُنھیں چار رکعتوں والی اِس نماز کا تحفہ دیا تھا۔ اِن دونوں روایتوں میں اِس نماز کا طریقہ اور اِس کی فضیلت بھی اُنھی الفاظ بیان ہوئی ہے جو اوپر ’’نسخۂ ابی مسہر‘‘، رقم 36 میں بیان ہوئی ہے۔قعدے میں ذکر و تسبیح کے ورد کا اِن دونوں روایتوں میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔اِن متون کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِس نماز کا تحفہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیے جانے کے موقع پر عباس رضی اللہ عنہ بھی چونکہ وہاں موجود تھے، اِس لیے اُنھوں نے آپ کا یہ ارشاد سنا تو اِس پر یہ تبصرہ کیا کہ ایسی (طویل) نماز پڑھنے کا حوصلہ کون کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں کہ یہ سن کر آپ نے فرمایا: یہ نماز ہفتے میں یا مہینے میں یا سال میں ایک مرتبہ بھی پڑھی جاسکتی ہے اور آپ چاہیں تو اِس میں سورۂ اخلاص بھی پڑھ سکتے ہیں۔ غرض یہ کہ پچھلی روایت کے الفاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل مخاطب سیدنا عباس معلوم ہورہے تھے، جب کہ اِس روایت کے مطابق آپ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہم کلام تھے۔

ج۔ ’’ ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 19میں عبد اللہ بن عمرو سے جو روایت نقل ہوئی ہے، اُس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار رکعت نماز کی وصیت وترغیب کا عمومی ذکر ہے۔اِس متن میں کسی متعین صحابی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخاطبت کا کوئی ذکر ہے، نہ اِس نماز کے کسی کو بہ طور تحفہ و عطیہ دیے جانے کے کو ئی الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، پچھلی روایت کے متن کے برخلاف اِس میں حالتِ قیام میں صرف قراءت کے بعد پندرہ مرتبہ تسبیحات کا ورد کرنے کی تلقین ہے۔اِس طریق میں قراءت سے قبل کسی وِرد وتسبیح کی تلقین بیان نہیں ہوئی ہے۔ مزید برآں، اِس متن میں بھی حسبِ سابق یہ نقص پایا جاتا ہے کہ قعدے میں تسبیحات کے ورد کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اِس روایت میں اِس نماز کی فضیلت کے الفاظ بھی کچھ مختلف ہیں اور وہ یہ ہیں: ’يغفر له ما قدم وما أخر، وما أسر وما أعلن‘، ’’یہ نماز پڑھنے والے کے اگلے، پچھلے، علانیہ اور خفیہ طور پر کیے ہوئے گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔

د۔ ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 20کے متن میں یہ بیان ہوا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ طور عطیہ یہ نماز خود عبد اللہ بن عمرو بن عاص کو تعلیم فرمائی تھی۔ اِس موقع پرسیدنا عباس کی موجودگی اور اُن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکالمے کا اِس روایت میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ باقی مکمل نماز کا طریقہ اِس روایت میں اُسی طرح مذکور ہے، جس طرح پہلے اکثر روایتوں میں بیان ہوچکا ہے۔آخر میں اِس نماز کے صلے میں نئے، پرانے، صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہوں کی معافی کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

ہ۔ ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 23اور ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، ابن حجر، رقم 11 میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز دراصل جعفر (رضی اللہ عنہ) کو مخاطب کر کے تحفے کے طور پر اُنھیں بتائی اور سکھائی تھی اور آپ نے اُنھی سے فرمایا تھا کہ یہ نماز تم دن میں یا رات میں کسی وقت پڑھ لینا یا ہرجمعے کے دن ادا کرلینا یا مہینے میں ایک مرتبہ یا سال میں ایک مرتبہ پڑھ لینا۔اِس کے بعد اِس روایت میں اِس نماز کا وہی طریقہ بیان ہوا ہے جو زیادہ تر روایتوں میں پہلے بیان ہوا ہے۔ ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 23 کے مطابق آخر میں آپ نے جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ’يغفر اللّٰه لك ذنوبك ما أسررت وما أعلنت‘، ’’ اِس نماز کے صلے میں اللہ تعالیٰ آپ کے علانیہ اور مخفی گناہ بخش دیں گے‘‘۔

تحقیقِ اسانید

الف۔ ’’نسخۂ ابی مسہر‘‘، رقم 36، ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 21 اور ’’شعب الایمان‘‘، بیہقی، رقم 604 کی اسانید میں مندرجہ ذیل دو بڑی علل پائی جاتی ہیں:

1۔ اِن اسانید میں ابو جناب یحییٰ بن ابی حیۃ الكلبی الكوفی نامی ایک راوی ہے،جس کو اکثر ائمۂ رجال نے ’ضعیف‘ اور ’مدلس‘ قرار دیا ہے۔ بعض محدثین نے اِس کو ’منکر الحدیث ‘ اور بعض نے ’متروک الحدیث‘ بھی کہا ہے۔7

2۔ اِن تینوں اسانید میں ابو جناب یحییٰ نے یہ روایت ’عن‘ کے حرف کے ساتھ بیان کی ہے، اِس نے اپنے شیخ ابو الجوزاء سے اِس کے سننے کی صراحت نہیں کی ہے۔چنانچہ اِس پہلو سے بھی یہ روایت ناقابل اعتبار ہے، اِس لیے کہ مدلِّس راوی کے بارے میں محدثین کا یہ ضابطہ معلوم ہے کہ وہ جب تک کسی روایت کو بیان کرنے میں اپنے شیخ سے سننے کی صراحت نہیں کرتا، اُس کی ’مُعَنعَن‘ روایت غیر مقبول ہوگی۔

3۔ اِن تینوں طرق میں محمد بن حميد التميمی الرازی نامی ایک راوی بھی ہے، جس کو بعض ائمۂ رجال نے ’ضعیف‘، بعض نے ’ضعیف جدًا‘، بعض نے ’منکر الحدیث‘، بعض نے ’متروک الحدیث‘ اور کئی علماے حدیث نے اِس کو ’کذاب‘ قرار دیا ہے۔8

ب۔ ’’امالی الاذكار فی فضل صلاة التسبیح‘‘، ابن حجر، رقم 11 کی سند میں درجِ ذیل کئی علتیں پائی جاتی ہیں:

1۔ اِس سند میں حافظ ابن حجر یہ روایت محمد بن احمد الشھرزوری نامی راوی سے نقل کر رہے ہیں جو ائمۂ حدیث ورجال کے نزدیک ایک ’مجہول‘، یعنی نامعلوم راوی ہے۔ تراجمِ رجال کے مراجع اِس راوی کے تعارف سے بالکل خاموش ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ فنِ حدیث کی رو سے مجہول راوی کی روایت ’منقطع‘ و’ضعیف‘ قرار دی جاتی ہے۔

2۔ اِسی سند میں ابن المقير علی بن ابی عبد اللہ الازجی نامی ایک راوی ہے، جو حدیث کے راویوں میں چھبیسویں طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کی پیدایش 545ھ کی ہے۔ اِس سند میں یہ شخص جس راوی سے یہ روایت نقل کر رہا ہے، اُس کا نام ابن الغريق محمد بن علی القرشی ہے اور یہ رواۃ ِ حدیث کے انیسویں طبقے کا راوی ہے، جس کی وفات 465ھ میں ہو چکی تھی۔اِس سے واضح ہے کہ یہاں بھی یہ سند ’منقطع‘، یعنی ٹوٹی ہوئی ہے؛ ابن المقیر کی ابن الغریق سے روایت کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتی، اِس لیے کہ ابن الغریق کی وفات ابن المقیر کی پیدایش سے 80 سال پہلے ہوچکی تھی۔

3۔ اِس کے علاوہ اِس سند میں اوپر محمود بن خالد السلمی نامی راوی جس شخص سے اِس روایت کو نقل کر رہا ہے، اُس کا نام ذکرنہیں کیا، بلکہ محمود بن خالد نے ابہام رکھ کر کہا ہے کہ ’عن الثقۃ‘، یعنی یہ روایت ثقہ راوی سے منقول ہے۔ یہ ثقہ کون تھا،اِس کی صراحت محمود نے نہیں کی۔ اِس طرح محض اپنی توثیق کے ساتھ مبہم راوی کا ذکر کرنا فنِ حدیث کی رو سے کسی بڑے حافظ ومحدث سے بھی صادر ہو تو غیر مقبول ہوتا ہے۔چنانچہ اِس مبہم راوی کی وجہ سے اِس مقام پر بھی سند کا انقطاع بالکل واضح ہے۔

4۔اِسی سند میں ایک راوی عبد الرحمٰن بن ثابت بن ثوبان العنسی ہے،جسے امام یحییٰ بن معین اور امام نسائی سمیت کئی ائمۂ محدثین نے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے، جب کہ امام احمد نے اِس کی احادیث کے ’منکر‘ ہونے کی صراحت کی ہے۔9

ج۔ ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 19 کی سند میں غياث بن المسيب الراسبی نامی راوی مجہول ہے، چنانچہ یہ سند بھی غیر متصل ومردود ہے۔10

د۔ ذكر صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 20 کی سند میں مندرجہ ذیل دو بڑی خرابیاں ہیں:

1۔اِ س میں عبد العزيز بن ابان القرشی نامی راوی ہے،جسے کئی ائمۂ حدیث نے ’کذاب‘ اور ’وضاع‘ قرار دیا ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اُن کے نزدیک یہ ایک بالکل ’متروک‘ راوی ہے۔11

2۔ اِس سند میں ایک راوی ابان بن ابى عياش البصرى ہے، جو ائمۂ رجال کے نزدیک ’متروک الحدیث‘ ہےاور روایتِ حدیث میں اِس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔12

ه۔ ’’ذكر صلاة التسبیح‘‘، خطیب بغدادی، رقم 23 کی سند میں درجِ ذیل علتیں ہیں:

1۔ اِس میں امام ابو داؤد کا بیٹا ابو بكر عبد اللہ بن سلیمان بن الاشعث ہے، جس کے بارے میں خود امام ابو داؤد نے کہا ہے کہ میرا یہ بیٹا ’کذاب‘ ہے۔ یہی راے اِس کے بارے میں حافظ ابراہیم اصبہانی نے بیان کی ہے۔ امام ابن عدی کے شیخ یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کہا ہے کہ اِس کے بارے میں اِس کے والد ابو داؤد کی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ ’میرا یہ بیٹا کذاب ہے‘، چنانچہ اِس سے کوئی حدیث نہ لو۔13

2۔اِس سند میں بھی عبد الرحمٰن بن ثابت بن ثوبان العنسی موجود ہے، جسے امام یحییٰ بن معین اور امام نسائی سمیت کئی ائمۂ محدثین نے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے، جب کہ امام احمد نے اِس کی احادیث کو ’منکر‘ بتایا ہے۔14

4۔ اِس کے علاوہ، اِس سند میں یہ موخر الذکر راوی جس شخص سے اِس روایت کو نقل کر رہا ہے، اُس کا نام بھی اِس نے نہیں بتا یا، بلکہ مبہم رکھ کر کہا ہے کہ ’حدثني الثقة‘، ’’ ثقہ راوی نے مجھ سے یہ روایت بیان کی ہے‘‘۔ قواعدِ علمِ روایت کے مطابق راوی کو مبہم رکھ کر خود سے ایسی توثیق کر لینا قطعاً قابل قبول نہیں ہے، خواہ علمِ حدیث کا کوئی بڑا امام ہی ایسا کیوں نہ کرے۔ اِس مبہم راوی کی وجہ سے اِس مقام پر سند کا انقطاع بھی بالکل واضح ہے۔

روایت کی حیثیت اور اِس کا حکم

مندرجہ بالا تحقیق ومطالعہ سے متحقق ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی نسبت سے مروی قولی حدیث کا استناد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ اصولِ روایت کی روشنی میں اِس حدیث کے بعض طرق کی اسانید متعدد علل کی وجہ سے بالکل واہی اور انتہائی کم زور ہیں، جب کہ بعض من گھڑت بھی ہیں۔ سند کے علاوہ حدیثِ ابن عمرو اپنے متون کے بعض اختلافات واضطرابات کی وجہ سے بھی بالکل ناقابلِ اعتبار ہے۔ اِس کے بعض طرق متن کے اعتبار سے بھی ’منکر‘ ہیں، اِس لیے کہ اُن میں صلاۃ التسبیح کے باب کی دوسری روایتوں سےصریح اختلاف پایا جاتا ہے۔اِسی طرح اِس حدیث کے متون میں بعض پہلوؤں سے باہمی اختلافات وتضادات بھی بالکل صریح طور پر دیکھے گئے ہیں۔بعض متون سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے صلاۃ التسبیح کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عمومی ارشاد سنا اور پھر اِس کو روایت کیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ یہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ابن عمرو رضی اللہ عنہ ہی کو بہ طور تحفہ و عطیہ بتائی اورسکھائی تھی،بعض متون سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمخاطب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، جب کہ ایک طریق کے مطابق خود ابن عمرو نے بہ صراحت بتایا ہے کہ یہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو تعلیم فرمائی تھی، یعنی اِس واقعے میں آپ کےمخاطب در اصل حضرت جعفر تھے۔ اِس حدیث کے بعض طرق میں یہ نکارت بھی ہے کہ اُن میں قیام میں قراءت فاتحہ سے قبل 15 مرتبہ اور تلاوتِ سورہ کے بعد 10 مرتبہ تسبیح وتکبیر کے ورد کا حکم ہے۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ صلاۃ التسبیح کے باب کی دوسری تمام روایتوں میں منقول طریقے سے مختلف و متصادم ہے، جب کہ اِسی روایت کے بعض طرق میں حالتِ قیام میں صرف قراءت کے بعد پندرہ مرتبہ تسبیحات کا ورد کرنے کی تلقین مذکور ہے، لیکن قراءت سے پہلے کسی وِرد وتسبیح کا ذکر نہیں ہے۔چنانچہ واضح ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے اثبات کے لیے حدیثِ عبد اللہ بن عمرو بھی نہ سندًا قابلِ التفات ہوسکتی ہے اور نہ متنًاقابلِ استدلال۔ اُصولِ روایت ودرایت کی روشنی میں اِس حدیث کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

[باقی]

  1. ۔ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذہبی3/532، رقم 7463۔ لسان الميزان، ابن حجر العسقلانی 7/109، رقم6736۔
  2. ۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ابو الحسن نور الدين علی بن ابی بكر الہيثمی9/570۔
  3. ۔ تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی 6/94-95، رقم198۔
  4. ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی9/446،449، رقم1797۔ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذہبی 4/27-28، رقم 8131۔
  5. ۔ دیکھیے: الضعفاء الكبير، ابو جعفر العقيلی 1/295، رقم116۔ الضعفاء والمتروكون، النسائی، ص18، رقم 45۔ الضعفاء والمتروكون، الدارقطنی، 1/257، رقم95 ۔ لسان الميزان، ابن حجر العسقلانی2/32، رقم 985۔
  6. ۔ تہذيب الكمال، المزی 21/420-423، رقم 4271۔ تہذيب التہذيب، ابن حجر 7/471-472، رقم784؛ جامع التحصيل فی احكام المراسيل، صلاح الدين ابو سعيد الدمشقی،ص242، رقم558۔
  7. ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 31/284-290، رقم 6817۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر 11/201-203، رقم340۔
  8. ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 25/97-108، رقم 5167۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر 9/ 127-131، رقم181۔
  9. ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی17/12-18، رقم 3775۔تہذیب التہذیب، ابن حجر 6/ 150-151، رقم306۔
  10. ۔ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذہبی 4/27-28، رقم 8131۔
  11. ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 18/107-113، رقم 3434۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر6/294-295، رقم637۔
  12. ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 2/19-24، رقم 142۔
  13. ۔ تاريخ بغداد، خطيب البغدادی 22/115-116۔ الضعفاء والمتروكون، ابن الجوزی 2/126، رقم 2040۔
  14. ۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 17/12-18، رقم 3775۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر 6/ 150-151، رقم306۔