مواد پر جائیں

صلاۃ التسبیح: فقہ وحدیث کی روشنی میں

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

[ایک تحقیقی مطالعہ]

(7)

خلاصۂ تحقیق وتخریج

صلاۃ التسبیح سے متعلق تمام روایتوں کا استقصا کر کے مقالہ نگار نے اِس مقالے میں پیچھے جو مفصل تحقیق پیش کی ہے، اُس سے ایک بات تو یہ واضح ہوئی ہے کہ بہت سے معروف مصادرِ حدیث وآثار صلاۃ التسبیح کے بارے میں کسی بھی روایت کے ذکر سے بالکلیہ خاموش ہیں۔

دوسرے یہ کہ اِن ساکت مصادرِ حدیث میں موطا مالک، الآثار، ابو یوسف، الآثار، محمد بن الحسن، مسند طیالسی، مسند شافعی، مسند حمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند اسحاق، مسند احمد، سنن دارمی،صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند بزار، سنن النسائی الصغریٰ، سنن النسائی الکبریٰ، مسند ابی یعلیٰ، شرح معانی الآثار، طحاوی، شرح مشکل الآثار، طحاوی، صحیح ابن حبان اور سنن دارقطنی جیسی مقبول و معروف کتب بھی شامل ہیں۔

تیسرے یہ کہ اِس نماز کے بارے میں جو کچھ مروی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب بعض قولی روایتیں ہیں۔آپ کا یہ نماز پڑھنا کسی روایت میں نقل نہیں ہوا ہے۔

چوتھے یہ کہ اِس موضوع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب قولی روایتیں متعدد صحابہ سے نقل ہوئی ہیں،لیکن فنِ حدیث کی رو سے کسی بھی صحابی کی روایت کا کوئی ایک طریق بھی ’صحیح‘ یا ’حسن‘ کے درجے میں ثابت نہیں ہے کہ اُس کو قولِ رسول قرار دیا جا سکے۔

پانچویں یہ کہ اِس باب کی تمام روایتیں بہ شمول اپنے تمام طرق کے محض ’ضعیف‘ نہیں ہیں، بلکہ’منکر‘ بالکل واہی، انتہائی کم زور اور بہت سے طرق من گھڑت بھی ہیں۔

چھٹے یہ کہ سند کے علاوہ روایاتِ باب کے متون میں بہت سےاضطرابات بھی ہیں، جن سے اُن کے باہم اختلافات وتضادات بھی متحقق ہوئے ہیں۔

ساتویں یہ کہ اِس تحقیق کی بنیاد پر یہ بات پورے علمی وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ قواعدِ علم روایت کی رو شنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اِس نماز کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔

صلاۃ التسبیح —درایت کی روشنی میں جائزہ

تحقیقِ اسانید کے بعد اب ذیل میں ہم صلاۃ التسبیح اور اِس کی روایتوں کے مضامین کا درایت کے پہلو سے جائزہ لیں گے:

1۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ عبادات سر تا سر توقیفی ہوتی ہیں، چنانچہ یہ بات بہ طور اُصول مانی جاتی ہے کہ تعبدی اُمور میں کوئی چیز جب تک شارع سے صحیح ومستند ذریعے سے ثابت نہ ہو، عبادت کی نوعیت کا ہر عمل ممنوع وغیر مشروع ہوگا۔چنانچہ جب تحقیق سے ثابت ہوا کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں شارع سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے تو اِس سے متحقق ہوا کہ یہ نماز دین میں مشروع نہیں ہے۔

2۔ اسلامی شریعت میں تمام ثابت شدہ نمازوں کی جو معلوم ہیئت اور طریقۂ ادائیگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے امت کو ملا ہے، اُس کی روشنی میں صلاۃ التسبیح کے طریقے کا جائزہ لیا جائے تو بالبداہت واضح ہے کہ یہ نمازاِس عبادت کی معلوم ومعروف ہیئت سے مختلف ہے، اِس لیے کہ اِس نماز کو چار رکعتوں کی صورت میں ادا کرنے کا جو طریقہ روایتوں میں آیا ہے، اُس میں ’سبحان اللّٰه، والحمد للّٰه، ولا الٰہ الا اللّٰه، واللّٰه اكبر‘ کے الفاظ کو اِس نماز میں ایک ورد کے طور پر متعین کردیا گیا ہے۔یہ ورد اِس نماز میں ہر موقع پر دس دس مرتبہ کیا جاتا ہے۔اور وہ اِس طرح کہ چاروں رکعتوں کے ہر قیام میں قراءت کے بعد، ہر رکعت کے رکوع، قومے، دونوں سجدوں،سجدوں کے درمیان کے جلسوں میں اور ہر دوسرے سجدے سے اُٹھنے کے بعد قعدے میں بیٹھ کر بھی اِس تسبیح کا دس دس مرتبہ وِرد کیا جاتا ہے۔اب ذرا عام نمازوں سے صلاۃ التسبیح کا تقابل کر کے دیکھ لیجیے۔ عام نماز میں بہ طور قانون کسی موقع پر کوئی وِرد وتسبیح متعین نہیں ہے۔کسی ذکر وتسبیح کی معین عدد کے ساتھ تکرار بھی نماز کی شریعت میں مقرر نہیں ہے۔اِسی طرح عام نمازوں میں قراءت کے بعد کوئی ذکر وتسبیح نہیں ہے۔ قومے اور سجدوں کے درمیان کے جلسوں میں کوئی وِرد مشروع ومقرر نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، نماز کے عام طریقے میں ہر دوسرے سجدے سے اُٹھنے کے بعد قعدہ کرنا مشروع نہیں کیا گیا ہے اور نہ اِس موقع کے لیے کوئی وِرد مقرر کیا گیا ہے۔اِس تفصیل سے صاف واضح ہے کہ صلاۃ التسبیح کی ادائیگی کا طریقہ اسلامی شریعت میں مقرر نماز کےمشروع ومعلوم طریقے سے کئی پہلوؤں سے مختلف ہے، چنانچہ اِس نماز کی ادائیگی میں شذوذ وغرابت کے اِن پہلوؤں کو دیکھا جائے تو صاف واضح ہے کہ اِس نماز کا طریقۂ ادائیگی چونکہ نماز کی تشریعِ سنت کے خلاف ہے، اِس لیے بھی یہ نماز دین میں نا قابل قبول ہے۔

3۔ صلاۃ التسبیح کی فضیلت روایتوں میں یہ بتائی گئی ہے کہ اِس کو پڑھنے والے کے اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، غلطی سے سرزد ہونے والے، جانتے بوجھتے کیے ہوئے، چھوٹے، بڑے، پوشیدہ اور ظاہر؛ سب ہی گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔یہ فضیلت گناہوں کے حوالے سے قرآن کے قانونِ توبہ واستغفار کے خلاف ہے۔قرآن کے مطابق آدمی کے گناہ اُس وقت معاف ہوتے ہیں، جب وہ گناہ سر زد ہوجانے کے بعد پوری سچائی کے ساتھ جلد نادم ہو کرخدا کی طرف رجوع کرے اور اپنے عمل کی اصلاح کے ساتھ اپنے پروردگار سےمعافی طلب کرے۔اُس سےیہ گناہ اگر کسی انسان کی حق تلفی یا اُس کے ساتھ کسی زیادتی کی صورت میں سر زد ہوا ہے تو وہ لازمًا اُس کی تلافی بھی کرے۔ گناہوں کی معا فی کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا بیان کردہ قطعی قانون ہے۔1محض کوئی نفل نماز پڑھ لینے سے تمام گناہوں کی معافی کا کوئی تصوردینِ اسلام میں نہیں ہے۔چنانچہ اِس نماز کی فضیلت کے قرآن کے ساتھ اِس تناقض کی بنیاد پر بھی صلاۃ التسبیح کی روایتوں کا یہ مضمون اور اِس نمازکا ثبوت ناقابلِ اعتبار ہوجاتا ہے۔

4۔ دینِ اسلام میں ایسی کوئی نماز مشروع نہیں ہے جس کے بارے میں مسلمانوں کو یہ تلقین کی گئی ہو کہ وہ ہر ہفتے ایک مرتبہ پڑھ سکیں تو پڑھ لیں، اگر ہفتہ وار بھی نہ پڑھ سکیں تو مہینے میں ایک بار اہتمام کریں۔ اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو سال میں ایک بار پڑھ لیں۔ اور اگر سال میں بھی نہ پڑھ سکیں تو پھر زندگی میں کم از کم ایک بار پڑھ لیں۔ چنانچہ اِس پہلو سے بھی دیکھا جائے تو روایت میں صلاۃ التسبیح کی اِس طرح تلقین بھی واضح کرتی ہے کہ اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسی شاذ نماز ہے جس کی کوئی نظیرہمارے دین میں موجود نہیں ہے۔ چنانچہ اِس شذوذ کی بنا پر بھی احادیث ِباب کا یہ مضمون نا قابلِ اعتبار ہے۔

5۔ احادیثِ باب کے متون میں ایک غرابت یہ بھی ہے کہ آدمی یہ نماز، خواہ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ پڑھےیا ہر ہفتے صلاۃ التسبیح کا اہتمام کرتا رہے، دونوں صورتوں میں اُس کو حاصل ہونے والا اجر وثواب ایک ہی ہے۔یعنی یہ نماز ایک مرتبہ ادا کی جائے یا عمر بھر ہفتہ وار پڑھی جائے، دونوں صورتوں میں اجر وفضیلت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ ایسی کوئی نماز بھی دینِ اسلام میں موجود نہیں ہے، جس کی تلقین خود دین نے کی ہو اور پھر دوام ومواظبت کی صورت ہو یا عمر بھر میں وہ صرف ایک ہی مرتبہ ادا کی جائے، دونوں صورتوں میں شارع نے ایک ہی اجر و ثواب بتایا ہو۔ لہٰذا اِس شذوذ وغرابت کی بنیاد پر بھی صلاۃ التسبیح کے متون نا قابلِ اعتبار ہوجاتے ہیں۔

ایک طرف یہ نماز منفرد طرز پر پڑھی جاتی ہے اور دوسری طرف اِس کی فضیلت بھی غیر معمولی بتائی گئی ہے، چنانچہ اِن دو وجوہات کی بنا پر یہ عقلی اقتضا پیدا ہوتا ہے کہ ایسی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل میں ایک ثابت شدہ نماز ہونی چاہیے تھی۔ اِس پر صحابہ کا عمل بھی معلوم و ثابت ہونا چاہیے تھا۔ اور پھر یہ نماز اپنے ثبوت کے اعتبار سے دوسری نفل نمازوں کی طرح نہ صرف یہ کہ امت میں معلوم ومعروف ہوتی، بلکہ یہ بعد کے مسلمانوں کو کثرتِ طرق کے ساتھ اور مستند ذرائع سے موصول ہوتی۔ منفرد طرز کی اور ایسی غیر معمولی فضیلت رکھنے والی یہ نماز نہایت کم زور اور من گھڑت روایتوں کی بنیاد پر دین اسلام میں قطعاً ثابت نہیں کی جاسکتی۔

[باقی]

تحریر:وارث مظہری

  1. ۔ النساء 4: 17۔ آلِ عمران 3: 89۔النحل 16: 119۔